يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ
O you wrapped up in your mantle!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 73:1
[Pooya/Ali Commentary 73:1] Al Muzzammil ("The wrapped up") is one of the titles of the Holy Prophet. In the beginning of his prophethood he used to cover his whole body with a large sheet of cloth. Aqa Mahdi Puya says: The epithets Muzzammil and Muddaththir (the name of the next surah) are used to address the Holy Prophet. It means "folded in a sheet, as one renouncing the vanities of this world", or "separating himself from all worldly engagements for the purpose of meditation." Here it refers to the Holy Prophet's preparedness at the eve of his mission to receive the divine command to guide mankind. The actual meaning is: O he who is girded to undertake that which has been mentioned in verse 5.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 73:1-19
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:1-5
1: تلاوت قرآن اور دعا و عبادت کے لیے رات کو اٹھنا
چند نکات 1- تلاوتِ قرآن اور دعا و عبادت کے لیے رات کو اٹھنا ہم بیان کرچکے ہیں کہ اگرچہ ان آیات میں مخاطب پیغمبر کی ذاتِ اقدس ہے۔ لیکن سورہ کا متن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مومنین بھی اس پروگرام میں پیغمبر کی ذات کے ساتھ ہیں۔ اب بحث صرف یہ ہے کہ یہ قیام اور شب زندہ داری، پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں سب پر واجب تھی یا نہیں؟ بعض مفسرین کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ امرواجب تھا، بعد میں سورہ کی آخری آیت نے آکر اس حکم کو منسوخ کردیا اور اس میں تقریباً ایک سال کا فاصلہ تھا۔ یہاں تک کہ بعض کا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ حکم پنجگانہ نمازوں کی تشریع سے پہلے تھا اور جب پنجگانہ نمازیں مشروع قرار دے دی گئیں تو اس بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ لیکن ـــــــــ جیسا کہ مرحوم "طبرسی" نے بھی "مجمع البیان" میں نقل کیا ہے ـــــــــ اس سورہ کی آیات کے ظاہر میں کوئی ایسی نظر نہیں آتی کو "نسخ" کے اوپر دلیل ہو اور بہتر یہی ہے کہ یہ قیام و عبادت مستحب اور سنت مؤکدہ ہے اور اس میں ہر گز وجوب کا پہلو تھا ہی نہیں، سواۓ پیغمبراکرامؐ کی ذات کے لیے، کیونکہ قرآن کی بعض دوسری آیات کے مطابق نمازِشب آپؐ پر واجب تھی اور اس میں کوئی مانع اور حرج نہیں کہ یہ مسئلہ پیغمبرؐ کے لیے واجب اور مسلمانوں پر مستحب ہو، اور اس سے قطعِ نظر اوپر والی آیات میں جو کچھ آیا ہے وہ "نمازِشب" میں منحصر نہیں ہے۔ص کیونکہ نماز شب تو آدھی رات یا دوتہائی رات یا ایک تہائی رات تک کو بھی شامل نہیں رکھتی۔ جو کچھ آیت میں بیان ہوا ہے وہ ترتیل قرآن کت لیے اٹھنا ہے۔ اس بناء پر یہ کام انتدا میں مستحب مؤکد کی صورت میں تھا اور اس کے بعد اس میں تضفیف کردی گئی اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ ہر کام کے آغاز میں، خصوصًا ایک عظیم انقلاب کی ابتداء میں، ہمیشہ زیادہ قوت و توانائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ لہذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ پیغمبر اور مسلمانوں کو ، اس قسم کا فوق العادہ حکم دیا گیا ہو کہ وہ رات کا زیادہ حصہ بیدار رہیں اور اس جدید پروگرام اور اس کی انقلابی تعلیمات سے آشنا ہوں، اور اس سے آگاہی کے علاوہ خود کو اس پر عمل کرنے کے لیے روحانی طور پر تیار کریں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:1-5
