أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
Do you regard the providing of water to Hajj pilgrims and the maintenance of the Holy Mosque as similar [in worth] to someone who has faith in Allah and [believes in] the Last Day and wages jihad in the way of Allah? They are not equal with Allah, and Allah does not guide the wrongdoing lot.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:19
[Pooya/Ali Commentary 9:19] (see commentary for verse 18)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:19-22
معیارِ فضیلت
ان آیات کی اگرچہ مخصوص شان نزول ہے تاہم یہ گذشتہ آیات کی بھی تکمیل کرتی ہیں اور ایسی شان مثالیں قرآن مجید میں بہت سی ہیں ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا خانہ خدا کے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کی تعمیر کرنے کو اس شخص کے کام طرح قرار دیتے ہو جو خدا اور روزِ جزا پر ایمان رکھتا ہے اور روہِ خدا میں جہاد کرتا ہے، یہ دونوں خدا کے ہاں کسی طرح بھی برابر اور یکساں نہیں ہیں اور خدا ظالم وستمگر کو ہدایت نہیں کرتا (اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاھَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لَایَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ) ۔ ”سقایة“ مصدر بھی ہے جس کا معنی پانی دینا اور اس وسیلے اور پیمانے کے معنی میں بھی ہے جس سے پانی پلاتے ہیں (جیسا کہ سورہٴ یوسف آیہ۷۰ میں آیا ہے) نیز یہ بڑے برتن یا حوض کے معنی میں بھی آیا ہے کہ جس میں پانی ڈالتے ہیں، مسجد الحرام میں زمزم اور خانہ کعبہ کے درمیان ایک جگہ ہے جو ”سقایة العباس“ کے نام سے مشہور ہے وہ یہاں ایک بڑا برتن رکھ دیتے تھے کہ جس میں سے حاجی پانی لیتے تھے ۔ تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہٴ اسلام سے پہلے ”سقایة الحاج“ کا منصب خانہ کعبہ کی کلید برداری کے منصب کے ہم پلّہ تھا اور اہم ترین منصب شمار ہوتا تھا ۔ ایّام حج میں حاجیوں کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ وہ سرزمین بھی ایسی ہے جہاں خشک اور جلادینے والی گرمی ہے جہاں پانی کم ہے اور سال کے زیادہ تر دنوں میں جہا گرم ہوا چلتی رہتی ہے، اس سے ”سقایة الحاج“ کے منصب کی خاص اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور جو شخص اس معاملے کا سرپرست ہوتا وہ فطری طور پر مقام وحیثیت کا حامل ہوتا کیونکہ حاجیوں کی خدمت ایک زندہ خدمت شمار ہوتی تھی ۔ اسی طرح مسجد الحرام کی کلید برداری کا منصب رکھنے والے اور اس کی تعمیر وآبادی کی خدمت انجام دینے والے شخص یا اشخاص کا بے حد احترام کیا جاتا تھا کیونکہ زمانہٴ جاہلیت میں بھی مسجد الحرام کو مقدس ترین اور عظیم ترین مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل تھی ۔ ان تمام چیزو ںکے باوجود قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ان تمام کاموں سے برتر اور بالاتر ہے ۔ اگلی آیت میں تاکید اور توضیح کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انھوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کرچکے ہیں وہ بارگاہ خداوندی میں برتر اور عظیم تر مقام رکھتے ہیں (الَّذِینَ آمَنُوا وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ اٴَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَائِزُونَ) ۔ اگلی آیت میں خدا ان تین اہم کاموں (ایمان، ہجرت اور جہاد) کے بدلے میں ان کے لئے تین اہم انعام بیان کرتا ہے: ۱۔ انھیں اپنی وسیع رحمت کی بشارت دیتا ہے (یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْہُ) ۔ ۲۔ انھیں اپنی رضامندی اور خوشنودی سے بہرہ مند کرتا ہے (وَرِضْوَانٍ) ۔ ۳۔ جنت کے ایسے باغات ان کے اختیار میں دے دیتا ہے کہ جن کی نعمتیں دائمی ہیں (وَجَنَّاتٍ لَھُمْ فِیھَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ) ۔ اگلی آیت میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا اٴَبَدًا) ۔ کیونکہ خدا کے پاس عظیم واجر وثواب ہے کہ جو وہ بندوں کے اعمال کے بدلے میں انھیں بخشے گا (إِنَّ اللهَ عِنْدَہُ اٴَجْرٌ عَظِیمٌ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:19-22
