وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
We did not send a prophet to any town without visiting its people with stress and distress so that they might entreat [for Allah’s forgiveness].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:94
[Pooya/Ali Commentary 7:94] The prophets of Allah were sent to eradicate corruption and evil-a natural consequence of polytheism. Allah gave enough rope to the people, but neither affluence nor suffering taught them patience, humility, gratitude and kindness to others because they belied the signs of Allah and rejected belief and guidance preached to them by the messengers of Allah. They thought such things happened in all ages, but they were found napping and helpless when wrath of Allah seized them in the midst of their obstinate infidelity. The prophets who were rejected by their own people stood firm on Allah's message, and were able to convince a few to believe in Allah and His message. Those who had heard the message and rejected it found it more difficult to retrace their steps. Evil had blocked the channels of Allah's grace to them. With each step they fell deeper and deeper into the mire. It must be noted that while all the prophets, having tried their best to reform their people, left them to their fate when nothing positive could be done, but the Holy Prophet, as the "mercy unto the worlds", notwithstanding a more adamant and clever opposition, always felt deeply concerned about the human race. "You may perhaps wear out your heart because they do not come to belief" says Allah to him in ash-Shu-ara: 3. As said in al Baqarah: 7 (see its commentary) Allah seals up the hearts of those who do not believe.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:94-95
اگر بار بار کی تنبیہ کار گر نہ ہو
یہ آیات، بعض پیغمبروں کی سرگزشت، جیسے حضرت نوح (علیه السلام)، حضرت ہود(علیه السلام)، حضرتب صالح (علیه السلام)، حضرت لوط (علیه السلام) اور حضرت شعیب (علیه السلام) کے بعداور حضرت موسیٰ (علیه السلام) بن عمران کی سرگزشت بیان کرنے پہلے آئی ہے ۔ ان میں چند ایسے اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے قصوں میں پائے جاتے ہیں، یہ ایسے اصول ہیں کہ اگر ہم ان کا باغور مطالعہ کریں تو ایسے حقائق آشکار ہوں گے جن کا براہ راست تعلق ہم سب سے ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے کسی شہر اور آبادی میں پیغمبر نہیں بھیجا الّایہ کہ وہاں کے لوگوں کو تکلیفوں اور بلاؤں میں گرفتار کیا تاکہ تھوڑا بیدار ہوں، اور اپنے طغیان وسرکشی سے ہاتھ اٹھا لیں اور اس کی طرف رجوع کریں جو ہر طرح کی نعمتوں کا سرچشمہ ہے (وَمَا اٴَرْسَلْنَا فِی قَرْیَةٍ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ اٴَخَذْنَا اٴَھْلَھَا بِالْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُونَ) ۔ اور یہ اس لئے تھا کہ انسان کی طبیعت ہے کہ جب تک وہ نازونعمت میں رہتا ہے تو اس میں گوش شنوا اور حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، مگر جس وقت وہ گرداب بلا میں گرفتار ہوجاتا ہے اور بے اختیار یاد خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اس وقت اس کا دل بھی نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتاہے لیکن یہ بیداری جو عام طور پر سب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے، بہت سے افراد میں زود گزر اور ناپائیدار ہوتا ہے، کیونکہ جونہی مشکلات برطرف ہوجاتے ہیں وہ دوبارہ خواب غفلت میں غرق ہوجاتے ہیں، جب کہ بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کے لئے یہ مشکلات ایک موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان مصائب کے بعد ان کی رفتاروکردار کا رخ بدل جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے حق کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، گذشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا شمار پہلے طبقہ میں تھا ۔ اس بنا پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: جب ان لوگوں نے حوادث روزگار کے تھپیڑوں میں اور مشکلات کے گردابوں میں بھی اپنا راستہ نہ بدلا اور اسی طرح گمراہی میں پڑے رہے توہم نے ان پر سے مشکلات کو ہٹا لیا اور اس کی جگہ فراخی اور نعمتیں عطا کیں یہاں تک کہ دوبارہ ان کی زندگی پررونق ہوگئی اور ان کی زندگی میں جوکمیاں تھیں دور ہوگئیں، مال دولت اور افرادی قوت میں اضافہ ہوتا گیا ( ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّی عَفَوا) ۔ ”عفوا“ مادہ ”عفو“ سے ہے جو کبھی تو کثرت وزیادتی کے معنی میں آتا ہے کبھی ترک کرنے اور کسی چیز سے روگردانی کرنے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی کسی چیز کے آثار محو کرنے کے لئے آتا ہے لیکن بعید نہیں ہے کہ سب کی اصل ترک کرنا ہو، اب یہ ترک کرنا کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ کسی چیز کو ترک کردیا جائے تاکہ وہ توالد وتناسل کرے اور بڑھ جائے اور کبھی ترک کرنا یہ ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے ان کی نگہداشت بھی نہ کی جائے، یہاں تک کہ وہ تدریجاً محوونابود ہوجائے اس بنا پر یہ لفظ افزائش یا نابودی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ زیر بحث آیت میں بھی مفسرین نے تین احتمال ذکر کئے ہیں: پہلا : یہ کہ ہم نے ان کو مہلت دی تاکہ وہ ”افزائش“ پاجائیں اور سختی کے زمانے میں جو نقصانات اٹھا چکے تھے ان کی تلافی ہوجائے ۔ دوسرا: یہ کہ ہم نے اس طرح ان کو نعمتیں دیں کہ وہ مغرور ہوگئے اورخدا کو انھوں نے بھلا دیا اور اس کے شکر کو ”ترک “ کردیا ۔ تیسرا: یہ کہ ہم نے نعمتیں دیں تاکہ وہ ان کے ذریعے نکبت وافلاس کے آثار ”محو“ کردیں اگر چہ ان تفسیروں کا مفہوم آپس میں مختلف ہے لیکن نتیجہ کے لحاظ سے ان میں چنداں اختلاف نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ جب ان لوگوں سے مشکلات برطرف ہوگئی تو بجائے اس کے کہ اس حقیقت کی جانب توجہ کریں کہ ”نعمت“ و ”نقمت“سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس طرف رجوع کریں، خود اپنے کو دھوکا دینے کے لئے اس طرح باتیں کرنے لگے کہ اگر ہمیں مصائب وآلام اورمشکلات پیش آئی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے آباوٴ واجداد بھی ایسی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں دنیا میں اس طرح کی نشیب وفراز ہر ایک کو پیش آتے ہیں، سختیاں اور تکلیفیں ہر ایک کو پیش آتی ہی رہتی ہیں جو زود گزر ہوتی ہیں ( وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَائَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ ) آخر میں قرآن کہتا ہے:جس وقت بات یہاں تک پہنچی کہ انھوں نے تربیت کے مختلف طریقوں میں سے کسی سے کوئی اثر نہ لیا بلکہ روزبرو ز ان کے غرور واستکبار میں اضافہ ہوتا گیا تو ”ناگہاں ہم نے ان کو اپنی سزا کے پنجے میں جکڑ لیا، اس حالت میں کہ ان کو پہلے سے اس کا کائی سان وگمان نہ تھا “ اسی لئے یہ سزا ان کے لئے بہت زیادہ دردناک ثابت ہوئی(فاخذْنَاھُمْ بَغْتَةً وَھُمْ لَایَشْعُرُون) ۔ ۹۶ وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ وَلَکِنْ کَذَّبُوا فَاٴَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون۔ ۹۷ اٴَفَاٴَمِنَ اٴَھْلُ الْقُریٰ اٴَنْ یَاٴْتِیَھُمْ بَاٴْسُنَا بَیَاتًا وَھُمْ نَائِمُونَ ۔ ۹۸اٴَوَاٴَمِنَ اٴَھْلُ الْقُریٰ اٴَنْ یَاٴْتِیَھُمْ بَاٴْسُنَا ضُحًی وَھُمْ یَلْعَبُونَ ۔ ۹۹اٴَفَاٴَمِنُوا مَکْرَ اللهِ فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ۔ ۱۰۰ اٴَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِینَ یَرِثُونَ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِ اٴَھْلِھَا اٴَنْ لَوْ نَشَاءُ اٴَصَبْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ وَنَطْبَعُ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لَایَسْمَعُونَ۔ ترجمہ ۹۶۔اگر وہ لوگ جو شہروں اور آبادی میں رہتے ہیں خدا پر ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیں گے لیکن انھو ں نے (حقائق کی) تکذیب کی تو ہم نے بھی انھیں ان کے اعمال کی سزا دی ۔ ۹۷۔کیا ان آبادیوں کے رہنے والے اس بات سے مطمئن و محفوظ ہیں کہ ہمارا عذاب رات کے وقت ان پر نازل ہوجائے جب کہ وہ (میٹھی) نید کے مزے لے رہے ہوں؟۔ ۹۸۔کیا ان آبادیوں کے رہنے والے اس بات سے مطمئن و محفوظ ہیں کہ ہمارا عذاب دن کے وقت ان پر نازل ہوجائے جب کہ وہ کھیل میں مشغول ہوں ۔ ۹۹۔جب کہ وہ اللہ کی تدبیر سے غافل ہیں حالانکہ اللہ کی تدبیر سے سوائے خسارہ اٹھانے والوں کے اور کوئی مطمئن نہیں ہوتا ۔ ۱۰۰۔کیا وہ لوگ جوپہلے لوگوں کے بعد روئے زمین کے وارث ہوئے ہیں، اس بات سے عبرت نہیں لیتے کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی (اگلوں کی طرح) ان کے گناہوں کی پاداش میں سزا دیں (بات یہ ہے ) ہم ان کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیںتاکہ وہ (حق کی آوازکو) نہ سن سکیں ۔