2: ترتیل کا معنی
2- ترتیل کا معنی اوپر والی آیات میں جس چیز پر تکیہ کیا گیا ہے وہ قرآن کی قراءت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ "ترتیل" کا مسئلہ ہے۔ "ترتیل" کی تفسیر میں معصومینؑ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ، جن میں سے ہر ایک اس کے وسیع الالجاد و جہات میں سے کسی ایک جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک حدیث میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے۔ بینہ بیانًا ولاتھذہ ھذاالشعرولاتنثرہ نثرالرمل، ولکن اقرع بہ القلوب القاسیۃ الایکونن ھم احد کم اٰخرالسورۃ "ترتیل" یعنی اس کو واضح طور پر بیان کر، نہ تو اشعار کی طرح جلدی اور یکے بعد دیگرے پڑھ، اور نہ ہی ریت کے ذروں کی طرح اس کو بکھیر دے۔ لیکن اس طرح پڑھ کہ اس سے سخت اور سنگین دلوں کو نرم کردے، اور انھیں بیدار کردے، ہرگز تمھارا مقصد یہ نہ ہو کہ تم لازمی اور حتمی طور پر آخر سورہ تک پہنچو اوراسے ختم کرکےرہو (بلکہ اہم بات یہ کہ ہےکہ تم آیات کے مطالب اور معانی سمجھو)؎1 ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے "ترتیل" کی تفسیر میں آیا ہے : اذا مررت باٰیۃ فیھا ذکرالجنۃ فاسال اللہ الجنۃ ، وازا مررت باٰیۃ فیھا ذکر النار فتعوذ باللہ من النار "جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جنت کا ذکر ہو تو رُک کر خدا سے جنت کا سوال کرو (اور اس کے لیے اصلاح کرو)اور جب تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو خداسے اس سے پناہ مانگو (اور خود کو اس سے دور رکھو)"۔ ؎ 2 ایک اور رواہات میں اسی امام سے آیا ہے کہ آپ نے "ترتیل" کی تفسیر میں فرمایا: ھوان تتمکث فیہ و تحسن بہ صوتک "ترتیل" یہ ہے کہ تو آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور انھیں اچھی آواز میں پڑھے"۔ ؎ 3 ایک اوع حدیث میں انھیں حضرت سے اس طرح نقل ہوا ہے: ان قرٰن لا یقر اھذارمۃ، ولٰکن یرتل ترتیلا اذا مررت باٰیۃ فیھا ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 378 ، یہ حدیث اصول کافی جلد 2 - باب "ترتیل الوراٰن بالصوت الحسن ٓ" اور دوسری کتابوں میں بھی مختصر فرق کے ساتھ آئی ہے۔ ؎ 2 وہی مدرک ؎ 3 "مجمع البیان" جلد 10 ص 378 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ذکر النار وقفت عندھا و تعوذت باللہ من النار "قرآن کو جلدی جلدی ، سرعت اور تیزی کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے۔ جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کاذکر ہو، تاوہاں رک جاؤ،اورحدا سے جہنم کی آگ کی پناہ مانگو"۔ ؎ 1 اور آخری ﷽ات یہ کہ پیغمبر کے حالات میں نقل ہواہے کہ آنحضرتؐ آیات کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے پڑھتے اور اپنی آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ ؎ 2 یہ روایات اور دوسری روایات جو اسی مفہوم کی اصولِ کفی، نورالثقلین ، درمنثور اور حدیث و تفسیر کی تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ آیاتِ قرآنی کو اس طرح نہیں پڑھنا چاہیے، جو مطالب و مضامین اور پیام سے خالی ہوں بلکہ ان تمام امور کی طرف توجہ رکھنی چاہیے، جو پڑھنے اور سننے والوں میں اس تاثیر کو گہرا کردے، اور اس بازت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ اللہ کا پیام ہے اور اس کا مقصد اس کے مطالب و مضامین کو تحقق بخشنا (اور عملی جامہ پہنانان ہے) لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان اس واقعیت سے بہت دور ہوگئے ہیں ، اور انھوں نے قرآن کے صرف الفاظ پر اکتفا کرلیا ہے اور ان کا مقصد صرف سورت اور قرآن کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ بغیر اس کے کہ وہ یہ جانیں کہ یہ آیات کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ اور کس پیام کی تبلیغکر رہی ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کے الفاظ بھی محترم ہیں ، اور ان کو پڑھنا بھی فضیلت رکھتا ہے ؟ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ الفاظ اور تلاوت ان م مطالب ان کے مطالب و مضامین کو بیان کرنے کا مقدمہ اور تمہید ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "نورالثقلین" جلد 10 ص 447 ؎ 2 "مجمع البیان" زیر بحث آیت کے ذیل میں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:1-5
اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے کھڑا ہوجا
تفسیر اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے کھڑا ہوجا جیسا کہ اس سورہ کے آغاز کے لب و لہجہ سے پتا چلتا ہے، یہ پیغمبر کو استقامت کے لیے اور ایک عظیم و سنگین ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے آمادگی کی ایک آسمانی دعوت ہے کہ جسے پہلے سے خود کو تیار کیے بغیر انجام دنیا ممکن نہیں ہے ، فرناتا ہے :"اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے"۔ (يَآ اَيُّـهَا الْمُزَّمِّلُ)۔ ؎ 1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "رات کو، تھوڑے سے حصہ کے سوا ، قیام کیا کر"۔(قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "آدھی رات یا اس میں سے تھوڑا کم کر دے"۔(نِّصْفَهٝٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ "یا آدھی رات پر کچھ اضافہ کردے"۔(اَوْ زِدْ عَلَيْهِ)۔ "اور قرآن کو انتہائی غور وخوض سے اور انتہائی وضاحت و فصاحت کے ساتھ تلاوت کیا کر"۔(وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَـرْتِيْلًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہےکہ ان آیات میں مخاطب پیغمبرؐ ہیں لیکن "یاالھاالرسول" اور "یاالھاالنبی" کے عنوان سے نہیں بلکہ "یاالھاالمزمل" کے عنوان جو اس بات کی اشارہ ہے کہ یہ اپنے اوپر کپڑا لپیٹ کر گوشۂ تنہائی میں بیٹھ رہنے کا دور نہیں ہے ، بلکہ یہ کھڑے ہونے اور خود کو تیار کرنے اور عظیم رسالت کو انجام دینے کے لیے آمادگی کا دور ہے۔ اور اس کام کے لیے رات کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ : اولاً دشمنوں کی آنکھ اور کان نیند کی حالت میں ہیں، اور ثانیاً زندگی کے کارونار بند ہیں، اور اس بناء پر انسان غوروفکر اور تربیتِ نفس کے لیے زیادہ سے زیادہ آمادگی رکھتا ہے۔ اسی طرح اس پروگرام کے لیے متن اصلی کے عنوان سے "قرآن" کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ یہ اس سلسلہ کے تمام ضروری اسباق کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور یہ ایمان کی تقویت، استقامت ، تقوٰی اور پرورشِ نفوس کا بہترین وسیلہ ہے۔ "ترتیل" کی تعبیر کو اصل میں موزوں "تنظیم" و "تربیت" کے معنی میں ہے اور یہاں آیاتِ قرآنی کو تاُنی (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) ضروری نظم، حروف کی صحیح ادائیگی ، الفاظ کو وضاحت کے ساتھ پڑھنا ، آیات کے مفاہیم میں دقت و تامل اور ان کے نتائج میں غوروفکر کرنا ہے۔ واضح کہ قرآن کی اس طرح سے تلاوت انسان کو معنوی نشوونما، اخلاقی شہامت اور تقوٰی وپرہیزگاری سرعت کے ساتھ بخش سکتی ہے اور اگر بعض مفسرین نے اس کی نماز پڑھنے کے معنی میں تفسیر کی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کا ایک حصہ "تلاوتِ قرآن" ہی ہے۔ "قم اللیل" کے جملہ میں "قیام" کی تعبیر، سونے کے مقابلہ میں کھڑا ہونے کے معنی میں ہے، نہ کہ صرف پاؤں پر ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "مزمل" اصل میں "متزمل" تھا۔ "تزمل" کے مادہ سے جس کا معنی اپنے اوپر کپڑا لپیٹنااور "زمیل" جو ہم ردیف کے معنی میں ہے(وہ شخص جو کسی کے پیچھے سواری پرہو) اور اس کے بعد رفیق اور ساتھی کے معنی میں آیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ ارتباط اور قریبی تعلق رکھتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کھڑا ہونے کے معنی میں ہے۔ لیکن ان آیات میں "شبِ زندہ داری" کی مقدار کے بارے میں کو مختلف تعبیریں آئی ہیں ، وہ حقیقت میں "اختیار" کو بیان کرنے کے لیے ہیں، اور وہ پیغمبر کو یہ اختیار دیتی ہین کہ آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ بیدار رہیں اور قرآن کی تلاوت کریں ، پہلے مرحلہ میں "ساری رات" سواۓ تھوڑی سی مقدار کے زکر کرتا ہے، اور اس کے بعد اس میں تحفیف کرکے آدھی رات تک پہنچاتا ہے، اور اس کے بعد آدھے سے بھی کم ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے "دو تہائی" "آدھی" اور "ایک تہائی" رات کے درمیان تحییر مراد ہے۔ اس ایت کے قرینہ سع جو اسی سورہ کے آخر میں آۓ گی، جس میں فرماتا ہے : (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ)۔ ضمنی طور پر سورہ کے آکر کی اسی آیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اس رات کے قیام میں اکیلے نہیں تھے، بلکہ مومنین کا ایک گروہ بھی اس خود سازی و تربیتی اور آمادگی کے پروگرام میں پیغبر کے ساتھ تھا اور انھوں نے اس راہ میں آپ کو ایک اسوہ اور نمونہ کے طور پر قبول کیا ہوا تھا۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ بعض راتوں کے سوا تمام راتوں میں قیام کی کر ، اور اس طرح سے استثناء رات کے حصوں میں نہیں ہے، بلکہ راتوں کے افراد میں ہے۔ لیکن یہ تفسیر " " کے مفرد ہونے اور "نصف" (آدھی) اور اس سے کمتر کی تعبیر کے ساتھ درست نظر نہیں آتی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس سخت اور اہم حکم کے"ہدف تہائی" اور "مقصد اصلی" کو اس طرح بیان کرتا ہے: "ہم عنقریب ایک سخت بات کا تجھ کو القاء کریں گے"۔(اِنَّا سَنُلْقِىْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا)۔ اگرچہ مفسرین "قول ثقیل" کے بارے میں الگ الگ بیان رکھتے ہیں، جو مسئلہ ایک ہی پہلو کو پیش کرتے ہیں ، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کا سنگین ہونا، جس سے بلا شک و شبہ قرآن مجید مراد ہے، مختلف پہلوؤں سے ہے۔ آیات کے مفہوم اور مطالب کے لحاظ سے سنگین ۔ دلوں کے تحمل کے لحاظ سے سنگین ، یہاں تک کہ خود قرآن کہتا ہے : (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٝ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّـٰهِ): "اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر نازل کرتے، تو تُو اسے خاشع اور شگافتہ دیکتا" (حشر ــــــــ 21) وعدوں اور وعیدوں ، ذمہ داریوں اور مسئولیتوں کے بیان کہ لحاط سے سنگین۔ تبلیغ اور دعوت کی راہ کی مشکلات کے لحاظ سے سنگین۔ ترازوۓ عمل اور عرصۂ قیامت میں سنگین اور آخر میں پروگرام پیش کرنے اور اس کے مکمل اجراء کے لحاظ سے سنگین، ہاں ! اگرچہ قرآن کا پڑھنا سہل و آسان اور زیبا و دلنشین ہے لیکن اس کے مفاد اور معانی کو لانا اسی نسبت سے سنگین اور مشکل ہے، خصوصًا پیغمبرکی دعوت کے آغاز میں ، اور آپ کے مکہ میں قیام کرنے کے وقت ، جب ماحول کو جہالت، بت پرستی اور خرافات کے تیرہ و تاریک بادلوں نے گھیر رکھا تھا، لیکن پیغمبراکرامؐ اور ان کے تھوڑے سے ساتھی، قرآن مجید کی تربیت سے مدد لیتے ہوۓ ، اور نمازِ شب سے اعانت طلب کرتے ہوۓ اور پروردگار کی پاک ذات کے تقرب سے استفادہ کرتے ہوۓ ان تمام مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے اور اس "قول ثقیل" کے بار کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیا۔ ــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:1-5
آیت 1 تا 5
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ 1- يَآ اَيُّـهَا الْمُزَّمِّلُ 2- قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا 3- نِّصْفَهٝٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا 4- اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَـرْتِيْلًا 5- اِنَّا سَنُلْقِىْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا ترجمہ رحمٰن و رحیم خدا کے نام سے 1- اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے۔ 2- رات کو، تھوڑے سے حصہ کے سوا ، قیام کیا کر۔ 3- آدھی رات یا اس میں سے تھوڑا کم کر دے ۔ 4- یا آدھی رات پر کچھ اضافہ کردے، اور قرآن کو دقت و تامل کے ساتھ پڑھا کر۔ 5- کیونکہ ہم عنقریب ایک سنگین و ثقیل بات کا تجھ پر القاء کریں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:1-5
3: نماز شب کی کی فضلیت
3- نمازِشب کی فضیلت یہ آیات دوبارہ شبزندہداری، نمازشب، اور اس وقت ــــــــــــــجبکہ غافل لوگ خوابِ غفلت میں پڑھے سوۓ ہوۓ ہوتے ہیں ـــــــــ قرآن کی تلاوت کی اہمیت کو گوشزد کرتی ہیں، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ رات کو عبادت کرنا، خصوصًا سحر کے وقت، اور طلوعِ فجر کے نزدیک، روح کی صفائی، تہذیب نفوس اور انسان کی معنوی تربیت، پاکیزگی قلب، دل کی بیداری، ایمان وارادہ کی تقویت اور انسان کے دل و جان میں تقوٰی کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں حد سے زیادہ اثر رکھتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ کی آزمائش سے، انسان اس کے آثار ، واضح طور پر اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ اسی بناء پر آیاتِ قرآنی کے علاوہ روایاتَ اسلامی میں بھی اس مطلب پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے : ان من روح اللہ تعالٰی ثلاثۃ:التھجد باللیل و افطار الصائم ولقاء الاخوان "تین چیزیں خدا کی مخصوص عنایات میں سے ہیں، شبانہ عبادت (نمازِ تہجد) روزہ داروں کو افطار کرانا اور مسلمان اور مامن بھائیوں کی زیارت و ملاقات کرنا"۔ ؎ 1 ایک اور حدیث میں انھیں جناب سے آیا ہی کہ آپ نے آیہ "انالحسنات یذھبن السیئات"(نیک کام برے کاموں کے اثر کو زائل کردیتے ہیں) کی تفسیر میں فرمایا: صلاۃ اللیل تذھب بذنوب النھار "نمازِ تہجد دن کے گناہوں کو ختم کردیتی ہے"۔ ؎ 2 سورہ اسراء کی آیہ 79کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلہ میں ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ اور ہم نے وہاں پر نماز تہجد کی اہمیت کے بارے میں بہت عمدہ روایات نقل کی ہیں۔ ؎3 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 ، ؎ 2 "بحارالانوار" جلد ص 143 ؎ 3 "تفسیر نمونہ" جلد 12 ص 227