سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ
An asker asked for a punishment sure to befall
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 70:1
[Pooya/Ali Commentary 70:1] Abu Ishaq Thalabi, in Tafsir al Kabir, while commenting on al Ma-arij has recorded from two authentic sources the tradition that on the day of Ghadir Khum the Holy Prophet summoned the people and said: "Ali is the mawla of whom I am mawla" (see commentary of Ma-idah: 67). The news quickly spread over all urban and rural areas. When Harith ibn Numan al-Fahri came to know of it he rode his she-camel and came to Madina to see the Holy Prophet. When he reached his destination he made the she-camel sit, alighted from it, approached the Holy Prophet and said: "You commanded us to testify that there is no god but Allah and that you are the messenger of Allah. We obeyed you. You ordered us to say prayers five times a day and we obeyed. You directed us to pay zakat and we obeyed. You ordered us to observe fasts during Ramadan and we obeyed. Then you commanded us to perform pilgrimage to kabah and we obeyed. But you are not satisfied with all this and you raised your cousin by the hand and imposed him upon us as our master by saying: 'Ali is the mawla of whom I am mawla' Is this imposition from you or from Allah?" The Holy Prophet said: "By Allah who is the only God, this is from Allah, the mighty, the glorious." On hearing this Harith turned back and proceeded towards his she-camel saying: "O Allah, if what Muhammad says is true then fling on us a stone from the sky and make us suffer severe pain and torture." He had not yet reached his she-camel when a stone came at him and struck him on his head, penetrated into his body and passed out through his anus leaving him dead. It was on this occasion that Allah revealed these verses of al Ma-arij. This is a literal translation of the tradition recorded by Thalabi. Many eminent Muslim traditionists have copied this tradition from Thalabi, e.g., Shablanji in his book Nur al Absar on page 11; it is also mentioned in Sirat al Halabiyah, vol. 2, page 214; and Mustadrak, vol. 2, page 502. Verse 32 of Anfal refers to the disbelievers who denied the Quran, and these verses refer to the hypocrite who refused to accept Ali as his mawla. On both occasions immediate punishment was brought upon them. Dhil ma-arij means the lord of the ways (or means) of ascent. Allah has given the privilege to angels and men, as man is gifted with the ruh from Allah according to Hijr: 29, to reach "the nearness" of Allah by developing divine attributes. Aqa Mahdi Puya says: The disbelievers, as stated in the commentary of Anfal: 32, and a hypocrite as stated in these verses, demanded to experience torment from Allah, which on both occasions seized them. According to Quran punishment to the unjust, sooner or later, in some stage or other, in the course of the progress of the worldly material life to spiritual hereafter is inevitable, as stated in Waqi-ah and Haqqah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 70:1-35
