إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمٗا ثَقِيلٗا
Indeed they love this transitory life, and disregard a heavy day that is ahead of them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 76:27
[Pooya/Ali Commentary 76:27] Refer to the commentary of Qiyamah: 20 and 21.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:27-31
یہ ایک تنبیہہ ہے اور راستے کا انتخاب کرنا تمھارے اختیار میں
تفسیر یہ ایک تنبیہ ہے اور راستہ کا انتخاب کرنا تمھارے اختیار میں ہے گزشتہ آیات میں پیغمبر کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ "آثم" و "کفور" (مجرموں اور کافروں) کی اطاعت نہ کریں، اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ ایسے لوگ تھے جو اپنی خام خیالی میں پیغمبر کے ارادوں میں نفوذ کرنے کے لیے ، مال و دولت، مقام و منصب اور خوبصرت عورتوں کا لالچ دے کر کام چلانا چاہتے تھے۔ زیر بحث آیات ان کا مزید تعارف کراتے ہوۓ کہتی ہیں:"وہ اس دنیا کی جلدی گزرجانے والی زندگی کو دوست رکھتے ہیں، جبکہ ایک سخت اور سنگین دن کو اپنے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور اسے نظر انداز کر دیتے ہیں"۔(اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَـةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَآءَهُـمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا)۔ ان کے افکار کھانے، سونے اور شہوت رانی سے آگے نہیں بڑھتے اور ان کا آخری نقطۂ نظر یہی بے قید و شرط مادی لذتیں ہیں ، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر کی عظیم روح کو بھی اسی ترازو میں تولیں۔ لیکن یہ برخبر دل کے اندھے، اس بات پر توجہ نہیں کرتے کہ کیسا سنگین دن ان کے آگے آرہا ہے؟ تو یہ اس بناء پر کہ وہ اس دن کو فراموشی کے سپرد کریں گے، گویا انھوں نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین کے قول کے مطابق "وراء" کبھی تو پشت کے معنی استعمال ہوتا ہے، اور کبھی آگے کے معنی میں۔ ؎1 بعد والی آیت میں انھیں خبردار کرتا ہے کہ وہ اپی قدرت و تونائی پر غرور نہ کریں ، کیونکہ یہ سب خدا کی عطا ہے، اور جب چاہے گا اچانک واپس لے لےگا، لہزا فرماتا ہے: "ہم نے انھیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بندوں کو مضبوط بنایا ہے اور انھیں قدرت و طاقت عطا کی ہے اور جس وقت ہم چاہیں گے انھیں لے جائیں گے اور ان کی جگہ دوسرے گروہ کو ان کا جانشین بنادیں گے"۔(نَّحْنُ خَلَقْنَاهُـمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَهُـمْ ۖ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَـهُـمْ تَبْدِيْلًا)۔ ؎2 "اسر" (بروزن عصر) اصل میں کسی چیز کو زنجیر سےباندھےکےمعنی میں ہے،اوراسیروں کواسی وجہ سے"اسیر"کہاجاتاہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 تفسیر "روح البیان" میں آیا ہے کہ "وراء" کی "فاعل" کی طرف اضافت ہو تو پشت سر کے معنی میں ہے اور اگر "مفعول" کی طرف اضافت ہو تو آگے کے معنی میں ہے، (روح البیان جلد 8 ص 439) ؎2 اس ایت میں ایک مخزوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے:"بدلناھم امثالھم" (توجہ رہے کہ تبدیل عام طور پر دو مفعول لیتا ہے) یہاں "ھم" کی ضمیر مفعول اول ہے اور "امثالھم" مفعول دوم۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کہ انھیں زنجیروں سے نادھ دیتے ہیں۔ لیکن یہاں "اسر" انسانی وجود کے جوڑ بندون کو مستحکم کرنے کی طرف اشارہ ہے جو اہم کاموم کے انجانٓم دینے کے لیے اسے حرکت کی قدرت اور توانائی بخشتے ہیں۔ واقعاً قرآن نے یہاں ایک حساس نقطہ پر انگلی رکھی ہے اور وہ وجود انسانی کے مختلف اجزاء کے جوڑ بند ہیں طھوٹے اور بڑے اعصاب ـــ جو لوہے کی رسیوں کی طرح عضلات کو یاک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیتے ہیں ـــــــــــ لہزا پٹھوں اور مختلف عضلات تک، انسانی بدن کی چھوٹی اور بڑی ہڈیوں اور گوشت کے ٹکڑوں کو اس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں کہ جن کے مجموعہ سے جسم کی ایسی کامل وحت تیار ہوجاتی ہے، جو ہر قسم کی فعالیت کے انجام دینے کے لیے آمادہ و تیار ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ جملہ قدرت و قوت سے کنایہ ہے۔ یہ آیت ضمنی طور پر خدا کی پاک ذات کی ، ان سے اور ان کی اطاعت و ایمان سے بے نیازی اور استثناء کو واضح کرتی ہے، تاکہ وہ یہ جان لیں کہ اگر ان کے ایمان کے لیے کچھ اصرار ہے تو حقیقت میں یہ پروردگار کی طرف سے ایک لطف و رحمت ہے۔ اس منعی کی نظیر سورہ انعام کی آیہ 133 میں بھی آئی ہے، جہاں فرماتا ہے :(وَرَبُّكَ الْغَنِىُّ ذُو الرَّحْـمَةِ ۚ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ )۔ "تہرا پروردگار بے نیاز و مہربان ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جاۓ اور تمھارے بعد جسے چاہے تمھارا جانشین بنا دے"۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد ان تمام مباحث کی طرف ــــــــ جو اس سورہ میں بیان ہوۓ ہیں اور جو سعادت و نیک بختی کا یاک جامع پروگرام پیش کرتے ہیں ــــــــــ اشارہ کرتے ہوۓ کہتا ہے: "یہ ایک تذکرہ اور یاد آوری ہے، پس جو شخص چاہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرلیتا ہے"۔(اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِـرَةٌ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا)۔ ؎1 ہماری ذمہ داری تو راستہ دکھادینا ہے، نہ کہ انتخابِ راہ پر مجبور کرنا، اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ اپنی عقل و ادراک کے ذریعہ حق کو باطل سے پہچانو، اور اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ راستہ کا انتخاب کرو۔ حقیقت میں یہ اس چیز کے لیے تاکید ہے جو اس سورہ کے آغاز میں گزرچکی ہے، جس میں فرماتا ہے: اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا ہم نے اسے راستے کی نشاندہی کردی ہے، اب چاہیے وہ اسے قبول کرلے اور اس نعمت کا شکر ادا کرے یا روگردانی کرکے کفران کرے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ اور چونکہ یہ ممکن ہے کہ کوتاہ فکر افراد اوپر والی تعبیر سے بندوں کے لیے تفویض اور مطلق سپردگی کا تصور کرلیں ، لہزا بعد والی آیت میں اس توہم کی نفی کے لیے مزید کہتا ہے:"اور تم کسی چیز کو نہیں چاہتے، مگر یہ کہ خدا چاہے"۔(وَمَا تَشَآءُوْنَ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 بعض لوگ اس آیت کے لیے ایک مخزوف کے قائل ہیں اور کہتے ہیں یہ تقدیر میں اس طرح ہے "فمن شاء اتخذالی رضا ربہ سبیلاً" یا "الٰی طاعۃ ربہ سبیلاً" لیکن انصاف یہ ہے کہ تقدیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تکامل کے سب راستے خدا ہی کی طرف جاکر منتہی ہوتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ )۔ ؎1 "کیونکہ خدا علیم و حکیم ہے"۔(اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا )۔ اور یہ حقیقت میں (الامربین الامرین) والی مشہور اصل کا اثبات ہے، ایک طرف فرماتا ہے: "خدا نے راستہ تو بتادیا ہے ، اس کا انتخاب تمھارے ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف مزید کہتا ہے:"تمھارا انتخاب مشیتِ خدا پر موقوف ہے، یعنی تم مکمل استقلال نہیں رکھتے ، بلکہ قدرت و توانائی اور تمھارے ارادے کی آزادی سب مشیتِ خداوندی اور اس کی جانب سے ہے اور جس وقت وہ چاہیے اس قدرت و آزادی کو تم سے چھین سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو "تفویض" اور مکمل سپردگی ہے اور نہ ہی جبر اور سلب اختیار، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک دقیق و ظریف حقیقت ہے یا دوسرے لفظوں میں : آزادی کی نوعیت خدائی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے کہ جس وقت بھی وہ چاہے اسے واپس لے سکتا ہے، تاکہ بندے تکلیف و مسئلولیت اور زمہ داری کے بوجھ کو ــــــــ جو ان کے تکامل و ارتقاء کی رمزہے ــــــــــ اپنے کندھوں پر بھی اٹھا سکیں، اور اپنے آپ کو خدا سے بے نیاز بھی خیال نہ کریں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ تعبیر اس بناء پر ہے کہ بندے اپنے آپ خدا کی پاک ذات کی ہدایت ، حمایت اور توفیق و تائید سے بے نیاز نہ سمجھیں اور کاموں میں عزم راسخ کے باوجود اپنے آپ کو اسی کے سپرد کردیں، اور اس کی حمایت کے ماتحت کام کریں۔ یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جو بعض جبری مسلک والے مفسرین مثلاً "فخررازی" ااس آیت کے ساتھ چہکے ہیں تو یہ ان پہلے سے لیے ہوۓ فیصلوں کی بناء پر ہے جو انھوں نے اس مسئلہ میں اپناۓ ہوۓ ہیں ، وہ کہتا ہے: واعلم ان ھٰذہ الاٰیۃمن جملۃ الاٰیات التی تلاطمت فیھا امراج الجبر و القدر جان لے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جس میں جبر کی موجیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں۔ ؎2 ہاں! اگراس آیت کو قبل کی آیات سے جدا کر دیں تو پھر اس توہم کی گنجائش ہے، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ ایک آیت میں اختیار کی تاثیر بیان ہوئی ہے اور دوسری آیت میں مشیت پروردگار کی تاثیر ، تو پھر "الامربین الامرین" کا مسئلہ اچھی طرح سے چابت ہوجاتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تفویض کے طرفدار صرف اسی آیت سے واسطہ رکھتے ہیں جو اختیار مطلق کی بات کرتی ہے، اور جبر کے طرفدار محض ا آیت کو دیکھتے ہیں کہ اگر وہی سامنے ہوتو پھر جبر کی بو آتی ہے اور پھر ان میں سے ایک یہ چاہتا ہے کہ اپنے پہلے سے کیے ہوۓ فیصلوں سے اس کی توجیہہ کریں، حالانکہ کلامِ الٰہی (اور ہر دوسرے کلام) کے صحیح فہم و ادراک کا تقاضا یہ ہے کہ سارے کلام کو ایک دوسرے کے پاس رکھ کر دیکھا جاۓ، اور کسی تعصب اور پہلے سے لیے ہوۓ فیصلہ کے بغیر فیصلہ کریں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اس بارے میں کہ "ان یشاءاللہ" کا محل اعراب کیا ہے، مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور منعوی طور پر اس طرح ہے:"ماتشاءون الاوقت مشیت اللہ" لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں "شیئا" مقدر ہو، اور معناً اس طرح ہو "وما تشاءون الاشیئاءاللہ"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیت کے ذیل میں جو فرمایا ہے: ِانَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا : ممکن ہے یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ خدا کے علم و حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بندوں کو راہِ تکامل و ارتقاء کے طے کرنے میں آزاد چھوڑ دے ، رونہ اجباری و تحمیلی تکامل، تکامل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اس کا علم و حکمت اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کچھ افراد کو تو کار خیر پر مجبور کرے اور کچھ افراد کو شر پر اور اس کے بعد پہلے گروہ کو اجر و پاداش دے، اور دوسرے گروہ کو عذاب و سزا دے۔ اور آخر کار اس سورہ کی آخری آیت میں نیکو کار اور بدکاروں کی سرنوشت کی طرف ایک مختصر اور پر معنی جملہ کے ساتھ اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے: "خدا جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب فراہم کیا ہے"۔(يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِىْ رَحْـمَتِهٖ ۚ وَالظَّالِمِيْنَ اَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابًا اَلِيْمًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آیت کے آغاز میں کہتا ہے:"جس شخص کو چاہتا پے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، لیکن آیت کے آخر میں، عذاب کو ظالموں کے لیے مخصوص قرار دیتا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی عذاب کے لیے مشیت، انسان کے ظلم و گناہ کا ارادہ کے بعد ہے، اور مقابلہ کے قرینہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ رحمت میں بھی اس کی مشیت ایمان، عمل صالح اور اجراۓ عدل میں انسان کے ارادہ کے بعد ہے اور ایک حکیم و دانا سے اس کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح قرینہ کے باجود پھر بھی کچھ افراد، مثلاً فخر رازی آیت کے مضمون کو جبر کی دلیل قرار دیتا ہے، اور آیت کے ذیل میں ارادہ کی آزادی اور ظالموں کے بارے میں جو گفتگو ہوئی ہے اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ ؎1 خداوندا! ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر ، اور دردناک عذاب سے جو ظالموں کے انتظار میں ہے رہائی دے۔ پروردگارا! تونے راستہ بتادیا ہے ، ہم بھی اس راہ کو طے کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں ، ہماری مدد فرما۔ بارِالٰھا! اگر ہم "ابرار" نہیں ہیں تو ان کے دوست اور محبت کرنے والے ضرور ہیں ، ہمیں ان کے ساتھ ملحق کر دے۔ سورہ انسان (دہر) کا اختتام یکم ربیع الثانی 1407 ھ اختتام ترجمہ یکم ربع الاول 1408 ھ مطابق 25 اکتوبر 1987 ء بعد دوپہر چار بج کر پینتیس منٹ 18 ای ماڈل ٹاؤن - لاہور ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 آیات "مشیت" کے بارے میں مزید تشریح کے لیے جلد 19 ص 460-461 (سورہ زمر کی آیہ 37 کے ذیل میں) مطالعہ فرمائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:27-31
آیت 27 تا 31
27- اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَـةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَآءَهُـمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا 28- نَّحْنُ خَلَقْنَاهُـمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَهُـمْ ۖ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَـهُـمْ تَبْدِيْلًا 29- اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِـرَةٌ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا 30- وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا 31- يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِىْ رَحْـمَتِهٖ ۚ وَالظَّالِمِيْنَ اَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابًا اَلِيْمًا ترجمہ 27- وہ دنیا کی جلدی گزرجانے والی زندگی کو دوست رکھتے ہیں، اور سخت اور سنگین دن کو اپنے پیطھے چھوڑ دیتے ہیں۔ 28- ہم نے انھیں پیدا کیا اور ان کے وجود کے جھڑ بند مضبوط بناۓ اور جب بھی ہم چاہیں گے، ان کی جگہ دوسروں کو دےدیں گے۔ 29- یہ ایک تذکرہ اور یاد آوری ہے، پس جو شخص چاہے (اس سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ) اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ 30- اور تم کسی چیز کو نہیں چاہتے، مگر یہ کہ خدا چاہے، بیشک خدا عالم و حکیم ہے۔ 31- جسے وہ چاہتا ہے (اور لائق سمجھتا ہے) اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک ؑذاب فراہم کیا ہے۔