وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
The early vanguard of the Emigrants and the Helpers and those who followed them in virtue—Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens with streams running in them, to remain in them forever. That is the great success.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:100
[Pooya/Ali Commentary 9:100] This verse clearly proclaims the equality of muhajirs and ansar in general sense. The preference given to one individual over another by Allah or the Holy Prophet was due to the degree of submission to Allah and taqwa (piety). So the argument put forward by Umar bin Khattab at the time of deciding the issue of taking hold of the reins of power in the conference hall of Saqifa bani Sa-ada by reciting this verse without wa after ansar to establish the superiority of muhajirs over ansar (if wa is dropped it means the ansar should obey or follow the muhajirs) was unislamic or contrary to the teachings of the Quran. It is mentioned in Sahih Bukhari that when Obay ibn Ka-ab pointed out this omission Umar replied that he always thought this verse to be a proof of the muhajir's superiority over the ansar. This verse and other verses like it in praise of the companions of the Holy Prophet, whether muhajirs or ansar, are applicable only to those who were sincere in faith. The hypocrites, who were also "companions" (sahabah) as per its definition laid down by the Muslim scholars, cannot be accepted as those praised by the Quran. So to say that all the companions, even the deserters, were true believers is illogical and contrary to historical facts. All the commentators unanimously agree that "the first of the foremost" among women was Khadijah, wife of the Holy Prophet, and among men was Ali ibn abi Talib. Hakim Nayshapuri, in his Mustadrak Alal Sahihayn, writes on page 22 of kitab al Ma-rafat: "There is no difference of opinion among the historians that Ali ibn abi Talib was the first Muslim." Ibn Abd al Bar, Qartabi, Suyuti, Tabarani, Bayhaqi and others also have confirmed it. Please refer to the event of dawat dhil ashirah on page 4. Among others refer to Tarikh Tabari vol. 2, page 63, for authenticity of the tradition, according to which Ali was the first Muslim, and his faith was not only accepted by the Holy Prophet but also he was declared by him, whose words were always revelation revealed (Najm: 4), to be his brother, lieutenant and successor-and on that day obedience to him was made obligatory by the Holy Prophet for all the believers. Whosoever raises the issue of his age either does not know that whomsoever Allah wills He makes him His representative even if he is a baby in the cradle (Ali Imran: 46-Isa was a messenger of Allah in the cradle just as he was a messenger of Allah in maturity), or with ulterior motives, wants to introduce some one else as the first Muslim. The Holy Prophet said: "Ali prayed with me seven years before the other Muslims. He is the siddiq al akbar (the greatest truthful) and the faruq al azam (the greatest distinguisher of truth from falsehood). Whoso claims either of these titles is a liar."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:100-110
