بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ
[This is] a [declaration of] repudiation by Allah and His Apostle [addressed] to the polytheists with whom you had made a treaty:
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:1
[Pooya/Ali Commentary 9:1] Bara-at implies freedom from obligation and uncompromising severance of relations with the infidels. Please refer to the introduction of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:1-29
1. God dislikes dishonesty on the part of an infidel prisoner. Hence, honest confession will lead to restoration of lost property and the endowments, provided they embraced faith, forgiving their sins, whereas instances on past practice will lead to Divine Policy of Punishment, besides dispense of justice, as He is Almighty and Omniscient, none can prevent Him from His Disgrace. 2. God has graded the faithful, as per their merits. Those who fled from Mecca to Medina at a cost of loss of property and relations and fought for love for God and Prophet at cost of their life have the highest grade (who can equalize with Ali?) he slept on the Prophet’s bed when the latter fled and later, on the battlefields, God gave an evidence by granting Dhul Fikar, and honour of La Fata-Illah-Ali, simple embracing faith, without flight, counts for nothing, and the Prophet cannot hold out such faithful, responsibility to save their lives. 3. God warns the faithful in which associators about you are friends with one another and be on your guard not to wage a war with them unless you are equally prepared, else it will ultimately result in the world war, and such is the state not also. (Refer to 73 of previous Surah.) 4. Before revelation of the Divine commands regarding heirs, emigrants and shelters were heirs of one another, and this order was later super ceded, except Ali, being a Divine Light. 5. God, through Ali, on largest pilgrimage declared associators, after a lapse of four holy months, as open enemies of God, not to approach Holy Sanctuary of Mecca, subject to imprisonment and killing, save these who sought shelter, and listened to God’s commands and followed the faithful in prayers and payment of tithe, when they would be like brethren, barring these, with when period of convention had not expired, and have not breached it any way, by aiding Muslim enemies against Muslims, whereas those who have neither considerations for blood relationship, nor maintenance of terms of treaty and are bent on driving out the Prophet, be not afraid of them rather fear Me as I am more deserving of it and He will and you by killing them at your hands, and sending them to Hell, thus consoling the faithful hereby. 6. God is not going to admit the faithful to Paradise on their simple embracing faith of Islam without giving a practical successful test to which He will subject them by participation in crusade at the cost of life and property and see if they fear anybody more than Him and bear an affection to their father, sons, wives and relations, if they are infidels or plot against God and Prophet in defeating them, in spite of convent of Ghadir al-Khum. 7. God has decided infidels shall not enter or approach the holy sanctuary of Mecca although they used to set up markets of food provisions. God promises to make this arrangements in the future and today Mecca holds the highest market in the world during pilgrimage. How fully Divine provision has been fulfilled, and there is no anxiety for starvation of residents of Mecca or the Pilgrims. This is also the case for pilgrims visiting shrines of the Holy Immaculates.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:1-2
۲۔ یہ چار مہینے کب سے شروع ہوئے؟
