وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
There will be a veil between them. And on the Elevations will be certain men who recognize each of them by their mark. They will call out to the inhabitants of paradise, ‘Peace be to you!’ (They will not have entered it, though they would be eager to do so.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:46
[Pooya/Ali Commentary 7:46] The men of exalted spiritual honour (e.g. the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt identified in Ahzab: 33) shall occupy the heights (araf) overlooking those described in verses 36 to 41 and those mentioned in verses 42 and 43, waiting in two separate areas divided by a partition, before going into hell or paradise respectively. The men on the heights will recognise them all by their marks. Aqa Mahdi Puya says: These verses clearly establish the fact that the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt have the permission of Allah to intercede on behalf of those whom they recognise as their true followers. Refer to the commentary of al Baqarah: 48 Imam Ali said: What you beget is buried under the earth. What you build will be demolished. What you do is recorded and will be referred to (as material evidence) on the day of reckoning.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:46-49
اعراف، جنت کی طرف ایک اہم گزرگاہ
پچھلی آیا ت میں دوزخیوں اور جنتیوں کی مختصر سرگزشت بیان کرنے کے بعد ان آیا میں ”اعراف‘ کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ ”اعراف“ جنت اور دوزخ کے درمیان کا وہ علاقہ ہے جو دونوں مقاموں کے درمیان حدِفاصل کا کام کرتا ہے، اس مقام کی خصوصیات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ سب سے پہلے جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان جو پردہ ہوگا اس کا ذکر کیا گیا ہے، فرماتا ہے: ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک پردہ ہوگا(وَبَیْنَھُمَا حِجَابٌ) ۔ بعد والی آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حجاب ”اعراف“ ہی ہے جو ایک بلند جگہ ہوگی ان دونوں گروہوں کے درمیان، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں گے، لیکن یہ جگہ ایک دوسرے کی آواز سننے سے مانع نہ ہوگی جیسا کہ آیات میں گذرا ہے، کیونکہ ہم نے بہت دیکھا ہے کہ ہمسایہ کے لوگ ایک دوسرے سے پس دیوار بات کرلیتے ہیں اور ایک دوسرے کا حال دریافت کرتے ہیں، جبکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے، البتہ وہ افراد جو اعراف کے اوپر ہیں یعنی اس بلند مانع کے اوپر والے حصّہ پر واقع ہیں، وہ دونوں گروہوں کودیکھ سکتے ہیں (اچھی طرح سے غور کریں) اگرچہ بعض آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض اہلِ جنت کو اتنا موقع ملے گا وہ گاہ بگاہ اپنے مقام سے اپنا سر باہر نکال دوزخیوں کو دیکھیں گے (جیسا کہ سورہٴ صافات کی آیت ۵۵ میں ہے) لیکن اس طرح کا استثناء دوزخ وجنت کی اصلی وضعیت کے منافی نہیں ہے ، اوپر کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں جنت اور دوزخ کی اصلی وضعیت کو بیان کیا گیا ہے اگرچہ یہ قانون استثناء پذیر ہے، ممکن ہے کہ بعض حالات میں بعض بہشتی افراد دوزخیوں کو دیکھ سکیں ۔ ”اعراف“ کی کیفیت بیان کرنے سے پہلے جو بات تاکیدی طور پر بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ روز قیامت اور جہاں آخرت کے متعلق جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جس طرح کی تعبیریں استعمال کی گئی ہیں ان میںاس کی صلاحیّت نہیں ہے کہ وہ حقائقِ اُخروی کا پورے طور پر اور تمام خصوصیات کے ساتھ نقشہ کھینچ سکیں، اس لئے بعض اوقات ان الفاظ میں صرف تشبیہ اور مثال کا رنگ ہوتا ہے اور کبھی اس کا صرف ایک سایہ اور خاکہ پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، کیونکہ آخرت کے جہان کی زندگی بہت زیادہ وسیع ہے، لہٰذا جو الفاظ ومعانی اس دُنیا کے لئے وضع کئے گئے ہیں اگر ان سے جہانِ آخرت کے حقائق کی ترجمانی نہ ہو تو یہ کوئی جائے تعجّب نہ ہوگی ۔ بعد ازان قرآن بیان کرتا ہے کہ: اعراف پر کچھ مرد کھڑے ہوں گے جو دوزخ والوں اور جنت والوں میں سے ہر ایک کو ان کے ٹھکانوں میں دیکھ رہے ہوں گے اور ان کی علامتوں سے انھیں پہچانیں گے (وَعَلَی الْاٴَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّا بِسِیمَاھُمْ) ۔ ”اعراف“ لُغت میں جمع ہے ”عرف“ (بروزن ”گُفت“)کی جس کے معنی اونچی کے ہیں، اسی وجہ سے گھوڑے کی گردن کے بالوں کو اور مرغے کی گردن کے پروں کو بھی ”عرف الفرس“ یا ”عرف الدیک“ کہتے ہیں کیونکہ یہ بال وپَر ان کے جسم کی اونچی جگہ پر ہوتے ہیں (سرزمین اعراف کی خصوصیات کے بارے میں اس آیت کی تفسیر کے بعد روشنی ڈالی جائے گی) ۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ ”جو مرد اعراف پر کھڑے ہوں گے وہ اہلِ بہشت کو ندا کریں اور کہیں گے کہ تم پر سلام ہو لیکن وہ خود جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے، اگرچہ ان کا دل بہت چاہتا ہوگا (وَنَادَوْا اٴَصْحَابَ الْجَنَّةِ اٴَنْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوھَا وَھُمْ یَطْمَعُونَ) ۔ لیکن جس وقت وہ دوسری طرف نظرڈالیں گے اور دوزخیوں کو دوزخ کے اندر دیکھیں گے تو خدا کی بارگاہ میں التماس کریں گے کہ پروردگارا! ہم کو ستمگاروں کی جماعت میںقرار نہ دینا (وَإِذَا صُرِفَتْ اٴَبْصَارُھُمْ تِلْقَاءَ اٴَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)(۱) ۔ یہاں پر یہ بات قابلِ توجّہ ہے کہ دوزخیوںکے دیکھنے کے متعلق مذکورہ بالا آیت میں ”وَإِذَا صُرِفَتْ اٴَبْصَارُھُمْ “ کا جملہ آیا ہے، یعنی جب ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف پلٹائی جائیں گی، یہ فی الحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اعراف والوں کو دوزخیوں کے دیکھنے سے نفرت ہوگی اور انھیں ایک طرح کی مجبوری کی بناپر دیکھیں گے ۔ اس کے بعد کی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: اصحابِ اعراف بعض دوزخیوں کو ان کے چہرے مہرے سے لگاکر پہچان کر انھیں پکاریں گے اور انھیں اپنی ملامت اور سرزنش کا نشانہ بنائیں کہ آخر تم نے دیکھا کہ دُنیا میں تمھارے مال جمع کرنے، افرادی قوت جمع کرنے اور تکبّر کے باعث قبول حق سے گریز کرنے کا کیا نتیجہ نکلا، وہ سب مال کہاں گیا اور وہ لوگ کیا ہوئے جو تمھارے چاروں طرف اکھٹے تھے اور جو تکبّر اور خود رستی تم نے اختیار کی تھی اس سے تمھیں سوائے جہنم کے کیا حاصل ہُوا (وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ الْاٴَعْرَافِ رِجَالًا یَعْرِفُونَھُمْ بِسِیمَاھُمْ قَالُوا مَا اٴَغْنَی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ) ۔ دوبارہ اسی ملامت وسرزنش کے لہجے میں جبکہ وہ ان ضعیف الحال موٴمنین کی طرف اشارہ کررہے ہوں گے جو اعراف پر ہوں گے، یہ کہیں گے: آیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسم کھاتے تھے کہ خدا ان پر کبھی رحمت نہ کرے گا (اٴَہَؤُلَاءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمْتُمْ لَایَنَالُھُمْ اللهُ بِرَحْمَةٍ) ۔ آخرکار الله کی رحمت ان لوگوں کے بھی شاملِ حال ہوگی اور ان سے خطاب ہوگا، جنت میں چلے جاؤ نہ تمھارے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہاں تمھیںکوئی غم واندوہ ہوگا (ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَاخَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَلَااٴَنْتُمْ تَحْزَنُونَ) ۔ جو کچھ ہم نے کہا اس سے یہ معلوم ہوا کہ ضعیف الحال موٴمنین سے مراد وہ افراد ہیں جو ایمان رکھتے تھے اورنیک اعمال بھی بجالاتے تھے، لیکن بعض گناہوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے دشمنوں کی جانب سے ہمیشہ ان کی تحقیر وتوہین ہوا کرتی تھی اور وہ ان کو دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ ایسے لوگ (بھلا جنت میں کیا جائیں گے اور) رحمتِ الٰہی کے سایہ میں کیسے جائیں گے؛ لیکن آخرکار اپنی روح ایمانی اور نیکیوں کی وجہ سے الله کی رحمت ان کے شامل حال ہوجائے گی اور ان کا انجام بخیر ہوگا ۔ ۱۔ بعض مفسرین اور اہل ِ ادب کے نزدیک ”تلقاء“ در اصل مصدر ہے اور مقابلہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، لیکن بعد میں طرف مکان کے معنی بھی استعمال کیا جانے لگا، یعنی مقابلہ کی جگہ اور سامنے کی سمت۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:46-49
اصحاب اعراف کون لوگ ہیں؟
جیسا کہ ہم نے سابقاً کہا کہ ”اعراف“ نمایاں اور اٹھی ہوئی زمین کو کہتے ہیں، اگر ان قرائن پر نظر کی جائے جو آیہ مذکورہ بالا میں پائے جاتے ہیں، نیز روایات کا مطالعہ کیا جائے تو ان سے پتہ چلتا ہے کہ خوش قسمتی اور بدقسمتی کے دو مراکز (جنت ودوزخ) کے درمیان یہ ایک اونچا مقام ہوگا جو دونوں مقاموں کے درمیان مانع، فاصل اور پردے کا کام دے گا، اس کی وجہ سے جنت ودوزخ کے درمیان فاصلہ ہوگا، اس کا نام ”اعراف“ ہے جس پر سے یہ لوگ دونوں طرف کے افراد کا مشاہدہ کریں گے اور ان کے نورانی یا سیاہ چہروں کی وجہ سے انھیں پہچان لیں گے ۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ ”اصحاب اعراف“ کون لوگ ہیں اور اس مقام پر کن افراد کو جگہ ملے گی؟ اوپر کی چار آیتوں کو اگر پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ان افراد کے لئے دو طرح کی مختلف ومتضاد صفتیں ذکر کی گئی ہیں: پہلی اور دوسری آیت میں اعراف والوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ انھیں آرزو ہے کہ جنت میں جائیں لیکن کچھ مواقع ایسے درپیش ہیں جن کی وجہ سے وہ جنت میں نہیں جاسکتے جب وہ بہشت والوں کودیکھیں گے تو انھیں سلام کریں گے اور اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی ان کے ساتھ ہوتے لیکن وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتے اور جب ان کی نظر دوزخیوں پر پڑے گی تو ان کے دردناک انجام کو دیکھ کر وحشت زدہ ہوں گے اور خدا سے پناہ مانگیں گے ۔ لیکن تیسری اور چوتھی آیت سے پتہ چلتا ہے وہ بااثر اور قدرت مند افراد ہیں جو دوزخ والوں کی سرزنش کریں گے اور جو بندے مقام اعراف میں رہ گئے ہیں ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ اس سے گزر کر منزل سعادت تک پہنچ جائیں ۔ اعراف اور اصحاب اعراف کے متعلق جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی دو متضاد گروہوں کی مظہر ہیں اور بہت سی روایات جو اہل بیت طاہرین(علیه السلام) سے منقول ہیں ان میں ہمیں ملتا ہے: ”نحن الاعراف“ ہم اعراف ہیں(۱) یا یہ کہ: ”آل محمد ھم الاعراف“ آلِ محمد اعراف ہیں(۲) اسی طرح دوسری حدیثیں بھی ہیں ۔ دیگر روایات میں ہے: ”ھم اکرم الخلق علی الله تبارک وتعالیٰ“ وہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم بندے ہیں(۳) یا یہ کہ: ”ھم الشہداء علی الناس والنبیّون شہدائھم وہ لوگوں پر گواہ ہیں اور پیغمبرانِ خدا ان کے اوپر گواہ ہیں(۴) نیز اسی طرح کی دیگر روایات ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ یہ افراد انبیاء، آئمہ اور صالحین ہیں ۔ لیکن اس کے مقابلے میں دیگر روایات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ وہ پسماندہ بندے ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی یا وہ گنہگار ہوں گے جنھوں نے اعمال نیک بھی کئے ہوں گے، جیسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث ہے: ”ھم قوم استوت حسناتھم وسیئاتھم فان ادخلھم النار فبذنوبھو وان ادخلھم الجنة فبرحمتہ“ یہ وہ لوگ ہیں جن کے حسنات وسیّئات مساوی ہیں، اگر خدا نے انھیں دوزخ میں بھیج دیا تو ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اگر جنت میں داخل کردیا تو رحمت اپنی رحمت کی وجہ سے(۵) اس طرح کی متعدد روایات اہلِ سنّت کی تفاسیر میں حذیفہ، عبد الله ابن عباس اور سعید بن جبیر وغیرہ سے مروی ہیں جن کا مضمون بھی یہی کچھ ہے(6) انہی تفاسیر میں کچھ مدارک اس بات پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اہلِ اعراف صلحاء، فقہاء اور علماء ہوں گے یا الله تعالیٰ کے فرشتے ہوں گے ۔ ان آیات وروایات کا ظاہری مفہوم ابتدائی نظر میں متضاد معلوم ہوتا ہے ، شاید یہی بات باعث بنی کہ مختلف مفسّرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان آیات وروایات میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے بلکہ یہ سب ایک ہی حقیقت کا اظہار کررہی ہیں ۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ جس طرح ہم نے سابقاً بھی کہا ہے کہ تمام آیات وروایات کو دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اعراف ایک سخت وصعب العبود راستہ ہے، جو محل سعادت جاودانی یعنی بہشت سے پڑتا ہے یہ بات فطری ہے کہ قومی لوگ یعنی صالح وپاک افراد تو بہت جلدی سے اس گذرگاہ سے گزرجائیں گے لیکن کچھ کمزور بندے، یعنی جنھوں نے نیک وبد دونوں طرح کے اعمال کو آپس میں ملادیا ہے وہ اس راستہ پر تھک کر بیٹھ جائیں گے ۔ نیز یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ گروہوں کے سرپرست اور پیشوایانِ قوم، ان قائدین ِ لشکر کی طرح جو سخت وخطرناک راستوں پر لشکر کے آخر میں چلتے ہیں تاکہ کوئی سپاہی اگر آگے بڑھنے سے رہ جائے تو اس کی مدد کرکے اسے خطرے سے باہر نکال دیں، بالکل اسی طرح یہ پیشوا اور امام اعراف میں ٹھہر جائیں گے تاکہ موٴمنین میں جو ضعیف افراد ہیں ان کی مدد کرسکیں گے اور وہ بندے جن میں نجات حاصل کرنے کی صلاحیّت ہے وہ ان کی مدد کے زیرِسایہ نجات پاسکیں گے ۔ بنابریں ”اعراف“ میں دو طرح کے لوگ پائے جائیں گے، ایک تو وہ ضعیف گنہگار افراد جو رحمتِ الٰہی میں جگہ پائیں گے، دوسرے وہ رہبران قوم اور عظیم پیشوا جو ہر جگہ ضعیف الحال تابعیں کی مدد کریں، اس بناپر ان آیات کے اگلے حصّہ میں انہی ضعیف الحال بندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جبکہ بعد والے حصّہ میں بزرگانِ قوم انبیاء وآئمہ وصلحاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ بعض روایات میں بھی اس مطلب کی تائید ملتی ہے جیسے علی بن ابراہیم میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: ”الاعراف کثبان بین الجنة والنّار، والرجال الائمة، یقولون علی الاعراف مع شیعتھم وقد سبق الموٴمنون الی الجنة بلاحساب---“ اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان میں کچھ ٹیلے ہوں گے اور ”رجال“ سے مراد آئمہ طاہرین(علیه السلام) ہیں ت واپنے شیعوں کے ساتھ اعراف پر کھڑے ہوں گے اس حالت میں موٴمنین بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کیے جاچکے ہوں گے ۔ اس کے بعد مزید یہ بھی ہے کہ: آئمہ طاہرین(علیه السلام) اور پیشوایانِ برحق اس موقع پر انے گنہگار پیروکاروں سے کہیں گے کہ اچھی طرح سے دیکھوں کہ تمھارے نیک اعمال بھائی کس طرح جنت میں بغیر حساب کتاب کے جلدی سے چلے گئے ہیں اور یہ وہی موقع ہے جس کے متعلق الله نے فرمایا ہے: ”سلام علیکم لم یدخلوھا وھم یطمعون“(یعنی وہ بہشتیوں پر سلام کریں گے در آنحالیکہ ابھی خود بہشت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اگرچہ اس کے آرزومند ہوںگے) ۔ بعد ازاں اُ ن سے کہا جائے گا کہ ذرا دشمنانِ حق کو بھی دیکھ لو کہ کس طرح آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں جل رہے ہیں اور یہ وہی حال ہے جس کا الله نے اظہار فرمایا ہے: <وَإِذَا صُرِفَتْ اٴَبْصَارُھُمْ تِلْقَاءَ اٴَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ--- اس کے بعد دوزخیوں سے کہیں گے کہ دیکھوں یہ بندے (یعنی پیروکار اور شیعہ جو گنہگار ہیں )وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں کہا کرتے تھے کہ ان پر الله کی رحمت ہرگز نہ ہوگی (حالانکہ اب الله کی رحمت ان کے شاملِ حال ہوچکی ہے) اس کے بعد ان بندوں کو جو گنہگار تو ہیں لیکن اپنے ایمان اور بعض اعمالِ نیک کی وجہ سے اس بات کی صلاحیّت رکھتے ہیں کہ انھیں بخش دیا جائے آئمہ ہُدیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا جائے گا کہ تم بھی بہشت کی طرف روانہ ہوجاؤ کسی قسم کے خوف اور غم کی ضرورت نہیں(7) اسی طرح کا مضمون اہلِ سنت کی تفسیروں میں بھی حذیفہ کی روایت سے حضرت پیغمبر سے منقول ہوا ہے(8) ہم ایک مرتبہ اور تکرار کرتے ہیں کہ حشر ونشر کی تمام جزئیات وتفاصیل جو احادیث وآیات میں بیان ہوئی ہیں وہ بعینہِ اس طرح سے ہیں جیسے ہم دور سے ایک سایہ دیکھیں اور پھر اس کی کیفیت بیان کریں، حالانکہ وہ سایہ ہماری زندگی سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور ہم اپنے نارسا اور کوتاہ الفاظ کے ذریعے اس کی حکایت کرتے ہیں ۔ ایک قابل توجہ نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ جہانِ آخرت کی زندگی ان نمونوں اور معیاروں کی بنیاد ہے جو اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں، اعراف کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے کیونکہ اس دنیا میں لوگ تین گروہوںمیں تقسیم ہیں: ایک تووہ سچّے مومن بندے جواپنے ایمان وعمل کی وجہ سے ابدی سکون کی منزل تک پہنچتے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ دوسرے وہ معاند اور ضدّی دشمنانِ حق جو کسی طرح سے راہِ حق پر آنا گوارہ نہیں کرتے ۔ تیسرا وہ گروہ ہے جو ان دونںو گروہوں کے درمیان ایک سخت گذرگاہ پر ہے، پیشوایانِ حق کی زیادہ تر توجہ انہی پر ہے وہ ان کے پہلو میں رہیں گے اور ان کا ہاتھ پکڑکر اعراف کے مرحلہ سے انھیں نجات دیںگے اور موٴمنین کی صف میں لاکر کھڑا کردیں گے ۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قیامت کے روز انبیاء کرام اور ائمہ طاہرین(علیه السلام) کا ان بندوں کے معاملات میں دخل دینا اور انھیں اس طرح جنّت میں لے جانا خداوندکریم کی قدرتِ مطلقہ اور اس کی حاکمیت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ یہ حضرات جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ خدا ہی کے اذن اور فرمان سے کرتے ہیں ۔ ۵۰ وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ النَّارِ اٴَصْحَابَ الْجَنَّةِ اٴَنْ اٴَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَاءِ اٴَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ قَالُوا إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ- ۵۱ الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَھُمْ لَھْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْھُمَ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ نَنسَاھُمْ کَمَا نَسُوا لِقَاءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُونَ- ترجمہ ۵۰۔ دوزخ والے جنت والوں سے پکارکر کہیں گے کہ تھوڑا پانی، یا خدا نے تمھیں جو روزی بخشی ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو، تو وہ (جنّت والے اس کے جواب میں) کہیں گے کہ خدا نے اس کو کافروں پر حرام قرار دیا ہے ۔ ۵۱۔ (ایسے کافر) جو خدا کے دین اور قانون کو کھیل تماشا سمجھتے تھے اور دنیاوی زندگی نے انھیں دھوکا دیا تھا، پس آج کے روز ہم انھیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انھوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور ہماری نشانیوں کا انکار کرتے تھے ۔ ۱۔ ۲، ۳۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۷، ۱۸، ۱۹- ۴۔ نور الثقلین، ج۲، ص۳۳، ۳۴- ۵۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۷- 6۔ تفسیر طبری، ج۷، ص۱۳۷ و۱۳۸، مذکورہ آیت کے ذیل میں- 7۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۹، ۲۰- 8۔ تفسیر طبری، ج۸، ص۱۴۲،۱۴۳-