يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
O you who have faith! What is the matter with you that when you are told: ‘Go forth in the way of Allah,’ you sink heavily to the ground? Are you pleased with the life of this world instead of the Hereafter? But the wares of the life of this world compared with the Hereafter are but insignificant.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:38
[Pooya/Ali Commentary 9:38] The reference is to the defensive expedition of Tabuk in 9 Hijra, to counter the aggression by the Byzantine empire. The people who hesitated to follow the call of Tabuk were deterred by: (i) a very long journey in the heat of the summer, (ii) the fear of losing the fruit harvest, which was ripe for gathering, (iii) the dread of a highly organised, large and formidable foe. They have been reminded that the comforts of this life are little as compared with the hereafter. Those who hesitated on account of clinging to worldly gains were suffering from a spiritual disease, therefore they have been warned of severe punishment if they failed to obey the Holy Prophet. If a nation receives favours and fails to deserve them, it will be replaced by another, as has often happened in history.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:38-42
In this paragraph, God describes how idle and unwilling were his (Prophet’s) companions to participate in the crusade. When the question of a hot season and distance, without appreciable gift of booty, came to their consideration, whereas God says, their sacrifice in crusade will lead them to paradise, of which they are unaware, whereas the pretenders will suffer both ways for having apparently accompanied the Prophet with a view to getting booty and losing life will get Hell owing to evil intentions and by pleading false excuses on false oaths, some of them kept away from accompanying and were exposed by God for this is an anecdote of the “cave of sur” where Abu Bakr, who followed the Prophet, unarmed, against his (the Prophet’s) will, practically with no good intentions, and when the enemy could not further trace the Prophet’s cave, he was grieved at the event. His faithfully following the Prophet to Medina, when seeing enemies had approached and asking the Prophet to keep him in front to save his life in the presence to the Prophet’s is clear proof of his being unfaithful and later when he was kept in front and the Prophet seeing the enemy, warned them to desist from giving them chase, failing which he would command Earth to seize them. The ground burst open and persecutors started sinking and cried for help embracing faith on seeing this miracle. The leader tore a piece of his turban and made a banner to march in honour of the Prophet proceeding to Medina.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:38-39
چند اہم نکات
۱۔ جہاد پر سات تاکیدیں: مندرجہ بالا آیات میں سات طریقوں سے مسئلہ جہاد پر تاکید کی گئی ہے ۔ ۱۔ اہل ایمان کو اس کے لئے خطاب کیا گیا ہے ۔ ۲۔ میدان جہاد کی طرف حرکت کا حکم دیا گیا ہے ۔ ۳۔ ”فی سبیل اللّٰہ“ کی تعبیر استمال کی گئی ہے ۔ ۴۔ آخرت کے بدلے دنیا کا زکر استفہام انکاری کی سورت میں کیا گیا ہے ۔ ۵۔ جہاد سے کنارہ کشی پر ”عذاب الالیم“ کی دھمکی دی گئی ہے ۔ ۶۔ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ تمہیں منظر سے ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا ۔ ۷۔ خدا کی لامتناہی قدرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ہے تمہاری سستیاں امور الٰہی کی پیشرفت میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ جو نقصان بھی ہوا وہ تم ہی کو دامن گیر ہوگا ۔ ۲۔ دنیا کی دلبستگی جہاد کے لئے سد راہ ہے: مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی سے دل بستگی مجاہدین کو امر جہاد میں سست کردیتی ہے، سچے مجاہدین کو پاکباز، زہدپیشہ اورزرق وبرق دنیا سے بے پرواہ ہوبنا چاہیے، امام علی بن حسین (ع) اسلامی حکومت کی سرحدوں کے محافظین کے لئے کی گئی دعا میں کہتے ہیں:وانسھم عند لقائھم العدو ذکر دنیاھم الخداعة وامح عن قلوبھم خطوات المال الفتون بارالہا جب وہ دشمن کے مقابل ہوں اس پر فریب دنیا کے ذکر وفکر کو ان سے دور رکھ اور فتنہ انگیز دلکش اموال کی اہمیت ان کے صفحہ دل سے محو کردے (تاکہ تیرے عشق سے لبریز دل کے ساتھ تیرے لئے جنگ کریں) ۔ یہ حقیقت ہے اگر ہم دنیا وآخرت کی کیفیت کو اچھی طرح پہچانتے ہوں تو ہم جان لےں گے آخرت کے مقابلے میں دنیا اس قدر محدود اور حقیر ہے کہ ان کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں پیغمبر خدا سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے: واللّٰہ ماالدنیا فی الآخرة الا لما یجعل احدکم اصبعہ فی الیم ثم یرفعھا فلینظر بم ترجع بخدا آخرت کے مقابلے میں دنیا اس طرح ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنی انگلی دریا میں ڈبوئے اور پھر اسے نکال لے اور دیکھئے کہ دریا کا کتناپانی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ۔ ۳۔ آیت میں کس گروہ کی طرف اشارہ ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت میں جس گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ایرانی ہیں بعض یہاں یمن کے لوگ مراد لیتے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک گروہ نے اسلام کی پیشرفت میں اپنی بے انتہا جرات و استقامت سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، بعض ان لوگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جنہوں نے ان آیات کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا اور دل وجان سے اس کی راہ میں فداکاری کی ۔ ۴۰ إِلاَّ تَنصُرُوہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللهُ إِذْ اٴَخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ وَاٴَیَّدَہُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْھَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُوا السُّفْلَی وَکَلِمَةُ اللهِ ھِیَ الْعُلْیَا وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ترجمہ ۴۰۔ اگر اس کی مدد نہیں کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا (جیسا کہ اس نے مشکل ترین لمحات میں اسے تنہا نہیں چھوڑا)، اس وقت جب کفار نے انہیں (مکہ سے) نکال دیا جب کہ وہ دو میں سے دوسرے تھے (ان کے ساتھ صرف ایک شخص اور تھا) جب وہ دونوں غار میں تھے تو وہ ہمسفر سے کہہ رہے تھے غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے، تو اس موقع پر خدا نے اپنا سکینہ (اور اطمینان )ان پر بھیجا اور ان کی ایسے لشکروں سے تقویت کی جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کی گفتار(اور ہدف ) کو پست قرار دیا (اور انہیں شکست سے دوچار کیا) اور خدا کی بات (اور اس کا دین ) بلند (اور کامیاب )ہوا اور خدا عزیر وحکیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:38-39
شان نزول
ابن عباس اور دوسرے صحابہ سے منقول ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جنگ تبوک کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب پیغمبر اکرم طائف سے مدینہ کی طرف لوٹے اور لوگوں کو رومیوں سے جنگ کرنے پر آمادی کیا ۔ اسلامی روایات میں آیا یے کہ رسول اللہ عام طور پر جنگ کی بنیادی باتیں اور تفصیلات مسلمانوں کے سامنے واضح نہیں کیا کرتے تھے تاکہ اسلام کے فوجی راز دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں لیکن تبوک کے معاملے کی صورت مختلف تھی لہذا پہلے سے آپ نے انہیں بتایا کہ ہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جارہے ہیں کیوں کہ مشرقی روم کی سلطنت سے جنگ مشرکین مکہ یا یہود خیبر سے جنگ کی طرح کوئی آسان کام نہ تھا لہٰذا ضرورت تھی کہ مسلمان اس عظیم مشکل کے لئے پوری طور پر اپنے آپ کو تیار کریں ۔ علاوہ ازیں مدینہ اور سرحد روم کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا مزید برآں گرمی کا موسم تھا اور غلوں اور پھلوں کی فصل کی کٹائی کے دن بھی تھے ۔ یہ تمام امور یکجا ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کی طرف جانا بہت زیادہ مشکل ہوگا تھا، یہاں تک کہ بعض رسول اللہ کی دعوت پر لبیک کہنے میں متردد تھے اور گنگوں کی کیفیت میں تھے ۔ ان حالات میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور قاطع انداز میں سختی کے ساتھ مسلمان کو تنبیہ کی، اس کیفیت کے خطرے سے انہیں خبر دار کیا اور انہیں اس عظیم معرکے کے لئے تیار کیا ۔(۱) دوبارہ میدان جنگ کی طرف روانگی جیسا کہ ہم شان نزول میں کہہ چکے ہیںمندرجہ بالاآیات جنگ بتوک کے بارے میں ہیں ۔ تبوک مدینہ اورشام کے درمیان اےک علاقہ ہے جو آجکل سعودی سرحدشمار ہوتا ہے، اس زمانے میں مشرقی روم کے سرحد کے قرےب تھا ،وہ حکومت اس وقت شامات پر قابض تھی ۔ (۲) یہ واقعہ نو ہجری یعنی فتح مکہ سے تقریبا ایک سال بعد رونما ہوا،مقابلہ چونکہ اس وقت کی ایک عالمی سو پر طاقت سے تھا نہ کہ عرب کے کسی چھوٹے بڑے گروہ سے لہٰذا بعض مسلمان اس جنگ میں شرکت سے خوف زدہ تھے، اس صورت حال میں منافقین کے زہریلے پراپیگنڈا اور وسوسوںکے لیے ماحول بالکل سازگار تھا اور وہ بھی مومنین کے دلوںاور جذبات کو کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کر رہے تھے ۔ پھل اتارنے اورفصل کاٹنے کا موسم تھا، جن لوگوں کی زندگی تھوڑی سی کھتی باڑی اور کچھ جانور پالنے پر بسر ہوتی تھی یہ ان کی قسمت کے اہم دن شمار ہوتے تھے کیونکہ ان کی سال بھر کی گزر بسر انہی چیزوں سے وابستہ تھے ۔ جیسا کہ ہم آئے ہیں مسافت کی دوری اور موسم کی گرمی بھی روکنے والے عوامل کی مزید مدد کرتی تھی، اس موقع پر آسمانی وحی لوگوں کی مدد کے لے آپہنچی اور قرآنی آیات یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں اوران منفی عوامل کے سامنے آکھڑی ہوئیں ۔ زیرے بحث پہلی آیت میں قرآن جس قدر ہو سکتی ہے اتنی سختی اور شددت سے جہاد کی دعوت دیتا ہے،کبھی تشویق سے، کبھی سرزنش کے لہجے میں اور کبھی دھمکی کی زبان میں ان سے بات کرتا ہے اور انہیں آمادی کرنے کے لئے ہر راستہ اختیار کرتاہے ۔ پہلے کہتا ہے: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں، میدان جہاد کی طرف حرکت کرو تو تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہو اور بوجھل پن دکھاتے ہو( یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیلَ لَکُمْ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الْاٴَرْضِ) ” اثَّاقَلْتُم“”ثقل“کے مادہ سے بوجھ کے معنی میں ہے،” اثَّاقَلْتُم إِلَی الْاٴَرْضِ“وطن میں رہ جانے کی خواہش اور میدان جہاد کی طرف حرکت نہ کرنے کے لئے کنایہ ہے یا پھر مادی زرق وبرق دنیا سے چمٹے رہنے کے لئے کنایہ ہے، دونوں صورتوں میں بہرحال مسلمانوں کے ایک گروہ کی یہ حالت تھی، سب ایسے نہ تھے، سچے مسلمانوں اور راہ خدا میں جہاد کے عاشقوں کی یہ حالت نہ تھی ۔ اس کے بعد ملامت آمیز لہجے میں قرآن کہتا ہے: کیا آخرت کی وسیع اور دائمی زندگی کی بجائے اس دنیاوی پست اور نا پائیدار زندگی پر راضی ہوگئے ہو ( اٴَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَة) حالانکہ دنیاوی زندگی کے فوائد اور مال متاع آخرت کی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بہت ہی کم ہے (ِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِیل) ۔ ایک عقل مند انسان ایسے کھاٹے کے سودے پر کیسے تیار ہوسکتا ہے اور کیوں کر وہ ایک نہایت گراں بہا متاع اور سرمایہ چھوڑ کر ایک ناچیز اور بے وقعت متاع کی طرف جاسکتا ہے ۔ اس کے بعد ملامت کی بجائے ایک حقیقی تہدید کا انداز اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے:اگر تم میدان جنگ کی طرف حرکت نہیں کرو گے تو خدا درد ناک عذاب کے ذریعے تمہیں سزا دے گا( إِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا) ۔ اور اگر تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے کنارہ کش ہونے اور میدان جہاد سے پشت پھرنے سے اسلام کی پیشرفت رک جائے گی اور آئینہ الٰہی کی چمک ماند پڑ جائے گی تو تم سخت اشتباہ میں ہو کیوں کہ خدا تمہارے بجائے اسے صاحبان ایمان کو لے آئے گا جو عزم صمیم رکھتے ہوں گے اور فرمان خدا کے مطیع ہوں گے( وَیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ)، وہ لوگ کہ جو ہر لحاظ سے تم سے مختلف ہیں، نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ ان کا ایمان، ارادی، دلیری اور فرماں برداری بھی تم سے مختلف ہے لہٰذا ”اس طرح تم خدا اور اس کے پاکیزہ دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“ (وَلَاتَضُرُّوہُ شَیْئًا) ۔ یہ ایک حقیقت ہے نہ کہ ایک خالی گفتگو یادور دراز کی آرزو کیوں کہ” وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“اور جب وہ اپنے پاک آئین کی کامیابی کا ارادہ کرے گا تو اس میں کلام نہیں کہ اسے عملی جامہ پہنا دے گا( وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر) ۔ ۱۔ بیت سے مفسرین مثلا طبرسی نے نمجمع البیان میں، فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے روح المعانی میں اس شان نزول کو اجمالی طور پر بیان کیا ہے ۔ ۲۔ تبوک کا فاصلہ مدینہ سے ۶۱۰ کلو میٹر اور شام سے ۶۹۲ کلو میٹر بیان کیا جاتا ہے ۔