مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
It is not fitting for the people of Madinah and the Bedouins around them to hang back behind the Apostle of Allah and prefer their own lives to his life. That is because they neither experience any thirst, nor fatigue, nor hunger, in the way of Allah, nor do they tread any ground enraging the faithless, nor do they gain any ground against an enemy but a righteous deed is written for them on its account. Indeed Allah does not waste the reward of the virtuous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:120
[Pooya/Ali Commentary 9:120] Again, the reference is that of Tabuk, but the lesson is general. The Muslims must not hold their own interests or lives dearer than the Holy Prophet, nor desert him in the hour of danger. Refer to the commentary of Ali Imran: 121 to 128, 140 to 142, 144, 151 to 156, 159 and 166 to 168 and Anfal: 16 and verses 25 and 26 of this surah to know about those who deserted the Holy Prophet in the battlefields.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:120-121
مجاہدین کو مشکلات پر جزا ضرور ملے گی
گذشتہ آیات میں جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں سر زنش آئی تھی ۔ زیر بحث دو آیات اس سلسلے میں ایک کلی قانون کے طور پر آخری اور بنیادی بحث کرتی ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : مدینہ کے لوگ او ربادیہ نشین جو اس مر کز اسلام شہر کے اطراف میں زندگی بسر کرتے ہیں انھیں حق نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ سے اختلاف کریں اور انھیں چھو ڑ کربیٹھ جائیں (مَا کَانَ لِاٴَھْلِ الْمَدِینَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِنَ الْاٴَعْرَابِ اٴَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ) ۔ اور نہ انھیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت کو رسول کی جان کی حفاظت پر مقدم رکھیں ( وَلاَیَرْغَبُوا بِاٴَنفُسِھِمْ عَنْ نَفْسِہِ) ۔ کیونکہ امت کے رہبر ، اللہ کے رسول اور ملت اسلام کی بقا اور حیات کی علامت ہیں انھیں اکیلا چھوڑ دینا نہ صرف پیغمبر کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ دین ِ خدا اور خود مومنین کا وجود اور حیات کا بھی حقیقتاً خطرے میں پڑ جائے گی ۔ در حقیقت قرآن ایک جذباتی بیان کے ذریعے تمام اہل ایمان کو پیغمبر کی حفاظت کرنے پر ابھارتاہے اور مشکلات و مصائب میں ان کی حمایت اور دفاع کی ترغیب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہاری جان اس کی جان سے عزیز تر نہیں ہے اور نہ تمہاری زندگی اس کی حیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔ کیا تمہارا ایمان اس کی جازت دیتا ہے کہ وہ ہستی جو بہت ہی زیادہ پر ارزش ہے اور جس کا وجود تمہاری نجات اور رہبری کے لئے ، وہ خطرے میں پڑجائے اور تم سلامت طلب اپنی جان اس کی جان بچانے کے لئے اس کی راہ میں قربانی سے دریغ کرو۔ مسلم ہے کہ مدینہ اور اطراف مدینہ کے لئے تاکید اس بنا پر ہے کہ اس زمانے میں مرکز اسلام مدینہ میں تھا ورنہ یہ حکم نہ مدینہ اور اس کے اطراف کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ ہی پیغمبر خدا کے ساتھ مخصوص ہے ۔ تمام مسلمانوں کی ہر دور میں ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہبروں کو اپنی جان کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ گرامی اور عزیز سمجھیں اور ان کی حفاظت کی کوشش کریں او رمشکلات میں انھیں اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ ان کے لئے خطرہ پوری امت کے لئے خطرہ ہے ۔ اس کے بعد اس اجر و جزا کی طرف اشارہ ہے جو ہر قسم کی مشکلات کا مجاہدانہ مقابلہ کرنے سے مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے ان مشکلات میں سے سات اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے : ۱۔ ”یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں کوئی پیاس نہیں لگتی“( ذَلِکَ بِاٴَنَّھُمْ لاَیُصِیبُھُمْ ظَمَاٴ) ۔ ۲۔ ” نہ انھیں کوئی خستگی اور تکان ہوتی ہے “ ( وَلاَنَصَبٌ) ۔ ۳۔ ” نہ راہ خدا میں انھیں کوئی بھوک دامن گیر ہوتی ہے “ ( وَلاَمَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللهِ) ۔ ۴۔ ” نہ کفار کے غیظ و غضب کی وجہ سے کسی خطرے سے دوچار ہوتے ہیں “ ( وَلاَیَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ ) ۔ ۵۔ ” اور نہ انھیں دشمن کی طرف سے کوئی ضرب لگتی ہے “ (وَلاَیَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا) ۔ مگر یہ کہ اس کے ساتھ ان کے لئے عمل صالح لکھاجاتاہے ( إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ بِہِ عَمَلٌ صَالِحٌ ) ۔مسلم ہے کہ خدائے بزرگ و برترکی طرف سے انھیں ایک ایک کرکے جزا اور اجر ملے گا ، کیونکہ خدا نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے ( إِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ) ۔ ۶۔ اسی طرح ” وہ تھوڑایا زیادہ مال راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ( وَلاَیُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً) ۔ ۷۔ اورمیدان جہاد میں جاتے ہوئے لوٹتے ہوئے وہ کسی سر زمین کو عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ یہ تمام قدم اور یہ اخراجات ان کے لئے ثبت ہو ہو جاتے ہیں اور لکھ لئے جاتے ہیں “ ( وَلاَیَقْطَعُونَ وَادِیًا إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ) ۔ تاکہ آخر خدا اعمال کے لحاظ سے انھیں بدلہ اور جزا دے ( لِیَجْزِیَھُمْ اللهُ اٴَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:120-121
چند قابل توجہ نکات
۱۔ لاینا لون من عدو نیلا“کا مفہوم : جیسا کہ سطور بالا میں ذکر ہوا ہے اس جملے اکثر مفسرین نے یہ مراد لیا ہے کہ مجاہد ین راہ ِ خدا میں دشمن سے بی تکلیف اٹھائیں چاہے وہ زخم کی صورت میں ہو یا قید و بد کی صورت میں یا پھر قتل ہونے کی صورت میں ہو خدائی جز ا کے لئے ان کے نامہٴ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور ہر ایک کی مناسبت سے انھیں اجر ملے گا ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت مجاہدین کی مشکلات شمار کر رہی ہے یہی معنی مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر خود اس جملے کی ب بندی کا سہارا لیں اور اس کے الفاظ کی مناسبت سے اس کی تفسیر کریں تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ پیکر دشمن پر ج وبھی ضرب لگاتے ہیں ان کے نامہ عمل میں لکھی جائے گی کیونکہ ”نال من عدوہ “ لغت میں دشمن پر ضب بلگانے کے معنی میں ہے لیکن پوری آیت کے لئے توجہ گذشتہ تفسیر کے لئے قرینہ ہے ۔ ۲۔ احسن ماکانوا یعلون “ سے کیا مراد ہے ؟ اس جملے کی دو تفسیرں ذکر کی گئی ہیں ایک یہ کہ لفظ ” احسن “ ان کے افعال کی صفت ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی جزا کی صفت ہے ۔ پہلی صفت ہم نے اوپر انتخاب کی ہے یہی ظاہر آیت سے بھی زیادہ منافق ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق ایسے مجاہدین کے اعمال ان کی زندگی کے بہترین اعمال قرار دئیے گئے ہیں اور خدا ان کی جزا ان کے تناسب کے لحاظ سے دے گا ۔ دوسری تفسیر لفظ ” احسن “ کے بعد لفظ ” من “ کی تقدیر کی محتاج ہے اس کے مطابق خدائی جزا ان کے اعمال سے بہتر اور بالاتر قرار دی گئی ہے ۔ اس کے مطابق جملے کی تقدیر اس طرح ہو گی :لیجزیھم اللہ احسن مما کانوا یعملون ۔ یعنی جو کچھ وہ انجام دے چکے ہیں خدا انھیں اس سے بہتر جزا دے گا ۔ ۳۔ یہ آیت ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہے : مندرجہ بالا آیات صرف گذشتہ مسلمامنوں کے لئے نہ تھیں بلکہ آج کے بھی اور ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ہر جہاد میں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں لیکن جب مجاہدین قلب و روح کو خد اپر ایمان اور ا س کے عظیم وعدوں سے روشن کریں او رجان لیں کہ ہر سانس ، ہر بات اور ہر قدم جو ا س کے راستے میں اٹھائیں گے وہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ اس کا حساب بغیر کسی کم و کاست کے انتہائی باریک بینی سے محفوظ ہے اور خدا انھیں ان کے بدلے میں انھیں بہترین اعمال شمار کرتے ہوئے اپنے لطف کے بحر بیکراں سے مناسب ترین جزا دے گا تو ان حالات میں وہ مشکلات بر داشت کرنے سے کبھی نہیں گھبرائیں گے اور مشکلات کی کثرت سے نہیں ڈریں گا اور جہاد کتنا ہی طولانی ، کھٹن اور حادثات سے معمور ہووہ کسی قسم ضعف ہووہ کسی قسم کی ضعف اور سستی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔ ۱۲۲۔ وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُوا کَافَّةً فَلَوْلاَنَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْھُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقھُوا فِی الدِّینِ وَلِیُنذِرُوا قَوْمَھُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْھِمْ لَعَلَھُمْ یَحْذَرُونَ ۔ ترجمہ ۱۲۲۔ مناسب نہیں کہ سب مومنین ( میدان جہاد کی طرف ) کوچ کریں ۔ ہر گروہ میں سے ایک طائفہ کیوں خرچ نہیں کرتا( اور ایک حصہ باقی نہیں رہتا) دین ( اور اسلامکے معارف و احکام ) سے آگاہی حاصل کریں اور اپنی قوم کی طرف باز گشت کے وقت انھیں ڈرائیں تاکہ وہ ( حکم خدا کی مخالفت سے ) ڈریں اور رک جائیں ۔ شان نزول مرحوم طبری نے مجمع البیان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم میدان جہاد کی طرف روانہ ہوئے تو سب مسلمان آپ کے ساتھ نکل پڑتے ۔ پیچھے معذور افراد اور منافقین رہ جاتے لیکن جب کچھ آیات منا فقین کی نازل ہوئیں اور خصوصاً جنگ تبوک سے منہ موڑنے والوں کو جس طرح سے وعید و ملامت نے آگھیرا اس سے مومنین جہاد کے میدانوں میں شرکت کے لئے اور زیادہ پختہ ہو گئے ۔ یہاں تک کہ وہ جنگیں جن میں پیغمبر ذاتی طور پر شرکت نہیں کرتے تھے ان میں شرکت کے لئے بھی سب نکل پڑتے تھے اور رسول اللہ کو تنہا چھوڑ دیتے تھے ۔ اس صورت حال کے پیش نظر مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں بتا یا گیا کہ ضرورت کے علاوہ مناسب نہیں کہ سب مسلمان میدان جنگ کی طرف جائیں بلکہ ایک گروہ مدینہ کی طرف جائے او رمدینہ میں جانے والے رسول اللہ سے اسلامی معارف و احکام کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے مجاہددوستوں کو واپس آنے کے بعد تعلیم دیں ۔ اس عظیم مفسر نے اس اضمون کی ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے : اصحاب پیغمبر میں سے کچھ افراد تبلیغ دین کے لئے بادیہ نشین قبائل کے پاس گئے ،۔ بادیہ نشینوں نے ان کی آمد کو پسند کیا اور ان سے اچھا سلوک کیا لیکن بعض نے ان پر اعتراض کیا کہ تم لوگ کویں رسول اللہ کو چھوڑ کر ہمارے پاس آ گئے ہو۔ یہ بات سن کر وہ پریشان اور افسردہ ہوئے اور پیغمبر خدا کی خدمت میں پلٹ آئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی او ران کے تبلیغی کام کی تائید کی اور ان کی پریشانی کو دور کیا ۔ تفسیر تبیان میں اس آیت کی ایک اور شانِ نزول بھی نقل ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جب بادیہ نشین لوگ مسلمان ہو گئے تو احکام ِ اسلام معلوم کرنے کے لئے سب کے سب مدینہ کی طرف چل پڑے اس سے مدینہ میں اجناس کی قیمتیں چڑھ گئیں اور کئی اور مشکلات پیدا ہوگئیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیںحکم دیا گیا کہ ضروری نہیں کہ تم سب سے اپنے شہر اور گھروں کو خالی چھوڑ کر معارف ِ اسلام سمجھنے کے لئے مدینہ آجاوٴ بلکہ اگر کچھ لوگ آجائیں تو کافی ہے ۔