اس سوال کے جواب میںمفسّرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن جو کچھ مندرجہ بالا آیات سے ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ ان کی ابتداء اس وقت ہوئی جب سے یہ اعلان عام لوگوں کے سامنے پڑھا گیا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ عید قربان کے روز دس ذ الحجہ کو پڑھا گیا تھا، اس بناپر اس کی مدت اگلے سال کے ماہ ربیع الثانی کی دس تاریخ کو ختم ہوئی تھی، امام صادق علیہ السلام سے جو روایت نقل ہوئی ہے وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے ۔(1) ۳ وَاٴَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاٴَکْبَرِ اٴَنَّ اللهَ بَرِیءٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ وَبَشِّرِ الَّذِینَ کَفَرُوا بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ۴ إِلاَّ الَّذِینَ عَاھَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ لَمْ یَنقُصُوکُمْ شَیْئًا وَلَمْ یُظَاھِرُوا عَلَیْکُمْ اٴَحَدًا فَاٴَتِمُّوا إِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ إِلیٰ مُدَّتِھِمْ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ ترجمہ ۳۔ یہ آگاہی ہے خدا اوراس کے پیغمبر کی طرف سے (تمام) لوگوں کو حجِ اکبر (عید قربان) کے دن کہ خدا اور اس کا رسول مشرکین سے بے آزار ہے، ان حالات میں اگر توبہ کرو تو تمھارے نفع میں ہے اور اگر روگردانی کرو تو جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اورعاجز نہیں کرسکتے (اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نہیں نکل سکتے) اور کافروں کو دردناک سزا اور عذاب کی خوشخبری دے ۔ ۴۔ مگر مشرکین میں سے وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس میں ان سے کوئی فروگذاشت نہیں ہوئی اور تمھارے خلاف انھوں نے کسی کو تقویت نہیں پہنچائی ان کا معاہدہ اس کی مدت ختم ہونے تک محترم شمار کرو کیونکہ خد اپرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔ 1۔ تفسیرز برہان، ج۲، ص۱۰۳-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:1-2
مشرکین کے معاہدے لغو ہوجاتے ہیں
دعوتِ اسلام کے گرد وپیش مختلف گروہ موجود تھے جن میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس کے حالات مدنظر رکھ کر سلوک کرتے تھے ۔ ایک گروہ ایسا تھا کہ جس کا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کوئی پیمان نہ تھا اور رسول الله کا بھی اس سے کوئی عہد وپیمان نہ تھا ۔ کچھ دوسرے گروہوں نے حدیبیہ وغیرہ میں رسول الله سے دشمنی کا ترک کرنے کا پیمان باندھ لیا تھا، ان معاہدوں میں سے بعض تو معیہ مدت کے حامل تھے اور بعض کی کوئی مدت نہ تھی ۔ اس دوران بعض قبائل کہ جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے پیمان باندھا تھا یک طرفہ طور پر بغیر کسی جواز اور وجہ کے اسلام دشمنوں سے واضح طور پر تعاون کرکے اپنے معاہدے توڑدیئے تھے یا رسول اسلام کو ختم کرنے کے درپے ہوگئے تھے، مثلاً بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کرلیا تھا، رسول الله نے بھی ان کے مقابلے میں شدّت عمل کا رویہ کا اختیار کرلیا تھا اور ان تمام کو مدینہ سے نکال باہر کیا لیکن کچھ معاہدے ایسے تھے جو ابھی تک پوری طرح باقی تھے چاہے وہ محدودیت والے ہوں یا بغیر مدت کے تعین کے ۔ زیرِ نظر پہلی آیت تمام بت پرستوں کے لئے اعلان کرتی ہے کہ ان کا مسلمانوں سے جو معاہدہ ہے وہ لغو ہوگیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا اور اس کے پیغمبر کا یہ اعلانِ بیزاری ان مشرکین سے ہے کہ جن کے ساتھ عہد وپیمان باندھا تھا (بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِینَ عَاھَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ) ۔ اس کے بعد انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اس مدت میں سوچ بچار کرلیں اور اپنی کیفیت کو واضح کرلیں اور چاہ ماہ بعد یا تو بت پرستی کے مذہب سے دستبردار ہوجائیں یا جنگ کے لئے تیار ہوجائیں، فرمایا گیا ہے: ”چار ماہ آزادانہ طور پر زمین پر جہاں چاہو چلو پھر“ لیکن اس کے بعد حالات مختلف ہوجائیں گے (فَسِیحُوا فِی الْاٴَرْضِ اٴَرْبَعَةَ اٴَشْھُرٍ) ۔(۱) ”لیکن یہ جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اور عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکتے ہو“ (وَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ) ۔ نیز یہ بھی جان لوکہ بالآخر خد کو کفار مشرکین اور بت پرستوں کو ذلیل وخوار اور رسوا کرے گا“ (وَاٴَنَّ اللهَ مُخْزِی الْکَافِرِینَ) ۔ ۱۔ ”سیحوا“ ”سیاحت“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے اطمینان سے چلنا پھرنا اور گردش کرنا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:1-2
