إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُم بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ وَلَكِن لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
When you were on the nearer side, and they on the farther side, while the caravan was below you, and had you agreed together on an encounter, you would have certainly failed to keep the tryst, but in order that Allah may carry through a matter that was bound to be fulfilled, so that he who perishes might perish by a manifest proof, and he who lives may live on by a manifest proof, and Allah is indeed all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:42
[Pooya/Ali Commentary 8:42] These verses refer to the battle of Badr. Refer to the commentary of Ali Imran: 123 to 127 and verses 5 to 14 of this surah. Aqa Mahdi Puya says: The Quraysh wanted to save their caravan and then annihilate the Muslims; and the Muslims decided to let the caravan alone and defend against Quraysh army coming from Makka-and they confronted each other at Badr, an appointment made possible by the legislative, not creative, will of Allah, because the last portion of verse 42 makes it clear that by distinguishing between right and wrong, relying upon Allah's help, a correct decision was made by the Holy Prophet, which was the legislative will of Allah so that what Allah wanted to accomplish through this battle could become a criterion-those who had gone astray even after witnessing the clear sign did so by their own choice, and those who decided to follow the right path did so after seeing and understanding the evident proof. Allah showed the Makkans to be few in the eyes of the Muslims, because if their real number and strength in equipment were made known to the Muslims they would have never agreed to go with the Holy Prophet for the decisive battle of Badr; and the Muslims were made to appear fewer in the eyes of the Makkan so that they might not lose courage and run away. It was done so because Allah had decided to make the battle of Badr a landmark and a criterion for the believers as well as the disbelievers. The pagans of Makka came to know after the battle of Badr that Allah was on the side of the truth, the believers, otherwise a handful of poorly equipped men could never overpower a large army of formidable strength. Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet and his successors (the Imams among his Ahl ul Bayt) were free from hallucination in dream or wakefulness, but Allah had communicated His decisions to His chosen representatives in their dreams-In verse 102 of Saffat Ibrahim said to Ismail: "O my son I saw in a dream that I was sacrificing you", to which Ismail replied: "Father, do as you are commanded." The interpretation of Ibrahim was indicative whereas the interpretation of Ismail was imperative. Similarly the qualitative weakness of the enemy was shown to the Holy Prophet in terms of numerical weakness. Figurative expression of a fact to achieve success for a just cause is called tawriyah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:42-44
وہ کام جو ہونا چاہیے