In the forgoing paragraph God has again classified “man” as in His Glorifying paragraph in the beginning He did: 1. Faithful on whom He has endowed bounties, misguided, those who are infidels including polytheists, atheists and in between. Here He has further subdivided misguided into four sections: weak minded may be insane, idiots, those who have not received guidance. 2. Hoping in God’s Decision on Reckoning Day: they may be further subdivided into (a) may be punished, (b) may be forgiven. 3. Those whose hearts were invited by obligations, etc. and those who have not been steady in faith. 4. Sinful Shias. In another Division according to Divine Lights, Division stands as under: (a) The faithful to enter paradise without any suffering in hell. (b) The infidels inclusive of hypocrites to permanently reside in hell of various grades, as per intensity of crime. (c) The weak minded, whose fate shall be decided on Reckoning Day. (d) Those condemned to hell punishment. (e) Those who have been cognizant of their sins. If their virtues exceed their vices, they shall be forgiven, else shall suffer temporary punishment in hell and transition period, after death and before Reckoning Day. (f) Men of reefs over the bridge having sins equal to virtues to be redeemed under intercession of Divine Lights.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:100
سابقین ِ اسلام
مندرجہ بالا آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں اگر چہ کئی ایک روایات نقل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے ان میں سے کوئی بھی آیت کی شانِ نزول نہیں ہے بلکہ فی الحقیقت اس کے مصداق کا بیان ہے ۔ بہر حال گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کی حالت بیان ہوئی ہے ، ان کے بعد اب زیر نظر آیت میں سچے مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور ان تین گروہ بیان کئے گئے اول وہ جو اسلام اور ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے (وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُھَاجِرِینَ )۔ دوسرے وہ جو رسول اللہ کی نصرت او رمدد کرنے والوں میں پہل کرنے والے اور انصار مدینہ تھے (وَالْاٴَنصَارِ )۔ تیسرے وہ جو دونوں گروہوں کے بعد آئے اور انھوں نے ان کے طریقوں کی پیروی کی ، نیک اعمال بجالانے میں ، اسلام قبول کرنے میں ہجرت کرنے میں ، رسول اللہ کے دین کی مدد کرنے میں انھوں نے پہلے دو گرہوںکا ساتھ دیا (وَالَّذِینَ اتَّبَعُوھُمْ بِإِحْسَانٍ)۔۱ ہم نے جوکچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ” باحسان “ در اصل اعمال و عقائد کا بیان مقصود ہے کہ جن میں وہ سابقین ِ اسلام کی پیروی کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ”احسان “ ان اعمال کا وصف ہے کہ جن کی اتباع ہوتی ہے لیکن آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیاہے ۔ کہ احسان صفت ِ اتباع کی کفیت ہے یعنی وہ اچھے طریقے سے پیروی کرتے ہیں ۔ پہلی صورت میں باقی ”فی “ کے معنی میں ہے جب کہ دوسری صورت میں ” مع“ کے معنی میں ہے البتہ ظاہراً آیت پہلی تفسیر سے مناسبت رکھتی ہے ۔ ان تینوں گروہوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے : خد ابھی ان سے راضی ہے اور وہ بی خدا سے راضی ہیں ( رَضِیَ اللهُ عَنْھُمْ وَرَضُوا عَنْہُ )۔ خد اکا ان سے راضی ہونا ان کے ایمان او ران کے انجام کردہ نیک اعمال کی بناء پر ہے اور ان کا خدا سے راضی ہونا خدا کی طرف سے عطا کردہ اچھی جزاوٴں اور نہایت اہم عنایات کے باعث ہے ۔ دوسرے لفظوں میں جو کچھ خدا ان سے چاہتا تھا انھوں نے انجام دیا ہے اور جو کچھ وہ خدا سے چاہتے تھے خدا نے انھیں عطا فرمایاہے ۔ اس بنا پر خدا نے ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہےں ۔ گزشتہ جملہ اگر چہ تمام طرح کی مادی و معنوی نعمات پر محیط ہے لیکن تاکید کے طور پر اور اجمال کے بعد تفصیل کے لئے مزید فرمایا گیا ہے خدا نے ان کے لےے باغات بہشت تیار کئے ہیں جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (وَاٴَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَہَا الْاٴَنْہَارُ )۔اور اس نعمت کی خصوصیا ت میں سے ہے کہ یہ دائمی اور جاودانی ہے ” اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے “ ( خَالِدِینَ فِیہَا اٴَبَدًا )۔ اور یہ تمام مادی و معنوی نعمتیں ان کے لئے عظیم کامیابی شمار ہوگی ( ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ )۔ اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہ وگی کہ انسان محسوس کرے کہ اسے پیدا کرنے والا معبود مولا اس سے خوش اور راضی ہے اوراس کے کام کی تائید کی ہے اور اسے پسند کیا ہے اور اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہو گی کہ انسان چند روزہ زندگی میں کئے ہوئے محدود اعمال سے غیر متناہی ابدی نعمات حاصل کرے۔ ۱۔ بہت سے مفسرین نے لفظ ” من “ کو ” وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُھَاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ“میں ” من تبعیضیة“ سمجھا ہے اور ظاہر آیت بھی یہی ہے ۔ کیونکہ آیت میں مہاجرین و انصار میں سبقت کرنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے نہ کہ مہاجرین و انصار کے بارے میں ۔ درحقیقت باقی و انصار” تابعین “ میں داخل ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:100
چند اہم نکات
۱۔ سابقین کا مرتبہ اور اہمیت: ہر وسیع اجتماعی انقلاب میں جو معاشرے کی ناگفتہ بہ کیفیت کے خلاف آیا ہو کچھ سبقت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ انقلاب کی بنیادیں اور اس کی اٹھان انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے ۔ درحقیقت انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار وہی ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا رہبرجب ہر لحاظ سے تنہا ہوتا ہے وہ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اگر چہ وہ مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور طرح طرح کے خطروں سے دو چار ہوتے ہیں ، نصرت اور وفا داری سے دست بر دار نہیں ہوتے خاص طور سے آغاز اسلام کی تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ سبقت کرنے والے اور پہلے ایمان لانے والے افراد کو کن کن مشکلات کا سامنا کرناپڑا تھا انھیں کیسے شکنجوں میں جکڑ ا گیا ، تکلیفیں پہنچائی گئیں ، برا بھلاکہا گیا ، تہمتیں لگائی گئی ، زنجیر یں پہنچائی گئیں اور ان میں سے کئی ایک کوقتل کردیا گیا لیکن ان تمام امور کے باوجود جو کچھ ایسے افراد تھے جو آ ہنی ارادہ، عشق سوزاں، عزمِ راسخ اور ایمان عمیق کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہے اور ہر طرح کے خطرات کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا ۔ اس سلسلے میں مہاجرین سابقین کا حصہ سب سے زیادہ تھا اور ان کے بعد انصار تھے جنہوں نے پیغمبر اکرم کے لئے اپنا دامن محبت پھیلا دیا اور انھیں مدینے آنے کی دعوت دی اور آپ کے مہاجرین اصحاب کو بھائیوں کی طرف سکونت فراہم کی اور اپنے پورے وجود سے ان کی حمایت کی اور ان کا دفاع کیا یہاں تک کہ انھیں اپنے اوپر ترجیح دی ۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ زیر نظر آیت میں ان دونوں گروہوں کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے تو وہ اسی وجہ سے ہے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ قرآن مجید کی روش ہے اس نے دوسروں کے حصے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اور ” تابعین باحسان“ کہہ کر زماہ پیغمبر اور آپ کے بعد کے دور میں بھی اسلام سے وابستہ ہو کرہجرت کرنے والوں یا مہاجرین کو پناہ دینے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو یاد کیا ہے او رسب کو عظیم اجرو ثواب کی نوید دی ہے ۔ ۲۔ تابعین کون لوگ تھے ؟ :بعض علماء کے مطابق ”تابعین “ اصطلاح ہے جو صرف صحابہ کے شاگردوںکے لئے استعمال ہوتی ہے یعنی وہ افراد جنھوں نے رسول اللہ کو نہیں دیکھا اور وہ آپکے بعد آئے ہیں اور انھوںنے اسلامی علوم وکو وسعت دی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے اپنی اسلامی معلومات بغیر کسی واسطے کے اصحاب ِ پیغمبر سے حاصل کی ہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم سطور بالا میں کہہ چکے ہیں لغت کے لحاظ سے آیت کا مفہوم اس گروہ میں محدود نہیں ہوسکتا بلکہ ”تابعین باحسان“کی تعبیر ان کے لئے ہے جنھوں نے کسی بھی زمانے میں سابقین ِ اسلام کے اہداف و مقاصد کی پیروی ہے ۔اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض لوگوں کی سوچ کے برعکس”ہجرت“ اور ” نصرت“ دونوں اسلام کے اصلاحی اوتر تعمیری مفاہیم ہیں جو زمانہ پیغمبر میں محدود نہیں ہیں بلکہ آج بھی یہ دونوں مفاہیم دوسری صورت میں موجود ہیں ا ور کل ان کا وجود ہوگا ۔ اس بان پر وہ تمام افراد جس کسی نہ کسی طرح ان دونوں پر وگراموں پر عمل پیرا ہوں ” تابعین باحسان“ کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں توجہ رکھنا چاہئیے کہ قرآن لفظ ”احسان“ ذکر کرکے تاکید کرتا ہے کہ اسلام کے سابقین کی پیروی فقظ لفظی اور بغیر عمل کے ایمان کی صورت میں نہیں ہونا چاہئیے بلکہ ضروری ہے کہ یہ پیروی ایک فکری و عملی اور تمال پہلووٴں سے ہونا چاہئیے۔ ۳۔ پہلا مسلمان کون تھا ؟ : یہاں بہت سے مفسرین نے زیر بحث آیت کی مناسبت سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسلام قبول کرنے والاپہلا شخص کون تھا او ریہ عظیم افتخار کس نے حاصل کیا؟ اس وال کے جواب میں سب نے متفقہ طور پر کہا کہ عورتوں میں سے جو خاتون سب سے پہلے مسلمان ہوئیں وہ جناب خدیجہ(ع) تھیں جو پیغمبر اکرم کی وفا دار اور فداکار زوجہ تھیں باقی رہا مردوں میں سے تو تمام شیعہ علماء مفسرین او راہل سنت علماء کے ایک بہت بڑے گروہ نے کہا ہے کہ حضرت علی (ع)وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مردوں میں سے دعوت ِ پیغمبر پر لبیک کہی ۔ علماء اہل سنت میں اس امر کی اتنی شہرت ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس پر جماع و اتفاق کا دعویٰ کیا ہے ۔ ان میں سے حاکم نیشاپوری نے مستدرک علی الصحیحین کتاب معرفت ص ۲۲ پرکہا ہے : لا اعلم خلافاً بین اصحاب التواریخ ان علی بن ابی طالب رضی الہ عنہ اولھم اسلاماً و انما اختلفوا فی بلوغہ مورخین میں اس امر پر کوئی اختلاف نہیں کہ علی (ع) بن ابی طالب اسلام لانے والے پہلے شخص ہیں ۔ اختلاف اسلام قبول کرتے وقت ان کے بلوغ کے بارے میں ہے ۔ (تفسیر قرطبی جلد ۵ صفحہ ۳۰۷۵)۔ ابن عبد البر ۔ استیعاب ( ج۲ ص ۴۵۷ ) میں لکھتے ہیں : اتفقوا علی ان خدیجة اول من اٰمن باللہ و رسولہ و صدقہ فیما جآء بہ ثم علی بعدھا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ خدیجہ وہ پہلی خاتون نہیں جو خدا اور ا س کے رسول پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ لائے تھے اس کی تصدیق کی ۔ پھر حضرت علی (ع) نے ان کی کے بعد یہی کام انجام دیا ۔ ( الغدیر جلد ۳ صفحہ ۲۳۷، ۲۳۸)۔ ابو جعفر اسکافی معتزلی لکھتا ہے : قدروی الناس کافة افتخار علی بالسبق الیٰ الاسلام تما لوگوں نے یہی نقل کیا ہے کہ سبقتِ اسلام کا افتخار علی سے مخصوص ہے ۔ ( الغدیر جلد ۳ صفحہ ۲۳۷، ۲۳۸)۔ قطع نظر اس کے پیغمبر اکرم سے ، خود حضرت علی (ع) سے اور صحابہ سے اس بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو حداتواتر تک پہنچی ہوئی ہیں ، ذیل چند روایات ہم نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں : ۱۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا: اولکم وارداً علی الحوض اولکم اسلاماً علی بن ابی طالب پہلا شخص جو حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچے گا وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اسلام لایا او روہ علی بن ِ ابی طالب ہے۔ 1 ۲۔ علماء اہل سنت کے ایک گروہنے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے حضرت علی (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ان ھٰذا اول من آمن بی و ھٰذا اول من یصافحنی و ھٰذا الصدیق الاکبر یہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا او رپہلا شخص ہے جو قیامت میں مجھ سے مصافحہ کرے گا اور یہ صدیق اکبر ہے ۔ 2 ۳۔ ابو سعید خدری رسول اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے حضرت علی (ع) کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ ما رکر فرمایا : یا علی لک سبغ خصال لایحاجک فیھن احد یوم القیامة : انت اول الموٴمنین باللہ ایماناً اوفاھم بعھد اللہ و اقومھم بامر اللہ اے علی ! تم سات ممتاز صفات کے حامل ہو کہ جن کے بارے میں روز قیامت کوئی تم سے حجت بازی نہیں کرسکتا۔ تم وہ پہلے شخص ہو جو خدا پر ایمان لائے اور خدائی پیمانوں کے زیادہ وفا دار ہو او رفرمانِ خد اکی اطاعت میں تم زیادہ قیام کرنے والے ہو۱ ۱۔الغدیر میں یہ حدیث حلیة الاولیاء ج۱ ص ۶۶ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے تاریخ ، تفسیراور حدیث کی کتب میں اس سلسلے میں بہت سی روایات پیغمبر اکرم سے اور دوسروں سے نقل ہوئی ہیں ۔ شائقین مزید توضیح کے لئے الغدیر ( عربی) ج۳ ص ۲۲۰ تا ص۲۴۰ او رکتاب احقاق الحق ج۳ ص ۱۴ ۱ تا ص ۱۲۰ ملاحظہ فر مائیں ۔ یہ امر لائق ِ توجہ ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان اور اسلام میں حضرت علی (ع) کی سبقت کا سیدھے طریقے سے تو انکار نہیں کرسکے لیکن کچھ واضح البطلان علل کی بنیاد پر ایک طریقے سے انکار کی کوشش کی ہے یا سے کم اہم بنا کر پیش کیا ہے ۔ بعض نے کوشش کی ہے کہ ان کی جگہ حضرت ابو بکر کو پہلا مسلمان قراردیں یہ لوگ کبھی کہتے ہیں کہ علی اس وقت دس سال کے تھے لہٰذا طبعاً نابالغ تھے اس بناء پر ان کا اسلام ایک بچے کے اسلام کی حیثیت سے دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کے محاذ کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا ّ (یہ بات فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں زیر نظر آیت کے ذیل میں ذکر کی ہے )۔ یہ بات واقعاً عجیب ہے اور حقیقت میں خود پیغمبر خدا پر اعتراض ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یوم الدار ( دعوت ذی العشیرہ کے موقع پر) رسول اللہ نے اسلام اپنے قبیلے کے سامنے پیش کیا او رکسی نے حضرت علی (ع) کے سوال اسے قبول نہ کیا ۔ اس وقت حضرت علی (ع) کھڑے ہوگئے اور اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے ان کے اسلام کو قبول کیا ۔ بلکہ یہاں تک اعلان کیا کہ تو میر ابھائی ، میرا وصی اور میر ا خلیفہ ہے ۔ یہ وہ حدیث ہے جو شیعہ سنی حافظانِ حدیث نے کتب ِ صحاح او رمسانید میں نقل کی ہے ۔اسی طرح کئی مورخین ِ اسلام نے اسے نقل کیا ہے یہ نشاندہی کرتی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علیٰ کی اس کم سنی میں نہ صرف ان کا اسلام قبول کیا ہے بلکہ ان کا اپنے بھائی، وصی او رجانشین کی حیثیت سے تعارف بھی کروایا ہے ۔ 3 کبھی کہتے ہیں کہ عورتوں میں پہلیہ مسلمان خدیجہ تھیں ، مردوں میں پہلے مسلمان ابو بکر تھے او ربچوں میں پہلے مسلمان علی تھے ۔ یوں در اصل وہ اس امر کی اہمیت کم کرنا چاہتے ہیں ( یہ تعبیر مشہور او رمعتصب مفسر موٴلف المنار نے زیر بحث آیت کے ذیل میں ذکر کی ہے )۔ حالانکہ اول تو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں حضرت علی علیہ السلام کی اس وقت کم سنی سے اس امر کی اہمیت کم نہیں ہوسکتی خصوصاً جب کہ قرآن حضرت یحییٰ کے بار ے میں کہتا ہے : و اٰتینا ہ الحکم صبیاً۔ ہم نے اسے بچپن کے عالم میںحکم دیا ( مریم ۱۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے کہ وہ بچپن کے عالم میں بھی بول اٹھے اور جو افراد ان کے بارے میں شک کرتے تھے اس سے کہا : انی عبد اللہ ، اٰتانی الکتاب وجعلنی نبیاً میں اللہ کا بندہ ہوںمجھے اس نے آسمانی کتاب دی اور مجھے نبی بنا یا ہے ۔ (مریم ۳۰) ایسی آیات کواگر ہم مذکورہ حدیث سے ملاکر دیکھیں کہ جس میں آپ نے حضرت علی (ع)کو اپنا وصی ،خلیفہ اورجانشین قراردیا ہےاور واضح ہوجاتاہے کہ صاحب المنار کی متعصبانہ گفتگو کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر تاریخی لحاظ سے مسلم نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام لانےوالے تیسرے شخص ہیں بلکہ تاریخ و حدیث کی بہت سی کتب میں ان سے پہلے بہت سے افراد کہ اسلام قبول کرنے کاذکر ہے ۔ یہ بحث ہم اس نکتہ پرختم کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے خود اپنے ارشادات میں اس امر کی طرف اشارہ کیاہے کہ میں پہلامومن پہلامسلمان اور رسول اللہ کے ساتھ پہلا نماز گزارہوںاور اس سے آپ نے اپنے مقام و حیثیت کو واضح کیاہے ، یہ بات آپ سے بہت سی کتب میں منقول ہے ۔ علاوہ ازیں ابن ابی الحدید مشہور عالم ابوجعفر اسکافی معتزلی سے نقل کرتاہے کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر اسلام میں سبقت رکھتے تھے اگر یہ امر صحیح ہے توپھر خود انھوں نے اس سے کسی مقام پر اپنی فضیلت کا استدلال کیوں نہیں کیا اور نہ ہی ان کے حامی کسی صحابی نے ایسا دعویٰ کیا ہے ۔(الغدیر ج۲ ص ۲۴۰) ۴۔ کیا تمام صحابہ نیک اور صالح تھے ؟ اس امر کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ علماء اہلسنت عام طور پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اللہ کے تمام اصحاب پاک ، نیکو کار،صالح ،شائستہ اور اہل جنت تھے۔ زیر بحث آیت کو بعض لوگ اس دعویٰ کی قطعی دلیل قرار دیتے ہیں ۔اسی مناسبت سے ہم بات دوبارہ اس اہم بات کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیںکہ جو سلامی مسائل میں بہت سی خرابیوں اور اختلافات کا سر چشمہ ہے ۔ بہت سے اہل سنت مفسرین زیر نظر آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں : حمید بن زیاد کہتاہے کہ میں محمد بن کعب قرظی کے پاس گیا میں نے اس سے کہا کہ رسول اللہ کے اصحاب کے بارے میںتم کیا کہتے ہوکہ اس نے کیا کہا : جمیع اصحاب رسول اللہ (ص)فی الجنة محسنھم و مسیئھم یعنی رسول اللہ کے تمام اصحاب جنتی ہیں چاہے وہ نیکوکار ہو یا گناہ گار میں نے کہا : ” یہ بات تم کہا سے کہہ رہے ہو “؟ اس نے کہا اس آیت کو پڑھو” والسابقون الاولون من المہاجرین و الانصار وہاںتک جہان فرماتا ہے رضی اللہ عنھم و رضو اعنہ اس نے مزیدکہا ؛ لیکن تا بعین کے بارے میں ایک ہے اور وہ یہ کہ تابعین صحابہ کی صرف نیک کاموں میں پیروی کریں ( تابعین صرف اسی صورت میں اہل نجات ہیں لیکن صحابہ کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں )4 لیکن یہ دعویٰ بہت سے دلائل کی بناء پر غیر قابل قبول ہے کیونکہ اول تو زیر نظر آیت میںمذکورہ حکم تابعین کے بارے میں بھی ہے اور تابعین سے مراد جیساکہ ہم اشارہ کرچکے ہیں وہ تمام لوگ ہیں جو سابقین ِمہاجرین و انصار کی روش اور طریقے کی پیروی کرتے ہیں اس بناء پر تو تمام امت بغیرکسی استثناء کے اہل نجات ہونا چاہئیے ۔ باقی رہا یہ کہ محمد بن کعب والی روایت میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ خدا نے تابعین کے لئے ”احسان “ کی شرط عائد کی ہے یعنی وہ صحابہ کے صرف اچھے طور طریقوں کی پیروی کریں نہ کہ ان کے گناہوں کی یہ بات نہایت عجیب مباحث میں سے ہے کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ فرع کو اصل سے بڑھادیا جائے صحابہ کے تابعین کے لئے جب اعمال صالح میں پیروی شرط نجات ہے توبطریق اولیٰ یہ شرط خود صحابہ کےلئے بھی ہو نی چاہئیے ۔ باالفاظ دیگر خداتعالیٰ زیر نظر آیت میںکہتا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی ان تمام مہاجرین و انصار اور ان کے تابعین کےلئے ہے جن کی زندگی کا لائحہ عمل صحیح ہو نہ یہ کہسب مہاجرین و انصار سے وہ راضی ہے چاہے وہ اچھے ہوں یابرے لیکن تا بعین کےلئے اس کی رضا مشروط ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ بات عقل سے سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ عقل اصحاب پیغمبر کے لئے دوسروں کی نسبت کسی امتیاز کی قائل نہیں ہوئی۔ ابوجہل میں اور ان افراد میں جو آنحضرت کے دین پرایمان لاکر منحرف ہو گئے ہیں کیا فرق ہے ؟وہ اشخاص جو رسول اللہ کے صدیوں بعد دنیا میں آئے اور راہ اسلام میں ان کی فداکاری اور جانبازی پہلے اصحاب ِ رسول سے کمتر نہیں بلکہ ان کاامتیاز یہ ہے کہ انھوں نے پیغمبر اکرم جو دیکھے بغیر پہچانا اور ان پر ایمان لائے کیسے اللہ کی رحمت اور خوشنودی انھیں حاصل نہ ہوگی ۔وہ قرآن جوکہتا ہے کہ تم میں سے زیادہ صاحبِ تکریم خدا کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے وہ اس غیر منطقی تبعیض اور ترجیح کو کیسے پسند کرسکتا ہے وہ قرآن جواپنی مخلتف آیا ت میں ظالموں او ر فاسقوں پر لعنت کرتا ہے اور انہیں عذاب الٰہی کا مستحق شمار کرتا ہے وہ کس طرح عذاب الہٰی سے صحابہ کی غیر منطقی مصونیت اورتحفظ کی تائید کرسکتا ہے کیا قرآن کی ایسی لعنتیں اور دھکمیاں قابل استناء ہیں اور ایک گروہ ان سے خارج ہے؟ آخر کیوں اور کس لئے ؟ تمام چیزوں سے قطع نظر کیا ایسا فیصلہ صحابہ کو ہر قسم کے گناہ او رنا فرمانی کی اجازت دینے کے مترادف نہیں ہے ؟ تیسرا یہ کہ ایسا فیصلہ اسلامی تاریخ سے کسی طرح بھی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ بہت سے لوگ تھے جو ایک دن انصار و مہاجرین کے ساتھ تھے بعد ازاں اس راستے سے منحرف ہو گئے اور رسول اللہ ان سے خفا و ناراض ہو ئے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ کی ناراضگی غضب ِخدا کا باعث ہے کیا گذشتہ آیا ت میں ہم نے ثعلبہ بن حاطب انصاری کی داستان نہیں پڑھی کہ وہ کس طرح منحرف ہو گیا اور مغضوب پیغمبر ہو گیا ۔