۞إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلۡبُكۡمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ
Indeed the worst of beasts in Allah’s sight are the deaf and dumb who do not exercise their reason.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:20-23
دو اہم نکات
۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض اوقات بعض نکتہ چین اس آیت سے اپنے لئے ایک پریشا کن مطلب اخذ کرتے ہیں، وہ یہ منطق پیدا کرتے ہیں کہ اس آیت میں قرآن کہتا ہے: ”اگر خدا ان میں کوئی اچھائی دیکھے تو ان تک حق پہنچادے“ اور ”اگر ان حق ان تک پہنچادے تو وہ روگردانی کرتے ہیں“۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ”اگر خدا ان میںکوئی خیر دیکھے تو وہ روگردانی کریںگے“۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کیونکہ گفتگو کے پہلے حصّے میں جو یہ آیا ہے کہ ”حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا“ اس کے بارے میں انھیں اشتباہ ہوا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس سلسلے میں آمادکی رکھتے ہوں تو حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا، لیکن گفتگو کے دوسرے حصّے میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اسباب فراہم نہ ہونے کی صورت میں یہ کام کرے تو وہ روگردانی کریں گے۔ لہٰذا یہ جملہ مندرجہ بالا آیت میں دو مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مذکورہ منطقی قیاس نہیںکیا جاسکتا(1) (غور کیجئے گا)۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ کوئی کہے کہ: اگر میں جانتا کہ فلاں شخص میری دعوت کو قبول کرلے گا تو میں اسے دعوت دیتا لیکن اس وقت حالات ایسے ہیں کہ اگر میں اسے دعوت دوں تو وہ قبول نہیں کرے گا لہٰذا میں اسے دعوت نہیں دوںگا۔ ۲۔ حق بات سننے کے مختلف مراحل: بعض اوقات انسان صرف الفاظ اور عبارات کو سنتا ہے لیکن ان کے مفہوم پر غور وفکر نیہں کرتا، کچھ ایسے حاالات بھی ہیںکہ جو اس قدر سننے پر تیار نہیں ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے: <وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَاتَسْمَعُوا لِھٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ کفار کہتے ہیں کہ اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو اور شور مچاوٴ شایدتم کامیاب ہوجاوٴ تاکہ کوئی شخص حق بات نہ سُن سکے۔(حٰم سجدہ/۲۶) کبھی انسان گفتگو اور الفاظ سننے کو تو تیار ہوتا ہے لیکن پھر بھی عمل کا ارادہ اور عزم نہیں کرتا، جیسے منافقین ہیں کہ جن کی طرف سورہٴ محمد آیت۱۶ میں فرمایا گیا ہے: <وَمِنْھُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ حَتَّی إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوا لِلَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ان میں سے بعض ایسے منافق ہیں جو تمھاری باتیں کان دھر کے سنتے ہیں لیکن جب وہ تیرے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو انکار یا استہزاء کے طور پر آگاہ اور باخبر لوگوں سے کہتے ہیں یہ کیا بات تھی جو محمد کہہ رہا تھا۔ بعض اوقات ان کی کیفیت کچھ ایسی ہوجاتی ہے کہ اگر وہ کسی بات کو توجہ سے سنیں بھی تو حق بات کا ادراک نہیں کرپاتے ان سے نیک وبد کی تمیز کی حس ہی سلب ہوجاتی ہے اور یہ خطناک ترین مرحلہ ہے۔ قرآن ان تینوں گروہوں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ درحقیقت بہرے ہیں کیونکہ حقیقی سننے والا تو وہ ہے جو توجہ سے سنتا بھی ہے، سمجھتا ہے، سوچتا ہے اور از رُوئے اخلاص عمل کا بھی مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ آج بھی کتنے لوگ ہیں جو آیاتِ قرآن سنتے وقت (بغیر تشبیہ کے، جیسے موسیقی کی آوازیں سن رہے ہوں) احساس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی زبان سے شور ہیجان کی کیفیت کے مظہر جملے نکلتے ہیں لیکن ان کی ساری ہمت بس یہی ہوتی ہے اور عمل میں کورے ہوتے ہیں اور یہ کیفیت مقصدِ قرآن سے میل نہیں کھاتی۔ ۲۴- یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہِ وَاٴَنَّہُ إِلَیْہِ تُحْشَرُونَ ۲۵- وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَاتُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ ۲۶- وَاذْکُرُوا إِذْ اٴَنْتُمْ قَلِیلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِی الْاٴَرْضِ تَخَافُونَ اٴَنْ یَتَخَطَّفَکُمْ النَّاسُ فَآوَاکُمْ وَاٴَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہِ وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ترجمہ ۲۴۔ اے ایمان والو! خدا اور پیغمبر کی دعوت قبول کرو، جب وہ تمھیں ایسی چیز کی طرف پکارے جو تمھاری زندگی کا سبب ہے اور جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تم سب (قیامت) میں اس کے پاس محشور ہوگے۔ ۲۵۔ اور اس فتنے سے درو جو صرف تمھارے ظالموں کو نہیں پہنچے کا (بلکہ سب کو گھیرلے گا کیونکہ دوسروں نے خاموشی اختیار کی تھی) اور جان لو کہ خدا شدید العقاب ہے۔ ۲۶۔ اور وہ وقت یاد کرو جب رُوئے زمین پر ایک مختصر، چھوٹا اور کمزور گروہ تھے یہاں تک کہ تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں کو نہ لے جائیں لیکن اس نے تمھیں پناہ دی، تمھاری مدد کی اور تمھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مند کیا تاکہ اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ 1۔ منطقی اصلاح کے مطابق مذکورہ قیاس میں ”حد وسط“ موجود نہیں ہے کیونکہ پہلے جملے میں ”لاٴَسْمَعَھُمْ حالکونھم یعلم فیھم خیراً“ ہے اور دوسرے جملے میں ”لاسمعھم حالکونھم لایعلم فیھم خیرا“ہے لہٰذا مندرجہ بالا دو جملوں میں حدِ وسط موجود نہیں ہے کہ اس سے قیاس کی تشکیل کی جاسکے اور یہ دونوں جملے ایک دوسرے مختلف اور الگ الگ ہیں (غور کیجئے گا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:20-23
سننے والے بہرے
یہ آیات گذشتہ مباحث کے تسلسل میں آئی ہیں، اور یہ مسلمانوں کو جنگ، صلح اوردیگر تمام امور میں پیغمبرِ خدا کی مکمل اطاعت کی دعوت کے سلسلے میں ہیں۔ آیات کہ لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس سلسلے میں بعض مومنین نے اپنے فرض میں کوتاہی کی تھی۔ لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ)۔ دوبارہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اور اس کے حکم کی اطاعت سے کبھی روگردانی نہ کرو جب تک تم اس کی باتیں اور اوامر ونواہی سنتے ہو (وَلَاتَوَلَّوْا عَنْہُ وَاٴَنْتُمْ تَسْمَعُونَ)۔ اس میں شک نہیں کہ حکم خدا کی اطاعت سب پر لازم ہے چاہے کوئی مومن ہو یا کافر لیکن چونکہ پیغمبر کے مخاطب اور ان کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے مومنین تھے لہٰذا یہاں رُوئے سخن ان کی طرف ہے۔ اسی سلسلے کی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ان لوگوں کی مانند نہ ہوجاوٴ جو کہتے تھے کہ ہم نے سنا لیکن در حقیقت وہ نہیں سنتے تھے (وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُوا سَمِعْنَا وَھُمْ لَایَسْمَعُونَ)۔ یہ بہت عمدہ اور جاذب نظر تعبیر ہے جو قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں استعمال کی ہے جو جانتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، سنتے ہیں مگر اثر نہیں لیتے اور ظاہراً مومنین کی سف میں شامل ہیں لیکن مطیعِ فرمان نہیں ہیں، فرمایا گیا ہے کہ وہ سننے والے کان رکھتے ہیں، الفاظ اور باتیں سنتے ہیں اور ان کے معانی بھی سمجھتے ہیں لیکن چونکہ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے تو گویا بالکل بہرے ہیں چونکہ یہ سب کچھ تو عمل کے لئے تمہید ہے اور جب عمل نہیں تو تمہید بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں کہ یہ کون لوگ تھے جن کی یہ صفت قرآن بیان کررہا ہے اور مسلمانوں کو ہوش میں رہنا چاہیے کہ وہ ان جیسے نہ بن جائیں بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ہوئے تھے، بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے اسے مشرکینِ عرب کی طرف اشارہ سمجھا ہے لیکن کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ان تینوں گروہوں کے وہ افراد شامل ہوں جو عمل کے بغیر باتیںکرنے والے ہوں۔ گفتار عمل کے بغیر اور سننا تاثیر کے بغیر انسانی معاشروں کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور بہت سی بدبختیوں کا سرچشمہ ہے لہٰذا دوبارہ اگلی آیت میں بھی یہ سلسلہٴ کلام جاری ہے اور ایک دوسرے خوبصورت انداز میں فرمایا گیا ہے: زمین پر چلنے والوں میں سے خدا کے نزدیک بد بترین وہ ہیں جو نہ سننے والے کان رکھتے ہیں نہ بولنے والی زبان اور نہ ہی عقل وادراک، وہ بہرے، گونگے اور بے عقل ہیں (إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِینَ لَایَعْقِلُونَ)۔