اس بات کی مناسبت سے جو ”یوم الفرقان“ (جنگ بدر کے دن) کے متعلق گذشتہ آیت میں آئی ہے اور حو کامیابیاں اس خطرناک صورت حال میں مسلمانوں کو نصیب ہوئی تھیں، قرآن دوبارہ اِن آیات میں اس جنگ کے بعض پہلو مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے تاکہ وہ نعمت فتح کی اہمیت سے زیادہ آگاہ ہوسکیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس روز تم نچلی طرف اور مدینہ کے قریب تھے اور وہ اوپر کی طرف اور زیادہ دور تھے (إِذْ اٴَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَھُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَی)۔ ”عدوة “مادہ ”عدو“ (بروزن ”سرو“) سے ہے ”تجاوز کرنا“۔ تا ہم ہر چیز کے حاشیے اور اطراف کو بھی”عدو“ کہتے ہیں کیونکہ حدوسط سے یہ ایک طرف کو تجاوز ہوتا ہے۔ محل بحث آیت میں یہ لفظ طرف اور جانب ہی کے معنی میں آیا ہے۔ لفظ ”دنیا“ مادہ ”دنو“ (بروزن ”علو“) سے ہے۔ یہ ”زیادہ نیچے“ اور ”زیادہ نزدیک“ کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بر خلاف ”اقصی“ اور ”قصوٰی“ دور تر کے معنی میں ہے۔ اس میدان میں مسلمان شمال کی جانب تھے۔ یہ طرف مدینہ سے زیادہ قریب تھی۔ دشمن جنوب کی طرف تھا۔ یہ جگہ زیادہ دور تھی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ جگہ جسے مسلمانوں نے مجبوری کی حالت میں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے منتخب کیا تھا بہت نشیب میں تھی اور دشمن کی جگہ بلند تر تھی۔ یہ صورتِ حال دشمن کے لئے ایک برتری کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: (قریش اور ابوسفیان کا) وہ قافلہ جس کے تم تعاقب میں تھے وہ زیادہ نشیب میں تھے (وَالرَّکْبُ اٴَسْفَلَ مِنْکُمْ)۔ کیونکہ جیسے ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ابوسفیان کو جب مسلمانوں کی روانگی کا علم ہو ا تو اس نے قافلے کا راستہ بدل لیا اور وہ اپنا راستہ چھوڑ کر دریائے احمر کے کنارے کنارے تیز رفتاری سے چلتے ہوئے مکہ کے نزدیک ہوگیا اور اگر مسلمان قافلے کے راستے سے ہٹ نہ جاتے تو ممکن تھا کہ اس کا تعاقب کرتے اور دشمن کے لشکر سے جنگ کرنے سے رہ جاتے جو کہ آخر کار عظیم فتح و کامرانی کا سبب بنی۔ ان تمام چیزوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگر ہم مسلمانوں کی تعداد اور دشمن کے مقابلے میں ان کے جنگی سازو سامان کو دیکھیں تو وہ ہر لحاظ سے کمتر اور ضعیف تر تھا جب کہ مسلمان ٹھہرے ہوئے بھی نشیب کی طرف تھے اور دشمن بلندی کی طرف تھا۔ لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے: حالات ایسے تھے کہ اگر پہلے سے تمھیں معلوم ہوتا اور تم چاہتے کہ اس سلسلے میں ایک دوسرے سے وعدہ اور قول و قرار کرتے تو حتماً اس عہد و میعاد میں اختلاف میں گرفتار ہوتے (وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیعَادِ)کیونکہ تم میں سے بہت سے ظاہری کیفیت اور دشمن کے مقابلے میں اپنی کمزور و حیثیت کے زیر اثر آجاتے اور اس قسم کی جنگ کی اصولاً مخالفت کرتے۔ لیکن خدا تمھیں ایک انجام پانے والے عمل کی طرف لے گیا تاکہ جس کام کو ہنا چاہیے وہ انجام پائے ( وَلَکِنْ لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا)۔ یہ اس لئے تھا کہ اس غیر متوقع معجزہ نما کامیابی کے ذریعے حق اور باطل میں تمیز ہوسکے”اور وہ جو گمراہ ہوں اتمام حجت کے ساتھ ہوں اور وہ جو راہ حق قبول کریں آگاہی اور واضح دلیل کے ساتھ کریں“(لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَیَحْیَا مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ )۔ یہاں ”حیات“ اور ”“ہلاکت سے مراد وہی ”ہدایت “اور ”گمراہی“ ہے کیونکہ بدر کے دن نے کہ جس کا دوسرا نام ”یوم الفرقان“ ہے، واضح طور پر نصرت الٰہی سے سب کو مسلمانوں کی قوت دکھائی اور ثابت کیا کہ یہ گروہ وہ خدا سے راہ و رسم رکھتا ہے اور حق اِس کے ساتھ ہے۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے: خدا سننے اور جاننے والا ہے (وَإِنَّ اللهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ )۔ یعنی اس نے تمہاری فریاد سنی،تمہاری نیتوں کو جانا اور اسی بناء پر اس نے تمہاری مدد کی یہاں تک کہ تم دشمن پر کامیاب ہوگئے۔ تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ کم از کم ایسا تھا کہ اگر اسے دشمن کی طاقت اور اس کی فوج کی کیفیت معلوم ہوتی تو وہ اس جنگ کے لئے تیار نہ ہوتا اگر چہ مخلص مومنین کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جس کا ہر طرح کے حوادث میں رسول اللہ کے ارادے کے سامنے سر تسلیم خم تھا۔ اس بناء پر خدانے کچھ ایسے واقعات پیش کیے کہ دونوں گروہ خواہ دشمن کے مقابلے میں نکل آئیں اور اس حیات بخش جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ ان واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ رسول اللہ نے پہلے سے خواب میں اس جنگ کا منظر دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ دشمن کی ایک قلیل سی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں آئی ہے۔ یہ در اصل کامیابی کی ایک بشارت تھی آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں کے سامنے بیان کردیا۔ یہ بات مسلمانوں کے میدان بدر کی طرف پیش روی کے لئے ان کے جذبے اور عزم کی تقویت کا باعث بنی۔ البتہ پیغمبر اکرم نے یہ خواب صحیح دیکھا تھا کیونکہ دشمن کی قوت اور تعداد اگر چہ ظاہراً بہت زیادہ تھی لیکن باطناً کم، ضعیف اور ناتوان تھی اور ہم جانتے ہیں کہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر کا پہلو رکھتے ہیں اور ایک صحیح خواب میں کسی مسئلے کا باطنی چہرہ آشکار ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے یہ خواب مسلمانوں سے بیان کیا لیکن آخر یہ سوال تو شاید ذہنوں کی گہرائیوں میں باقی رہا ہوگا کہ پیغمبر نے خواب میں ان کا ظاہری چہرہ کیوں نہیں دیکھا اور اسے مسلمانوں سے کیوں بیان نہیں کیا۔ زیر نظر دوسری آیت میں اس نعمت کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس طریقے سے مسلمانوں کو عنایت کی تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت خدانے خواب میں دشمن کی تعداد تمھیں کم کرکے دکھائی اور اگر انھیں زیادہ کرکے دکھاتا تو یقینا تم لوگ سستی دکھاتے ( إِذْ یُرِیکَھُمْ اللهُ فِی مَنَامِکَ قَلِیلًا وَلَوْ اٴَرَاکَھُمْ کَثِیرًا لَفَشِلْتُمْ )۔ نہ صرف یہ کے تم سست ہوجاتے بلکہ ”تمہارا معاملہ اختلاف تک جاپہنچتا اور ایک گروہ میدان کی طرف جانے کا موافق ہوتا اور دوسرا مخالف ہوتا“ (وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاٴَمْرِ)۔ لیکن خدانے تمھیں اس سستی ، اختلاف کلمہ، نزاع اور جھگڑے سے اس خواب کے ذریعے نجات دی اور محفوظ رکھا کہ جس میں ان کے باطنی رخ کی نشاندہی کی گئی تھی نہ کہ ظاہری صورت کی (وَلَکِنَّ اللهَ سَلَّمَ)۔ کیونکہ خدا تم سب کی روحانی حالت اور تمھارے باطن سے آگاہ تھا اور جو کچھ سینوں کے اندر ہے وہ اس سے باخبر ہے (إِنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ بعد والی آیت میں جنگ بدر کے ایک اور مرحلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ مرحلہ پہلے سے مختلف تھا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب رسول اللہ کے حرارت بخش بیانات کے زیر اثر، خدا کے وعدوں کی طرف توجہ کے باعث اور مختلف واقعات کے مشاہدہ سے مثلاً تشنگی دور کرنے کے لئے بر محل باران کا نزول، میدان جنگ کی ریتلی اور سنگریزوں والی زمین کا سخت ہوجانا۔ ان سب امور نے مل کر مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور انھیں ایک حقیقی کامیابی کے لئے پر امید کردیا۔ ان جوش اور دلولے کا یہ عالم تھا کہ دشمن کا لشکر کثیر بھی انھیں چھوٹا معلوم ہو رہا تھا۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے: اس وقت خدانے آغازِ جنگ میں انھیں تمہاری نگاہ میں کم کردیا ( وَإِذْ یُرِیکُمُوھُمْ إِذْ الْتَقَیْتُمْ فِی اٴَعْیُنِکُمْ قَلِیلًا)۔ لیکن دشمن چونکہ مسلمانوں کے اس مقام اور جذبے سے آگاہ نہیں تھا اس لئے وہ ان کی ظاہری تعداد ہی کو دیکھتا تھا۔ اسے مسلمان نا چیز دکھائی دیتے تھے یہاں تک کہ اس سے بھی کم معلوم ہوتے تھے جتنے وہ تھے۔ اسی لئے ارشاد ہوتا ہے: اور تمھیں ان کی نگاہ میں کم دکھاتا تھا (وَیُقَلِّلُکُمْ فِی اٴَعْیُنِھِمْ ) یہاں تک کہ ابوجہل کے بارے میں ہے کہ وہ کہتا تھا: انمآ اصحاب محمد اکلة جزورمحمد کے ساتھی تو صرف ایک اونٹ کی خوراک ہیں۔ یہ ان کی نہایت کم تعداد کی طرف اشارہ ہے یا اس طرف اشارہ ہے کہ صبح سے لے کر شام تک ان کا کام تمام کریدں گے۔ کیونکہ جنگ بدر سے متعلقہ روایات میں آیا ہے کہ قریش کا لشکر ہر دن دس اونٹ نحر کرتا تھا اور یہ ایک ہزار کے لشکر کی ایک دن کی خوراک تھی۔ بہر حال یہ دونوں امور مسلمانوں کی کامیابی کے لئے بہت موٴثر تھے کہ ایک طرف سے دشمن ان کی نگاہ میں کم معلوم ہوتے تھے تاکہ اقدامِ جنگ میں انھیں کوئی خوف اور وہم نہ ہو اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی تعداد دشمن کو کم دکھائی دیتی تھی تاکہ وہ اس جنگ سے صرفِ نظر نہ کرلیں جس کا انجام ان کی شکست تھی علاوہ ازیں اس سلسلے میں زیادہ طاقت بھی حاصل نہ کریں اور اس گمان میں کہ لشکرِ اسلام کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جنگ کے لئے مزید سپلائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ لہٰذا قرآن مندرجہ بالا جملوں کے بعد کہتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر تھا کہ خدا اس امر کو انجام دے جسے ہر حالت میں متحقق ہونا چاہیے (لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا)۔ نہ صرف یہ جنگ اس کے مطابق انجام پائی کہ جو خدا چاہتا تھا بلکہ ”اس جہاں میں تمام کام اور تمام چیزیں اس کے حکم اور ارادے کی طرف بازگشت رکھتی ہیں اور اس کا رادہ تمام چیزوں میں نفوذ رکھتا ہے“ (وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ)۔ سورہ آل عمران کی آیہ ۱۳ جو جنگ بدر کے تیسرے مرحلے کی طرف اشارہ ہے میں ہے کہ دشمن آغاز جنگ اور سپاہ اسلام کی کاری ضربیں کہ جو بجلی کی طرح ان کے سروں پر پڑتی تھیں دیکھ کر پریشاں ہوگئے۔ وہ اس وقت یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے لشکر اسلام میں اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ انھیں لگتا تھا جیسے دوگنا ہوگیا ہے۔ اس طرح ان کی ہمت منزلزل ہوگئی جو ان کی شکست کا ایک باعث بنی۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو ان مندرجہ بالا آیات میں کوئی تضاد ہے اور نہ ہی ان کے اور آل عمران کی تیر ہویں آیت کے درمیان کوئی تضاد ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک آیت جنگ کے ایک ایک مرحلے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا مرحلہ __ میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے کا ہے۔ خواب میں رسول اللہ کو ان کی تعداد کم دکھائی گئی۔ دوسرا مرحلہ__سرزمین بدر میں پہنچنے کے وقت کا ہے۔ مسلمان دشمن کے لشکر کی زیادہ تعداد سے آگاہ ہوئے۔ اس سے بعض افراد خوف اور پریشانی میں مبتلا ہوئے۔ تیسرا مرحلہ__جنگ شروع ہونے کے وقت کا ہے۔ پروردگار کے لطف و کرم سے امید افزاء حالات پیدا ہوگئے اور دشمن کی تعداد انھیں کم معلوم ہونے لگی۔ (غور کیجئے گا) ۴۵- یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ۴۶- وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ وَلَاتَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْھَبَ رِیحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ۴۷- وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَاللهُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ ترجمہ ۴۵۔اے ایمان لانے والو ! جب (میدانِ جنگ میں) کسی گروہ کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو زیادہ یاد کرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔ ۴۶۔اور خدا اور اس کے رسول (کے فرمان) کی اطاعت کرو اور نزاع (اور جھگڑا) نہ کرو تاکہ (کمزور اور) سست نہ ہوجاؤ اور تمہاری طاقت (اور شوکت و ہیبت ختم نہ ہوجائے اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرو اور خدا صبر و استقامت کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ ۴۷۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے علاقے سے، ہوا پرستی، غرور اور لوگوں کے سامنے خود نمائی کے لئے (میدان بدر کی طرف) نکلے ہیں اور وہ (لوگوں کو) راہ خدا سے روکتے تھے (اور آخر کاران کا انجام شکست اور نابودی تھا) اور جو وہ عمل کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ (اور آگاہی) رکھتا ہے۔