عَبَسَ وَتَوَلَّى
He frowned and turned away
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 80:1
[Pooya/Ali Commentary 80:1] One day when the Holy Prophet was in conversation with some of his companions, a blind man, Abdullab ibn Ummi Maktum, who was also poor, came to meet him and learn the Quran. The Holy Prophet received him with kindness and asked him to sit beside him. The Quraysh leaders did not like the interruption, particularly the respect and honour given to him by the Holy Prophet. One of the companions frowned and turned his back on him, which displeased Allah, and this surah was revealed. Some commentators say that the pronoun "he" in abasa refers to the Holy Prophet who disliked the interruption at a time when he was engrossed in earnest discourse with some of the pagan Quraysh leaders. As has been mentioned in the commentary of many verses, particularly Baqarah: 78; Mumin: 55; Fat-h: 2 and Muhammad: 15 to 19, a large number of Muslim scholars try to find out imaginary weaknesses in the character of the Holy Prophet so as to minimise the actual shortcomings, deviation and waywardness found in the companions whom they present as heroes of Islam. It is a preconceived plan to bring the infallible status of the Holy Prophet to the ordinary level of temporal rulers, which has been fully exposed in the commentary of above noted verses. For the perfection bestowed on the Holy Prophet refer to the commentary of Ahzab: 21 and Qalam: 4. Aqa Mahdi Puya says: The commentators who have depended on the sources, other than the Ahl ul Bayt, say that the nominative pronoun in verse 1, the subjective pronoun in verse 2, and the pronouns in verses 3, 6, 7 and 8 refer to the Holy Prophet. It is a deliberate attempt to belie the infallibility of the Holy Prophet. To know the reason see commentary of verses mentioned above. According to the Ahl ul Bayt all the pronouns refer to a companion who was present there and frowned in anger as soon as Abdullah ibn Ummi Maktum sat beside the Holy Prophet. If, as said by such commentators, the Holy Prophet was deeply and earnestly engrossed in explaining the right path to pagan leaders whose conversion he had long cherished and did not pay attention to a man who had already embraced Islam, then this act should not have been censured by Allah. The question in verse 3 clearly indicates that the doubt "whether Abdullah would grow in knowledge if the Holy Prophet talked to him" could only creep into the mind of a person whose faith was not fully strengthened. It could never come to the mind of a messenger of Allah who had been sent to preach the religion of Allah to one and all, irrespective of the listener's worldly position. Verse 4 asserts that it is more likely that a poor man on account of his will to learn may grow in his spiritual development more than a wealthy leader who was proud of his possessions, referred to in verse 5, and it was he who frowned in anger (in verse 1). The wealthy companion who looked down upon Abdullah is commanded to let the poor companion be attended to because the message of Allah is accepted by the poor and lowly at once, and the mighty ones of the earth only come in when the weak and the simple people become an irresistible force. Even if a poor man does not grow in knowledge there is no blame on any one. Attention should be paid to those who come to learn with a sincere longing for knowledge. The wealthy companion, in spite of receiving guidance from the Holy Prophet, was unmindful of the preferences of Allah. The Quran has been revealed to guide the whole mankind from which no one is to be excluded, rich or poor, great or lowly, learned or ignorant. Those who show sincere earnestness must be given preference.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 80:1-42