۱۔ کیا یک طرفہ طور پر معاہدہ کالعدم کردیا صحیح ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں ایفائے عہد اور معاہدوں کی پابندی کو خاص اہمیت دی گئی ہے، ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم یہ حکم دے رہا ہے کہ مشرکین سے کیا گیا معاہدہ یکطرفہ طور پر فسخ ہوگیا ہے ۔ ذیل کے امور کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسے اسی سورہ کی آیت ۷ اور ۸ میں تصریح ہوئی ہے کہ بلاوجہ اور بلاوجہ تمہید معاہدوں کو اسی طرح لغو قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کی طرف معاہدہ توڑنے کے واضح قرائن اور نشانیاں موجود تھیںاور وہ اس بات پر تیار تھے کہ طاقت حاصل ہونے کی صورت میں مسلمانوں سے کئے گئے معاہدوں کی ذرّہ بھر پرواہ کئے بغیر ان پر کاری ضرب لگائیں ۔ یہ بات بالکل منطقی ہے کہ اگر انسان دیکھے گا کہ دشمن اپنے آپ کو عہد شکنی کے لئے تیار کررہا ہے اور اس کے اعمال میں ایسی کافی علامات اور قرآئن نظر آرہے ہوں تو اس سے پہلے کہ وہ غفلت میں پکڑا جائے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرکے اس کے مقابلے میں کھڑا ہوجائے گا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو معاہدے خاص حالات میں کسی قوم یا ملت پر ٹھونسے اور وہ انھیں قول کرنے پر مجبور ہو تو کیا حرج ہے کہ طاقت حاصل ہونے کے بعد ایسے معاہدے یک طرف طور پر لغو کردے ۔ بت پرستی کوئی دین تھا نہ کوئی عاقلانہ فکر بلکہ ایک بیہودہ، موہوم اور خطرناک روش تھی کہ جسے آخرکار معاشرے سے ختم کیا جانا تھا، اب اگر بت پرستوں کی طاقت ابتداء میں جزیرہٴ عرب میں اس قدر تھی کہ پیغمبر اسلام مجبور تھے کہ ان سے صلح اور عہد وپیمان کریں تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ طاقت کے حصول کے بعد ہوئے عہد وپیمان کو جو منطق، عقل اور درایت کے خلاف ہیں وہ قائم رہیں، یہ بالکل اس طرح ہے کہ طاقت کے ایک عظیم مصلح گاوٴ پرستوںںمیں ظاہر ہو اور اس طریقے کو ختم کرنے کے لئے وسیع تبلیغات شروع کرے اور جب دباؤ میں ہو تو مجبوراً ان سے ترکِ مخاصمت اور ترک جنگ کا معاہدہ کرے لیکن جب اس کے کافی پیروکار ہوجائیں تو قیام کرے اور کہنہ افکار کو صاف کرنے کے لئے فعّالیت کرے اور اپنے معاہدے کے منسوخ ہونے کا اعلان کردے ۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کم صرف مشرکین کے ساتھ مخصوص تھا اور اہلِ کتاب یا دیگر قوّتیں جو جزیرہٴ عرب کے اطراف میں آباد تھیں ان سے کئے گئے معاہدوں کا رسول الله کی آخر عمر تک احترام کیاگیا ۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکین کے معاہدوں کو غفلت کی حالت میں منسوخ نہیں کردیا گیا بلکہ انھیں چار مہینوں کی مہلت دی گئی اور حجاز کے عوامی اجتماع کے مرکز میں عید قربان کے دن خانہٴ کعبہ کے پاس اس امر سے تمام لوگوں کو باخبر کیا گیا تاکہ انھیں غوروفکر کرنے کے لئے زیادہ سے مہلت اور موقع مل جائے اور شاید اس طرح وہ اس ے بیہودہ مذہب سے دستبردار ہوجائیں جو پس ماندگی، طراکندگی، جہالت اور خباثت کا سبب ہے، خداتعالیٰ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ انھیں غفلت میں رکھے اور ان سے فکرونظر کی مہلت سلب کرلے یہاں تک کہ اگر وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو انھیں اپنے دفاع کے لئے قوت وطاقت مہیا کرنے کے لئے کافی وقت دیاجائے تاکہ وہ ایک عادلانہ جنگ میں گرفتار نہ ہوجائیں ۔ اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم تربیت اور اصولِ انسانی کو ملحوظ نہ رکھتے تو چار ماہ کی مہلت دے کر کبھی دشمن کو بیدار نہ کرتے اور جنگی طاقت مہیا کرنے اور تیاری کے لئے انھیں کافی وقت نہ دیتے بلکہ کسی ایک دن یک طرفہ طور پر معاہدہ توڑکر بغیر کسی تمہید کے ان پر حملہ کرکے ان کی بساط اُلٹ دیتے ۔ اسی بناپر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے بت پرستوں نے ان چار ماہ کی مہلت سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی تعلیمات کا زیادہ مطالعہ کرکے آغوش اسلام میں آگئے ۔