وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا
He rewarded them for their patience with a garden and [garments of] silk,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 76:12
[Pooya/Ali Commentary 76:12] Aqa Mahdi Puya says: The heavenly bliss here and in other places has been described to give an idea to man in his own imagery. In fact man will reach the height of his dignity in paradise with reference to his nearness to Allah. See commentary of Rad: 15.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:12-22
بہشت کی عظیم جزائیں
تفسیر بہشت کی عظیم جزائیں گزشتہ آیات میں "ابرار اور نیک افراد" کے قیامت کے دن کے درد ناک عذاب سےنجات پانے اور لقاۓ محبوب کو پہنچنے، اور سرور وشادی میں غرق ہونے کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں ان بہشتی نعمتوں کی تشریح کرتا ہے اور ان آیات میں کم ازکم پندرہ نعمتوں کو شمار کرتا ہے۔ سب سے پہلے ان بہشتیوں کے مکان اور لباس کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، اور فرماتا ہے:"خدا ان کے صبر و شکیبائی کے صلہ میں انھیں جنت اور ریشمی لباس وفرش جزا کے طور پردے گا"۔(وَجَزَاهُـمْ بِمَا صَبَـرُوْا جَنَّةً وَّّحَرِيْـرًا )۔ ہاں! اس استقامت ، پامردی اور ایثار کے مقابلہ میں ـــــــــــ جس کا ایک نمونہ نزر کو پورا کرنا اور روزے رکھنا اور اپنا وہ کھانا جس کی انھیں خود ضرورت تھی ، مسکین و یتیم و اسیر کو بخش دیناــــــــــ خدا انھیں جنت کے باغات میں جگہ دے گا ، اور انھیں بہترین لباس پہناۓ گا۔ نہ صرف ان آیات میں بلکہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس حقیقت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کی جزائیں، انسان کے صبر و شکیبائی کے مقابلہ میں ہیں (اطاعت کی راہ میں صبرکرنا ، معصیت کے مقابلہ میں صبر کرنا اور مشکلات و مصائب کے مقابلہ میں صبر کرنا)۔ سورہ رعد کی آیہ 24 میں آیا کہ فرشتے جنتیوں کو اس طرح خوش آمدید کہیں گے: سلام علیکم بما صبرتم: "اس صبرواستقامت پر جوتم نے کیا تم پر سلام ہے"۔ 1 اور سورہ مؤمنون کی آیہ 111 میں آیا ہے (اِنِّـىْ جَزَيْتُهُـمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَـرُوٓا اَنَّـهُـمْ هُـمُ الْفَآئِزُوْنَ) "میں نے آج انھیں انکے صبرو استقامت کی جزا دی ہے، یقینًا وہ کامیاب درست گا رہیں"۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے:"وہ اس میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگاۓ ہوۓ ہوں گے، نہ وہاں وہ سورج کی گرمی ہوگی اور نہ ہی ہوا کی سردی لگے گی"۔(مُّتَّكِئِيْنَ فِيْـهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيْـهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْـرًا )۔ (تختون پر تکیہ لگا کر بیٹھنےکی) اس حالت کا ذکر ان کے مکمل راحت و آرام کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ انسان عام طور پر آرام و سکون کی حالت میں اس طرح بسر کرتا ہے۔ اور آیت کے ذیل میں بھی جنت کے فضا کے مکمل اعتدال کی طرف اشارہ ہے۔ نہ یہ کہ سورج اور چاند وہاں موجود ہی نہ ہوں گے، بلکہ سورج کی تکلیف دینے والی تپش نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں جنت کے درختوں کا سایہ ہوگا۔ "زمھریر" "زمھر" کے مادہ سے سردی کی شدت یا غضب کی شدت، یا غصہ کے اثر سے آنکھ کے سرخ ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جہنم میں ایک جگہ ایسی ہے، جہاں سردی کی شدت کی وجہ سے جسم کے اعضاء ریزہ ریزہ ہوکر ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے۔ ؎1 "ارائک" "اریکہ" کی جمع ہے، اصل میں ان پلنگون کو کہتے ہیں ، جنھیں حجلۂ عروسی میں رکھتے ہیں، اور یہاں خوبصورت، زیبا اور فاخرہ پلنگ مراد ہے۔ اہلسنت کے ایک مشہور مفسر آلوسی "روح المعانی" میں ابنِ عباس سے ایک حدیث اس طرح نقل کرتے ہیں: "بینا اھل الجنۃ فی الجنۃ اذ راواضوءًا کضوء الشمس و قد اشرفت الجنان بہ فیقول اھل الجنۃ یارضوان ماھٰذا ؟ وقد قال ربنا لایرون فیھا شمسًا الا زمھریرًا فیقول لھم رضوان لیس ھٰذا بشمس ، ولاقمر، ولٰکن علی (ع) و فاطمہ (ع) ضحکًا و ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 درالمنشور جلد 6 ص 300 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اشرقت الجنان من نور ثغریھما" "جب بہشتی ،بہشت میں داخل ہوں گے تو اچانک سورج کی روشنی کی مانند ایک روشنی مشاہدہ کریں گے ، جو جنت کے منظر کو روشن کردے گی، جنت والے رضوان(جنت پر مامور فرشتہ) سے کہیں گے؛ یہ نور کیسا ہے حالانکہ ہمارے پروردگار نے فرمایا ہے، کہ جنت میں نہ تو سورج کو دیکھیں گے اور نہ ہی سردی کو، تو وہ جواب میں کہے گا، یہ سورج اور چاند کا نور نہیں ہے، یہ تو علیؑ اور فاطمہؑ ہنسے ہیں، اور جنت ان کے دانتوں سے روشن ہوگئی ہے"۔ ؎1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت ان نعمتوں کے بیان کو جاری رکھتے ہوۓ مزید کہتی ہے:"اور ان بہشتی درختوں کے سایے ان کے اوپر پڑے رہے ہوں گے، اور ان کے پھلوں کو توڑنا ان کے لیے بہت آسان ہوگا"۔(وَدَانِيَةً عَلَيْـهِـمْ ظِلَالُـهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا )۔ ؎2 نہ تو کوئی مشکل پیش آتی ہے، نہ ہاتھ میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور نہ ہی پھلوں کے لیے کوشش کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کہیں چل کر جانے کی۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس نکتہ کو یاد دلانہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اصول جو انسان کی زندگی پر اس جہان پر حاکم ہیں وہ اس جہان سے بہت ہی مختلف ہیں اور قرآن کی ان آیات میں اور دوسری آیات میں ، جنت کی نعمتوں کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ ان عظیم نعمتوں کی طرف صرف پر معنی اشارے ہیں ، ورنہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق وہاں اس قسم کی نعمتیں ہیں جنھیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے ، اور کسی کان نے سنا ہے اور نہ وہ کبھی کسی کے وہم و گمان میں آئی ہیں۔ "ابن عباس" کا ایک کلام ہے جو انھوں نے اس سورہ کی بعض آیات کے ذیل میں بیان کیا ہے : وہ کہتے ہیں کہ خدا نے قرآن میں جن ںعمتوں کا ذکر کیا ہے ، اس کی مثل و نظیر دنیا میں نہیں ہے، لیکن خدا نے ہمارے جانے پہچانے ناموں کے ساتھ ان کا نام لیا ہے، مثلاً شراب طہور کا ذکر کرتا ہے کہ جس میں زنجیل کی آمیزش ہوگی یہ ایک معطر مادہ ہوتا تھا جسے عرب بہت پسند کرتے تھے۔ ؎3 ــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیات میں خدا کے ان جنتی مہمانوں کی پذیرائی کی کیفیت کے ایک حصہ کی وضاحت، ان کی پزیرائی کے وسائل اور پزیرائی کرنے والوں کی حالت بیان کرتے ہوۓ ارشاد ہوتا ہے :"اور ان کے گردا گرد چاندی کے برتنوں اور بلورین پیالوں کو گردش دے رہے ہوں گے۔"۔