دو اہم نکات
۱۔ تحریف تاریخ: جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی شان نزول میں پڑھ چکے ہیں ، اس روایت کے مطابق کہ جو بہت سی مشہور تین کتب اہلِ سنّت میں منقول ہوئی ہے یہ آیات حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اور ان کے فضائل میں نازل ہوئی ہیں اگرچہ ان کا مفہوم عام اور وسیع ہے (اور ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ شان نزول آیات کے مفہوم شان نزول آیات کی مفہوم کومحدود نہیں کرتی) لیکن بعض مفسّرین اہل سنت نہیں چاہتے کہ علی کے لیے جاذب نظر فضائل ثابت ہوں حالا نکہ وہ آپ کو اپنا چوتھا عظیم پیشوا مانتے ہیں، گویا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ ان مدارک ومآخذ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اور اس بات پر ہر طرف سے ان کا دائرہ تنگ کردیں کہ کس بنا پر تم دوسروں کو حضرت علی(ع) پرمقدم سمجھتے ہو، لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرلیتے ہیں اور جتنا ان سے ممکن ہو ایسی احادیث پر سند کے حوالے سے اعتراضات کرتے ہیں اور اگر سند میں دست اندازی کی کوئی گنجائش نظر نہ آئے تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کی دلالت کو مخدوش کردیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے تعصبات ہمارے اس زمانے تک جاری ہیں یہاں تک کہ ان کے بعض روشن فکر علماء بھی ان سے بچ نہیں سکے ۔ میں بھول نہیں سکتا وہ گفتگو جو میری ایک اہل سنّت عالم سے ہوئی، جب بات چیت کے دوران اس قسم کی احادیث پر گفتگو چل نکلی تو انھوں نے ایک عجیب بات کہی، انھوں نے کہا: میرا نظریہ ہے کہ شیعہ اپنے مذہب کے تمام اصول وفروع ہمارے منابع، مدارک اور کتب سے ثابت کرسکتے ہیں کیونکہ ان میں مذہب شیعہ کے لئے کافی مقدار میں احادیث موجود ہیں جو ان کے نفع میں ہیں ۔ لیکن اس بنا پر کہ وہ ان تمام منابع ومدارک سے بالکل نجات حاصل کرلیں کہنے لگے: میرا نظریہ ہے کہ ہمارے سابقہ لوگ خوش باور افراد تھے اور جن احادیث کو وہ سن لیتے تھے اپنی کتب میں نقل کردیتے تھے، اب ان تمام چیزوں کو جو وہ لکھ گئے ہیں ہم آسانی سے قبول نہیں کرسکتے (واضح رہے کہ ان کی گفتگو ان کی کتب صحاح، مسانیدِ معتبرہ اور درجہٴ اوّل کے بارے میں بھی تھی) ۔ میں نے ان سے کہا: یہ محققانہ طریقہ نہیں کہ انسان کسی مذہب کو پہلے سے وراثتاً قبول کرے اور اس کے بعد ہر وہ حدیث جو اس مذہب کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھے اور جو حدیث اس سے تطبیق نہ کرے اسے یقین سابق کی خوش باوری خیال کرلے چاہے وہ معتبر حدیث ہی کیوں نہ ہو، کیا ہی اچھا ہو کہ اس طرزِ فکر کی بجائے آپ دوسری راہ انتخاب کرلیں، پہلے اپنے آپ کو ہر قسم کے موروثی عقائد سے پاک کرلیں پھر منطقی مدارک کو سامنے رکھ کر صحیح عقیدے کو اختیار کریں ۔ آپ اچھی طرح سے ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ کیوں اور کس بناپر ان مشہور ومعروف احادیث کو جو حضرت علی علیہ السلام کے بلند وبرتر مقام کے بارے میں ہیں اور دوسروں پر ان کی برتری ثابت کرتی ہیں کے بارے میں اس طرح سے سرد مہری اختیار کی جاتی ہے بلکہ ان پر اعتراضات کی بوچھار کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو انھیں بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے اور ان کے متعلق سرے سے بات ہی نہیں کی جاتی جیسے اس قسم کی احادیث اصلاً موجود ہی نہ ہوں ۔ مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں اب ہم مشہور مفسّر صاحب المنار کی گفتگو بیان کرتے ہیں، انھوں نے زیرِ نظر آیات کی شانِ نزول کے بارے میں مذکورہ روایت کو بالکل نظرانداز کردیا ہے اور اس کی بجائے ایک اور روایت جو آیات کے مضمون پر بالکل منطبق نہیں ہوتی اور جسے ایک مخالفِ قرآن روایت کے باعث پھینک دینا چاہیے تھا معتبر جانا ہے، یہ روایت وہ ہے جسے انھوں نے نعمان بن بشیر سے نقل کیا ہے ۔ نعمان کہتا ہے کہ میں منبر رسول کے پاس چند صحابہ کےساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک کہنے لگا: میں اسلام لانے کے بعد کسی عمل کو اس سے بلند وبرتر نہیں سمجھتا کہ خانہٴ خدا کے حاجیوں کو سیراب کروں ۔ دوسرا کہنے لگا: مسجد الحرام کی تعمیر اور اسے آباد کرنا ہر عمل سے بلند تر ہے ۔ حضرت عمر نے انھیں یہ گفتگو کرنے سے منع کیا اور کہا:- رسولِ خدا کے منبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو۔ یہ جمعہ کا دن تھا ۔ حضرت عمر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: لیکن جب میں نمازِ جمعہ پڑھ لوں گا تو رسولِ الله کے پاس جاوٴں گا اور ان سے تمھارے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کروں گا جس کے متعلق تم اختلاف کررہے ہو۔ (نماز کے بعد حضرت عمر، رسول الله کے پاس گئے اور سوال کیا) تو اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔(1) حالانکہ یہ روایت مختلف جہات سے زیرِ بحث آیات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور ہم جانتے ہیں کہ جو روایت خلافِ قرآن ہو اسے دور پھینک دینا چاہیے، مذکورہ روایت کے ضمن میں مندرجہ ذیل پہلو قابلِ غور ہیں: الف: مندرجہ بالا آیات میں جہاد، سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام میں موازنہ نہیں ہوا بلکہ بلکہ موازنہ میں ایک طرف سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام ہے اور دوسری طرف خدا اور روزِ جزا پر ایمان اور جہاد ہے، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ کچھ افراد ان اعمال کا جو وہ زمانہٴ جاہلیت میں انجام دے چکے تھے ایمان اور جہاد کا موازنہ تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج سے ہے ۔ ب: دوسری بات یہ ہے کہ ”وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ“ کا جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ پہلے گروہ کے اعمال ظلم سے ملے ہوئے تھے اور یہ اس صورت میں ہوگا جب وہ حالتِ شرک میں واقع ہوئے ہوں کیونکہ قرآن کہتا ہے: <اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔(لقمان/۱۳) ج: زیرِ بحث دوسری آیت کہتی ہے: وہ افراد جو ایمان لائے اور انھوں نے جہاد کیا وہ بلند مقام رکھتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ افارد ان لوگوں سے جو ایمان، ہجرت اور جہاد نہیں رکھتے برتر ہیں، اور یہ صورت نعمان والی روایت سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ اس روایت کے مطابق گفتگو کرنے والے سب مومن اور مسلمان تھے اور شاید وہ ہجرت اور جہاد کے مرحلے میںشریک ہوچکے تھے ۔ د: گذشتہ آیات میں مساجد کی آبادی کے سلسلے میں مشرکین کے اقدام کرنے کے متعلق گفتگو تھی (مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ ) جبکہ زیرِ بحث آیات جو ان کے بعد آئی ہیں اسی موضوع کو جاری رکھے ہوئے ہیں یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان آیات کا موضوع بحث حالتِ شرک میں تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج ہے، یہ بات نعمان والی روایت کے مطابق نہیں ہے ۔ ان تمام دلائل کے مقابلے میں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ”اٴعظم درجة“ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ عمل کے موازنہ اور مقابلہ میں شریک طرفین اچھے افراد ہیں اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے سے بہتر ہے ۔ لیکن اس کا جواب واضح ہے کیونکہ افعل التفضیل (صفت تفصیلی) زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب موازنہ کی ایک طرف واجد فضیلت اور دوسری طرف صفر ہو مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کہتے ہیں کہ دیر سے پہنچنا اس سے بہتر ہے، یا یہ کہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں: <وَالصُّلْحُ خَیْرٌ صلح جنگ سے بہتر ہے ۔(نساء/۱۲۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کوئی اچھی چیز ہے ۔ یا اسی طرح قرآن میں ہے: <وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ بندہٴ مومن مشرک سے بہتر ہے ۔(بقرہ/۲۲۱) تو کیا بت پرست بھی کوئی خیر اور فضیلت رکھتا ہے ۔ اسی طرح سورہٴ توبہ آیہ۱۰۸ میں ہے: <لَمَسْجِدٌ اٴُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اٴَوَّلِ یَوْمٍ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَقُومَ فِیہِ وہ مسجد کہ جس کی بنیاد پر تقویٰ پر رکھی گئی ہے (مسجد ضرار سے جسے منافقین نے تفرقہ ڈالنے کے لئے بنایا تھا) عبادت کے لئے زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ شائستہ ہے ۔ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ مسجد ضرار میں عبادت کرنے میں کوئی شائستگی نہیں ہے، اس قسم کی تعبیریں قرآن مجید، کلماتِ عرب اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ ہیں، جو کچھ کہا گیا ہے اس تمام گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نعمان بن بشیر والی روایت چونکہ قرآن کے مضمون کے برخلاف ہے لہٰذا پھینک دینا چاہیے اور جو ظاہری آیات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے وہی مشہور حدیث ہے جو بحث کی ابتداء میں شانِ نزول کے زیرِ عنوان ہم نے بیان کی ہے اور یہ اسلام کے عظیم پیشوا حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک فضیلت ہے ۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو حق کی اور ایسے رہنماوٴں کی پیروی پر ثابت قدم رکھے اور کھلی آنکھ اور کان عطا فرمائے اور تعصب سے دُور فکر عنایت کرے ۔ ۲۔ مقامِ رضوان کیا ہے؟ مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام رضوان ان عظیم نعمات اور مقامات میں سے ہے جو خدا تعالیٰ مومنین اور مجاہدین کو بخشتا ہے، یہ مقام باغاتِ بہشت، جنت کی جاوداں نعمتوں اور پروردگار کی وسیع رحمت سے الگ الگ چیز ہے اس مسئلے کی مزید تشریح انشاء الله اسی سورت کی آیہ ۷۲ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیا ہے: <وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اٴَکْبَرُ ۲۳ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّخِذُوا آبَائَکُمْ وَإِخْوَانَکُمْ اٴَوْلِیَاءَ إِنْ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْإِیمَانِ وَمَنْ یَتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ ۲۴ قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوھَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ وَجِھَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِہِ وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ترجمہ ۲۳۔ اے ایمان والو! جس وقت تمھارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو انھیں اپنا ولی (اور دوست، یاور اور سہارا) قرار نہ دو اور جو انھیں اپنا ولی قرار دیں وہ ستمگر ہیں ۔ ۲۴۔کہہ دو : اگر تمھارے آباوٴاجداد ، اولاد، بھائی، ازواج اور تمھارا قبیلہ اور وہ اموال جو تمھارے ہاتھ لگے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمھیں ڈر ہے وہ تمھارے پسندیدہ گھر تمھاری نظر میں خدا، اس کے پیغمبر اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تم پھر انتظار کرو کہ خدا تم پر اپنا عذاب نازل کرے اورخدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔ 1۔ تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۱-