When first siren, Israphel shall sound Quake shall earth, so severely then This be the effect of first of siren oh friend Emerging from grave shall run in haste That day is sad and gloom in the extreme. Brother shall fly from brother and son from father I shudder when I think of that gloomy day
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 80:1-10
سورہ عبس آیہ 1 تا 10
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (1) عَبَسَ وَتَوَلّـٰى (2) اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى (3) وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّـهٝ يَزَّكّــٰى (4) اَوْ يَذَّكَّرُ فَـتَنْفَعَهُ الـذِّكْرٰى (5) اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى (6) فَاَنْتَ لَـهٝ تَصَدّ ٰى (7) وَمَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّـٰى (8) وَاَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰى (9) وَهُوَ يَخْشٰى (10) فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَـهّـٰى (1) جیں بہ جبیں ہوا اور منہ پھیر لیا۔ (2) اس وجہ سے کہ نابینا اس کے پاس آیا تھا۔ (3) توکیا جانا ہے شاید وہ پاکیزگی اور تقوی اختیار کرے؟ (4) یہ متذکر ہو اور یہ تذکر اس کے لیے مفید ہو۔ (5) لیکن وہ شخص جوتغنی ہے۔ (6) تو اس کی طرف رخ کرتا ہے۔ (7) حالانکہ وہ اگر اپنے آپ کو یاد نہ کرے تو تیری کوئی ذمہ داری نہیں ۔ (8) لیکن جو تیرے پاس آیا ہے اور کوشش کرتا ہے۔ (9) اور خدا سے ڈرتا ہے۔ (10) اس سے غافل ہوتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 80:1-10
حق طلب نابینا سے بے اعتنائی برتنے پرشدید عتاب
تفسیر حق طلب نابینا سے بے اعتنائی برتنے پرشدید عتاب جو کچھ شان نزول میں بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اب ہم اس کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ پہلے فرمایا ہے: "اس نے ترشروئی اختیار کی اور منہ پھیرا ، (عبس وتولٰی) ۔ "اس وجہ سے کہ نابینا اس کے پاس آیا تھا، (ان جاءه الاعمٰی) ۔" تو کیا جانتا ہے شاید وہ ایمان ، پاکیزگی اور تقوٰی کی جستجو میں ہو" (وما و يدريك لعله یزکی)۔ "یاحق کی باتیں سننے سے ذکر یافتہ ہوجائے اور یہ تذکر اس کے لیے مفید هو" (اويذكرنتنفيه الذكرٰی)۔ اوراگر سوفیصد پاک نہ بھی ہو اور تقوٰی اختیار نہ کرے تواس ذکر سے کم از کم نصحیت حاصل کرے اور بیدار ہو اور میں بیداری اجمالی طور پر اس پر اثر انداز ہو۔ ؎1 اس کے بعد اس عتاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے : "باقی رہا وہ جو اپنے آپ کو غنی اوربےنیازسمجھتا ہے"۔ (اما من استغنٰی)۔ "تو اس کی طرف رخ کرتا ہے اور توجہ کرتا ہے"۔ ( فانت له تصدی) اور اس کی ہدایت پراصرارکرتا ہے حالانکہ وہ غرور،ثروت و خودخواہی میں مبتلا ہے۔ وہ غرور جوطغیان وسرکشی کا منشاء دیا کہ سورہ علق کی آیت 6 ، 7 میں آیا ہے (ان الانسان ليلغٰي ان تراه استغنٰی) انسان طغیان وسرکشی کرتا ہے اس بنا پرکہ اپنے کہ اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے۔ ؎1 حالانکہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو تیری کوئی ذمہ داری نہیں۔ (وما عليك الایزکی) ۔ تیری ذمہ داری صرف تبلیغ رسالت ہے (خواه ازاں پندگیرندباملال) چاہے وہ نصیحت حاصل کریں چاہے انہیں ملال ہو۔ اس لیے ہر قسم کے افراد کے واسطح طلب نابینا سے لا پرواہی نہیں برتنی چاہیئے اور اسے آزردہ نہیں کرنا چاہییے خواہ تیرا مقصد یہ بھی ہو کہ بھی اکڑنے والے لوگ ہدایت حاصل کرلیں ۔ تاکید و ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس وجہ سے اس آیت میں اور گزشتہ آیت میں فرق یہ ہے کہ وہاں گفتگو کامل پاکیزگی اور تقوٰی کے بارے میں ہے اور یہاں تذکرکی اجمالی تاثیر کے بارے میں بات ہورہی ہے چاہے کامل تقوٰی کے مقام تک نہ پہنچے وہ حق طلب نابنیا تذکر سے فائدہ اٹھائے گا چاہے مکمل فائدہ ہو چاہےمختصر بعض مفسرین سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی آیت گنابوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری کسب اطلاعات و پیروي فرمان خدا کی طرف لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ ؎2 راغب مفردات میں کہتاہے غنی استغنی و تغنی اور تغانی کے ایک ہی معنی ہیں پھر اس کے بقول تصدی "صدی (بروزن فتی) اصل میں آواز کے معنی میں ہے جو پہاڑ سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ اس کے بعد لفظ تصدی کسی چیز کے روبرو قرار پانے کے معنی میں ہے اور مکمل طور پر اسی کی طرف توجہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ عتاب کو نئے سرے سے شروع کرتا ہے اور خطاب کی صورت میں فرماتاہے: ۔ "باقی رہا وہ شخص جو تیرے پاس آتا ہے اور ہدایت و پاکیزگی کے لیے کوشش کرتا ہے" (اما من جاءك یسعٰی)۔ "اور خدا سے ڈرتا ہے" (وهویخشی)۔ ؎1 اسی خوف خدا نے اسے تیرے پیچھے بھیجا ہے تاکہ وہ زیادہ حقائق سنے اور ان پرکاربند ہو اور اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ کرے "تو اس سے غفلت کرتاہے اور دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے" (فانت عنه تلھٰی)۔ ؎1 "انت" تو کی تعبیر حقیقت میں اس طرف اشارہ ہے کہ تجھ جیسے انسان کے لیے یہ سزاوار نہیں ہے کہ اس قسم کے حق طلب انسان سے ایک لمحے کے لیے کبھی غافل ہو اور دوسرے کی طرف متوجہ ہو اور تیرے دوسروں کی طرف متوجہ ہونے کا مقصد بھی یہ ہو کہ ان کو ہدایت حاصل ہو۔ اس لیے ترجیح اس کمزور اور پاک دل گروہ ہی کو ہے۔ بہرحال یہ عتاب و خطاب اس اہم حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اسلام اور قرآن راہ حق کو طے کرنے والے کمزور افراد کے لیے خاص قسم کی اہمیت و احترام کا قائل ہے اور اس کے برعکس حالت پر تیز اور سخت تنقید کرتا ان لوگوں کے مقابلے میں جو نعمت الٰہی کی فراواني کي وجہ مغرور ہو گئےہیں یہاں تک کہ خدا راضی نہیں ہوتا کہ تو ان کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اس حق طلب کمزور طبقہ میں کم سے کم رنجش بھی پیدا کرے۔ اس کی وجہ اس سے بھی واضح ہے کہ یہ لوگ ہمیشه اسلام کے مخلص سهارا بننے والے، مشکلات کے وقت دین کے عظیم پیشواؤں کی آواز پر لبیک کہنے والے ، میدان جنگ میں قربانی پیش کرنے والے اور شہید ہونے والے تھے ۔ جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی اپنے مشہور مالک اشتروالے فرمان میں فرماتے ہیں: وانما عماد الدين و جماع المسلمين والعدة للاعداء العامة من الأمة فليكن صغوك لهم و ميلك معهم . دین کا ستون اور مسلمانوں کے اجتماع کا سرمایہ اور دشمنوں کے مقابلے میں قوت و طاقت کا ذخیرو امت کے صرف عامه الناس ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کی بات کان دھر کے سننا اور ان کی طرف اپنی خاص توجہ رکھنا چاہیے۔ ؎3 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں خشیت سے مراد خوف خدا ہے، ایسا خون جوانسان کو زیادو سے زیاده تحقیق پر آمادہ کرتا ہے اس کے مشابہ جومتکلین نے دفع ضرر متحمل کا استثناد کرتے ہوئے وجوب معرفت خدا کے سلسلہ میں کہا ہے اور یہ جو فخررازی نے احتمال پیش کیا ہے کہ مراد کفارا خوف ہے، یا نابینا ہونے کی وجہ سے گر پڑنے کا خوف مقصود ہے بہت بعید ہے۔ ؎2 "تلھٰی" لھوکے مادہ سے سرگرم کردینے والے کام کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے غفلت برتنے اور دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے معنی میں ہے اور حقیقت میں تصدی کا نقطه مقابل ہے۔ ؎3 نہج البلاغه جز خطوط خط 53 -