(۱) قرآن چونکہ ایک کتابِ عمل ہے کوئی رسمی کتاب نہیں لہٰذا وہ ہر جگہ نتائج کا سہارا لیتی ہے اور اصولی طور پر ہر بے خاصیت موجود کو معدوم سمجھتی ہے،ہر بے حرکت وبے اثر زندہ کومردہ قرار دیتی ہے اور انسان کا ہر عضو جو اس کی ہدایت وسعادت کے راستے میں کارآمد نہ ہو اسے نہ ہونے کے برابر شمار کرتی ہے۔ اس آیت میں بھی ان اشخاص کو ظاہراً صحیح وسالم کان رکھتے ہیں لیکن ان کان آیات خدا، کلامِ حق اور سعادت بخش پروگراموں کو سننے پر آمادہ نہیں، انھیں بہرہ قرار دیتی ہے اور اسی طرح جو لوگ صحیح وسالم زبان رکھتے ہیں لیکن مہر سکوت ان کی زبان پر لگی ہوئی ہے نہ حق کا دفاع کرتے ہیں، نہ ظلم وفساد کا مقابلہ کرتے ہیں، نہ جاہل کو ارشاد کرتے ہیں، نہ امر بالمعروف کرتے ہیں، نہ نہی عن المنکر کرتے ہیں اور نہ ہی راہِ حق کی طرف دعوت دیتے ہیں بلکہ اس عظیم خدائی نعت کو صاحبان زور روز کی چاپلوسی یا تحریفِ حق اور تقویتِ باطل میں استعمال کرتے ہیں، ایسے افراد کو گونگا شمار کرتی ہے اور وہ ہوش وعقل کی نعمت سے بہرہ مند تو ہوتے ہی لیکن صحیح غور وفکر نہیں کرتے انھیں دیوانوں میں شمار کرتی ہے۔ اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: خدا تمھیں حق کی دعوت دینے میں کوئی مضائقہ نہیں جانتا، اگر وہ مائل ہوتے اور خدا اس لحاظ سے ان میں خیر وبھلائی دیکھتا تو جیسے بھی ہوتا ان تک حق بات پہنچاتا (وَلَوْ عَلِمَ اللهُ فِیھِمْ خَیْرًا لَاٴَسْمَعَھُمْ)۔ کچھ روایات میں آیا ہے کہ ہٹ دھرم بت پرستوں کی ایک جماعت پیغمبرخدا کے پاس آئی، یہ لوگ کہنے لگے: ہمارے جد بزرگ قصی بن کلاب کو زندہ کردو اور وہ تمھاری نبوت کی گواہی دے تو ہم سب تسلیم کرلیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ یہی بات حقیقت کے طور پر کہتے تو خدا یہ کام معجز نمائی کے طور پر انجام دے دیتا لیکن یہ جھوٹ بولتے ہیں اور ان کا ہدف قبولِ حق سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے اور اگر اس حالت میں خدا ان کی درخواست قبول کرلے اور حق بات اس سے زیادہ ان کے کانوں تک پہنچائے یا ان کے جد قصی بن کلاب کو زندہ کردے اور یہ اس کی گواہی سُن لیں پھر بھی یہ روگردانی کریں گے اعراض کئے رہیں گے (وَلَوْ اٴَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوا وَھُمْ مُعْرِضُونَ)۔ یہ جملے ایسے لوگوں کے بارے میں ہیں جنھوں نے بارہا حق کی باتیں سنی ہیں اور قرآن کی روح پرور آیات اُن کے کانوں تک پہنچی ہیں اور انھوں نے ا ن کے مضامین ومفاہیم کو سمجھا ہے مگر پھر بھی تعصب اور ہٹ دھر می سے کام لیتے ہوئے ان کا انکار کرتے ہیں، ایسے افراد اپنے اعمال کی وجہ سے ہدایت کا صلاحیت گنوا بیٹھے ہیں اور اب خدا اور اس کے پیغمبر کو ان سے کوئی سرورکار نہیں۔ یہ آیت ایسے جبری مذہب کے پیروکاروں کے لئے دندان شکن جواب ہے، یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ تمام سعادتوں کا سرچشمہ خود انسان ہے اور خدا کوبھی لوگوں کی اہلیت کے لحاظ سے ہی ان سے سلوک کرتا ہے۔ ۱۔ ”صم“ ”اٴصم“ کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں ”بہرے“ ”بکم“ ”اٴبکم“ کی جمع ہے، اس کے معنی ”گونگے“-
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 8:20-28
1. Disobedience to God and Prophet is not permissible in any case. 2. Be not like the hypocrites who say they heard, whereas it is otherwise, hearts are sealed by God and they have no sense, being rendered deaf and dumb and thus they are worse than cattle. 3. Every man gets an opportunity to distinguish truth from otherwise and it is on his intentions which makes him guided on the right path or lose self in misguidance. 4. Ever keep in view the Divine Bounties to keep you obedient, grateful, and leading to increase of virtues and avoiding vices. Do not cause a split among yourself: united you stand, divided you fall. 5. Guard what is left with you as Divine deposit, and remember your property including and children are Divine deposit. Therefore, spend your property in Name of God and train your children to follow God’s commands in Rule of Islam.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:22
[Pooya/Ali Commentary 8:22] (see commentary for verse 20)