إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنزِيلًا
Indeed We have sent down to you the Quran in a gradual descent.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 76:23
[Pooya/Ali Commentary 76:23] This verse refers to the gradual revelation described in the "Genuineness of the Holy Quran" and the commentary of Baqarah: 2.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 76:23-31
CF Jesus’ statement in St. John 17:6 – 8, “I have manifested Your name unto which you give me out of the world – etc. (regarding Couplet 32 particularly.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:23-26
آیت 23 تا 26
23- اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا 24- فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا 25- فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا 26- وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَـهٝ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا ترجمہ 23- یقینًا ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔ 24- پس تم اپنے پروردگار کے حکم(کی تبلیغ اوراس کے اجراء)کے لیے صبروشکیبائی اختیار کرو، اور ان میں سے کسی گنہگار اور کافر کی اطاعت نہ کرو۔ 25- اور اپنے پروردگار کا صبح وشام ذکر کرو۔ 26- اور رات کو اس کے لیے سجدہ کرو اور رات کے طویل حصہ میں اس کی تسبیح کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:23-26
خدا کے حکم اجرا پر موفق ہونے کے لیے پانچ احکام
تفسیر خدا کے حکم کے اجراء پر موفق ہونے کے لیے پانچ احکام اس سورہ کی آیات میں آغاز سے لے کر ابتک ، انسان کی خلقت اور اس کے بعد معاد و قیامت کی بات ہورہی تھی۔ زیر بحث آیات میں روۓ سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوۓ، انسانون کی ہدایت اور اس راہ میں صبر و استقامت کے تاکیدی احکام انھیں دیتا ہے۔ حقیقت میں یہ آیات ان سب بے نظیر نعمتوں تک پہچنے کی راہ بتاتی ہیں کہ یہ صرف قرآن سے تمسک اور پیغمبر اسلامؐ جیسے رہبر کی پیروی، اور ان کے احکام سے الہام و ہدایت لینے کے طریق سے ہی امکان پزیر ہے۔ پہلے فرماتا ہے :"یقینًا ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے"۔(ِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا)۔ بعض مفسرین نے "تنزیلاً" جو کہ اوپر والی آیت میں معمول مطلق کی صورت میں آیا ہے، "قرآن کے تدریجی نزول" کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جس کا تربیتی اثر واضح ہے اور بعض اسے آسمانی کتاب کے مقام کی عظمت کی طرف ایک اشارہ قرار دیتے ہیں، اور خدا کی طرف سے اس کے نزول پر ایک تاکید گردانتے ہیں ــــــــــ خصوصاً دوسری تاکیدوں کی طرف توجہ کرتے ہوۓ، جو اس آیت میں آئی ہے۔ ("ان" و "نحن" اور "جملہ اسمیہ" ے ذریعہ تاکید)ـــــــ اور حقیقت میں یہ ان لوگوں کا ایک جواب ہے جو پیغمبر کو کہانت ، سحر اور خدا پر افتراء باندھنے سے متہم کرتے تھے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد پیغمبراسلامؐ کو پانچ اہم حکم دیتا ہے، جن میں سے اولین صبر و استقامت کی دعوت ہے،فرماتا ہے:"اب جبکہ یہ بات ہے، تواپنے پروردگار کے احکام کی تبلیغ اوران کے اجراء میں صبروشکیبائی سے کام لے"۔(فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ )۔ یعنی راستے کی مشکلات اور رکاوٹوں ، دشمنوں کی کثرت اور ان کی سختی سے نہ ڈرو اور اسی طرح سے آگے بڑھتے چلے جاؤ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ صبرواستقامت کے حکم کو ("فاصبر"میں "فاءتفریع" کی طرف توجہ کرتے ہوۓ) خدا کی طرف سے قرآن کے نزول کی فرع قرار دیتا ہے، یعنی چونکہ تیرا مددگار خدا ہے، لہزا قطعی طور پر اس راستے میں صبرو استقامت سے کام لے اور "رب" کی تعبیر بھی اسی معنی کی طرف ایک اور لطیف اشارہ قرار پاتی ہے۔ اور دوسرے حکم میں ہیغمبرؐ کو منحرفین کے ساتھ ہر قسم کے میل جول سے منع کرتے ہوۓ کہتا ہے:"ان میں سے کسی گنہگار اور کافر کی اطاعت نہ کرو"۔(وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا )۔ حقیقت میں یہ دوسرا حکم پہلے حکم پر ایک تاکید ہے، کیونکہ دشمنوں کی جماعت اس کوشش میں رہتی تھی کہ ہیغمبرؐ کو مختلف طریقوں سے سازش کرکے، باطل کے راستہ پر کھینچ لے جائیں، کیسا کہ نقل ہوا ہے کہ "عتبہ بن ربیعہ" اور "ولید بن مغیرہ" پیغمبرؐ سے یہ کہتے تھے کہ تم اپنی دعوت سے رک جاؤ، ہم تمھیں اتنی مال و دولت دیں گے کہ تم راضی ہوجاؤ گے اور عرب کی خوبصورت ترین عورت سے تمھاری شادی کردیں گے۔ اور اسی قسم کی دوسری پیش کشیں اور پیغمبرؐ کو ایک سچے رہبر کے طور پر، ان شیطانی وسوسوں یا ان دھمکیوں کے مقابلہ میں، جو ان لالچوں کے بے اثر ہوجانے کے بعد دی جاتی ہیں، صبر و استقامت سے کام لینے کی ضرورت تھی کہ وہ نہ تو ان کے کسی لالچ میں آۓ اور نہ ہی ان کی کسی دھمکی کے آگے سر جھکاۓ۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیغمبر کبھی بھی ان کے آگے نہیں جھکے ، لیکن یہ آنحضرتؐ کے بارے میں، اس موضوع کی اہیمت کے لیے ایک تاکید ہے اور تمام راہ حق کے رہبروں کے لیے ایک ہمیشہ کا دستور العمل قرار پاتا ہے۔ اھرچہ بعض مفسرین نے "آثم" کی "عتبہ بن ربیعہ" اور "کفور" کی "ولید بن مغیرہ" یا "ابوجہل" کیساتھ ـــــ جو تینوں ہی مشرکین عرب میں سے تھے ــــــــــ تفسیر کی ہے۔ لیکن واضح ہے کہ "آثم" (گنہگار)اور "کفور"(کافر اور کفران کرنے والا) ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتے ہیں، جو تمام مجرمعں اور مشرکین کو شامل ہے، اگرچہ یہ تینوں افراد اس کے واضح مصداق میں سے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "آثم" ایک عام مفہوم رکھتا ہے جو "کفور" کو بھی شامل ہے۔ اس بناء پر "کفور" کا ذکر "عام" کے بعد "خاص" کے ذکر کی قسم سے ہے اور تاکید کے لیے ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن چونکہ ان عظیم مشکلات کے ہجوم کے مقابلہ میں صبرواستقامت کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس راستہ کو طے کرنے کے لیے دو خاص قسم کے زادِراہ کی ضرورت ہے، لہزا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :"اور اپنے پروردگار کا صبح وشام ذکر کرو"۔(فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اور رات کے وقت اس کے لیے سجدہ کر، اور رات کےزیادہ حصہ میں اس کی تسبیح کر"۔(وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَـهٝ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا )۔ تاکہ اس "ذکر" اور اس "سجدہ" اور اس "تسبیح" کے سایے میں اس رستے کی مشکلات کا مقبلہ کرنے کے لیے ضروری قدرت و توانائی، قدرت معنوی اور کافی مدد فراہم کرے۔ "بکرۃ" (بروزن نکتہ)دن کی ابتداء اور آغاز کے معنی میں ہے اور "اصیل" اس کا نقطۂ مقابل ہے، یعنی دن کا آخری حصہ اور شام کاوقت۔ بعض تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ "اصیل" کا بعض اوقات ظہر اور غروب کے درمیانی فاصلہ اطلاق ہوتا ہے۔ ـــــــــــــــــــ(مفردات راغب)ــــــــــــــــــــ اور بعض دوسری تعبیروں سے پتہ چلتا ہے کہ "اصیل" رات کے اوائل حصہ کو بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ انھوں نے اس کی "عشی" کے ساتھ تفسیر کی ہے اور "عشی" رات کے آغاز کو کہا جاتا ہے، اسی لیے مغرب اور عشاء کی نماز کو "عشائین" کہتے ہیں، یہاں تک کہ بعض کلمات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ "عشی" زوال ظہر سے لے کر اگلے دن کی صبح تک کو بھی شامل ہے۔ ؎1 لیکن اس بات کی توجہ کرتے ہوۓ کہ اس آیہ شریفہ میں "اصیل" "بکرۃ" (صبح)کے مقابلہ میں آیا ہے اور اس کے بعد بھی رات کی عبادت کی بات ہوئی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رات کے آخری حصہ کی طرف ہی ہے۔ بہرحال یہ دونوں آیات حقیقت میں پروردگار کی مقدس ذات کی طرف شبانہ روز اور ہمیشہ توجہ رکھنے کے لزوم کو بیان کرتی ہیں۔ بعض نے اس کی خصوصیت کے ساتھ نماز پنجگانہسے یا نماز تہجد کے اضافہ کے ساتھ، یا خصوصیت سے صبح، عصر اور مغرب و عشاء کے ساتھ تفسیر کی ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ نمازیں خدا کے اس دائمی و مسلسل ذکر اور اس کی مقدس بارگاہ میں تسبیح و سجدہ کے مصادیق میں سے ہیں۔ "لیلاً طویلاً" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رات کی زیادہ تر مقدار میں تسبیح خدا کر، ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی الرضاؑ سے اس کی تفسیر میں آیا ہے کہ آپ نے اس سوال کے جواب میں کہ اس تسبیح سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : اس سے مراد نماز شب ہے ۔ ؎ 2 لیکن بعیدنہیں ہےکہ یہ تفسیربھی ایک واضح مصداق کےبیان کی قسم سےہو،کیقنکہ تیجدکی نماز،روح ایمان کی تقویت،تہزیبِ نفوس اور ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 مفردات راغب ؎2 مجمع البیان جلد 10 ص 413 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خدا کی اطاعت کی راہ میں انسان کے ارادہ کو زندہ رکھنے میں حد سے زیادہ تاثیر رکھتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں اس نکےہ پر تجوہ کرنا چاہیے کہ اوہر والی آیات کے پانچ احکام اگرچہ پیغمبر اسلامؐ کے لیے ایک پروگرام کی صورت میں ذکر ہوۓ ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان تمام افراد کے لیے ایک دستور العمل ہے جو انسانی معاشرے کی معنوی اور انسانی رہبری کے راستے میں قدم اٹھاتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں اس ہدف اور پیغامِ رسالت پر اطمینان اور ایمان کامل کے بعد صبرواستقامت اختیار کرنا لازم ہے، اور روستے کی انبوہ مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ ایک معاشرے کی ہدایت میں ، خصوصاً اس وقت جبکہ جاہل اور ہٹ دھرم دشمن مقابلہ میں ہوں، ہمیشہ عظیم مشکلات ہوتی ہیں، اگر رہبروں کی طرف سے صبرواستقامت نہ ہو تو کوئی رسالت بھی بارآور نہیں ہوسکتی۔ اور بعد والے مرحلہ میں اشیاطین کے وسوسوں کے مقابلہ میں جو آثم و کفور کے مصداق ہیں اور مکتلف حیلوں اور بہانوں سے رہبروں اور پیشواؤں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ان کی رسالت بیکار اور بے نتیجہ رہ جاۓ، ہوری طاقت کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے، نہ لالچ کے فریب میں آنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی دھمکیوں سے خوف کھانے کی ضرورت۔ اور تمام مراحل میں روحانی قدرت، قوت ارادی، عزمِ راسخ اور پختہ ارادے کے حصول کے لیے صبح و شام خدا کی یاد میں رہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنی پیشانی جھکادیں، خصوصًا رات کی عبادتوں اور اس سے رازونیاز کے ذریعہ مدد حاصل کریں، کیونکہ اگر ان امور کی رعایت کی جاۓ، تو پھر کامیابی حتمی و یقینی ہے۔ اور اگر بعض مراحل میں کسی مصیبت یا شکست سے دوچار ہونا مڑے تو ان اصولوں کے ساتھ ان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی زندگی کا پروگرام اور ان کی دعوت و رسالت، اس راستہ کے راہرو افراد کے لیے مؤثر دستورالومل ہے۔