وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
As for those who have faith and do righteous deeds—We task no soul except according to its capacity—they shall be the inhabitants of paradise, and they shall remain in it [forever].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:42
[Pooya/Ali Commentary 7:42] Those who believe in Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, follow their teachings and do good will dwell in everlasting bliss, where harmony of thoughts and feelings among the believers, on account of higher intellectual awareness, will be one of the pleasures of eternal life. Verses 36 to 41 and 42 to 43 show the difference between the beliers of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt and the followers of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt in the life of hereafter.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:42-43
جنتی لوگ دوزخ والوں کو مخاطب کرکے آواز دیں گے
گذشتہ بحث کے بعد جس میں جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام بیان کیا گیا ہے، ان آیات میں دونوں گرووں کی آخرت میں جو گفتگو ہوگی اسے بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جنتی لوگ دوزخ والوں کو مخاطب کرکے آواز دیں گے کہ ہم نے اپنے پروردگار کا وعدہ برحق پایا، کیا تم نے بھی اپنے اس انجام کو پایا ہے جس کا وعدہ الله نے اپنے رسولوں کے ذریعہ کیا تھا (وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ اٴَصْحَابَ النَّارِ اٴَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا) ۔ وہ لوگ جواب میں کہیں گے ہاں ہم نے تمام باتیں حقیقت کی صورت میں دیکھ لیں (قَالُوا نَعَمْ ) ۔ اس بات کی طرف توجہ ہونا چاہیے کہ لفظ ”نادیٰ“ اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے لیکن اس جگہ کے معنی مستقبل کے نکلیں گے، اس طرح کی تعبیریں قرآن میں بہت استعمال ہوئی ہیں جن میں آئندہ ہونے والے یقینی وحوادث کو فعل ماضی کے طورپر بیان کیا گیا ہے اور اس میں ایک طرح کی تاکید منظور ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ آئندہ ہونے والی بات اس طرح یقینی ہے جیسے زمانہ ماضی میں ہوچکی ہو ۔ ضمنی طور سے یہ مطلب بھی اس میں مضمر ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان مقامی ومکانی طور سے کافی فاصلہ ہوگا کیونکہ ”ندا“ دُور سے کی جاتی ہے ۔ ممکن ہے کوئی شخص یہاں پر یہ سوال کرے کہ ان دونوں گروہوں کی مذکورہ گفتگو کا کیا فائدہ؟ جبکہ دونوں کو ایک دوسرے کا جواب معلوم ہے ۔ اس بات کا جواب بھی معلوم ہے کیونکہ سوال ہمیشہ معلومات بڑھانے کے لئے نہیں کیا جاتا، بلکہ کبھی سرزنش وتوبیخ کے لئے بھی سوال کیا جاتا ہے، اس مقام پر یہ سوال اسی مقصد کے ماتحت کیا جائے گا، حقیقت میں گنہگاروں اور ستمگاروں کے لئے یہ سوال بھی اس طرح کی سخت سزا ہوگی، کیونکہ جب یہ لوگ دارِدنیا میں تھے تو اپنی ملامت اور سرزنش سے باایمان افراد کو روحانی اذیشت دیتے تھے لہٰذا آج بروز قیامت) انھیں اس کی سزا ضرور ملنا چاہیے، اس کی نظیر قرآن میں کئی جگہ ملتی ہے، جیسے سورہٴ مطففین میں(۱) ۱۔ سورہء مطففین جیسے: <ھَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَا کَانُوا یَفْعَلُونَ یا اوّل سورہٴ قمر جیسے: <اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ”ثواب“ اور ”اقترب“ اور ”انشق“ یہ سب ماضی کے صیغے ہیں جو بمعنی مستقبل کے استعمال ہوئے ہیں ۔(مترجم) اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اسی اثناء میں ایک بولنے والا یہ ندا کرے گا (ایسی ندا جو ہر ایک کے کان میں پہنچے گی) کہ لعنت ہو خدا کی ستم کرنے والوں! (فَاٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اٴَنْ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ) ۔ بعد ازان ان ستمگاروں کی پہچان یوں کرواتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جولوگوں کو راہِ راست سے روکتے تھے، اور روزِ اخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے(الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْآخِرَةِ کَافِرُونَ)(۱) مذکورہ بالا آیت سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہر قسم کی بے راہ رویاں اور مفسدے ”ظلم وستم“ کے مفہوم میں جمع ہیں اور ”ظالم“ کا ایک ایسا وسیع مفہوم ہے جو اپنے دامن میں تمام گنہگاروں کو خصوصاً ان گمراہوں کو جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، لئے ہوئے ہے ۔ ضمناً راغب مفردات میں کہتا ہے: ”ھوج“ ”بروزن کرج“حسی ٹیڑھ پن کو کہتے ہیں لیکن ”عوج“ (بروزن پدر) فکری ٹیڑھ پن کو کہا جاتا ہے ۔ لیکن قرآن کی کچھ آیات مثلاسورہٴ طٰہٰ آیت ۱۰۷ اس سے مناسبت نہیں رکھتی (غور کیجئے گا) ۱۔ ”یبغضونھا عوضاً“ کا معنی ہے ”یطلبونھا عوجاً“ یعنی وہ چاہتے ہیں اور سعی وجستجو کرتے ہیں کہ شبہات پیدا کرکے اور زہریلے پروپیگنڈا سے حقیقی راستے کو دِگرگوں کردیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:42-43
