يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
O you who have faith! Be wary of Allah, and be with the Truthful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:119
[Pooya/Ali Commentary 9:119] AI Baqarah: 2 and Ali Imran: 138 clearly say that the Quran is a guidance for the pious, but for all others it is a narration. Verse 177 of al Baqarah (see commentary) and verse 15 of al Hujurat describe the genuinely truthful with whom people have been commanded to remain attached. In the light of the commentary of al Baqarah: 177 and al Hujurat: 15 we come to the conclusion that the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are the genuinely truthful. By "the truthful" is meant the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt. The authentic books concur in reporting that this verse refers to the Ahl ul Bayt. See Hafiz Abu Nu-aym; Muwaffaq ibn Ahmad; and Ibn Hajar in his Saw-iq al Muhriqah, chap. 11, p. 90. Fakhruddin al Razi in his Tafsir vol. 16, p. 220 and 221 accepts that only the sinless (ma-sumin)can be the truthful mentioned in this verse, but in order to include his heroes he says that all those who follow the right path are also the truthful. It cannot be, because Allah Himself has thoroughly purified some of His chosen servants (Ahzab: 33) so that other believers may remain attached with them as has been commanded in this verse. If all those who follow the right path are the truthful then who will remain attached with whom? Polytheism is the worst falsehood. Refer to the commentary of al Baqarah: 124 to know that whoso has worshipped a ghayrallah (other then Allah) at any time in his life cannot inherit the imamah bestowed on Ibrahim. Allah had promised to bestow wilayah or imamah on those descendants of Ibrahim who, like Ali ibn abi Talib, had never worshipped any ghayrallah-a karramallahu wajhahu, and only Ali is known as the karramallahu wajhahu, the genuine truthful-and the Imams among the thoroughly purified Ahl ul Bayt of the Holy Prophet. No one, therefore, except those mentioned in Ahzab: 33 and Ali Imran: 61, is the truthful.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:119-122
(1/119) God distinctly has ordered to follow the Immaculates. Divine Lights, whether there are present physically, are not available, for, in case of their absence, they are duly authorized to make arrangements to keep their followers from going astray. (2/120) It is not fair before God if people prefer rest for self to that being given to God’s Prophet for every inch of pain appreciated by them, in the name of God, well get automatically recorded as a virtue in their name. (3/122) As for deputing men to study Theology by leading him, God suggests each sect can nominate suitable applicant, capable of discharging this duty, and after being qualified, may serve, in the name of God, to warn those going astray and encourage the pious for future rewards.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:119
کیا صادقین سے مراد صرف معصومین ہیں ؟
جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں ذکر کیاہے ” صادقین “ کا مفہوم اگر چہ وسیع ہے مگر بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہاں مراد صرف معصومین ہیں ۔ سلیم بن قیس ہلالی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین علیہ السلام کچھ مسلمانوں سے محوِ گفتگو تھے ۔ آپ نے ان سے دیگر باتوں کے علاوہ فرمایا : میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تمہیں معلو م ہے کہ جد خدا نے ( یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ )کا حکم نازل ہو اتو سلمان نے عر ض کیا: اے خدا کے رسول ! کیا اس سے مراد عام ہے یا خاص؟ تو رسول اللہ نے فرمایا: اس حکم کے مامور اور ذمہ دار تمام مومنین ہیں لیکن ” صادقین “ کا مفہوم مخصوص ہے میرے بھائی علی کے لئے اور روز قیامت تک اس کے بعد اوصیاء کے لئے ۔ جب علی (ع) نے یہ سوال کیا تو حاضرین نے کہا : جی ہاں ! یہ بات ہم نے رسول اللہ سے سنی تھی ۔( تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰) ۔ نافع نے عبد اللہ بن عمر سے اس آیت کی تفسیر میں یوں نقل کیا ہے : خدا نے پہلے مسلمانوں کا حکم دیا ہے کہ وہ خدا سے ڈریں ، اس کے بعد فرمایا ہے : ” کُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ “یعنی مع محمد و اھل بیہ (محمد اور ان کے اہل بیت کا ساتھ دو )( تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰) ۔ اہل سنت کے بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار مندرجہ بالا روایت کے ذیل میں اس طرح نقل کیا ہے کہ ” مع محمد و اصحابہ “ ( محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ )لیکن مفہوم آیت کی طرف توجہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام ہے اور ہر زمانے کے لئے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے صحابہ ایک محدود زمانھے میں تھے لہٰذا عبد اللہ بن عمر سے جو روایت شیعہ کتب میں آئی ہے ۔ صحیح تر دکھائی دیتی ہے ۔ تفسیر بر ہان کے مصنف نے اسی طرح کا مضمون اہل تسنن کے طرق سے نقل کیا ہے اور کہا ہے : موفق ابن احمد نے اپنی اسناد ابن ِ عباس سے مندر جہ بالا آیت کے ذیل میں اس طرح سے نقل کیا ہے :وھو علی بن ابی طالب یعنی وہ علی بن ابی طالب ہیں ۔ اس کے بعد کہتا ہے : یہی مطلب عبد الرزاق نے کتاب رموز الکنوز میں درج کیا ہے ۔ ( تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۱۰۰) زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ ” تقویٰ اختیار کرو “ اور اس کے بعد سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا ہے اگر ” صادقین “ کا مفہوم آیت میں عام ہوتا او رتمام سچے اور با استقامت مومنین اس میں شامل ہوتے تو کہا جاتا” وکونوا مع الصادقین “ یعنی سچوںمیں سے رہنا نہ کہ ” سچوں کے ساتھ دو“ ( غور کیجئے گا ) ۔ یہ امر خود اس بات کا قرینہ ہے کہ ” صادقین “ آیت میں ایک خاص گروہ کے لئے آیا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ساتھ دینے سے مراد ساتھ رہنا نہیں بلکہ بلا شبہ اس سے مراد ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے ۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا کسی غیر معصوم کی پیروی اور نقش قدم پر چلنے کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے دیا جا سکتا ہے کیا یہ خود اس امر پر دلیل نہیں کہ صادقین سے مراد صرف ” معصومین “ ہیں ۔ لہٰذ اجوکچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے اگر غور و خوض کریں تو وہی مفہوم خود آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ بات جانب ِ توجہ ہے کہ معروف مفسری فخر رازی نے جو تعصب اور شک پیدا کرنے میں مشہور یہ حقیقت قبول کی ہے ( اگر چہ زیادہ تر اہل سنت مفسرین اس مسئلہ سے خاموشی سے گذرگئے ہیں ) وہ کہتا ہے : خدا مومنین کو سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے لہٰذا آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ جائز الخطاء ہیں وہ کسی معصوم کی پیروی کریں تاکہ اس پیروی کے ذریعے خطاء سے محفوظ رہیں اور یہ مفہوم ہر دور کے لئے ہونا چاہئیے اور زمانہ ٴ پیغمبر میں اسے مخصوص کرنے کے لئے کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ لیکن بعد میں مزید کہتا ہے : ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہی ہے اور ہر زمانے میں معصوم ہونا چاہئیے ، لیکن ہم اس معصوم کو مجموع ِ امت سمجھتے ہیں نہ کہ کوئی ایک فرد۔ بالفاظ دیگر یہ آیت اجماع ِ مومنین کی حجیّت او رمجموع امت کے خطا نہ کرنے کی دلیل ہے ۔ 1 یوں فخر رازی آدھا راستہ تو ٹھیک طرح سے طے کرلیا لیکن باقی نصف راہ میں اشتباہ کا شکا رہو گیا اگر وہ ایک نکتے کی طرف توجہ کرتاجو متن آیت میں موجود ہے تو باقی نصف راستہ بھی صحیح طرح سے طے کرلیتا اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اگر صادقین سے مراد ساری امت ہے تو خود یہ پیرو بھی اس مجموع کا جز ہے اور یوں در اصل پیرو کا رپیشوا کا حصہ ہو جائے گا او رتابع و متبوع کا اتحاد اور ایک ہونا لازم آئےگا حالانکہ ظاہر آیت یہ ہے کہ پیرو کار اور ہیں اور پیشوا اور ہیں یعنی تابعین او رمتبوعین جد اجدا اور علیحدہ علیحدہ ہیں ( غور کیجئے گا ) ۔ خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو ہر زمانے میں موجود معصوم پر دلالت کرتی ہیں ۔ ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ ” صادقین “ جمع ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر زمانے میں متعدد معصوم ہوں ۔ اس سوال کا جواب بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ مخاطب صرف ایک زمانے کے لوگوں نہیں ہیں بلکہ آیت تمام زمانوں کے لئے ہے لہٰذا گفتگو متعدد معصومین کے بارے میں ہو گی نہ کہ ایک فرد کے بارے میں ۔ اس امر کا بولتا ہوا گواہ یہ ہے کہ زمانہٴِ رسول میں سوائے آنحضرت کے کوئی اور واجب الاطاعت نہ تھا۔ جبکہ آیت مسلمہ طور پر اس زما نے مومنین کے لئے بھی تھی ۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ جمع سے مراد ایک زمانے کے افراد نہیں بلکہ جمع زمانوں کے مجموعہ کے لئے ہے ۔ ۱۲۰۔ مَا کَانَ لِاٴَھْلِ الْمَدِینَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِنَ الْاٴَعْرَابِ اٴَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ وَلاَیَرْغَبُوا بِاٴَنفُسِھِمْ عَنْ نَفْسِہِ ذَلِکَ بِاٴَنَّھُمْ لاَیُصِیبُھُمْ ظَمَاٴٌ وَلاَنَصَبٌ وَلاَمَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ وَلاَیَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ بِہِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ۔ ۱۲۲۔ وَلاَیُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً وَلاَیَقْطَعُونَ وَادِیًا إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ لِیَجْزِیَھُمْ اللهُ اٴَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ ترجمہ مناسب نہیں کہ اہل مدینہ اور بادیہ نشین جو اس کے اطراف میں ہیں ، رسول اللہ سے اختلاف کریں اور اپنی جان بچانے کے لئے ان کی جان سے لاپرواہی کریں یہ اس لئے ہے کہ انھیں کوئی پیاس نہیں لگے گی ، نہ خستگی ہو گی ، نہ راہ ِ خدا میں بھوک لگے گی ، نہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں کہ جو کافروں کے غضب کاموجب ہو او رنہ دشمن سے کوئی ضرب کھاتے ہیں مگر یہ کہ ا سکی وجہ سے ان کے لئے اچھا عمل لکھا جاتا ہے کیونکہ نیک لوگوں کی اجرت ( او رجزا) ضائع نہیں کرتا ۔ ۱۲۱۔ اور وہ کسی چھوٹے یا بڑے مال کو ( راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین کو ( میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے یا اس سے پلٹتے ہوئے ) خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین کو ( میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے اس سے پلٹتے ہوئے ) عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کے لئے لکھا جاتا ہے تاکہ خدا ان کے بہترین اعمال کے لحاظ سے انہیں جزا دے ۔ 1۔ تفسیر فخر رازی ج۱۶ ص ۲۲۰، ص ۲۲۱۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:119
سچوں کا ساتھ دو
