قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا
Say, ‘I pray only to my Lord, and I do not ascribe any partner to Him.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 72:20
[Pooya/Ali Commentary 72:20] (see commentary for verse 19)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:20-24
2: جمیعت کے افراد کازیادہ ہونا اہم نہیں جمیعت کا ایمان اہم ہے۔
2- جمعیت کے افراد کا زیادہ ہونا اہم نہیں جمیعت کا ایمان اہم ہے قرآنی آیات میں یہ مطلب بہت زیادہ نظر آتا ہے کہ ہر زمانے کے طاغوت اپنی جمعیت اور افرادی قوت کی دوسروں پر زیادتی پر فخر کرتے تھے اور انبیاء کے مقابلے میں اتراتے تھے۔ فرعون موسٰیؑ کے طرف داروں کی تحقیر کے لیے کہتا ہے : "ان ھٰؤلاء لشرذمۃ قلیلون:" "یہ بہت ہی تھوڑے سے آدمی ہیں"۔ (شعراء ـــــــــ 54) اور مشرکین عرب یہ کہا کرتے تھے : "نحن اکثرا موالاً واولادًا وما نحن بمعذبین:" "ہم بہت مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہوگا"۔(سباـــــــ35) اور کبھی ایک بے ایمان آدمی ایک مومن آدمی کے مقابلہ میں اپنی ثروت اور افرادی قوت پر فخر کرتے ہوئے کہتا : انا اکثر منک مالاً و اعز نفرًا "میرے پاس تجھ سے زیادہ دولت و ثروت اور زیادہ قوی افراد ہیں" (کہف ــــــــــ 34) لیکن اس کے مقابلہ میں، افراد مومن، انبیاء اور خدائی رہبروں کی پیروی میں ، جمعیت کی زیادتی اور افرادی قوت پر تکیہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی منطق یہ تھی " کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ: کتنے ہی چھوٹے گروہ ایسے ہیں ہوئے ہیں جو خدا کے حکم سے بڑے بڑے گرہوں پر کامیاب ہوئے ہیں " (بقرہ ــــــــــــ249) امیر المومنین علیؑ فرماتے ہیں : ایھا الناس لا تستو حشوا فی طربق الھدی لقلۃ اھلہ اے لوگو ! ہدایت کی راہ میں افراد کی کمی سے ہرگز وحشت نہ کرو۔ ؎ 1 تاریخ انبیاء خصوصًا پیغمبر اسلامؐ کی تاریخِ زندگی ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بے ایمان اور بکثرت جمعتیں، ہر قسم کی قدرت رکھنے کے باوجود، مومنین کے تھوڑے سے یاور وانصار کے مقابلہ میں کس طرح سے شکست اور درماندگی کا شکار ہوئے۔ قرآن مجید میں "بنی اسرائیل" و "فرعون" اور "طالوت" و "جالوت" کی داستان میں اور "جنگ بدر" و "احزاب" مربوط آیات میں بھی یہ معنی اچھی طرح منعکس ہوئے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "نہج البلاغہ" خطبہ 201
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:20-24
کہہ دیجئے : میں کسی سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں۔
تفسیر کہہ دیجیے میں کسی سود و زیاں کا مالک نہیں ہوں ان آیات میں توحید کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے لیے ــــــ جس کی طرف گزشتہ آیات میں بھی اشارہ ہوا تھاــــــــپہلے پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے:"کہہ دیجیے : میں تو صرف اپنے ہروردگار کو پکارتا ہوں اور کسی کو بھی اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔"(قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّىْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٓ ٖ اَحَدًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد حکم ہے :"کہہ دیجیے : میں تمھارے لیے سود وزیاں کا مالک نہیں ہوں اور ہدایت دوسرے کے ہاتھ میں ہے"(قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا)۔ ____________ پھر مزید کہتا ہے:"کہہ دیجیے : !(اگر میں بھی اس کے حکم کے خلاف کروں گا) تو کوئی بھی مجھے اس کے مقبلے میں پناہ نہیں دے گا اور میں اس علاوہ کوئہ اور ملجاء اور پناہ گاہ نہیں پاؤں گا۔"(قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْـرَنِىْ مِنَ اللّـٰهِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا)۔ ؎ 1 اس طرح سے نہ کوئی مجھے پناہ دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز میری پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ یہ باتیں ایک طرف تو خدا کی بارگاہ میں ممکل عبودیت کا اعتراف ہے، اور دوسری طرف سے پیغمبرؐ کے بارے میں ہر قسم کے غلو کی نفی کرتی ہیں اور تیسری طرف سے یہ بتاتی ہیں کہ نہ صرف بتوں سے ہی کوئی کام نہیں ہو پاتا بلکہ خود پیغمبر بھی اس عظمت کے باوجود عذابَخدا کے مقبلہ میں ملجاء اور مستقل پناہ نہیں ہوسکتے۔ اور چوتھی طرف سے ان بہانہ جوئیوں اور بے محل توقعات کو ــــــــــجو ہٹ دھرم لوگ پیغمبرؐ رکھتے تھے اور ان سے خدائی کاموں کے تقاضے کرتے تھےــــــــ ختم کرت ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ توسل اور شفاعت بھی اذانِ خدا سے ہی ہے۔ "ملتحدًا" مطمئن پانہ گاہ کے معنی میں ہے اور اصل میں "لحد" (بروزن مہد) کے مادہ سے اس گڑھے کے معنی میں ہے کو ایک کنارے پر بنایاگیاہو، جیسا کہ مردوں کے لیے قبر کی گہرائی میں کھودا جاتا ہے، جو قبر کی گہرائی میں ایک طرف کو زیادہ کھودتے ہیں اور مردے کے جسم کو اس میں رکھتے ہیں تاکہ اس میں مٹی نہ گرے اور جانوروں کے آسیب سے بھی زیادہ محفوظ وہے، اس کے بعد ہر دوسری مطمئن جگہ اور پناہ گاہ پر اس کا اطلاق ہوا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ ان تعبیرات کا مقصد یہ کہ پیغمبر صلی اللہ عیلہ وسلم خدا کے مقبلہ میں اور مستقل طور پر کوئی نقش و اثر ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 بعض نے اس آیت کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار قریش پیغمبرؐ سے کہا م اپنے دین سے پھر جاؤ تاکہ ہم تمھیں پناہ دیں تو اوہر والی آیات نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا (تفسیر ابوالفتوح رازی جلد 11 ص 293) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں رکھتےاس کے باوجود وہ خدا سے لوگوں کے لیے مشکلات کے حل کا تقاضا کرسکتے ہیں ، یا شائستہ اور لائق افراد کے لیے ہدایت کی درخواست کر سکتے ہیں اور یہ عین توحید ہے نہ شرک۔ قابل توجہ بات یہ کہ ان آیات میں "ضر" (نقصان) کے مقابلہ میں "رشد" (ہدایت) کو قرار دیا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقی سود اور نفع ہدایت میں ہے ۔ جیسا کہ جنات کی باتوں میں بھی گزشتہ آیات میں "شر" اور "رشد" کے مقچلہ میں قرار پایا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بود والی آیت میں مزید کہتا ہے:"میرا وضیفہ تو صرف خدا کی طرف سے ابلاغ اور اس کے پیغامات کو پہچانا ہے"۔(ِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللّـٰهِ وَرِسَالَاتِهٖ ۚ)۔ ؎ 1 یہ تعبیر اسی چیز کے مشابہ ہے جس کی طرف آیاتِ قرآنی میں باربار اشارہ ہوا ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ 92 میں آیا ہے :(انَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ)"پیغمبر کے زمہ تو صرف واضح طور پر ابلاغ کرنا (اور پہچانا ہے)" اور سورہ اعراف کی آیہ 188میں آیا ہے: (قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّـٰهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْـثَرْتُ مِنَ الْخَيْـرِۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّوٓءُ ۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْـرٌ لِّـقَوْمٍ يُؤْمِنُـوْنَ)۔ "کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے لیے بھی سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں، اور اگر میں غیب کی خبر رکھتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سا نفع جمع لر لیتا اور کوئی بھی خرابی مھجے نہیں پہنچتی۔ میں تو صرف اس گروہ کے لیے جو ایمان لے آتے ہیں، ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں "۔ اس جملہ کے لیے بہت سے مفسرین نے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ : میں اپنی نجات کے لیے دعوتِ حق کے ابلاغ اور اس کی رسالت کے اداکرنے کے سوا، کسی کی کوئی پناہ گاہ نہیں رکھتا۔ ؎ 2 یہ بات کہ "بلاغ" احکامِ الہٰی مے معنی میں ہے اور "رسالت" ان کے اجراء کے معنی میں۔ لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹیں اور یہ ایک دوسرے کی تاکید ہوں، اور قرآن کی بہت سی آیات اس طرح ہیں، جو ان دونوں کو ایک ہی معنی کی صورت میں بیان کرتی ہیں، مثلًا سورہ اعراف کی آیہ 62، جو یہ کہتی ہے ، "ابلغکم رسالات ربی" "میں اپنے پروردگارکی رسالتیں تمھیں پہنچاتا ہوں"(اور دوسری متعدد آیات) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 چونکہ "بلاغ" صرف "عن" کے ساتھ متعدی ہوتاہے۔ اس لیے بعض نے "من" کو "عن" کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے "کائنا" کا لفظ مقدر سمجھا ہے (اِلا بلا غًا کائنًا من اللہ) ؎ 2 اس تفسیر کے مطابق یہ جملہ گزشتہ جملے (ولن اجد من دونہ ملتحدًا) سے استنثناء ہے اور پہلی تفسیر کے مطابق یہ گزشتہ آیات سے استثناء ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بہرحال آیت کے آخر میں خبردار کرتا ہے کہ "جو شخص خدا اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی کرے گا، اس کے لیے جہنم کی آگ ہےاور وہ ہمیشہ اسی میں رہے گا"(وَمَنْ يَّعْصِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَاِنَّ لَـهٝ نَارَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا اَبَدًا)۔ یہ بات واضع ہے کہ اس سے مراد ہر گنہگار نہیں ، بلکہ اس سے مراد مشرکین اور کافرین ہیں، کیونکہ ہر گنہگار ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہنے کا مستحق نہیں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے : " کفار و مشریکن کی یہ وضع و کیفیت، کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کا استہزاء کرتے اور انھیں ضعیف اور کمزور شمار کرتے ہیں اس وقت یونہی جاری رہے گا، جب کہ وہ اس چیزکو نہ دیکھ لیں جس کا ان سے واعدہ کیا گیا ہے،۔ اس وقت وہ جانیں گے کہ کس کے مددگار زیادہ ہیں، اور کس کی جمعیت کم ہے"۔(حَتّـٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا)۔ اس بارے میں کہ " مَا يُوْعَدُوْنَ " کے جملہ سے دنیا کا عذاب مراد ہے یا آخرت کا یا دونوں کہ؟ بہت سی تفسرین بیان کی گئی ہین، لیکن مناسب یہ ہے کہ اس کامعنی عام اور وسیع ہو۔ خاص طور پر جبکہ تعداد کی زیادتی اور کمی ، اور ناصر و مددگار کا ضوف و قدرت زیادہ تر دنیا کے ساتھ مربوط ہے ۔ لہذا بہت سے مفسرین نے اس کی جنگِ بدر کے مسئلہ کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ جس میں مسلمانوں کی قدرت و قوت آشکار ہوئی تھی اور بہت سی روایات میں مہدی (ارواحنا فداہ) کے ظہور کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ اس بناء پر اگر ہم آیت کی اس کے وسیع معنی کے ساتھ تفسیر کریں تو یہ سب باتیں شامل ہوں گی۔ علاوہ ازیں سورہ مریم کی آیہ 75 میں بھی ایا ہے : حَتّــٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَةَ ۚ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَاَضْعَفُ جُنْدًا ۔ "یہ کیفیت اسی طرح برقراررہے گی جب تک کہ وہ خدا کے واعدے کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں گے یا اس دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب، اس دن وہ جان لیں گے کہ کس شخص کی حیثیت بدتر اور کس کا لشکر زیادہ کمزور و ناتواں ہے"۔ بہرحال آیت کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ دشمنانِ اسلام اپنے افراد کی قدرت اور کثرت پر ناز کیا کرتے تھے اور انھیں ضعیف و ناتواں شمار کرتے تھے ، قرآن اس ذریعہ سے مومنین کو تسلی دیتے ہوئے اور ان کی دلداری کرتے ہوئے انھیں خوشخبری دیتا ہے کہ آخر کار ان کی کامیابی اور دشمنوں کی شکست و ناتوانی کا دن آپہنچے گا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "حتٰی" عام طور پر کسی چیز کی غایت اور نیابت کے لیے آتا ہے اور یہاں اس کے لیے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ کہ ایک محدوف جملہ کی غیت ہے ، اور تقدیرمیں اس طرح ہے "ولا یزالون یستھزءون و یستضعفون المؤمنین حتٰی اذاراواما یوعدون" اور دوسری یہ کہ "یکونون علیہ لبدًا" کی غایت ہو، جو پہلے کی چند آیات میں آیا ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:20-24
آیت 20تا 24
20- قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّىْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٓ ٖ اَحَدًا 21- قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا 22- قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْـرَنِىْ مِنَ اللّـٰهِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا 23- اِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللّـٰهِ وَرِسَالَاتِهٖ ۚ وَمَنْ يَّعْصِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَاِنَّ لَـهٝ نَارَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا اَبَدًا 24- حَتّـٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا ترجمہ 20- کہہ دیجیے : میں تو صرف اپنے ہروردگار کو پکارتا ہوں اور کسی کو بھی اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔ 21- کہہ دیجیے : میں تمھارے لیے کسی نقصان یا ہدایت کا مالک نہیں ہوں 22- کہہ دیجیے : !(اگر میں بھی اس کے حکم کے خلاف کروں گا) تو کوئی بھی مجھے اس کے مقبلے میں پناہ نہیں دے گا۔ 23- میری ذمہ داری تو صرف خدا کی طرف سے ابلاغ رسالت اور اس کے پیغاموں کو پہچانا ہے، اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ، تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ 24- (کفار کی یہ کار شکنی اسی طرح جاری رہے گی)جب تک کہ وہ اسے دیکھ نہ لیں، جس کا نھیں وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وقت انھیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار زیادہ ضعیف ہیں اور کس کی جمعیت بہت ہی کم ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:20-24
1: خدائی رہبروں کی صداقت
چند نکات 1- خدائی رہبروں کی صداقت خدائی رہبروں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ "شیطانی رہبروں" کے بر خلاف ہرگز لمبے چوڑے وعدے نہیں کرتے اور اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے اور متکبر و مغرور نہیں ہوتے۔ جبکہ فرعون انا ربکم الا علٰی ، "میں تمھارا اعلٰی اور بلند تر خدا ہوں "وھٰذہ الانھار تجری من تحتی: اور دریائےِ نیل کی بڑی بڑی شاخیں سب میری نظروں کے سامنے جاری ہیں"۔ کی احمقانہ فریاد بلند کرتا تھا، اور رہبرانِ الٰی، تواضع اور فروتنی سے، اپنے آپ کو خدا کے بندوں میں سے ایک چھوٹا سا بندہ بتلاتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ وہ اس کے ارادہ کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ سورہ کہف کی آہی 110 میں آیا ہے: قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَـىَّ : کہہ دیجیے میں تو تم جیسا ہی ایک بشر ہوں، سوائے اس کے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے۔ اور دوسری جگہ آیا ہے : وما ادری ما یفعل بی الا بکم ان اتبع الا ما یوحٰی الی وما الا نذیر مبین"میں نہیں جانتا کہ خدا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہو جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے اور میں ایک واضح ڈرانے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"۔(احقاف ـــــــــ 9) ایک اور دوسری آیت میں آیا ہے : قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّـٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّـىْ مَلَكٌ ؛"کہہ دیجیے میں یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے معرے پاس ہیں میں تو غیب کا علم بھی نہیں رکھتا (سوائے اس کے جس کی خدا مجھے تعلیم دیتا ہے) اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں"۔ (انعام ۔ ـــــــــ 50) اگر وہ مادی ودرت کی انتہائی بلندی پر بھی پہنچ جاتے تو بھی ہرگز آپے سے باہر نہ ہوتے اور سلیمان کی طرح کہتے : ھذا من فضل ربی : یہ قدرت و شوکت میرے پروردگار کا فضل ہے۔ (نمل ۔ ــــــــــــ 40) قابل توجہ بات یہ کہ قرآن مجٰد میں متعدد آیات میں سخت قسم کی تعبیریں نظر آتی ہیں ، جن میں پیغمبر کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں عتاب کرتا ہے، اور اس بات کی تننبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہداریوں کا خیال رکھیں۔ یہ آیات اور گزشتہ آیات کا مجموعہ جن کی تعداد قرآن میں کم نہیں ہے، اس پیغمبر کی حقانیت پر ایک زندہ مسند ہے۔ ورنہ اس میں کونسی رکاوٹ ےھی کہ ان لوگوں کے سامنے جو آپ کے لیے ہر قسم کے مقام اور منزلت کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے، اپنے لیے بڑے سے بڑے مقام کا دعوٰی کرتے، جو فکر بشر کی دسترس سے بھی بالا تر ہوتا اور ہر قسم کے چوں و ثرا سے دور بھی۔ جیسا کہ تاریخ نے شیطانہ رہبروں کے بارے میں اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہاں ! زیرِ بحث آیات اور ان ہی جیسی آیات کی تعبیریں رسول اللہؐ کی دعوت کی حقانیت کے زندہ شواہد ہیں۔