إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ
Indeed the Godwary will be amid shades and springs
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 77:41
[Pooya/Ali Commentary 77:41] (see commentary for verse 17)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 77:41-50
1. The weakest spon in every man is where he thinks himself to be wisest. In the same degree we over rate ourselves, we shall under rate others, for injustice allowed at him is not likely to be created abroad. Beware of no man more than yourself. We carry our worst enemy with us. Hence, try to walk in Divine Light and you shall see your path, though thorny, bright. 2. If there be ground for you to tread in your own righteousness, all God did to prepare the way is in vain. 3. Self will is the source and spring of all which envy, malice, bitterness of spirit, malcontedness and ordinate desires and lusts which reign inthe hearts and lives of wicked men.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 77:41-50
اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کس بات پر ایمان لائیں گے ؟
تفسیر اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟! ہم جانتے ہیں کہ قرآن کا پروگرام انزار کو بشارت کے ساتھ اور تہدید کو تشویق کے ساتھ ملاتا ہے، اور اسی طرح مومنین کی رسنوشت کو مجرموں کی سرنوشت کے مقابلہ میں بیان کرتا ہے، تاکہ مقابلہ کے قرینہ سے مسائل کا بہتر طریقہ پر ادراک ہوسکے۔ اسی منت کی بنیاد پر اور والی آیات میں، قیامت میں مجرموں کی گوناگوں سزاؤں کو بیان کرنے کے بعد ، اس دن پرہزگاروں کی کیفیت کے بارے میں ایک پُرمعنی اور مختصر سا اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"تقوٰی اختیار کرنے والے لوگ کے درختوں کے سایہ میں اور چشموں کے درمیان ہوں گے"(اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ ظِلَالٍ وَّّعُيُوْنٍ )۔ یہ اس حالت میں جبکہ مجرمین ــــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں معلوم ہو چکا ہے ـــــــــ گلہ گھونٹنے والے شرربار اور جلانے والے دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔ "ظلال" "ظل" کی جمع ہے جو سایہ کے معنی میں ہے، چاہے وہ سایہ دن میں درختوں کے سایہ کی طرح کا ہو یا وہ سایہ ہو، رات کی تاریکی میں حاصل ہوتا ہے جبکہ "فیء" اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو صرف ایک نورانی مبدء کے مقابلہ میں وجود میں آتا ہے، جیسا کہ سورج کے مقابلہ میں درختوں کا سایہ ہوتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے :"وہ ان انواع و اقسام کے پھلون کے درمیان ہوں گے، جن کی انھیں خواہش ہوگی"۔(وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ )۔ یہ بات واضح ہے کہ پھلوں ، سایوں اور چشموں کا ذکر، ان پر خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ ہے، ایسا گوشہ جو اہل دنیا کی زبان میں بیان کرنے اور تصویر کشی کے قابل ہے، لیکن وہ نعمتیں جو بیان میں نہیں آسکتیں، اور دنیا میں رہنے والوں کے دل و دماغ میں نہپیں سما سکتیں وہ اس سے کئی درجہ بلند و برتر ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــ قابل توجہ بات یہ کہ خدا کی اس مہمان سرا میں ان کی اعلٰی ترین طریقہ پر پذیرائی کی جاۓ گی، جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے کہ انھیں کہا جاۓ گا"کھاؤ اور مزے مزے لے لے کر پیؤ، یہ سب کچھ ان اعمال کے مقابلہ میں ہے جنھیں تم انجام دیاکرتے تھے"۔(كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِـيٓـئًا بِمَا كُنْـتُـمْ تَعْمَلُوْنَ )۔ یہ جملہ چاہے براہِراست خدا کی طرف سے ان کو خطاب کرنے کے عنوان سے ہو، یا فرشتوں کے ذریعہ سے، ایک ایسے واضح لطف و محبت سے تو ام ہے ، جو ان کی روح اور جان کی ایک غذا ہے "بما کنتم تعلمون" (ان عمال کے مقابلہ میں جھنیں تم انجام دیا کرتے تھے)کی تعبیر اس بات کی طعف اشارہ ہے کہ یہ نعمتیں کسی کو بطغیر حساب کتاب کے نہیں دیتے ، اور صرف دعوے، خیال اور تصور سے حاصل نہیں ہوتیں، یہ تو صرف اعمال صالح کے ذریعہ ہی ملتی ہیں۔ "ھنیء" (بروزن لیح) "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، ہر وہ چیز ہے جس کے لیے مشقت نہ کرنی پڑے، اور اس سے کوئی تکلیف اور پریشانی پیدا نہ ہو، اسی لیے گوارا اور خوش مزہ غذا اور پانی "ھنیء" کہا جاتا ہے، اور بعض اوقات خوشگوار زندگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت کے پھل ، کھتے اور مشروبات دنیا کے کھانے پانی کی طرح نہیں ہیں، جو بعض اوقات انسان کے بدن میں برے آثار چھوڑ دیتے ہیں ، یا ان سے غیر مطلوب عوارض پیدا ہوجاتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کھانے اور پینے کا حکم کیا ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اباحت کو بیان کرتا ہے یا واقعًا امر و فرمان و حکم ہے؟۔ لیکن اس بات پر توجہ کرنی چاہیے کہ اس قسم کے اوامر، جو پذیرئی کے موقع پر دہیے جاتے ہیں، کہنے ولے کی ایک قسم کی طلب و خواہش ہوتی ہے، جسے مہمان کی عظمت و احترام کے لیے بیان کیا جاتا ہے اور میزبان یہ چاہتا ہے کہ مہمان زیادہ سے زیادہ کھاۓ ، تاکہ اس کا زیادہ احترام و اکرام ہو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں دوبارہ اسی مطلب پر تکیہ کرتا ہے کہ یہ نعمتیں کسی حساب کتابکے بغیر نہیں ملتیں، لہزا مزید کہتا ہے :"یقینًا ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں"۔(اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ )۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں "تقوٰی" کے مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے اور اس کے بعد وا؛ہ آیت میں "عمل" پر اور اس آیت میں احسان و نیکوکاری پر۔ "تقوٰی" گناہ و سفاد و شرک و کفر سے ہر قسم کا پرہیز، اور "احسان" ہر اچھے کام کو انجام دیتا ہےاور "عمل" بھی اعمالِ صالح کے بیان کے لیے ہے ، تاکہ واضح ہوجاۓ کہ خدا کی نعمتوں کا پروگرام صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص ہے ، نہ کہ ایمان کے جھٹے دعویداروں کے ساتھ ، اور ہر قسم کے فساد سے آلودہ افراد کے ساتھ ، اگرچہ وہ ظاہرًا اہلِ ایمان کی مسلک میں داخل ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــ آخر میں پھر تکرار کرتا ہے :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ واۓ ہے ان کے لیے جو ان تمام نعمتوں اور محبتوں سے محروم ہوجائیں گے، کیونکہ اس محرومیت کی حسرت کا دکھ ، دوزخ کی جلانے والی آگ سے کم نہیں ہوگا۔ ــــــــــــــــــــــــــ اور چونکہ معاد کا انکار کا ایک عامل، دنیا کی جلد گزرجانے والی لزات، اور ان لزتوں سے فائدہ اٹھانے کی بے قید و بند آزادی کی طرف میلان ہے، لہزا بعد والی آیات میں روۓ سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوۓ تہدید لب و لہجہ میں فرماتا ہے: "ان مختصر سے چند دنوں میں کھالو اور فائدہ اٹھالو، لیکن یہ جان لو کہ خدا کا عذاب تمھارے انتظارمیں ہے کیونکہ کہ تم مجرم ہو"۔(كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ )۔ "قلیلاً" کی تعبیر ممکن ہے کہ دنیا میں انسان کی عمر کی مختصر مدت کی طرف اشارہ ہے ، اور اس جہان کی نعمتوؐ کے آخرت کی بے حساب نعمتوں کے مقابلہ میں ناچیز ہونے کی طرف بھی۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ خطاب آخرت میں مجرمین سے کہا جاۓ گا ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ آخرت میں مجرموں کے لیے ، زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی، کسی قسم کا تصور نہیں ہے، لہزا اس زات کو قبول کرنا چاہیے کہ یہ گفتگو دنیا میں ان سے خطاب ہے۔ حقیقت میں "متقین" اور پرہیزگار لوگوں کی آخرت میں انتہائی احترام کے ساےھ پزیرائی ہوگی اور "کلوا واشربوا ھنیئًا" کے پُرلطف جملہ کے ساتھ ان سے خطاب ہوگا، لیکن دنیا پرست اسی دنیا میں "کلواوتمتعواقلیلاً" کے تہدید آمیز جملہ کے ساتھ مخاطب ہوۓ ہیں۔ پرہیزگاروں سے فرماتا ہے: بما کنتم تعملون : (یہ سب کچھ ان اعمالِ صالح کے مقابلہ میں ہے جنھیں تم انجام دیا کرتے تھے ) اور ان سے بھی کہتا ہے: انکم مجرمون : "یہ تہدید اس بناء پر ہے کہ تم مجرم ہو"۔ ؎1 اور بہرحال یہ ابت اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ عذابِ الٰہی کا سرچشمہ انسان کا جرم و گناہ ہی ہے، جو ایمانی یا شہوتوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس تہدید کی ایک مرتبہ پھر :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ کے جملہ سے تکمیل کرتا ہے۔ وہی لوگ جو دنیا کے زرق و برق اور اس کی لذتوں اور شہوتوں پر فریفتہ ہوگئے، اور انھوں نے عذاب الٰہی کو اپنے لیے خرید لیا۔ ــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ان کے انحراف، بدبختی اور آلودگی کےایک اور عامل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہتا ہے:"وہ بادۂ غرور سے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 حقیقت میں اس ایت میں کچھ مخذوف ہے، اور مجمع البیان کے قول کے مطبق تقدیر میں اس طرح: کلوا و تمتعوا قلیلاً فان الموت کائن لامحلۃ: لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تقدیر میں یوں ہو :کلوا و تمتعوا قلیلاًوانتظروا العذاب فانکم مجرمون ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسے سر مست ہیں ، کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پروردگار کے سامنے رکوع کرو ، تو وہ رکوع نہیں کرتے"۔(وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ )۔ بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ ایت قبیلہ "ثقیف" کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن سے پیغمبرؐ نے فرمایا تھا کہ "تم نماز پڑھو کرو" اس پر انھوں نے یہ کہا تھا: ہم ہرگز کسی کے سامنے خم نہیں ہوں گے، اور یہ ہمارے لیے عیب ہے، تو پیغمبر نے فرمایا: لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع الا سجود "وہ دین جس میں رکوع و سجود نہ ہو کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا"۔ ؎1 وہ نہ صرف رکوع اور سجدے کا انکار کرتے تھے، بلکہ یہ روحِ غرور نخوت ان کے افکار اور زندگی میں نمایاں تھی، نہ تو وہ ضدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے، اور نہ ہی پیغمبر کے احکام مانتے تھے ، نہ لوگوں کے حقوق کا رسمی طعر پر اقرار کرتے تھے ، نہ خالق کے سامنے تواضح تھی، اور نہ ہی مخلوق کے سامنے فروتنی و انکسار، حقیقت میں یہ دونوں عامل (غرور و شہوت پرستی) جرم و گناہ اور کفر و ظلم و طغیان کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں۔ بعض نے یہ احتمال دیا ہے۔ "ارکعوا" (رکوع کرو) کا خطاب انھیں قیامت کے دن ہوگا، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے، خصوصًا قبل و بعد کی آیات کو مد نظر رکھتے ہوۓ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ اور اس کے بعد دسویں اوت آخری بار اس سورہ میں فرماتا ہے:"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیر بحث آیت میں ، جو سورۂ "مرسلات" کی آخری ایت ہے، ایک عتاب آمیز لب و لہجہ کے ساتھ جو سرزنش سے پُر ہے ایک تعجب آمیز استفہام کی صوعت میں فرماتا ہے : "اگر وہ اس قرآن کے ساتھ ، جس کی صداقت کے دلائل ، اس کی تمام آیات سے نمایاں ہیں، اور اس کی حقانیت اس کی تمام تعبیروں میں منعکس ہے، ایمان نہیں لاتے، تو پھر اس کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟"۔(فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهٝ يُؤْمِنُـوْنَ )۔ جو شخص اس قرآن پر ایمان نہ لائے ، جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوجاتا، تو وہ لرزنے لگتے اور خشوع کرتے ہوۓ پھٹ جاتے، تو وہ کسی آسمانی کتاب اور کسی عقلی دلیل کو تسلیم نہیں کرےگا، اور روحِ عناد اور ہٹ دھرمی کی نشانی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 419 ، اور اسی معنی کو "آلوسی" نے "روح المعانی" میں اور "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں، اور "زمخشری" نے "کشاف" میں، اور "روح البیان" نے زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 77:41-50
نہ دفاع کرنے کی قدرت ہے نہ فرار کی راہ
تفسیر نہ دفاع کرنے کی قدرت ہے نہ فرار کی راہ ان آیات میں قیامت کی تکزیب کرنے والوں اور اس عدلِ الٰہی کی داد گاہ کا ناکار کرنے والوں کی اصلی اور آخری سرنوشت بیان ہوئی ہے، ایسا بیان کو انسان کو سچ مچ ایک گہری وحشت میں ڈبو دیتا ہے، اور مصیبت کے پہلوؤں کو واضح کرتا ہے۔ فرماتا ہے:"بلا تامل اس چیز کی طرف چل پڑو ، جس کا تم ہمیشہ انکار کیا کرتے تھے"!(اِنْطَلِقُـوٓا اِلٰى مَا كُنْتُـمْ بِهٖ تُكَـذِّبُوْنَ )۔ چلو اس جلانے والی جہنم کی طرف جس کا تم ہمیشہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ چلو ان انواع و اقسام کے عذابوں کی طرف، جنھیں تم نے اپنے اعمال کے ذریعہ پہلے سے فراہم کر رکھا ہے۔ "انطلقوا" "انطلاق" کے مادہ سے، توقف کے بغیر چلنے کے معنی میں ہے، اور قید و بند سے ایک قسم کی آزادی بھی اس میں چھپی ہوئی ہے، اور یہ حقیقت میں عرصۂ محشر میں ان کی حالت کی وضاخت ہے کہ انھیں ایکطولانی مدت تک حساب کے لیے روک لیا جاۓ گا، پھر ان کو چھوڑ دیں گے اور کہیں گے کہ توقف کیے بغیر دوزخ کی طرف چل پڑو۔ یہ گفتگو کرنے والا ممکن ہے خداتعالٰی ہو، جو براہراست ان سے خطاب کرے گا، یا عذاب کے فرشتے، بہرحال یہ ایک ایسا لب و لہجہ ہے جس میں گہری سرزنش ہے ، جو خود ایک درد ناک اور جانکاہ عذاب ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس عذاب کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوۓ کہتا ہے:"تین شاخوں والے ( آگ کے گلہ گھوٹنے والے دھوئیں کے) سایہ کی طرف چلو"۔(اِنْطَلِقُـوٓا اِلٰى ظِلٍّ ذِىْ ثَلَاثِ شُعَبٍ )۔ ایک شاخ سر کے اوپر ، ایک شاخ دائیں طرف اور ایک شاخ بائیں طرف، اور اس طرح سے یہ گہرا مرگبار دھوآں انھیں گھیرلے گا اور انھیں نگل جاۓ گا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ "لیکن وہ آرام بخش سایہ نہیں ہوگا، اور دوزخیوں کو جہنم کی آگ کے شعلوں سے ہرگز نہیں بچاۓ گا"۔(لَّا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِىْ مِنَ اللَّهَبِ )۔ چونکہ وہ خود آگ ہی سے اٹھا ہے۔ ممکن ہے "ظل" (سایہ) کی تعبیر سے یہ تصور پیدا ہو کہ کوئی سایہ ہوگا، جو آگ کے شعلوں کے جالانے میں کچھ کمی کر دے ، لیکن یہ آیت اس غلط خیال کو باطل کرتے ہعئی کہتی ہے: یہ سایہ ہرگز وہ سایہ نہیں جس کا تم تصور کرتے ہو، یہ ایک ایسا سایہ ہے، جو جلانے اور گلہ گھوٹے والا ہے، آگ کے گاڑھے دھوئیں سے اٹھتا ہے، اور شعلوں کی گرمی کو مکمل طور پر منعکس کر سکتا ہے۔ ؎1 اس گفتگو کی شاہد سورہ واقعہ کی آیات ہیں جن میں اصحاب شمال کے بارے میں فرماتا ہے: فِىْ سَمُـوْمٍ وَّحَـمِـيْمٍ وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ : "وہ ہلاک کرنے والی ہواؤں اور جلانے والے پانی میں ہوں گے اور تہہ بہ تہہ دھوئیں کے آرش زا سایہ مین، ایسا سایہ جو نہ تو ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی آرام بخش" (سورہ واقعہ 42 ــــــــ44) بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تین شاخیں ان کے تینوں اصولِ دین یعنی توحید و نبوت اور معاد کو جھٹلانے کا ردِعمل ہیں، کیونکہ معاد کی تکذیب ، توحید و نبوت کی تکذیب سے جدا نہیں ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ گناہ کے تینوں اسباب ، "قوت غضبیہ" "قوت شہویہ" اور "قوت وہمیہ" کی طرف اشارہ ہے، ہاں! وہ تاریک دھوآں شہوات کی تاریکیوں کا تجسم ہے۔ زتاریکی خشم و شہوت حزر کن کہ از دو د آن چشم دل تیرہ گردد! غضب چاں در آید رود عقل بیروں ہوی چوں شود چیرہ جان خیرہ گرد! ترجمہ: غضب اور شہوت کی تاریکی سے بچ : ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "اظلیل" "ظل" کی صفت ہے اور اسی بناء پر حجرور ذکر ہوا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جس کے دھوئیں سے دل کی آنکھ اندھی ہوجاتی ہے جب غصہ آتا ہے ، تو عقل خارج ہوجاتی ہے اور جب خواہش نفسانی غلبہ کرتی ہے ، جان چندھیا جاتی ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس جلانے والی آگ کی ایک اور خصوصیت کے سلسلہ میں مزید کہتا ہے: "وہ اپنے اندر سے ایسے شعولے باہر پھینکتی ہے ، جو ایک بہت بڑے قصر کی مانند ہوتے ہیں"۔(ِنَّـهَا تَـرْمِىْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ)۔ وہ اس دنیا کی آگ کے شعلوں کی طرح نہیں ہوتے، جو بعض اوقات تو سوئی کے سرے کے برار بھی نہیں ہوتے۔ "قصر" (محل) کی تشبیہ یہاں ایک پُر معنی تشبیہ ہے، شاید یہ تصور کیا جاۓ کہ زیادہ مناسب یہ تھا کہ یہ کہا جاتا کہ وہ شعلے پہاڑ کی طرح تھے، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پہاڑ ـــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے ـــــــــــ انواع اقسام کی برکات کا منبع ہیں اور میٹھے، خوش مزہ اور خوشگوار پانی کا سر چشمہ ہیں، یہ ستم گروں کے قصر اور محلات ہیں، جو جلانے والے شعلوں اور شرربار آگ کا سبب بنتے ہیں۔ ؎2 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد میں آیت میں اس جلانے والی آگ کے شعلوں اور چنگاریوں کی ایک دوسری صفت کو بیان کرتے ہعۓ فرماتا ہے:"وہ زرد رنگ کے اونٹوں کے مانند ہیں"۔(كَاَنَّـهٝ جِمَالَتٌ صُفْرٌ )۔ ؎3 "جمالۃ" "جمل" کی جمع ہے، جو اونٹ کے معنی میں ہے، (جسے حجو حجارہ) اور "صفر" (بروزن قفل) "اصفر" کی جمع ہے جو زرد رنگ کی چیز کے معنی میں ہے، اور بعض اوقات تاریک اور سیاہی مائل رنگوں پر بولا جاتا ہے، لیکن ہیاں وہی پہلا معنی ہی مناسب ہے کیونکہ آگ کے شعلے زرد اور سرخ مائل ہوتے ہیں۔ گزشتہ آیت میں ان شعلوں کو حجم کے لحاظ سے بہت بڑے قصر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس ایت میں کثرت، رنگ ، سرعت حرکت اور ہر طرف پراگندہ اور بکھرجانے کے لحاظ سے زرد رنگ کے اونٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے، جو ہر طرف رواں دواں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "شرر" (بروزن ضرر) "شرارہ" کی جمع ہے، جو ان چھوٹے چھوٹے اجزاء کے معنی میں ہے، جو آگ سے نکل کر ہوا میں اطھلنے ہیں، اور "شر" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ ؎2 بعض مفسرین مثلاً فضررازی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ امھوں نے "قصر" کی رفسیر میں یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لکڑیاں ہیں، جنھیں سردیوں کے کیے بیابان سے کاٹ کر اکٹھا کیا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے اوپر جوڑ دیتے تھا۔(لہزا بعید نہیں ہے کہ یہ تفسیر بھی اس بناء پر ہو کہ ایک دوسرے پر ضڑی یوئی لکڑیوں کے انبوہ کا ایک بلند قصر سے تشبیہ دیتے تھے)۔ ؎3 "کانہ" کی ضمیر ممکن ہے "قصر" کی طرف لوٹے یا "شرر" کی طرف، لیکن چونکہ "شرر" جمع ہے ، لہزا تاویل کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر یہ کہ ہم "شرر" کو اسم جمع سمجھ لیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جہاں شعلے اس قسم کے ہوں تو یہ بات واضح ہے کہ خود وہ آگ جلانے والی کیسی ہوگی ؟ اور اس ساتھ دوسرے کیسے کیسے دردناک عذاب ہوں گے؟ (خدا ہم سب کو اپنی رحمت اور لطف وکرم سے اس سے محفوظ رکھے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیات کے اس حصہ کے آخر میں دوبارہ اسی تنبیہ کا تکرار کرتا ہے، اور فرماتا ہے"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس ہولناک دن کے مشخصات اور امتیاتاز کی ایک اور فصل کو شروع کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے:"آج ایسا دن ہے کہ وہ کوئی بات نہیں کریں گے"۔(هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ )۔ ؎1 ہاں! اس دن خدا مجرموں اور گنہگاروں کے منہ پر سکوت اور خاموشی کی مہر لگا دے گا، جیسا کہ سورۂ یٰس کی آیہ 65 مین آیا ہے: "الیوم نختم علٰی افواھھم" آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے"، ان کے ہاتھ اور پاؤں کلام کرنے لگیں گے"۔یہاں تک کہ قرآن کی دوسری آیات کے مطابق ان کی جلد بھی کلام کرنے لگیں گی، اور تمام باتیں بیان کر دیں گی"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے :"اور انھیں عزر خواہی کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی"۔(وَلَا يُؤْذَنُ لَـهُـمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ)۔ ؎2 نہ انھیں بات کرنے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی عزر خواہی اور اپنے آپ سے دفاع کرنے کی، کیونکہ وہاں تو تمام حقائق واضح و روشن ہیں، اور کہنے کی کوئی بات باقی نہیں ہے، ہاں! یہ پس پشت ڈالنے والی زبان، جس نے دنیا میں اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھایا، انبیاء کی تکذیب کی ، اولیاء کا استہزا کیا اور مزاق اڑایا، حق کو باطل اور باطل کو حق کرکے پیش کرتی رہی، وہاں ان اعمال کی سزا کے طور پر اس پر قفل لگ جانا چاہیے، اور اسے بیکار ہوجانا چاہیے، اور یہ بات خود ایک عذاب اور دردناکشکنجہ ہے کہ انسان میں اس قسم کے منظر میں اپنے آپ سے دفاع کرنے یا عزر خواہی کرنے کی قدرت نہ رہے۔ ایک حدیث میں امام صادق سے آیا ہے کہ: "خدا اس سے برتر و عادل تر و بزرگ تر ہے کہ اس کا بندہ کوئی مناسب اور مدلل عزر رکھتا ہو، لیکن وہ اس ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 توجہ رکھیں کہ یہاں "یوم" تنوین کے بغیر ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی "لاینطقون" کے جملہ کے مفہوم کی طرف اضافت ہے۔ ؎2 اس بارے میں کہ "نیعتدون" کا جملہ مرفوع صورت میں کیوں آیا ہے، جبکہ قائدہ کی رو سے اسے منصاب ہونا چاہیے تھا، اور اس کی نون حزف ہونی چاہیے تھی۔ بعج نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عزر خواہی کو ترک کرنے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی عزر ہی نہ ہوگا، یہ اذنِ الٰہی کے نہ ہونے سبب سے نہ ہوگا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عزر خواہی کی اجازت نہ دے، بلکہ درحقیقت نہ دے، بلکہ درحقیقت ان کے پاس کسی قسم کا مناسب، مدلل اور قابلِ قبول عزر ہوتا ہی نہیں، جسے وہ پیش کرسکیں۔ ؎1 البتہ بعض قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں مجرمین بعض اوقات بات کریں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ــــــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ـــــــ قیامت میں بہت سے مواقف ہوں گے، جن میں سے بعض میں زبان بیکار ہوجاۓ گی، اور اعضاء و جوارح کی گواہی کی نوبت آۓ گی، اور بعض دوسرے موافق میں زبان کھل جاۓ گی، اور وہ کچھ مطالب بیان کرے گی، جوان کی شدید حسرت و اندوہ، سرگردانی اور بدبختی کی نشانی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اور پھر اس مقطع کے آخر میں کہتا ہے:"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ ایک دوسرے حصہ میں روۓ سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوۓ اور اس روز کے منظر کے عنوان سے لہتا ہے:"آج وہی جدائی کا دن ہے، جس میں ہم نے تمھیں اور گزشتہ لوگوں کو جمع کردیاہے"۔(هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَـمَعْنَاكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ )۔ آج ہم نے تمام لوگوں کو بغیر کسی استثناء کے ، اولین سے لے کر آخرین تک، سب کو حساب دینے اور فصلِخصومت کے لی اس میدان اور عطیم دادگاہ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اب اگر میرے مقابلہ میں عزاب اور سزا کے چنگل سے فرار کرنے کی کوئی تدبیر تمھارے پاس ہے تو اسے انجام دو"۔(فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِـيْدُوْنِ )۔ ؎2 کیا تم میری حکومت کی حدود سے فرار کر سکتے ہو؟ یا میری قدت پر غلبہ حصل کر سکتے ہو ؟ یا فدیہ دے کر آزاد ہوجانے کی طاقت رکھتے ہو ؟ یا حساب لینے والے مامورین کو دھوکہ دینے کی قدرت رکھتے ہو ؟ جو کام بھی تم ہوسکتا ہے اسے انجام دو، لیکن جانلو کہ تم سے کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "نورالثقلین" جلد 5 ص 49 ؎2 "فکیدون" میں "نون" مکسور ہے (نون کے نیچے زیر ہے) اور اس کی یہ زیر یاء متکلم کی جگہ ہے اور اصل میں "فکیدونی" تھا۔ ""یاء خزف ہوگئی اور کسرہ جو اس کی نشانی ہے باقی رہ گئی، اور ضمیر متکلم ظاہر آیات کے مطابق خدا کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے، اور یہ احتمال کہ یہ پیغمبرؐ کی ذات کی طرف لوٹے بہت بعید نظر آتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حقیقت میں یہ امر اصطلاح کے مطابق (ایک عاجزی اظہار کرنے والا امر ہے) جو مقابل کے عجز و ناتوانی کو واضح کرنے کےلیے بیں کیا جاتا ہے، یہ اسی چیز کے مشابہ ہے جو قرآن مجید کے نارے میں آئی ہے کہ فرماتا ہے:"اھر اس چیز میں جو ہم نے اپنے بندوں پر نازل کی ہے تمھیں شک ہے تو اس جسی لے اؤ" "لید" (بروزن صید) جیسا کہ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے :ایک قسم کی تدبیر اور چارہ جوئی کے معنی میں ہے جو بعض اوقات قابلِ زمت ہوتی ہے اور قابلِ تعریف و مدح، اگرچہ اس کا زیادہ تر استعمال مزموم موارد میں ہی ہوتا ہے (جیسا کہ زیر بحث آیت میں بھی اسی طرح ہے)۔ یقینًا اس دن ان سے کچھ بھی نہ ہوسکے گا ، کیقنکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دن ایک ایسا دن ہوگا کہ اس میں انسان کا ہاتھ ہر قسم کے وسائل و اسباب سے خالی ہوگا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیہ 166 میں آیا ہے:"و تقطعت بھم الاسباب:"اب سب اسباب منقطع ہوجائیں گے"۔ قابل توجہ بات یہ کہ ایک طرف تو فرماتا ہے : "یوم الفصل" یعنی جدئیوں کا دن ، اور دوسری طرف سے فرماتا ہے، وہ دن "یوم الجمع" یعنی اکٹھا ہونے کا دن ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک، ایک ہی جگہ پر انجام پائیں گے، پہلے ان سب کو اس عظیم دادگاہ میں جمع کریں گے، اور پھر وہ اپنے عقائد و اعمال کی بناء پر مختلف صفوں میں الگ الگ ہوجائیں گے، یہاں تک کہ وہ بھی جنت کی طرف روانہ ہوں گے، گوناگوں صفوں اور مختلف درجات میں ہوں گے، اور دوزخ کی طرف جانے والے بھی مختلف صفوں اور الگ الگ درجوں میں ہوں گے"۔ ہاں ! وہ دن حق کی باطل سے اور ظالم کی مظلوم سے جدائی کا دن ہوگا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پھر اسی تہدید آمیز اور بیدار کرنے والے جملہ کا تکرار کرتے ہوۓ فرماتا ہے :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