گذشتہ آیات میں متخلفین اور جنگ سے منہ موڑ نے والوں کے بارے میں گفتگو تھی ۔ متخلفین وہ لوگ تھے جنھوں نے خدا اور رسول سے کئے ہوئے عہد کو توڑ ڈالا وہ لوگ جو عملی طو رپر خدا اور قیامت پر اپنے اظہار ایمان کی تکذیب کرچکے تھے اور ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں نے قطع روابط کرکے انھیں کس طرح سے تنبیہ کی ۔ زیر بحث آیت میں ان کے مد مقابل دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رابطہ سچے لوگوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ جو اپنے عہد پر قائم ہیں ، مستحکم رکھو۔ پہلے فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! حکم خدا کی مخالفت سے بچوں( یَااٴَیّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ) ۔اور اس بناء پر کہ اہل ایمان تقویٰ کی پر پیچ وخم راہ کو غلطی اور انحراف کے بغیر طے کر سکیں ، مزید فرمایا گیا ہے سچوں کا ساتھ دو ( وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) ۔ اس بارے میں” صادقین “کون ہیں ، مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن اگر ہم راستے کو مختصر کرنا چاہیں تو ہمیں خود قرآن کو طرف رجوع کرنا چاہیئے جس نے متعدد آیات میں ”صادقین “ کی تفسیر کی ہے ۔ سورہ ٴ بقرہ میں ہے :۔ لیس البر ان تولّوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ولٰکن البر من اٰمن باللہ و الیوم الاٰخر و الملآئکة و الکتاب النبیین و اٰتیال مال علیٰ حبہ ذوی القربیٰ و الیتٰمیٰ و المسٰاکین و ابن السبیل و السآئلین و فی الرقاب و اقام الصلٰواة و اٰتی الزکوٰة و الموفون بعھدھم اذا عٰھدوا و الصا برین فی الباٴسآء و الضرٓاء حین الباٴس اولٰٓئک الذین صدقوا و اولٰٓئک ھم المتقون۔(بقرہ۔ ۱۷۷) اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلے میں مسلمانوںکو زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد نیکی کی حقیقت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے ۔ خدا روز قیامت ، ملائکہ ، آسمانی کتب اور انبیاء پر ایمان لانا۔ اس کے بعد فرمایا : راہ خدا میں حاجت مندوں اور محروم لو گوں پر خرچ کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکوٰة ادا کرنا ، عہد و پیمان پو را کرنا او رجہاد کے وقت مشکلات کے سامنے صبر و استقامت دکھانا ۔ ان سب چیزوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے : جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں وہ صاد ق اور پرہیزگار ہیں ۔ اسی طرح صادق وہ ہے جو تمام مقدسات پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں عمل بھی کرتا ہو۔ سورہٴ حجرات آیہ ۱۵ میں ہے : انما المومنون الذین اٰمنوا باللہ و رسولہ ثم لم یرتابوا وجاھدوا باموالھم و انفسھم فی سبیل اللہ اولٰئک ھم الصادقون ۔ یعنی .( اس مال میں ) ان مفلس مہاجروں کا ( حصہ ) ہے جو اپنے گھروں سے او رمالوں سے دور کردئیے گئے ( اور جو ) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی لوگ سچے ہیں ۔ اس آیت میں وہ محروم مومنین کہ جنھوں نے تمام مشکلات کے باوجود پا مردی ار استقامت دکھائی اور اپنے گھر بار اور مال و منال سے زبر دستی الگ کردئے گئے اور جن کا ہدف رضائے الہٰٰی اور نصرت ، پیغمبر کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ۔ انھیں ” صا دقین “ قرار دیا گیا ہے ۔ ان تمام آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ صادقین وہ ہیں جو پر وردگار پر ایمان لانے کے نتیجے میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ دار یوں کو اچھی طرح سے انجام دیتے ہیں نہ شک و تردد کا شکار ہوتے ہیں ، نہ پاوٴں پیچھے ہٹاتے ہیں، نہ ہی ہجوم ِ مشکلات سے گھبراتے ہیں بلکہ مختلف طرح سے فداکاری کے کے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ان صفات کے کئی مداج اور مراتب ہیں ۔ ممکن ہے بعض لوگ سب سے بالا درجے پر فائز ہوں جنھیں ہم ” معصوم “ کہتے ہیں اور بعض نچلے مراحل میں ہوں ۔