يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
They ask you concerning the anfaal. Say, ‘The anfaal belong to Allah and the Apostle.’ So be wary of Allah and settle your differences, and obey Allah and His Apostle, should you be faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:1
[Pooya/Ali Commentary 8:1] The root of anfal is nafl which means addition or accession-of the property, movable or immovable, for which there is no owner or claimant, particularly the spoils of war, at the end of a battle. Aqa Mahdi Puya says: Anfal: (i) Enemy's property, movable or immovable, abandoned by the enemy soldiers. (ii) The movable or immovable property of those who have migrated to another place, leaving behind no owner-known as fayi (Hashr: 6 and 7). (iii) The inheritance of a person who has left no inheritor. (iv) The land which is owned by no one. This verse was revealed when those, who participated in the battle of Badr, claimed the enemy's property, which they appropriated, as their own. It says that anfal belongs to Allah and the Holy Prophet, who is authorised to distribute or dispose it as he likes. It is because Allah is the absolute sovereign. He owns everything. He has delegated His authority to the Holy Prophet. In this way the discord, cropped up among the people, has been solved. It is a permanent principle and a guideline for all times to come.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 8:1-10
Conditions for acceptance of Daily Prayers which is a complete manifestation of Divine obligation in which not only the human heart is involved but all the organs physical of his are affected. If this obligation is defective there is no other obligation, which takes up with the heart. If this obligation is defective there is no other obligation which takes up with the heart, all physical organs in discharge of Divine obligation. Thus, then, failure to perform prayers as per requirement disqualifies a faithful to admission to paradise owing to defective faith. First condition needed is purity of soul and body with this, half duty is discharged. Now realization of Divine Deity, as per His real Entity can only be realized by him, whom Divinity guides. This is, in the first instance, Prophet Mohammad and his Immaculate Family followed by all other Prophets and their successors from Adam downwards who were heaven born and Divine trained, termed as Divine Lights. Thus anyone who prays to God without their medium is an Associator and his prayers will not be deemed admissible. Second condition is piety enforced by God who demands fulfilment of rights and those of the individual relating to self. With association, which disqualifies acceptance of prayers, are included, despondence, intrigue against Divine Lights or breach of fealty to them, disregard to Divine Commands, i.e. transgression, flight from crusade without justification, hypocrisy, pride, postponing without justification fasts and pilgrimage, misguiding others or preventing them from following Divine Path, disrespecting Holy sanctuary of Mecca. These can be rectified by due penance to God. Regarding rights of men (faithful especially) unless latter forgive and punishment received on behalf of others (non-faithful) in this world, prayers are not accepted. In this are included tithe loans, backbite, murder, parents obligations and due obedience unto them, interest taking, swallowing rights of others, barring their rights, disaffection, sodomy, theft, deceit under-measure, tale-bearing, fornication and like transgressing. Rights of self are: drinking, eating the dead, bacon, gambling, lie extravagance, wasteful games, music, and cinema, illicit earning, hiding religious facts. These relating to soul are: delusion, love for power and self, self-estimation. All these render man faithless and incapable of getting his virtues accepted. ******** 1. Lands surrendered to the Prophet without actual march thereon fall under Divine Discretion to be partitioned as per His Prophet and legal successor’s desire, for Badr, the Prophet did not separate Khums, but there after he did so before distributing the booty in three sections. 