زیادہ وضاحت سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ اصحاب رسول سب کے سب کسی قسم کے گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے تھے اور ہر معصیت سے معصوم او رپاک تھے تو یہ واضحات کے انکار کے مترادف ہے ۔ اگر مراد یہ ہے کہ انھوں نے گناہ تو کئے ہیں اور غلط اعمال بھی انجام دئے لیکن پھر بھی خدا ان سے راضی ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ خدانے گناہ پر رعایت دی ہے ۔ طلحہ و زبیر کے جو ابتداء میں رسول اللہ کے اصحاب خاص میں سے تھے اور اسی طرح عائشہ جو رسول اللہ کی زوجہ تھیں انہیں جنگ جمل کے سترہ ہزار مقتول مسلمانوں کے خون سے کون بر الذمہ قرار دے سکتا ہے ؟ کیا خدا ان خونریزیوں پر راضی تھا ؟ علی (ع) کی مخالفت جو خلیفہ رسولتھے فرض کریں کہ ان کی خلافت منصوص نہ تھی ۔مگر کم از کم وہ امت کے اجماع و اتفاق سے توچنے گئے تھے ، ان کے خلاف اور ا ن کے اصحاب ِ با وفا کے خلاف تلوار کھینچنا کیا ایسا عمل تھا ، جس پر خدا راضی تھا ؟حقیقت یہ ہے کہ ” تنزیہ صحابہ “ایک مفروضہ ہے جس کے طرفدارں نے اس بات پر اصرار کرکے اور دباوٴ ڈال کر اس اسلام کے پاکیزہ چہرے کو بگاڑ دیا ہے جو ہر مقام پر شخصیت کی میزان ایمان او ر عمل صالح کو قرار دیتا ہے ۔ آخری بات یہ ہے کہ خدا کی رضا اور خشنود ی جس کا ذکر زیر نظر آیت میں ہے چند امور کے ضمن میں ہے اور وہ ہیں ہجرت نصرت ،ایمان اور عمل صالح ۔تمام صحابہ اور تابعین جب تک ان کے مطابق رہے خدا کی رضا ان کے شامل حال رہی او رجس دن کوئی ان سے دور ہو گیا اس دن وہ رضائے الٰہی سے بھی دور ہو گیا ۔ جوکچھ ہم نے کہا اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مذکور ہ متعصب مفسریعنی موٴلف المنار نے شیعوں کی اس بات پر جو سر زنش کی ہے وہ تمام صحابہ کی پاکیزگی اور درستی کا اعتقاد نہیں رکھتے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ شیعوں نے اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کیا کہ انھوں نے حکم ِ عقل ، شہادت ِ تاریخ اور قرآن کی گواہی کو قبول کیا ہے اور متعصب افراد کے فضول اور نادرست امتیازات پر کان نہیں دھرا۔ ۱۰۱۔ وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاٴَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ اٴَھْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لاَتَعْلَمھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ سَنُعَذِّبُھُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیم۔ ترجمہ ۱۰۱۔بادیہ نشین اعراب جو تمہار ے اطراف میں ہیں ان میں ایک جماعت منافقین کی ہے اور ( خود) اہل مدینہ میں سے ( بھی ) ایک گروہ نفاق کا سخت پابند ہے انھیں تم نہیں پہچانتے اور ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔عنقریب ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے ( ایک اجتماعی رسوائی کا عذاب اور دوسرا موت کے وقت کا عذاب ) اس کے بعد ( قیامت میں ) عذابِ عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے ۔ 1۔ الغدیر میں یہ حدیثمستدرک حاکم ج ۲ ص ۱۳۶، استعاب ج۲ ص۴۵ اوار شرح ابن ابی الحدید ج۳ ص ۳۵۸ سے نقل کی گئی ہے ۔ 2۔ الغدیر ی ہی میں یہ حدیث طبرانی اور بیہقی سے نقل کی گئی ہے نیز بیہقی نے مجمع میں ، حافظ گنجی نے کفایہ اکمال میں اور کنزل العمال میں نقل کی ہے ۔ 3 ۔ یہ حدیث مختلف نقل ہوئی ہے او رجو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اسے جعفر اسکافی نے کتاب نہج العثمانیہ میں ،برہان الدین نے نجبا الانبیاء میں ، ابن ایثر کامل میں اور بعض دیگر علماء نے نقل کیا ہے ( مزید وضاحت کے لئے الغدیر ، عربی کی جلد دوم ص۲۷۸تا ۲۸۶ کی طرف رجوع کریں ۔ 4 ۔تفسیر المنار اور تفسیر کبیر از فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