(وَيُطَافُ عَلَيْـهِـمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيْـرَا )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "چاندی کے بلورین ظروف ، جنھیں ضروری اندازوں کے مطابق تیار کیا ہوا ہوگا"۔(قَوَارِيْـرَ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْـرًا)۔ ان برتنوں میں جنت کے انواع واقسام کے کھانے، اور ان بلوریں پیالون میں انواع اقسام کے لذت بخش اور نشاط آفریں مشروبات جتنی مقدار میں وہ چاہیں گے اور پسند کریں گے موجود ہوں گے اور جنت کے خدمت گار مسلسل ان کے گردا گرد گھوم رہے ہوں گے، اور ان کے سامنے پیش کررہے ہوں گے۔ "اٰنیۃ" جمع ہے "اناء" کی، ہر قسم کے برتن کے معنی میں ہے اور "اکواب" جمع ہے "کوب" (بروزن خرب)کی، پانی کے برتن کے معنی میں ہے، جس میں دستہ نہیں ہوتا ، جسے بعض اوقات "قدح" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ "قواریر" جمع ہے "قاردرہ" کی جو بلورین اور شیشہ کے برتن کے معنی میں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ فرماتا ہے: جنت کے بلوریں اور شیشہ والے برتن چاندی کے بناۓ گئے ہیں ، جبکہ عالمِ دنیا میں اس قسم کا برتن مطلقًا موجود نہیں ہے اور بلوریں برتنوں کع مخصوص قسم کے پتھروں کا پگھلاکر بناتے ہیں، یلکن وہی خدا جس نے سیاہ اور تاریک پتھر میں یہ امکان پیدا کردیا کہ وہ شیشہ اور بلورمیں تبدیل ہوجاۓ ، چاندی جیسی دھات میں بھی یہ امکان پید اکرسکتا ہے۔ بہرحال اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے برتن اور پیالے، بلوراورشیشہ کی طرح صاف و شفاف بھی ہوتے ہیں اور چاندی کی خوبصورتی اور درخشندگی بھی رکھتے ہیں، اور ان میں مشروب ہیں وہ مکمل طور پر نمایاں ہیں۔ قابل توجہ بات ہی کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے، آپ نے فرمایا: ینفذالبصر فی فضۃ الجنۃ کما ینفذفی الزجاج "انسان کی آنکھ کو نور جنت کی چاندی میں اس طرح نفوذ کر جاۓ گا، جیسا کے شیشیہ اور بلور میں نفوذ کرتا ہے"۔ ؎1 ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ماہرین نے کچھ ایسی شعاعیں میں معلوم کرلی ہیں (ایکس شعاعوں کے مانند) جو تاریک اور ٹھوس جسموں سے بھی گزر جاتی ہیں اور انھیں بلور اور شیشہ کی مانند دکھاتی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: جنت کی تمام نعمتیں اپنی مشابہ اور مثل و نظیر رکھتی ہیں، سواۓ بلوریں اور شیشہ کے برتنوں جو چاندی سے بنے ہوۓ ہوں گے، جس میں دنیا میں شبیہ اور نظیر نہیں۔ ؎2 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 410 ؎2 "روح المعانی" جلد 29 ص 159 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور وہاں ایسے پیالوں سے سیراب ہوں گے جو شرابِ طہور سے لبریز ہوں گے ، جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی"۔(وَيُسْقَوْنَ فِيْـهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا)۔ بہت سے مفسرین نے تصریح کی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب ایسی شراب سے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوتی تھی، لزت حاصل کرتے تھے، کیونکہ اس سے ایک خاص قسم کی تیز شراب میں آجاتی ہے تھی، اور قرآن یہاں ایسے جاموں کی بات کرتا ہے، جس کی شرابِ طہور میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس شراب اور اس شراب میں زمین آسمان کا فرق ہے یا دوسرے لفظوں میں دنیا اور آخرت کا فرق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرب دو قسم کی شراب رکھتے تھے ، جن کی دو مختلف حالتیں ہوتی تھیں ، ایک تو اصطلاح میں نشاط آور اور محرک ہوتی تھی اور دوسری سست کرنے والی اور آرام بخش ، پہلی میں "زنجبیل" کی آمیزش کرتے تھے، اور دوسری میں "کافور" کی اور چونکہ علمِ آخرت کے حقائق اس جہان کے الفاظ کے قالب میں نہیں آسکتے ، لہزا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ ان عظیم حقائق کو بیان کرنے کے لیے انھیں الفاظ کو زیادہ وسیع اور بلند معانی کے ساتھ استعمال کیا جاۓ۔ اگرچہ "زنجبیل" کے معنی کے بارے میں مختلف تفسیریں نقل ہوئی ہیں ، لیکن زیادہ تراسی معطر اور خشبودار جڑ کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے کو کھانے پینے کی مخصوص دواؤں میں استعمال ہوتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ جام بہشت کے ایک چشمے سے پُر کیے جاتے ہیں، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے"۔(عَيْنًا فِيْـهَا تُسَمّـٰى سَلْسَبِيْلًا)۔ "سلسبیل" بہت ہی لذیز قسم کے مشروب کو کہتے ہیں ، جو آرام کے ساتھ منہ اور گلے سے اترتا اور بڑآ ہی خوش گوار ہوتا ہے، بہت سوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہ "سلاسہ" کے مادہ سے لیا گیا ہے جو "روانی" کے معنی میں ہے ، جیسا کہ رواں اور عمدہ عبارتوں کو بھی "سلیس" کہا جاتا ہے۔ بعض نے یہ کہا کہ یہ "تسلسل" کے مادہ سے لیا گیا ہے ، جو پے درپے "حرکت" کے معنی میں ہے اور نتیجہ میں کسی چیز کے رواں ہونے کو بیان کرتا ہے، اس بناء پر دونوں معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں ، اور ہر صورت میں "باء" اس میں اضافی ہے۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ یہ لفظ دو الفاظ سے مرکب ہے "سل" اور "سبیل" اور بعض اسے "سال" اور "سبیل" سے مرکب سمجھتے ہیں، پہلی صرت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ "راستہ طلب کرو"۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ "اس نے راستہ طلب کیا" اور دونوں کا کنائی معنی "خوشگوار"ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "عینا" محلِ اعراب کے سلسلہ میں جو بات ہم نے پہلے کی چند آیات میں کہی ہے ، وہ بعینہ جاری ہے، اور مناسب یہ ہے کہ "منصوب بہ نزع خافض" کی قسم سے ہو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعض نے یہ تصرٰح بھی کی یٓہے کہ عربی زبان میں "سلسبیل" کے لفظ کاوجود ہی نہیں تھا اور یہ قرآن مجید کی ایجادات میں سےہے۔ ؎1 لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مشہوت اور زیادہ مناسب ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس جے بعد اس پر سروربزم کی پزیرائی کرنے والوں کے بارے میں ــــــــــ جو بہشت بریں میں حق تعالٰی کے جوارِ رحمت میں برپا ہوگی ـــــــ گفتگو کرتے ہوۓ کہتا ہے:"اور ان کے گرد ہمیشہ رہنے والے نوجوان گردش میں ہوں گے، جب تو انھیں دیکھے گا، تو گمان کرے گا کہ وہ بکھرے ہوۓ موتی ہیں"۔(وَيَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَۚ اِذَا رَاَيْتَـهُـمْ حَسِبْتَـهُـمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا)۔ وہ خود بھی جنت میں ہمشہ رہیں گے اور ان کی جوانی طرٰوت و زیبائی اور نشاط و خوشی بھی جادوانی اور ہمیشہ رہے گی، اور ان کا پزیرائی کرنا بھی ، کیونکہ "مخلدون" کی تعبیر ایک طرف سے، اور "یطوف علیھم" "(ان کے گرد طواف کریں گے) کی تعبیر دوسری طرف سے ، اس واقعیت کو بیان کرتی ہے"۔ "لؤلؤًا منثورًا" (بکھرے ہوۓ موتی) کی تعبیر ان کے خوبصورت و زئبیائی ، صفا و درخشندگی اور جاذبیت کی طرف بھی ہے،اور اس روحانی بزم خدوندی میں ، ان کے ہر جگہ پر حاضر رہنے کی طرف بھ اشارہ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اورچونکہ دوسرے جہان کی نعمتوں کی تعریف و توصیف ہوہی نہیں سکتی ، چاہے الفاظ کتنے ہی گویا اور رسا کیوں نہ ہوں ، لہزا بعد والی آیت میں سر بستہ طور پر مزید کہتا ہے: "اور جس وقت تو اس وہاں دیکھے گا، تو پھر بہت سی نعمتوں اور ایک ملک عظیم کو دیکھے گا۔"۔ (وَاِذَا رَاَيْتَ ثَـمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْـرًا)۔ ؎2 "نعیم" اور "ملک کبیر" کے لیے بہت سی تفسیریں بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ : "اس آیت کے معنی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو کبھی زائل اور فنا پزیر نہیں ہوگا"۔ ؎3 یا جنت کی نعمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ کثرت کے لحاظ سے ان کی تعریف و توصیف نہیں ہوسکتی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "سلسبیل" قاعدتاً غیر منصرف ہے، کیونکہ علمیت اور عحمہ اس میں جمع ہے اور وہ تنوین جو اس نے اپنالی ہے وہ اس سورہ کی دوسری آیات سے ہم آہنگی بناء پر ہے۔ ؎2 بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کہ "ثم" یہاں "ظرف مکان" ہے اور "رائیت" فعل لازم کا معنی رکھتا ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہوگا "اذا رمیت ببصرک ثم رائیت نعیمًا و ملکا کبیرًا" (جب تو نظر ڈالے گا تو نعمتوں اور ملکِ کبیر کو دیکھے گا)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "ثم" دور کے لیے اسمِ اشارہ ہو اور "رائیت" کا مفعول ہو۔ ؎3 "مجمع البیان" جلد 10 ص 411 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یا "ملک کبیر" یہ ہے کہ فرشتے اہلِ جنت کے پاس جانے کے وقت ان سے اجازت لیں گے، اور سلام کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ یا یہ ہے کہ جنت والے جس چیز کا ارادہ کریں گے ، وہ انھیں مل جاۓ گی۔ یا ادنٰی سے ادنٰی جنتی کا قلمروۓ ملک اس قدر ہوگا کہ جب وہ نگاہ کرے گا تو ایک ہزار سال راہ کے فاصلہ کو دیکھے گا۔ یا یہ دائمی اور ابدی ملک کے معنی میں ہے، جس میں اس کی تمام آرزوئیں پوری ہوں گی۔ "نعیم" کا لفظ جو لغت "فراواں نعمتوں" کے معنی میں ہے اور "ملکِ کبیر" جو جنت کے باغات کی عظمت اور وسعت کی خبر دیتا ہے، ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتا ہے۔ جو اوپر کی تمام تفاسیر کو شامل ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں تک جنت کی نعمتوں کی ایک حصہ کیطرف کو مکانوں ، پلنگوں، سایوں، پھلوں، مشروبات، برتنوں اور پزیرائی کرنے والوں کی قسم سے ہیں اشارہ ہوا ہے، رب جنتیوں کی زینت و آراستگی کے وسائل کی نوبت ہے، فرماتا ہے : "ان کے جسموں پر نازک سبز رنگ کے ریشمی اور دیباج کے لباس ہوں گے"۔(عَالِيَـهُـمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّّاِسْتَبْـرَقٌ)۔ ؎1 "سندس" ریشم کے نازک کپڑے کے معنی میں ہے جبکہ "استبرق" موٹے ریشمی کپڑے کے معنی میں ہے، بعض اسے فارسی کا لفظ استبر یا ستبر سمجتھے ہیں ، بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ عربی اصل "برق" سے جو چمکنے کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے، اس کے بعد مزید کہتا ہے:"اور ان کی چاندی کے دست بندوں کے ذریعہ تزئیں کی گئی ہوگی"۔(وَحُلُّوٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ )۔ ایسی صاف شفاف چاندی ، جو بلور کی طرح چمکتی ہے، اور یا قوت ، درا اور مروارید سے زیادہ خوبصورت ہے۔ "اساور" جمع ہے "اسورۃ" (بروزن مغفرۃ)کی اور وہ بھی اپنی نوبت پر "سوار" (بروزن غبار) یا سوار (بروازن کتاب) کی جمع ہے، جو اصل میں فارسی کے لفظ "دستوار" سے لیا گیا ہے ، جو "دست بند" (کنگن) کے معنی میں ہے اور عربی زبان کی طرف منتقل ہوتے وقت اس میں مختصر سی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے اور اس نے "سوار" کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جنت کے لباسوں کے لیے سبز رنگ کو انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ رنگ بہت ہی نشاط آفرین ہوتا ہے، درختوں کے خوبصرت پتوں کی طرح ، البتہ سبز رنگ کی بھی کئی انواع و اقسام ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے مقام پر عمدہ ہوتا ہے۔ بعض آیاتِ قرآنی : مثلاً سورہ کہف کی آیہ 31 میں آیا ہے کہ جنتیوں کے کے سونے کے کنگنوں سے زینت کی جاۓ گی "يُحَلَّوْنَ فِيْـهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ" لیکن یہ بات اس لیے کہ جو زیر بحث آیت میں ہے، کوئی منافات نہیں رکھتی، ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "عالیھم" کے محل اعراب کے بارے میں دو احتمال ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ ظرف ہے "فوق" (اوپر) کے معنی میں ہے، اس قول کی بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے "فوقھم ثیاب سندس" دوسرا یہ کہ یہ اس "ھم" ضمیر کا حال ہے جو پہلی آیات میں آئی ہے اور "ابرار" کی طرف لوٹتی ہے اور جملہ کا معنی اس طرح سے ہوگا "حالکو نھم یعلوھم ثیاب سندس خضر" (جبکہ سبز نازک ریسم کے کپڑے ان کے اوپر ہوں گے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تنوع کی بناء پر کبھی اس سے زینت کریں اور کبھی اس سے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا سونے اور چاندی کے کنگن عورتوں کی زینت نہیں ہیں ؟ تو پھر جنت کے مردوں کے لیے اس زینت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ لیکن اس کا جواب واضح ہے کیونکہ بہت سے معاشرے اور ماحول ایسے ہیں جن میں سونا اور چاندی مردوں کے لیے بھی زینت ہے اور عورتوں کے لیے بھی (اگرچہ اسلام نے سونے کی زینت کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا ہے) لیکن یقینی طور پر مردوں اور عورتوں کے دست بندوں کی نوعیت مختلف ہوگی اور سورہ زخرف کی آیہ 53 میں فرعون کے قول سے جو نقل ہوا ہے ــــــــ فَلَوْلَآ اُلْقِىَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ "موسٰی کو سونے کے کنگن کیوں نہ دیئے گئے"ـــــــــ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سونے کے دست بند مصر کے ماحول میں مردوں کے لیے عظمت کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے، چونکہ جنت کی نعمتوں کے بیان کے لیے اس دنیا لے عام الفاظ ہر گز کافی نہیں ہیں، لہزا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ ان عظیم اور ناقابل تعریف و توصیف نعمتوں کی طرف انھی الفاظ کے ساتھ کچھ اشارے کیے جائیں۔ اور بالاآخر آیت کے آخر میں نعمتوں کے اس سلسلہ کی آخری اور اہم ترین نعمت جے عنوان سے فرماتا ہے:"اور ان کا پروردگار انھیں شراب طہور پلاۓ گا"۔(وَّسَقَاهُـمْ رَبُّهُـمْ شَرَابًا طَهُوْرًا )۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان نعمتون کےئ بیان کے درمیان بھی ، خوشگوار مشروبات کے بارے میں ـــــــــــ جو ایسے جاموں سے جو سلسبیل لے چشمے سے پُر ہوں گے اور جنتی ان سے سیراب ہوں گے ـــــــــــ ذکر ہوا تھا ۔ لیکن ان میں اور کچھ اس آیت میں بیان ہوا ہے، بہت فرق ہے ، کیونکہ ایک طرف تو وہان ساقی "ولد ان مخلدون" تھے لیکن یہاں ساقی "خدا" ہے اور کیا ہی عجیب و غریب تعبیر ہے۔ خصوصًا "رب" کے لفظ پر تکیہ کے ساتھ وہ خدا جس نے ہمیشہ اس انسان کی پرورش کی ہے اور اس کا مالک و مربی ہے، اسے تکامل و ارتقاء کے مراحل میں ہمیشہ آگے لے گیا ہے، یہاں تک کہ وہ آخری مرحلہ تک جا پہنچا ہے اور اب اس بات کی نوبت آگئی ہے کہ وہ اپنی ربوبیت کو حداعلٰی تک پہنچا دے، اور اپنے دست قدرت سے ابرار اور نیک بندوں کو شرابِ طہور کے جام سے سیراب اور سر مست کردے۔ اور دوسری طرف "طھور" اس چیز کے معنی میں ہے جو خود بھی پاک ہے اور دوسروں کو بھی پاک کرتی ہے، اس طرح سے یہ شراب انسان کے جسم ع روح کو ہر قسم کی آلادگی اور ناپاکی سے پاک کرتی ہے اور ایسی روحانیت ، نورانیت اور نشاط بخشتی ہے کہ کسی عبارت سے اس کی توصیف نہیں ہوسکتی، یہاں تک کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: یطھرھم عن کل شیء سوی اللہ "ان کے دل وجان کو خدا کے علاوہ ہر چیز سے ہاک کردے گی"۔ ؎1 غفلت کے پردوں کو چاک کردیتی ہے، حجابوں کو دور کردیتی ہے، اور انسان کو خدا کے جوار قرب میں دائمی خضور کے لیے شائستہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 411 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور لائق بنا دیتی ہے، اس شراب طہور کا نشہ ہر نعمت سے برتر اور ہر موبیت سے بالاتر ہے۔ اگر دنیا کی آلودہ اور گندی شراب عقل کو زائل کردیتی ہے اور خدا سے دور کردیتی ہے، تو یہ شراب طہور جو ساقی "الست" کے ہاتھ سے دی جاۓ گی وہ اسے "ماسوی اللہ" سے بیگانہ کرکے اس کے جمال و جلال میں غرق کردے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لطف اس آیت اور اس نعمت میں چھپا ہوا ہے وہ سب سے برتر اور بالا تر ہے۔ ایک حدیث سے جو رسول خدا سے نقل ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ شراب چطہور کا چشمہ جنت کے دروازے پر واقع ہے: فیسقون منھا شربۃ فیطھر اللہ بھا قلوبھم من الحسد ...... و ذالک قول اللہ عزوجل و سقاھم ربھم شراباً طھورًا۔ "انھیں اس شراب طہور کا ایک گھونٹ پلایا جاۓ گا اور خدا اس کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو حسد (اور ہر قسم کے صفات رذیلہ سے) پاک کردے گا"۔ ؎1 قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں "طھور" کی تعبیر صرف دو موقعوں پر آئی ہے، ایک تو بارش کے بارے میں (فرقان ـــــــ 48) جو ہر چیز کو پاک اور زندہ کردیتی ہے اور دوسرے زیر بحث آیت میں جنت کی مخصوص شراب کے بارے میں کہ وہ بھی پاک کرنے والی اور حیات بخش ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اورآخری زیربحث آیت میں ، اس سلسلہ میں آخری بات بیان کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"خدا کی طرف سے انھیں کہا جاۓ گا: یہ عظیم نعمتیں اور بے نظیر مواہب تمھارے اعمال کا اجر ہیں، اور حق تعالٰی کے فرمان کی اطاعت کی راہ میں تمھاری سعی و کوشش اور جدو جہد مقبول و مشکور ہے "۔(اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُـوْرًا )۔ شاید کوئی یہ تصور کرے کہ یہ مواہب اور عظیم اجر انھیں کسی حساب کے بغیر ہی دے دیا جاۓ گا، یہ سب کچھ کوشش اور عمل کی جزا ہے اور مجاہدات، خود سازیوں اور گناہ سے چشم پوشی کا اجر ہے۔ ؎1 اس مطلب کو بیان کرنے میں خود ایک خاص لزت اور لطف ہے کہ خداوند تعالٰی یا اس کے فرشتے ابرار اور نیک لوگوں کو مخاطب کرکے قدردانی اور تشکر کے طور پر ان سے کہیں :"یہ سب کچھ تمھارے اعمال کا اجر ہے اور تمھاری سعی کوشش قابلَ قدر ہے ، بکلہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ تو ایک ایسی نعمت ہے، جو تمام نعمتوں اور مواہب سے بالا تر ہے کہ خدا انسان کا شکریہ ادا کرے"۔ "کان" کی تعبیر ، جو فعل ماضی ہے، گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے ، ممکن ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ نعمتیں پہلے سے ہی تمھارے لیے فراہم ہوچکی ہیں ، کیونکہ جب کوئی شخص اپنے کسی مہمان کو زیادہ اہیمت دیتا ہے تو اس کی پزیرائی کے وسائل مدتوں پہلے سے آمادہ کرلیتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اس آیت میں حقیقت میں ایک جملہ مقدر ہے مثلاً "یقال لھم" یا "یقول اللہ لھم"(خدا ان سے کہے گا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:12-22
آیت 12 تا 22
12- وَجَزَاهُـمْ بِمَا صَبَـرُوْا جَنَّةً وَّّحَرِيْـرًا 13- مُّتَّكِئِيْنَ فِيْـهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيْـهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْـرًا 14- وَدَانِيَةً عَلَيْـهِـمْ ظِلَالُـهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا 15- وَيُطَافُ عَلَيْـهِـمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيْـرَا 16- قَوَارِيْـرَ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْـرًا 17- وَيُسْقَوْنَ فِيْـهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا 18- عَيْنًا فِيْـهَا تُسَمّـٰى سَلْسَبِيْلًا 19- وَيَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَۚ اِذَا رَاَيْتَـهُـمْ حَسِبْتَـهُـمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 20- وَاِذَا رَاَيْتَ ثَـمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْـرًا 21- عَالِيَـهُـمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّّاِسْتَبْـرَقٌ ۖ وَحُلُّوٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ وَّسَقَاهُـمْ رَبُّهُـمْ شَرَابًا طَهُوْرًا 22- اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُـوْرًا ترجمہ 12- خدا ان کے صبر کرنے کے صلہ میں بطور جزا ، انھیں جنت اور بہشت کے ریشمی لباس عطا کرے گا۔ 13- وہ اس میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگاۓ ہوۓ ہوں گے، نہ وہاں وہ سورج کو دیکھیں گے اور نہ ہی سخت سردی کو۔ 14- اور ان (بہشتی درختوں) کے سایے ان کے اوپر پڑے رہے ہوں گے، اور ان کے پھلوں کو توڑنا ان کے لیے بہت آسان ہوگا۔ 15- اور ان کے گردا گرد (بہترین کھانوں اور مشروبات سے ُپر) چاندی کے برتنوں اور بلورین پیالوں کو گردش دے رہے ہوں گے۔ 16- چاندی کے بلورین ظروف ، جنھیں ضروری اندازوں کے مطابق تیار کیا ہوا ہوگا۔ 17- اور وہاں ایسے پیالوں سے سیراب کیا جاۓ جو ایسی شرابِ طہور سے لبریز ہوں گے ، جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔ 18- بہشت کے ایک چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہے۔ 19- اور ان کے گرد ہمیشہ رہنے والے نوجوان (پزیرائی کے لیے) گردش میں ہوں گے، جس وقت تو انھیں دیکھے گا تو گمان کرے گا کہ وہ بکھرے ہوۓ موتی ہیں۔ 20- اور جس وقت تو اس جگہ کو دیکھے گا، تو پھر تو نعمتوں اور ایک ملک عظیم کو دیکھے گا۔ 21- ان (بہشتیوں) کے جسموں پر نازک سبز رنگ کے ریشمی اور دیباج کے لباس ہوں گے، اور انھوں نے چاندنی کے دست بند پہنے ہوۓ ہوں گے اور ان کا پروردگار انھیں شراب طہور پلاۓ گا. 22- یہ تو تمھاری جزا ہے اور تمھاری سعی وکوشش لائقِ قدردانی ہے۔