2. True and faithful are qualified by 3. God helped the Prophet at Badr with 1,000 angels to encourage followers of His Prophet, else His help was enough. Was not angels’ coming as Divine help enough to convince the Prophet’s companions on his genuine claim to Prophetship? 4. Regarding word of God, see St. John 1:1, “In the beginning was the ‘word’ and the ‘word’ was with God. Again in 1:4, and the ‘word was made flesh and dwelt among “Us (and we beheld His glory) i.e. in that ‘word’ these “divine Lights” are known as sons of God (John, 1:12) not literally as it would not only be misnomer but infidelity taken as light or guidance is admissible as per the Glorious Qur’an.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:1
چند قابل توجہ نکات
1۔ مندرجہ بالا آیت اگر چہ جنگی غنائم کے بارے میں ہے لیکن اس کا مفہوم کلی اور عمومی ہے اور یہ حکم تمام اضافی اموال، جن کا مالک مخصوص نہ ہو، کے بارے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہلِ بیت(علیه السلام) سے منقول روایات میں انفال کا ایک وسیع مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ معتبر روایات میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”انھا ما آخذ من دار الحرب من غیر قتال کالّذی انجلی عنھا اھلھا وھو المسمیٰ فیئاً ومیراث من لاوارث لہ، وقطائع الملوک إذا لم تکن مغضوبة والآجام، وبطون الا ودیعة، والمات، فإنّھا لِلّٰہ ولِرسولہ وبعدہ لمن قام مقامہ، یصرفہہ حیث یشاء من صالحہ ومصالح عیالہ“ انفال ان اموال کوکہتے ہیں جو دار الحرب سے جنگ کے بغیر حاصل ہوں، اسی طرح وہ زمین جس کے رہنے والے اسے چھوڑکر ہجرت کرگئے ہوں، اسے ”فیء“ کا نام دیا گیا ہے اور اس شخص کی میراث جس کا کوئی وارث نہ ہو اور وہ سرزمین تنگ راستے اور غیر آباد زمینیں یہ سب خدا اور پیغمبر کا مال ہیں اور پیغمبر کے بعد اس کا ہے جو ان کا قائم مقام ہو اور وہ اسے ہراس راہ میں کہ جس میں وہ اپنی اور ان لوگوں کی کہ جن کی وہ کفالت کرتا ہے مصلحت دیکھے صرف کرے گا۔(۱) اگرچہ تمام جنگی غنائم کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر نہیں آیا لیکن ایک اور حدیث جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اُس میں ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ان غائم بدر کانت للنّبی خاصّة فقسمھا بینھم تفضلاً منہ- جنگ بدر کا مالِ غنیمت سے مخصوص تھا لیکن آپ نے بخشش کے طور پر لشکرِ اسلام میں تقسیم کردیا(۲) جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انفال کے مفہوم میں نہ صرف غنائم جنگی شامل ہیں بلکہ ہر وہ مال انفال ہے جس کا کوئی مخصوص مالک نہ ہو او رایسے تمام اموال خدا، پیغمبر اور ان کے قائم مقام سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے مفاد میں صرف ہوتے ہیں۔ البتہ جنگی غنائم اور جو منقولہ اموال جنگ میں لشکرِ اسلام کے ہاتھ آئیں ان کے بارے میں قانون اسلام جس کی ہم اس سورہ میں کریں گے یہ ہے کہ پانچ حصّوں میں چار غازیوںکو دیئے جائیں گے اور یہ ان کی تشویق اور زحمات کی کچھ تلافی کے لئے ہے، ایک حصّہ خمس کے طور پر رکھ دیا جائے گا، اس خمس کے مصارف کے بارے میں آیت ۴۱ کے ذیل میں اشارہ کیا جائے گا، اسی طرح سے غنائم بھی انفال کے عمومی مفہوم میں شامل ہیں اور دراصل حکومت اسلامی کی ملکیت ہیں اور پانچ میں سے چار حصّے جو غازیوں کو بخشے گئے ہیں وہ عطیہ اور تفضّل کے طور پر ہے (غور کیجئے گا)۔ ۲۔ ہوسکتا ہے کہ یہ خیال پیدا ہو کہ زیر نظر آیت کہ جس کے مفہوم میں جنگی غنائم بھی شامل ہیں اسی سورہ کی آیت ۴۱ کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غنائم کا صرف پانچواں حصّہ (یعنی خمس) خدا، پیغمبر اوردیگر مصارف کے لئے ہے کیونکہ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ باقی چار حصّے جنگی سپاہیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن سطور بالا میںجو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جنگی غنائم در اصل سب خدا اور رسول سے متعلق ہیں اور یہ ایک قسم کی بخشش اور تفضّل ہے کہ ان کے چار حصّے جنگی سپاہیوں کو دے دیئے گئے ہیں، بہ الفاظ دیگر حکومتِ اسلامی منقولہ غنائم میںسے اپنے حق کے چار حصّے مجاہدین پر صرف کرتی ہے۔ اس مفہوم کے پیش نظر دونوں آیات میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خمس والی آیت جیسا کہ بعض مفسّرین کا خیال ہے آیہٴ انفال کی ناسخ نہیں ہے بلکہ دونوں اپنی قوّت سے باقی ہیں۔ ۳۔ جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ بعض مسلمانوں کے درمیان جنگی غنائم کے بارے میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اوّل تو غنیمت کے مسئلے کی جڑ ہی کاٹ دی گئی اور مالِ غنیمت کو مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار اور ملکیت میں قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان اور ان افراد کے درمیان جن میں جھگڑا ہوا تھا، دوسروں کوصلح ومصالحت کروانے کا حکم دیا گیا۔ اصولی طور پر ”اصلاح ذات البین“ افہام وتفہیم، دشمنیوں اور کدورتوں کا خاتمہ اور نفرت کو محبت اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا اسلام کا ایک اہم ترین پروگرام ہے۔ ”ذات“ کا معنی کسی چیز کی خلقت، بنیاد اور اساس ”بین“حالت ارتباط کو اور دوشخصوں یا چیزوں کے درمیان پیوند قائم کرنے اور انھیں آپس میں ملانے کو کہتے ہیں، اس بناپر کا ”اصلاح ذات البین“مطلب ہے ارتباط کی بنیاد کی اصلاح، پیوند اور جوڑ کی تقویت اور پختگی اور درمیان میں سے تفرقہ ونفاق کے عوامل واسباب کا خاتمہ۔ تعلیماتِ اسلامی میں اس بات کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اسے بلند ترین عبادات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی وصیوں میں جبکہ آپ(علیه السلام) بسترِ شہادت پر تھے، اپنے فرزند انِ گرامی سے فرمایا: إنّی سمعت جدکما رسول اللّٰہ (ص) یقول: اصلاح ذات البین افضل من عامة الصلوٰة والصیام- میں نے تمھارے نانا رسول الله کو یہ کہتے ہوئے سنا: لوگوں کے درمیان اصلاحِ رابطہ مختلف قسم کی مستحب نمازوں اور روزوں سے برتر وافضل ہے۔(۱) کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: صدقة یحبّھا اللّٰہ بین الناس إذا تفاسدوا وتقارب بینھم إذا تباعدو- وہ عطیہ اور بخشش جسے خدا دوست رکھتا ہے وہ لوگوں کے درمیان صلح ومصالحت کروانا ہے جب وہ فسا کی طرف مائل ہوں اور انھیں ایک دوسرے کے قریب کرنا ہے جب کہ وہ ایک دوسرے سے دُور ہوں۔(۲) نیز اسی کتاب میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے اپنے صحابی ”مفضل“ سے فرمایا: إذا راٴیت بین إثنین من شیعتنا منازعة فافتدھا من مالی- جب ہمارے شیعوں میں سے دوافراد میں جھگڑا دیکھو (جو مالی امور سے متعلق ہو) تو میرے مال میں سے تاوان اور فدیہ ادا کرو (اور ان کی صلح کروادو۔(۳) اسی بناپر ایک اور روایت میں ہے کہ مفضل نے ایک دن شیعوں میں سے دوآدمیوں کو میراث کے معاملے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو انھیں اپنے گھر بلایا، ان میں چار سو درہم کا اختلاف تھا، وہ مفضل نے انھیں دے دیئے اور ان کا جھگڑا ختم کروادیا، اس کے بعد ان سے کہا کہ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ میرا مال نہیں تھا، بلکہ امام(علیه السلام) نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ ایسے موقع پر مالِ امام سے استفادہ کرتے ہوئے اصحاب کے درمیان صلح ومصالحت کروادوں۔(۴) اجتماعی معاملات میں اس قدر تاکیدیں کیوں کی گئی ہیں، تھوڑا غوروفکر کیا جائے تو اس کا سبب واضح ہوجاتا ہے۔ کسی قوم کے عظمت، طاقت قدرت اور سربلندی باہمی افہام وتفہیم اور ایک دوسرے سے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی اصلاح نہ ہو تو عدو۔اوت ودشمنی کی جڑ آہستہ آہستہ دلوں میں اتر جاتی ہے اور ایک متحد قوم کو پراکندہ کرکے رکھ دیتی ہے۔ آسیب زدہ، ضعیف وناتواں اور زبوں حال گروہ ہر حادثے اور ہر دشمن کے مقابلے میں سخت خطرے سے دوچار ہوگا بلکہ اسی جمعیت میں تو نماز، روزہ جیسے اصول مسائل یا خود وجوِ قرآن بھی خطرے میں پڑجائے گا۔ اسی بناپر اصلاح ذات البین کے بعض مراحل شرعاً واجب ہیں حتّیٰ کہ انھیں انجام دینے کے لئے بیت المال کے وسائل سے استفادہ کرنا جائز ہے اور بعض دوسرے مراحل جو مسلمانوں کی سرنوشت کے حوالے سے زیادہ اہم نہیں مستحبّ موٴکد ہیں۔ ۲- إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُھُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ آیاتُہُ زَادَتْھُمْ إِیمَانًَا وَعَلیٰ رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ- ۳- الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنفِقُونَ- ۴- اٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَھُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ- ترجمہ ۲۔ مومن صرف وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہوجائے اور وہ صرف اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ ۳۔ وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ۴۔ حقیقی مومن وہ ہیں کہ جن کے لئے ان کے پروردگار کے پاپس (بے حد) درجات ہیں اور ان کے لئے مغفرت وبخشش ہے اور بے نقص اور بے عیب روزی ہے۔ ۱ ۔ نہج البلاغہ- ۲۔ اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲- ۳۔ اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲- ۴۔ مدرک قبل-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:1
شان نزول
ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے جنگ بدر کے روز مجاہدین اسلام کی تشویق کے لئے کچھ انعامات مقرر کیے اور مثلاً فرمایا کہ جو فلاں دشمن کو قید کرکے میرے پاس لائے گا اسے یہ انعام دوں گا۔ ان میں پہلے ہی روح ایمان و جہاد موجود تھی اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ ہوا کہ جو ان سپاہی بڑے افتخار سے مقابلے کے لئے آگے بڑھے اور اپنے مقصد کی طرف لپکے۔بوڑھے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجود رہے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات کے لئے بارگاہ پیغمبر کی طرف بڑھے۔ بوڑھے ان سے کہنے لگے کہ اس میں ہمارا بھی حصّہ ہے کیونکہ ہم تمھارے لئے پناہ اور سہارے کا کام کررہے تھے اور تمھارے لئے جوش و خروش کا باعث تھے۔ اگر تمہارا معاملہ سخت ہوجاتا تو اور تمھیںپیچھے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ہماری طرف آتے۔ اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تکار بھی ہوگئی اور انہوں نے جنگی غنائم کے بارے میں بحث کی۔ اس اثناء میں زیر نظر آیت نازل ہوئی جس میں صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ غنائم کا تعلق پیغمبر سے ہے وہ جیسے چاہیں انھیں تقسیم فرمائیں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے بھی مساوی طور پر سب سپاہیوں میں غنائم تقسیم کردیے اور برادران دینی میں صلح و مصالحت کا حکم دیا۔ تفسیر جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ اوپر والی آیت جنگ ”بدر“ کے بعد نازل ہوئی اور جنگی مال غنیمت کے سلسلہ میں بات کررہی ہے اور ایک قانون کلی کے طور پر ایک وسیع اسلامی حکم کو بیان کررہی ہے۔ خدا تعالیٰ پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ”تجھ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں“۔” یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الْاٴَنْفَالِ “۔ ”کہہ دے کہ انفال خدا اور پیغمبر کے ساتھ مخصوص ہیں“۔ ”قُلْ الْاٴَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ “ ۔ اس بناء پر ”تقویٰ اختیار کرو اور اپنے درمیان اصلاح کرو اور وہ بھائی کہ جن کا باہمی جھگڑا ہوگیا ہے ان میں صلح و آتشی کراؤ“ ۔ ” فَاتَّقُوا اللهَ وَاٴَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ “ ۔ ”اور خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو“۔ ” وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ “ ۔ یعنی ایمان صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ ایمان کی جلوہ گاہ زندگی کے تمام مسائل میں فرمان خدا و پیغمبر کی بے قید و بند اطاعت کرنا ہے نہ صرف جنگی غنائم میں بلکہ ہر چیز میں ان کے فرمان پر کان دھرنا اور ان کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:1
انفال کیا ہے؟
”انفال“ اصل میں ”نفل“ (بروزن ”نفع“)کے مادہ سے ہے اور اس کا فعل ہے زیادتی اور اضافہ۔ مستحب نمازوں کو بھی ”نافلة“ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ واجبات پر اضافہ ہیں ۔ ”نوہ“ کو بھی ”نافلة“ اسی لئے کہتے ہیں چونکہ وہ اولاد میں اضافہ ہوتا ہے۔”نوفل“ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو زیادہ بخشش کرتا ہو۔ جنگی غنائم کو انفال کہا جاتا ہے یا تو یہ اس بناء پر ہے کہ یہ اموال کا ایک اضافی سلسلہ ہے جو مالک کے بغیر رہ جاتا ہے اور جنگ کرنے والوں کے ہاتھ آتا ہے جب کہ اس کا کوئی متعیّن مالک نہیں ہوتا اور یا یہ اس لحاظ سے ہے کہ فوجی دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جنگ کرتے ہیں نہ کہ مال غنیمت کے لئے۔ اس بناء پر غنیمت ایک اضافی چیز ہے جو اُن کے ہاتھ آجاتی ہے۔