1. Worldly wealth is the devil’s bait and those whose minds feed upon riches, recede in general from real happiness in proportion as their stores increase, as when the moon is full when most distant from the sun. 2. Seek not proud wealth but such as you may get justly, use soberly, distribute cheerfully and live contendtedly. It can only be a blessing, being to sustain and extend knowledge, virtue and religion know their use. Those who lose them by accident or fraud know their vanity, and those who experience difficulties and dangers of preserving them knowtheir perplexities. He who will not permit his wealth to do so any good to others while he is living, prevents it from doing good to others while he is living, prevents it from doing any good to himself when he is dead, and by an egotism which is suicidal and has a double edge, cuts himself off from the truest pleasure and the highest happiness hereafter. 3. Let us not envy some men their accumulated riches. Their burden would be too heavy for us. We could not sacrifice, as they do, health, quiet, honour, and conscience to obtain them. 4. If you desire to purchase honour with your wealth, consider first how wrath became yours. If your labour got it, let your wiskdom keep it. If oppression found it, let repentence resolve it. If your parent left it let your virtues deserve it. So shall your honour be safer, better and cheeper.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 70:1-3
فوری عذاب
البتہ بعض مفسرین و محدثین جو علی کے فضائل کو خوشی سے قبول نہیں کرتے، انھوں نے اس شان نزول پر اعتراضات کیے ہیں جن کی طرف انشاءاللہ بحث کے آخر میں اشارہ ہوگا۔ تفسیر فوری عزاب سورہ معارج یہاں سے شروع ہوتی ہے: "ایک سوال کرنے والے نے عزاب کا تقاضا کیا جو واقع ہوگیا(سال سائل بعذاب واقع)"۔ یہ سوال کرنے والا جیسا کہ ہم نے شان نزول میں بیان کیا ہے "نعمانبن حارث" یا "نضربن حارث" جو علی کے "عزیر خم" کے مقام پر خلافت و ولایت پر منصوب ہونے ، اور اس خبر کے تمام شہروں میں منتشر ہونے پر بہت غصہ میں بھرا ہوا تھا، پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور کہا: کیا یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے ؟ پیغمبرؐ نے صراحت کے ساتھ فرمایا: یہ بات خدا کی طرف سے ہے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ پریشان ہو گیا اور اس نے کہا: خداوندا! اگر یہ بات حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر نازل فرما ، اسی وقت ایک پتھر گرا اور اس کے سر پر لگا اور اسے مار ڈالا۔ ؎1 اس تفسیر کے مقابلہ میں ایک اور تفسیر بھی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے پیغمبرؐ سے سوال کیا کہ یہ عزاب جو آپ کہتے ہیں کس پر واقع ہوگا تو بعد والی آیت جواب دیتی ہے کہ کافروں کے لیے ہوگا۔ اور تیسری تفسیر کے مطابق یہ سوال کرنے والے خود پیغمبر ہیں جنھوں نے کفار کے لیے عزاب کا تقاضا کیا اور وہ نازل ہوا۔ لیکن پہلی تفسیر، علاوہ اس کے کہ خود آیت کے ساتھ سازگار ہے، ان متعدد روایات پر منطبق بھی ہے جو شان نزول میں وارد ہوئی ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ عزاب کافروں کے لیے مخصوص ہے اور کوئی بھی اسے نہیں روک سکتا"(للکافرین لیس لہ دافع)- ؎2 بعد والی آیت میں اس ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کی طرف سے یہ عزاب ہے، کہتا ہے: "یہ عزاب اس خدا کی طرف ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اس تفسیر کے مطابق "بعذاب واقع" میں "باء" زائد اور تاکید کے لیے ہے اور بعض کے نظریہ کے مطابق "عن" کے کے معنی میں ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق ہے (اس پر توجہ رہے کہ اگر سوال، تقاضا اور درخواست کے معنی میں ہو تو پھر دو مفعولوں کی طرف معتدی ہگا اور اگر "استخبار" کے معنی میں ہو تو پھر اس کا دوسرا مفعول یقیناً "ؑن" کے ساتھ ہوگا) ؎2 "واقع"عزاب کی صفت ہے اور"للکافرین" دگسری صفت ہے اور "لیس لہ دفع" تیسری صفت۔ یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ"للکافرین""عزاب" سے متعلق ہو اور اگر"لام""علی" کے معنی میں ہو تو پھر "واقع" سے متعلق ہوگا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سے ہے، جو ان آسمانوں کا مالک ہے جم کیظرف فرشتے صعود کرتے ہیں (من اللہ ذی المعارج)- "معارج""معرج" کی جمع ہے، جو سیڑھی یا اس جگہ کے معنی میں ہے جہاں سے صعود کرتے اور اوپر جاتے ہیں اور چونکہ خدا نے فرشتوں کے لیے مختلف مقامات قرار دیئے ہیں کہ وہ مراتب کے لحاظ سے قرب خدا کی طرف پیش رفت کرتے ہیں، لہزا خدا کی "ذی المعارج" کے ساتھ توصیف کی گئی ہے۔ ہاں فرشتے ہی کافروں اور مجرموں کے عزاب پر مامور ہوتے ہیں اور وہ بھی فرشتے ہی تھے جو ابراہیم خلیل پر نازل ہوئے تھے اور انھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم قوم لوط کی بربادی پر مامور ہوئے ہیں اور صبح کے وقت انھوں نے اس آلودہ جرائم قوم کے شہروں کو تہ و بالا کردیا ؎1 وہی فرشتے دوسرے مجرموں پر عزاب نازل کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے "معارج" کی فضائل و مواہب الہیہ کے معنی میں اور بعض نے "فرشتوں" کے بارے میں تفسیر کی ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب اور اس لفظ کے لغوی معنی کے ساتھ زیادہ سازگار ہے،
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 70:1-3
بہانہ تراشوں کے بیہودہ اعتراضات
ایک نکتہ بہانہ تراشوں کے بے ہودہ اعتراضات عام طور پر وہ موارد، جن میں آیات و روایات ، امیرالمومنین علیؑ کےمخصوص فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ان میں بعض لوگ اتنا اصرار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے مطلب کو اہمیت نہ دی جائے، یا تو اسے نظرانداز کردیا جائےیااس کی کوئی انحرافی توجیہ کر دی جائے اور ایک خاص وسوے اور باریکی کے کے ساتھ مسئلہ کو بیان کیا جائے ، حالانکہ اگر یہ فضائل دوسرے لوگوں کے ہوتے تو دریادلی اور سہولت کے ساتھ انھیں قبول کرتے۔ اس بات کا زندہ ثبوت اور واضح نمونہ وہ سات اعتراضات یہں جو "ابن تیمیہ" نے "کتاب منہاج السنہ" میں ان احادیث کے بارے کیے ہیں جو اوپر والی آیات کے شان نزول میں آئی ہیں، جنھیں ہم اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ 1- عزیر کا واقعہ،پیغمبر کے حجۃالوداع سے لوٹنے کے بعد یعنی سن دس ہجری میں واقع ہوا جبکہ سُورۃ مکی سورتوں سے ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہیں ۔ جواب: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں بہت سے سُورے ایسے ہیں جو مکی کے نام سے موسوم ہیں جبکہ ان کی بعض آیات مفسرین کی تصریحکے مطابق مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس برعکس کچھ سُورتیں ایسی ہیں جو مدنی کے نام سے موسوم ہیں۔ لیکن ان کی بعض آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔ 2- اس حدیث میآں آیا ہے کہ "حارث بن نعمان" پیغمبر کی خدمت میں "ابطح" میں پہنچا اور ہم جانتےہیں کہ "ابطح" ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 تفسیِرنمونہ جلد 6 ص 202 تا 210 کی طرف رجوع کریں۔ مکہ میں ایک درہ ہے اور یہ امر واقعہ غدیر کےبعد آیت کے نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ جؤاب:- اوؔلاً: "ابطح" کی تعبیر صرف بعض روایات میں ہے نہ کہ سب میں، ثانیاً: "ابطح" یا "بطحاء" ہر اس ریگزار زمین کے معنی میں ہے جس میں سیلاب کا پانی بہتا ہو اور اتفاقاً مدینہ کی سرزمین میں ایسے علاقے ماجود ہیں جنھیں "ابطح" یا "بطحاء" کہا جاتا ہے اور اشعار عرب اور ورایات میں ان کی طرف بہت زیادہ اشارہ ہوا ہے۔ 