۞وَلَوۡ أَرَادُواْ ٱلۡخُرُوجَ لَأَعَدُّواْ لَهُۥ عُدَّةٗ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيلَ ٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
Had they desired to go forth, they would have surely made some preparations for it; but Allah was averse to arouse them, so He held them back, and it was said [to them], ‘Be seated with those who sit back.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:43-59
This entire paragraph has depicted full characteristics of hypocrites. 1. God wanted the actions of hypocrites had been manifested as “Abdullaibn Ubi” in ‘Ohod refused to get out of Medina on the Prophet’s suggestion, and proved his hypocrisy, if he had refused them not to accompany him to Tubuk against Greece being hot summer it would have been better. Thus God says, “Those, despite capability, asked their Prophet to keep themselves away from the crusade, are worldly hypocrites, who do not spend in the name of God except under threat, nor are sincere in praying, but sluggish, nor do they like the faithful doing charity.” Thus God leaves them to be stupefied, when they are insincere in there intentions. Their jog is to fan disaffection and discontent, whereby to upset the Prophet’s plans. They have, by such actions, rendered themselves condemned to hell, their apparent actions being rendered null and void. They are not pleased to see success attending you, and are bragging, if you are subjected to Divine trial, which, in case of the faithful, either leads to worldly prosperity or eternal paradise, and in case of infidels and hypocrites is worldly destruction or eternal condemnation by loss of life or going to hell. The faithful should believe whatever of calamity under trial they are destined, they are bound to face with cheer and patience, where in it is a proof of faith and a certificate of his having passed the Divine test, and excess of property and children with hypocrites, should not be a cause of anxiety for them as it is a forecast for coming disasters when their property will be wasted by their children and they shall meet terrible pangs of death at the hands of the angel of death. In time of severe trials of crusade, if they had accompanied, they would have hidden themselves as did his (Prophet’s) apparent close companions in Uhud who used to be Cabal frequently, whereas Ali was alone fighting against the infidels with Zulfikar, and the Prophet had lost two of his teeth having fallen in a pit, under (Gabriel’s Protection) they are ready to recover booty and feel sad at not receiving it. Suspicion and not certainty rues them. Compare notes on Couplet 13 a).
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:46
[Pooya/Ali Commentary 9:46] (see commentary for verse 44)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:46-48
تفسیر
ان کا نہ ہونا ہونے سے بہتر تھا گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا: واللّٰہ یعلم انھم لکٰذبون۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔ زیر نظر آیات میں اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے ان کے جھوٹ اور افتراء کی یک اور نشانی بیان کی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے:یہ اگر سچ کہتے ہیں اور جہاد میں شرکت کے لئے تیار ہیں اور صرف تمہارے اذن کے منتظر ہیں تو انہیں چاہیے کہ جہاد کے تمام وسائل ہتھیار، سواری اور جو کچھ ان کی طاقت میں ہیں اسے فراہم کریں، جب کہ ان میں تو ایسی کوئی آمادگی نظر نہیں آتی(وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَہُ عُدَّةً ) ۔، یہ تارک دل اعر بے ایمان افراد ہیں کہ خدا جن کو جہاد کے پر افتخار میدان میں ناپسند کرتا ہے لہٰذا اس نے اپنی توفیق ان سے سلب کی ہے اور انہیں باہر نکلنے سے باز رکھا ہے (وَلَکِنْ کَرِہَ اللهُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ) ۔(۱) اس بارے میں یہ گفتگو کس طرف سے ہے خدا کی طرف سے یا پیغمبر کی طرف سے یا یہ خود ان کے اپنے نفس اور باطن کی آواز ہے، مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک تکوینی حکم ہے جو ان کے تاریک اور گندے باطن سے اٹھا ہے اور ان کے فاسد عقیدے اور برے اعمال کا تقاضا ہے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مقتضائے حال کو امر یا نہی کی صورت میں لایا جاتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر عمل اور نیت کا ایک اقتضاء ہے جو خوامخواہ انسان کو دامنگیر ہوتا ہے اور تمام لوگ اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ بڑے کاموں اور راہ خدا میں قدم اٹھائیں، یہ توفیق خدا ایسے نصیب کرتا ہے جن میںنیت کی پاکیزگی، آمادگی اور خلوص ہوتا ہے ۔ بعد والی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا میدان جہاد میں شریک نہ ہوبا نہ صرف مقام افسوس نہیں بلکہ شاید خوشی کا مقام ہے کیوں کہ وہ نہ فقط یہ کہ کوئی مشکل دور نہیں کرتے بلکہ اس نفاق، بے ایمانی اور اخلاقی انحراف کی روح کی وجہ سے نئی مشکلات کا باعث ہوتے ہیں ۔ در اصل یہاں مسلمانوں کو ایک عظیم درس دیا گیا ہے کہ جب کبھی بھی بڑے لشکر اور زیادہ تعداد کی فکر میں نہ رہیں بلکہ اس فکر میں رہیں کہ مخلص اور با ایمان افراد کا انتخاب کیا جائے چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کی لئے کل بھی یہی درس تھا، آج بھی یہی درس ہے اور آئندہ بھی یہی درس ہوگا ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اگر وہ تمہارے ساتھ (تبوک کے) روانہ ہوتے تو ان کا پہلا منحوس اثر یہ ہوتا کہ وہ اضطراب اور شک و تردد کے علاوہ تم میں کسی چیز کا اضافہ نی کرتے(لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالًا ) ۔ ”خبال“ کا معنی ہے ”اضطراب اور تردد“ اور ’خبل“ (بروزن”اجل“) جنون کے معنی میں ہے اور”خبل“ (بروزن”طبل“) اعضاء کے فاسد ہونے کے معنی میں ہے ۔ اس بنا پر اس فاسد باطن جو شک وتردد و بزدلی کی آماجگاہ ہے کے ساتھ اگر وہ میدان میں آجاتے تو سپاہ اسلام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور فساد پھیلانے کے سوا اور کچھ نہ کرتے ۔ علاوہ ازیں وہ بڑی سرعت سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ افراد لشکر میں نفوذ حاصل کریں، نفاق وتفرقہ پیدا کریں اور اتحاد کے رشتوں کو کاٹ دیں(وَلَاٴَوْضَعُوا خِلَالَکُمْ یَبْغُونَکُمْ الْفِتْنَةَ) ۔(2) اس کے بعد مسلمانوں کو خطرے سے متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ متوجہ رہیں کہ کمزور ایمان والاے افراد تمہارے درمیان موجود ہیں جو ان منافقوں کی باتوں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں( وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَھُمْ) ”سماع “ اس شخص کو کہتے ہیں جس میں پذیرائی اور شنوائی کی حالت زیادہ ہو اورجو تحقیق اور غور وخوض کے بغیر ہر بات کا اعتبار کرلے لہٰذا قوی ایمان مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کمزور گروہ پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ گرگ صفت منافقین کا لقمہ نہ بن جائیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ”سماع“ جاسوس کے معنی میں ہو یعنی تمہارے درمیان کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو منافقین کے لئے جاسوسی کرتے ہیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :”خدا ستم گروں کو پہچانتا ہے“ وہ جو علی الاعلان اور وہ جو چھپ کر اپنے اوپر یا معارے پر ظلم کرتے ہیں، اس کی دید گاہ علم سے مخفی نہیں ہیں(وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ) اگلی آیت میں پیغمبر اکرم کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ یہ منافقین سم پاشی اور تخریب کاری میں مشغول ہیں، یہ پہلے بھی ایسی کاروائیوں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی اپنے مقصد کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں( لَقَدْ ابْتَغَوْا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ) ۔ یہ جنگ احد کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ جس میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی راستے ہی سے پلٹ آئے تھے اور رسول اللہ کی مدد سے انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا یا دیگر مواقع کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں انہوں نے رسول اللہ کی ذات یا مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں کہ جن کا ذکر تاریخ اسلام میں موجود ہے ۔ انہوں نے تمہارے بہت سے کام خراب کئے اور سازشیں کیں تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دیں اور انہیں جہاد سے باز رکھیں اور تمہارے ارد گرد کوئی باقی نہ رہے( وَقَلَّبُوا لَکَ الْاٴُمُورَ)، لیکن ان کی سازش اور کوشش کا کوئی اثر نہ ہوا اور ان سب کی سازشیں نقش بر آب ہوگئیں اور ان کا وار خالی گیا”آخر کارفتح حاصل ہوئی اور حق واضح ہوگیا“( حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَھَرَ اٴَمْرُ اللهِ )، ” جب کہ وہ تمہاری پیشرفت اور کامیابی کو ناپسند کرتے تھے (وَھُمْ کَارِھُونَ)، لیکن پرورگار کے ارادہ اور مشیت کے مقابلے میں بندوں کی خواہش اور ارادہ کچھ بھی اثر نہیں رکھ سکتا، خدا چاہتا تھا کہ تمہیں کامیاب کرے اور تیرے دین کو ساری دنیا تک پہنچائے اور جتنی بھی رکاوٹیں ہوں انہیں راستے سے ہٹا دے، آخر اس نے یہ کام کردکھایا ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم جانیں کہ جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے دوسرے مطالب کی طرح پیغمبر اکرم کے زمانے سے مخصوص نہیں ہے، ہرمعاشرے میں ہمیشہ منافقین کا ایک گروہ موجود ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے کہ حساس اور تاریخ ساز لمحات میں زہریلی باتوں کے ذریعے لوگوں کے افکار خراب کردے، وحدت کی روح کا خاتمہ کردے اور ان کے نظریات میں شکوک وشبہات پیدا کردے لیکن اگر معاشرہ بیدار ہو تو مسلم ہے کہ نصرت الٰہی سے ان کی تمام سازشیں اور منصوبہ بندیاں بے اثر ہوجائیں گی اور ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، کیوں کہ اس نے اپنے دوستوں سے کامیابی کا وعدہ کر رکھا ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ مسلمان مخلصانہ جہاد کریں اور ہوشیاری کے ساتھ ان کے داخلی دشمنوں پر نظر رکھیں ۔ ۴۹ وَمِنْھُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلَاتَفْتِنِّی اٴَلَافِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیطَةٌ بِالْکَافِرِینَ۔ ترجمہ ۴۹۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دو( تاکہ ہم جہاد میں شرکت نہ کریں) اور ہمیں گناہ میں گرفتار نہ کرو آگاہ رہو کہ وہ (ابھی سے )گناہ میں گر چکے ہیں اور جہنم کفار پر محیط ہے ۔ ۱۔” ثبطھم“”تثبیط“ کے مادہ سے ہے اور یہ انجام کار سے روکنے کے معنی میں ہے ۔ 2 ”اوضعوا“ ”ایضاع“ کے مادہ سے حرکت میں تیزی کے معنی میں ہے اور یہاں سپاہ اسلام میں نفوذ میں تیزی کے مفہوم میں ہے، نیز ”فتنہ“یہاںاختلاف اور تفرقہ کے معنی میں ہیں ۔