تَعۡرُجُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥ خَمۡسِينَ أَلۡفَ سَنَةٖ
The angels and the Spirit ascend to Him in a day whose span is fifty thousand years.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 70:1-35
1. Worldly wealth is the devil’s bait and those whose minds feed upon riches, recede in general from real happiness in proportion as their stores increase, as when the moon is full when most distant from the sun. 2. Seek not proud wealth but such as you may get justly, use soberly, distribute cheerfully and live contendtedly. It can only be a blessing, being to sustain and extend knowledge, virtue and religion know their use. Those who lose them by accident or fraud know their vanity, and those who experience difficulties and dangers of preserving them knowtheir perplexities. He who will not permit his wealth to do so any good to others while he is living, prevents it from doing good to others while he is living, prevents it from doing any good to himself when he is dead, and by an egotism which is suicidal and has a double edge, cuts himself off from the truest pleasure and the highest happiness hereafter. 3. Let us not envy some men their accumulated riches. Their burden would be too heavy for us. We could not sacrifice, as they do, health, quiet, honour, and conscience to obtain them. 4. If you desire to purchase honour with your wealth, consider first how wrath became yours. If your labour got it, let your wiskdom keep it. If oppression found it, let repentence resolve it. If your parent left it let your virtues deserve it. So shall your honour be safer, better and cheeper.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 70:4
[Pooya/Ali Commentary 70:4] Nearness to Allah and His pleasure are attainable with the spiritual exertion in obtaining the divine attributes in the spiritual realm in a day or a moment, which if measured according to the time of this earth may be thousands of years. See commentary of Yunus: 3; Hajj: 47; Ha Mim: 9 for the use of the word yawm and its application.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 70:4-7
آیت 4 تا 7
4- تعرج الملکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ 5- فاصبر صبرا جمیلاً 6- انھم یرونہ بعیدًا 7- ونرہ قریبًا ترجمہ 4- فرشتے اور روح (مخصوص فرشتے) اس دن جس کی مقدار پچاس ہزارسال ہوگی۔اس کی طرف عروج کریں گے۔ 5- اس بناء پر صبر و جمیل اختیار کر۔ 6- کیونکہ وہ اس دن کو دور سمجھتے ہیں۔ 7- اور ہم اسے نزدیک سمجھتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 70:4-7
پچاس ہزار سال کے برابر دن
تفسیر پچاس ہزار سال کے برابر دن ایک شخص کے دنیاوی عزاب کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد جس نے عزاب الہی کا تقاضا کیا تھا۔ معاد اور مجرموں کے اس دن کے اخروی عزابوں کے مباحث کا بیان شروع کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے : وہ فرشتے اور روح ، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ، اس (خدا) کی طرف عروج کریں گے (تعرج الملائکہ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ)۔ مسلمہ طورسے "فرشتوں کے عروج" سے مراد جسمانی عروج نہیں ہے بلکہ اس سے مراد روحانی عروج ہے، یعنی وہ خدا کے مقامِ قرب کی طرف بڑھیں گے اور اس دن ، جو قیامت کا دن ہے ، فرمان خداوندی کو حاصل کرنے اور اس کے اجراء کے لیے آمادہ ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے سُورہ "حاقہ" کی آیہ 17 کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ "والملک علی اوجائھا" (فرشتے آسمان کے اطراف میں قرار پائیں گے) کے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس دن وہ آسمانوں کے گرداگرد کھڑے ہوں گے اور ہر قسم کے فرمان کو انجام دینے کے لیےآمادہ ہوں گے۔ ؎1 "روح" سے مراد وہی "روح الامین" ہے جو سب فرشتوں سے بزرگ ہے اور جس کی طرف سُورہ "قدر" میں بھی اشارہ ہوا ہے، جہاں کہتا ہے : تنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر : "شب قدر میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے حکم سے امور کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں "(قدر ــــ 4) البتہ "روح" کے مختلف معانی ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہر موقع پر موجود قرائن کی مناسبت سے ایک خاص مفہوم دے۔ روح انسان، روح قرآن ، ورح یعنی ورح القدس اور ورح یعنی فرشتے وحی ، یہ سب روح کے معانی ہیں۔ جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ؎2 اب رہی پچاس ہزار سال کی تعبیر تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ زیر بحث دن دنیا کے سالوں کے حساب سے اتنا لاطونی ہوگا اور یہ بات اس چیز سے کہ جو سُورہ سجدہ کی آیہ 15 میں سے ہے کہ اس کی مقدار ایک ہزار سال ہے، اختلاف نہیں رکھتی، کیونک ــــ جیسا کہ ورایات میں وارد ہوا ہے ـــــــ قیامت میں پچاس موقف ہوں گے اور ہر موقف ایک ہزار سال کی مقدار کے برابر ہوگا۔ ؎ 3 بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہےکہ "پچاس ہزار سال" کا عدد تکثیر کے لیے ہے، نہ کہ تعداد کے لیے، یعنی وہ دن بہت طولانی ہوگا بہرحال یہ مجرموں ، ظالموں اور کافروں کے لیے ہوگا، اسی لیے ایک حدیث میں "ابو سعید خدری" سے آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کسی نے عرض کی اے اللہ کے رسولؐ ! وہ دین کتنا طولانی ہوگا ؟۔ آپؐ نے فرمایا: والذین نفس محمد بیدہ انہ لیخف علی المئومن حتی یکون اخف علیہ من صلاۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا "اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے وہ دن مومن کے لیے بہت ہلکا اور آسان ہوگا، یہاں تک کہ وہ ایک واجب نماز سے بھی آسان ہوگا، جو وہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا"۔ ؎ 4 بعد والی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "صبر جمیل اختیار کر اور ان کے استہزاء ، تکزیب اور آزاد کے مقابلہ میں صبر سے کام لے (فاصبرًاجمیلاً)"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "فرشتوں کے عروج " کی اور بھی تفسیر بیان کی گئی ہیں جن میں سے کوئی بھی مناسب نظر نہیں آتی ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے نزول صعود کا زمانہ ہے جو آغاز دنیا سے لےکر اس کے اختتام تک ہے اور وہ مجموعی طور پر پچاس ہزار سال ہے، جو دنیا کی تمام عمر ہے لیکن بعد والی آیات اچھی طرح بتاتی ہیں کہ گفتگو قیامت کے دن کے بارے میں ہے نہ کے دنیا کے متعلق (غور کیجئے)۔ ؎ 2 تفسیر نمونہ جلد 12 ص 250 تا 253 کی طرف رجوع کریں۔ ؎ 3 ہی حدیث املی شیخ میں امیر المومین علیؑ سے نقل ہوئی ہے ، بمطابق نقل ہوئی نورالثقلین جلد 5 ص 413 ؎ 4 "مجمع البیان" جلد 10 ص 353 ، اور "قرطبی" جلد 10 ص 61 تا 67 "صبر جمیل" کا معنی خوبصورت اور قابلِ توجہ صبروشکیبائی ہے اور وہ وہی صبرواستقامت ہے جس میں دوام و استمرار ہو ، جس میں یاس و ناامیدی نہ ہو، اور وہ بےتابی ، جزع وفزع و شکوہ اور آہ نل سے تو ام نہ ہو، اس صورت کےعلاوہ وہ جمیل نہیں ہے۔ ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے : "کیونکہ وہ اس قسم کے دن کو بعید اور دور سمجھتے ہیں"(التھم یروتہ بعیدًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــ اور ہم اسے قریب اور نزدیک سمجھتے ہیں (وتراہ قریباً)۔ وہ بالکل باورہی نہیں کرتے کہ اس قسم کا دن بھی ہوگا جس میں تمام مخلوق کا حساب لیا جائے گا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی گفتار و رفتار کا بھی محاسبہ ہوگا۔ وہ بھی ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال لاطونی ہوگا لیکن حقیقت میں ایسے لوگوں نے خدا کو پہچانا نہیں اور وہ اس کی قدرت میں شک اور ترود رکھتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں : کیا یہ ممکن ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں اور وہ مٹی جس کا ہر ذرہ مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو جائے گا، دوبارہ جمع ہوکر زندگی کا لباس زیب تن کرلیں گی -(جیسا کہ قرآن نے اپنی آیات میں یہ تعبیریں ان سے نقل کی ہیں)۔ اس کے علاوہ کیا پچاس ہزار سال کا دن ممکن ہے ؟ ! ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا علم یہ کہتا ہے کہ آسمانی کرات میں ، دن کی مقدار ہر کُرہ کی دوسری کُرہ سے مختلف ہے، کینکہ وہ اس زمانہ کی مقدار کی تابع ہوتی ہے ، جس میں وہ کُرہ اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے، اس لیے چاند کے کُرہ کا دن زمین کے دو ہفتوں کے برابر ہے، یہان تک کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ زمین زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اپنی وضعی حرکت کی سرعت اور تیزی میں کمی کردے اور اس کے ایک دن کی مقدار ایک ماہ یا ایک سال یا کئی سوسال کے برابر ہوجائے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قیامت کا دن اس طرح ہوگا ، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کے بعد دن، اس دنیا کے اندازوں کے ساتھ بھی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "صبر جمیل" کے سلسلہ میں ہم نے تفسیر نمونہ (جلد 5) میں یعقوب و یوسف کی داستان میں تفصیل سے بیان کیا ہے.