3- آیہ (واذقالواللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء) (انفال ـــ32) مسلمہ طور پر جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اور یہ واقعہ غدیر سے کئی سال پہلے ہے۔ جواب: کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ مزکورہ آیت کا شان نزول واقعہ غدیر ہے، بلکہ بحث آیہ (سال سائل بعذاب واقع) کے بارے میں ہے۔ لیکن سورہ انفال کی آیہ 32 ایک ایسی چیز ہے جس حارث بن نعمان نے اپنے کلام میں استفادہ کیا ہے اور اس بات کا شانِ نزول کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے، لیکن افراطی تعصبات کے سبب سے، انسان ایسے واضح مطلب سے غافل ہوجاتا ہے۔ 4- قرآن مجید کہتا ہے: (وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم و ھم یستغفرون)۔ خدا انھیں سزان نہیں کرے گا جبکہ تم ان میں موجود ہو اورخدا انھیں عزاب نیہں کرے گا ۔ درآنحالیکہ دہ استغفار کرتے ہیں۔ (انفال ــــ 33)۔ یہ آیت کہتی ہےکہ : پیغمبر کی موجودگی میں ہرگز کوئی عزاب نازل نہیں ہوگا۔ جواب: وہ ب ات قابل قبول ہے، یہ ہے کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے عمومی اور سب لوگوں کے لیے عزاب نہیں تھا۔ لیکن خصوصی اور شخصی عزاب باہا بعض لوگوں پر نازل ہوئے، جیسا کہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ کئی افراد مثلاً "ابوزمعہ" و "مالک بن طلالہ" و "حکم بن ابی العاص"وغیرہ پیغمبر کی نفرین سے یا اس کے بغیر عزاب میں گرفتار ہوئے۔ ملادہ ازیں اوپر والی آیات کی اور تفاسیر بھی ہیں ، جن کے مطابق اس مقام پر اس آیت سئ استدلال ممکن نہیں (تفسیر نمونہ جلد 7 ص 154 میں آیہ 133 انفال کے ذیل میں رجوع کیا جائے)۔ 5- اگر اس قسم کا شان نزول صحیح ہوتا تو اصحاب فیل کی طرح مشہور ہوتا۔ جواب:- یہ شان نزول بقدر کافی مشہور و معروف ہے اور ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ کم ازکم تیس کتب تفسیر و حدیث میں آیا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ ایک شخصی واقعہ ، اصحاب فیل جیسے عمومی واقع کی طرح مشہور ہو، کیونکہ وہ داستان ایک عمومی پہلو رکھتی تھی سارا مکہ اس کی لپیٹ میں تھا اور ایک بہت بڑا لشکر اس کے اندر نابود ہوا تھا۔ لیکن "حارث بن نعمان" کا واقعہ صرف ایک ہی شخص کے ساتھ مربوط تھا۔ 6- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ "حارث بن نعمان" کو صبانی اسلام قبول تھے، تو کسی مسلمان کا عصر پیغمبر میں ، اس قسم عزاب میں گرفتار ہوجانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ جواب:- یہ اعتراض بھی شدید تعصب کی پیداوار ہے کیونکہ اوپر والی احادیث اچھی طرح سے بتاتی ہیں کہ وہ نہ صرف پیغمبرؐ کے ارشاد کو قبول نہیں کرتا تھا بلکہ خدا پر بھی معترض تھا کہ اس نے اس قسم کا حکم علیؑ کے بارے میں کیوں دیا، اور یہ کفروارتداد کا شدید ترین مرتبہ شمار ہوتا ہے۔ 7- "استیعاب" جیسی مشہور کتاب، جن میں "صحابہ" کئ نام آئے ہیں "حارث بن ںعمان" کا نام نہیں ہے۔ جواب:- اس کتاب میں یا اسی جیسی دوسری کتابوں میں صحابہ کے جتنے نام آئے ہیں وہ صحابہ کے صرف ایک حصہ کی تعداد کو ظاہر کر رہے ہیں۔ مثلاً کتاب "اسداالغایہ" میں جو ایک اہم ترین کتاب ہے جس نے اصحاب پیغمبرؐ کو شمار کیا ہے صرف سات ہزار پانچ سو چون(7554) افراد کے نام آئے ہیں- حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف حجتہ الوداع میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد بارگاہ پیغمبر میں حاضر تھے۔ اس بناء پراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے اصحاب پیغمبر کے نام ان کتب میں نہیں آئے۔ ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اوپر والے جوابات کے سلسلے میں ، اور ہر ایک کے تاریخی یا روایتی شواہد کے بارے میں کتاب نفیس "الغدیر" کی جلد1 ص 247 تا 266 کا مطالعہ فرمائیں۔