إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
Indeed the faithless spend their wealth to bar from the way of Allah. Soon they will have spent it, then it will be a cause of regret to them, then they will be overcome, and the faithless will be gathered toward Hell,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:36
[Pooya/Ali Commentary 8:36]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:36-37
چند اہم نکات
۱۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شکست کھانے سے پہلی بھی اپنے کام کی بیہودگی کی طرف متوجہ ہوگئے تھے اور چونکہ انھوںنے جواموال خرچ کئے ہیں ان کہ انھیں کافی ووافی نتیجہ میسّر نہیں آیا لہٰذا رنج واندوہ میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی ایک دنیاوی سزا ہے۔ ان کی دوسری سزا ان کے منصوبوں کی شکست ہے کیونکہ کرائے کے فوجی اور مال ودولت کے عشق میں جنگ لڑنے والے مقدس ہدف کی خاطر لڑنے والے صاحبانِ ایمان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے۔ دورِ حاضر میںکے حوادث نے بھی بارہا یہ بات ثابت کی ہے کہ طاقتور حکومتیں جو اپنے فوجیوں کو دولت اور ثروت کا لالچ دے کر اور جنسی خواہشات کی تشویق کے ذریعے چھوٹی سی قوموں کے مقابلے میں جوایمان کی بناء پر جنگ کرتی ہیں، ذلّت ورسوائی سے مغلوب ہوجاتی ہیں۔ ان دودنیاوی سزاؤں کے علاوہ انھیں ایک تیسری سزا کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، یہ سزا دوسرے جہان میں ہوگی اور وہ غضب الٰہی کے جہنم میں گرفتار ہوں گے۔ ۲۔ جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں ایا ہے ہماری آج کی دنیا میں بھی اس کے بہت سے نمونے ہیں۔ شیطانی سامراجی قوتیں، ظلم وفساد کے طرفدار اور بے پردہ وباطل مذاہب کے حامی اپنے اہداف کی پیش رفت اور انسانوں کو راِہ حق سے روکنے کی خاطر مختلف صورتوں میں بہت زیادہ سرمایہ صرف کرتے ہیں۔ کبھی کرائے کے فوجیوں کی صورت میں ، کبھی ظاہراً انسانی امداد کی شکل میں ہسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیر کی صورت میں، کبھی ثقافتی امداد کے حوالے سے لیکن اصلی مقصد سب کا ایک ہے اور وہ ہے استعمار اور ظلم وستم کی وسعت اور سچّے مومن مجاہدین جنگ بدر کی طرح منظم اور پُرعزم طور پر صف بندی کرلیں تو وہ ان تمام سازشوں کو نقش بر آب کرسکتے ہیں اور ان سرمایوں کی حسرت سے ان کے دلوں کو بھرسکتے ہیں اور آخرکار انھیں دوزخ میں بھیج سکتے ہیں۔ ۳۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہ دعوتِ پیغمبر کی صداقت کی نشانی ہے کیونکہ اس میں آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے اِس میں دشمنانِ اسلام کی شکست کی خبر ہے جبکہ انھوں نے کامیابی کے لئے بہت مال ودولت صرف کیا تھا۔ لیکن اگرہم آیت کو آئندہ کے واقعات سے مربوط غیبی خبر نہ سمجھیں تب بھی کم از کم حق وباطل کے بارے میں قرآن نے ایک دقیق اور حساب شدہ مفہوم پیش کیا ہے جو قرآن اور تعلیماتِ اسلام کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ گذشتہ آیت میں دشمنانِ حق کے مالی مصارف کے تین بُرے نتائج کئے گئے ہیں، اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ حسرت، شکست اور بدبختی اس بناپر ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ناپاک کو پاک سے اس جہان میں اور دوسرے جہان میں الگ الگ کردے (لِیَمِیزَ اللهُ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ)۔ یہ ایک سنّت الٰہی ہے کہ ہمیشہ پاک اور نجس، مخلص اور ریاکار اور جھوٹے مجاہد، خدائی کام اور شیطانی کام، انسانی پروگرام اور ضد انسانیت پروگرام واضح ہوئے بغیر نہیں رہتے آخر پہچانے جاتے ہیں اور جلوہٴ حق نمایاں ہوکے رہتا ہے البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ حق کے طرفدار جنگ بدر کے مسلمانوں کی کافی آگاہی اور جذبہٴ فداکاری سے شرمسار ہوں۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: خدا اپاک چیزوں کو ایک دوسرے کا ضمیمہ قرار دیتاہے اور سب کو ڈھیر بنادیتا ہے اور جہنم میں قرار دیتا ہے (وَیَجْعَلَ الْخَبِیثَ بَعْضَہُ عَلیٰ بَعْضٍ فَیَرْکُمَہُ جَمِیعًا فَیَجْعَلَہُ فِی جَھَنَّمَ)۔ خبیث اور ناپاک جس گروہ سے ہوں اور جس شکل اور لباس میں ہوں اخرکار ایک ہی شکل میں ڈھل جائےں گے اور ان سب کا انجام زیاںکاری ہی ہوگا جیساکہ قرآن کہتا ہے کہ وہ خسارے میں ہیں اور زیاںکار ہیں(اٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْخَاسِرُونَ)۔ ۳۸- قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ یَنتَھُوا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ یَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ ۳۹- وَقَاتِلُوھُمْ حَتَّی لَاتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ فَإِنْ انتَھَوْا فَإِنَّ اللهَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ۴۰- وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ نِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ ترجمہ ۳۸۔ وہ لوگ کافر ہوگئے ہیں انھیں کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت سے باز آجائیں (اور ایمان لے آئیں) تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ سابقہ اعمال کی طرف پلٹ جائیں تو گذشتہ والی خدا کی سنّت ان کے بارے میں جاری ہوگی۔ ۳۹۔ اور ان کے ساتھ جگ کرو تاکہ (شرک اور سلبِ آزادی کا) فتنہ ختم ہوجائے اور دین (اور عبادت) سب خدا کے ساتھ مخصوص ہوجائے اور وہ (شرک اور فساد کی راہ سے لوٹ آئیں اور غلط اعمال سے) اجتناب کریں تو (خدا انھیں قبول کرے گا) جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اُسے دیکھنے والا ہے۔ ۴۰۔ اور اگر وہ روگردانی کریں تو جان لوکہ (وہ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے کیونکہ) خدا تمھار سرپرست ہے وہ بہترین سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:36-37
تفسیر
ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ بشارت اور انذار کو اکھٹا کردیتا ہے یعنی جیسے دشمنانِ حق کو سخت اور دردناک عذاب کی تہدید کرتا ہے اسی رح لوٹ آنے کا راستہ بھی ان کے لئے کُھلا رکھتا ہے۔ محل بحث آیات میںسے پہلی آیت بھی قرآن کے اسی طریقے کے مطابق ہے۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ: جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت، ہٹ دھرمی اور سرکشی سے باز رہیںاور دینِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے (قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ یَنتَھُوا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام قبول کرنے لینے سے گذشتہ دور میں جو کچھ بھی ہوا ہو اُسے بخش دیا جاتا ہے اور یہ بات اسلامی روایات میں ایک عمومی قانون کے طور پر بیان کی گئی ہے جیسے کہا گیا ہے: ”اٴَلاِسْلَام یَجُبُّ مَا قَبْلَہُ“- اسلام اپنے ماقبل کو چھپا دیتاہے۔ اسی طرح اہلِ سنّت کے طرق سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے: ”انّ السلام یھدم ماکان قبلہ، وانّ الھجرة تھدم ماکان قبلھا وانّ الحج یھدم ما کان قبلہ“- اسلام سے پہلے جو کچھ ہوا اسلام اُسے ختم کردیتا ہے اور ہجرت اپنے ماقبل کو مٹادیتی ہے اور اسی طرح خانہٴ خدا کا حج بھی اپنے ماقبل کو محو کردیتا ہے۔(۱) مراد یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کے غلط اعمال وافعال یہاں تک کہ فرائض وواجبات کا ترک کرنا اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے اور اس قانون کا عطف اور ربط گذشتہ سے نہیں ہے۔ اسی لئے کتبِ فقہِ اسلامی میں ہے کہ مسلمان ہونے والے شخص کے لئے گذشتہ عبادات کی قضا تک ضروری نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن اگر وہ اپنی غلط روش سے باز نہ آئیں ”اور اگر وہ سابقہ اعمال کی پلٹ جائیں تو جو خدائی سنّت گذشتہ لوگوں کے لئے رہی ہے ان کے لئے بھی انجام پائے گی“ (وَإِنْ یَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ)۔ اور اس سنّت سے مراد وہی انجام ہے جس سے دشمنانِ حق انبیاء کے مقابلے میں اور خود مشرکینِ مکّہ تک جنگ بدر میںپیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقابلے میں دوچار ہوئے ہیں۔ سورہٴ غافر کی آیت ۵۱ میں ہے: <إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْاٴَشْھَادُ ہم اپنے رسولوں کی اور مومنین کی دنیاوی زندگی اور روزِ قیامت کہ جس میں گواہ کھڑے ہوںگے، مدد کریںگے۔ اسی طرح سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۷۷ میں ہے: <وَلَاتَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا یہ ہماری سنت گذشتہ پیغمبروں کے بارے میں ہے اور یہ سنت کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔ گذشتہ آیت میں چونکہ دشمنوں کو حق کی طرف پلٹ آنے کی دعوت دی جاچکی ہے اور ممکن تھا کہ یہ عوت مسلمانوں میں یہ فکر پیدا کردیتی کہ اب جہاد کا دور ختم ہوگیا ہے اور انعطاف اور نرمی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں لہٰذا اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے مزید فرمایا گیا ہے: ان سخت ترین دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو اور اس جنگ کو جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور سارے کا سارا دین الله کے لئے ہوجائے (وَقَاتِلُوھُمْ حَتَّی لَاتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ)۔ جیسا کہ ہم سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ لفظ ”فتنہ“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میںہر قسم کے دباوٴ ڈالنے والے اعمال شامل ہیں، اس لئے کبھی یہ لفظ قرآن میں شرک وبت پرستی کے معنی میں استعمال ہوتاہے جوکہ معاشرے کے لئے بہت سی رکاوٹیں اور دباؤ پیدا کرتی ہے، اسی طرح ایسے دباوٴ کے مفہوم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو دعوتِ اسلام کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لئے اور حق طلب لوگوں کی آواز دبانے کے لئے ہو، یہاں تک کہ مومنین کو کفر کی طرف پلٹانے کے لئے ڈالے جانے والے دباوٴ پر بھی ”فتنہ“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں بعض مفسّرین نے ”فتنہ“ کو شرک کے معنی میں لیا ہے، بعض نے دشمنوں کی مسلمانوں سے فکری واجتماعی آزادی سلب کرنے کی کوششوں کے معنی میں لیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ آیت کات مفہوم وسیع ہے، اس سے مراد شرک بھی ہے اور (”وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ“ کے قرینہ سے)دشمنوں کی طرف سے مسلمانوں پر وارد ہونے والے ہر قسم کے دباوٴ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ ۱۔ صحیح مسلم، طبق نقل المنار، ج۹، ص۶۶۵-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:36-37
شان نزول
تفسیر علی بن ابراہیم اور بہت سی دوسری تفاسیر میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ بدر کے لئے مکہ کے لوگوں کی مالی امداد کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب مشرکین مکہ ابوسفیان کے قاصد کے ذریعے واقعہ سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے بہت سا مال واسباب اکھٹا کیا تاکہ اپنے جنگی سپاہیوں کی مددکریں لیکن اخر کار وہ شکست کھاگئے اور مارے گئے اور جہنم کی آگ کی طرف چلے گئے اور اس راہ میں انھوں نے جو کچھ صرف کیا تھا ان کی حسرت واندوہ کا سبب بنا۔ پہلی آیت میں ان کی باقی امداد کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے اسلام کے خلاف مقابلوں میں کی تھی اور اس مسئلے کو ایک عمومی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کی جنگ بدر میں دو ہزار کرائے کے سپاہیوں کی مدد کے بارے میں نازل ہوئی لیکن چونکہ یہ آیات جنگ بدر سے مربوط آیات کے ساتھ آئیں ہیں اس لئے شانِ نزول زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ تفسیر آیت کی شانِ نزول میں جو کچھ بھی ہو اس کا مفہوم جامع ہے اور یہ دشمنانِ حق وعدالت کی ان تمام مالی امدادوں کے بارے میں ہے جو وہ اپنے بُرے مقاصد کی پیش رفت کے لئے کرتے تھے، پہلے کہا گیا ہے : کافر اور دشمنِ حق اپنا مال خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ حق سے روکیں (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یُنْفِقُونَ اٴَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ لیکن اموال کا یہ صرف کرنا ان کی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا ”عنقریب وہ یہ اموال خرچ کریں گے لیکن انجام کار وہ ان کی حسرت واندوہ کا سبب ہوگا“ (فَسَیُنفِقُونَھَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْھِمْ حَسْرَةً)۔ اور پھر وہ اہلِ حق کے ہاتھوں مغلوب ہوںگے(ثُمَّ یُغْلَبُونَ)۔ یہ لوگ نہ صرف اس جہان میں حسرت وشکست میں گرفتار ہوںگے بلکہ دوسرے جہان میں یہ کافر اکھٹے ہوکر جہنم میں جائیں گے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا إِلیٰ جَھَنَّمَ یُحْشَرُون)۔