سکون کامل وسعادتِ جاودانی
جیسا کہ ہم نے سابقاً بھی اشارہ کیا ہے روش قرآنی یہ ہے کہ کسی مطلب کی تاکید کے لئے وہ مختلف گروہوں اور ان کے انجاموں کا برابر سے ذکر کرتا ہے اور ان کا آپس میں موازنہ کرکے ان کی وضعیت وحیثیت کی تشریح کرتا ہے، گذشتہ آیات میں منکرینِ آیات خدا متکبّر وظالم افراد کے انجام کو دکھایا گیا تھا، اب ان آیات میں باایمان لوگوں کے تابناک انجام کی اس طرح شرح کرتا ہے: اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا وہ اہلِ بہشت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے (وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ---اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ) لیکن اس جملہ کے درمیان میں (یعنی مبتداء وخبر کے درمیان) ایک جملہ معترضہ(۱) آیا ہے، جو فی الحقیقت بہت سے سوالات کا جواب ہے اور وہ یہ ہے: ہم کسی شخص پر اس کی قوّت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے(لَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ باایمان اور صالح افراد کی صف میں داخل ہونا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، سوائے گنے چُنے افراد کے اور کوئی ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ پروردگار عالم کی طرف کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریاں (احکام) افراد کی قوت وصلاحیّت کے لحاظ سے ہوتی ہیں اور اس طرح وہ عالم وجاہل، چھوٹے بڑے اور ہر عمر کے انسانوں کے لئے راستہ کھول دیتا ہے اور ہر ایک کو صالحین کی سف میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ خدا کو ہر شخص سے اتنی توقع ہے جتنی اس کی ذہنی وجسمانی صلاحیت ہے ۔ یہ آیت کی دیگر آیات کے بیان کرتی ہے کہ نجات وسعادت ابدی کا ذریعہ صرف ایمان وعملِ صالح ہے، اسی طرح عیسائیوں کے اس خرافاتی عقیدہ کی رد ہوجاتی ہے جس کے مطابق آج کل کے مسیحی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قربانی بشر کے تمام گناہوں کے مقابلے میں وسیلہٴ نجات ہے، آیہٴ مذکورہ اس عقیدہ پر خط نتسیخ کھینچتی ہے ۔ قرآن کریم نے جو باربار ایمان وعمل صالح پر زور دیا ہے وہ اسی قسم کے عقیدوں کو باطل کرنے لئے ہے ۔ اس کے بعد کی آیت میں ایک انتہائی اہم نعمت جو الله جنت والوں کو عطا کرے گا اور وہ نعمت ان کی روح کے آرام کا باعث ہوگی اسے اس طرح بیان فرمایا ہے: ان کے دلوں سے ہم ہر طرح کے کینے، حسد اور دشمنی کو دُور کردیں گے (وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِھِمْ مِنْ غِلٍّ) ۔ ”غل“ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز کسی چیز میں مخفی طور سے اُتر جائے ۔ اسی وجہ سے حسد، کینہ اور دشمنی کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ جذبے چپکے سے انسان میں نفوذ کرجاتے ہیں اور کبھی رشوت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی کسی خیانت کے لئے خفیہ طور سے دی جاتی ہے(2) حقیقت یہ ہے کہ دُنیا کی زندگی میں انسان کی ناراضی وپریشانی کا ایک بڑا سبب جس کی وجہ سے عالمی جنگیں بھی پھیل چکی ہیں، جانی ومالی نقصانات مرتب ہوتے ہیں اور انسانی سکون رخصت ہوگیا ہے، وہ یہی کینہ وحسد ہے ۔ ہم بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جن کی اپنی زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود دوسروں سے حسد ان کے لئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے، یہ کینہ پروری ہے جو اُن کی راحت وآرام کی زندگی کو تارج کردیتی ہے اور تھکادینے والی بیکار کردو کاوش میں مبتلا کردیتی ہے ۔ اہلِ بہشت اس طرح کی بدبختیوں سے بالکل آسودہ ہوں گے، ان کے دلوں میں نہ کینہ ہوگا نہ حسد ہوگا اور نہ ان کے بُرے نتائج ہوں گے، وہ لوگ آپس میں نہای دوستی اور مہر ومحبت کے ساتھ زندگی بسر کریں گے اور سب کے سب اپنی حالت پر راضی ہوں گے، حتّیٰ کہ جن کا مرتبہ نیچا ہوگا وہ بھی اہل درجہ والوں پر حسد نہیں کریں گے، اس طرح ان کی باہم زندگی کی سب سے بڑی مشکل حل ہوجائے گی ۔ بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس وقت اہلِ بہشت، بہشت کی طرف روانہ ہوں گے تو جنت کے دروازہ پر ایک درخت دیکھیں گے جس کے نیچے سے دو چشمے جاری ہوں گے، اہلِ بہشت ان میں سے جب ایک چشمے سے پانی پئیں گے تو ان کے دلوں سے ہر قسم کے کینے اور حسد دُھل جائیں گے، یہ وہی ”شراب طہور“ ہے جس کا ذکر سورہٴ دہر میں کیا گیا ہے، اس کے بعد دوسرے چشمے میں جب وہ نہائیں گے تو جسم کے تمام عیوب اور تھکاوٹ سُستی وغیرہ زائل ہوجائے گی اس کے بدلے ان کے بدن میں تازگی اور خوبصورتی آجائے گی اس طرح کہ اس کے بعد پھر وہ کبھی نہ بوڑھے ہوں گے نہ متغیّر(3) اس حدیث کی سند اگرچہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا آئمہ(علیه السلام) تک نہیں پہنچی ہے کیونکہ یہ ایسے مسائل نہیں ہیں جن سے ”سدی“ یا ان کی طرح دوسرے افراد مطلع ہوں، بہرحال اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ موجودہ ہے کہ اہلِ بہشت اندر اور باہر دونوں طرف سے دُھل جانے کے بعد جنّت میں داخل ہوں گےٹ خدائے تعالیٰ انھیں حُسنِ ظاہری عطا فرمائے گا اور جمال باطنی بھی، اُس عالم میں وہ کینہ اور حسد سے بچے رہیں گے ۔ کیا کہنا ان لوگوں کا جو اس دنیا میں بھی اپنے لئے جنت بنالیں اور اپنے سینوں کو کینہ اور حسد سے پاک کرلیں اور اس کے نتیجہ میں جو تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں ان سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو بچالیں ۔ قرآن کریم اس روحانی نعمت کات ذکر کرنے کے بعد، ان کی مادّی اور جسمانی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے: ان کے محلوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہوں گی (تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ الْاٴَنْھَارُ) ۔ اس کے بعد اہلِ بہشت کی پوری رضا مندی اور کامل خوشنودی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: جبکہ وہ یہ کہیں گے، ساری تعریفیں اور شکرانے اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جس نے ان تمام نعمتوں کی طرف ہماری ہدایت کی، اگر وہ ہماری ہدایت نہ کرتا ہو تم ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے، یہ اس کی توفیق تھی جس نے ہمارا ہاتھ تھام کی زندگی کی سخت گذرگاہوں میں سے ہمیں گزاردیا اور سعادت کی منزل تک پہنچادیا (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَااٴَنْ ھَدَانَا اللهُ) ۔ بے شک ہمارے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول سچ کہتے تھے اور ہم اب اپنی آنکھوں سے ان کی سچائی کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں(لَقَدْجَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ) ۔ اسی اثناء میں خدا کی طرف سے ایک ندا بلند ہوگی جو ان کے دل وجان میں سما جائے گی اوروہ اسے سُن کر خوش ہوجائیں اور وہ ندا یہ ہوگی: یہ جنت تم نے اپنے پاک اور نیک اعمال کے بدلے میراث میں پائی ہے (وَنُودُوا اٴَنْ تِلْکُمْ الْجَنَّةُ اٴُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ) ۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں کہ نجاتِ ابدی عمل صالح کے سایہ میں ہے، نہ کہ بے بنیاد توہمات وعزعومات کی بناپر۔ ”ارث“ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی مال وثروت ایک شخص سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے بغیر اس کے کہ ان کے درمیان کوئی قرارداد یا معاہدہ طے پائے (یعنی ایک طبیعی طریقے سے، نہ کہ خریدوفروخت وغیرہ کے ذریعے سے) میت سے اس کے اعزاء کو جو مال پہنچتا ہے اسے بھی ”ارث“ اسی وجہ سے کہاجاتا ہے ۔ ۱۔ یہ اشتباہ نہ ہو کہ ”جملہ معترضہ“ کے یہ معنی ہیں کہ وہ مطلب سے بالکل بے ربط بلکہ وہ بھی مطلب سے ایک طرح کا ربط رکھتا ہے، اگرچہ جملہ بندی کے رُو سے دوسری عبارت کے درمیان اسے جگہ دی جاتی ہے، بنابریں ”جملہ معترضہ“ صرف جملہ بندی کے لحاظ سے الگ دکھائی دیتا ہے نہ کہ معنی کے لحاظ سے ۔ 2۔ مزیدتوضیح کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم، ص۱۱۷ ملاحظہ ہو (اردو ترجمہ) 3۔ تفسیر المنار، ج۸، ص۴۲۱-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:42-43
ارث کیوں کہا گیا؟
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس لئے اہل بہشت سے یہ کہا جائے گا کہ تم نے ان نعمتوں ک اپنے اعمال کی وجہ سے میراث کے طور پر پایا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک حدیث میں ملتا ہے جو سُنّی اور شیعہ طریقوں سے مروی ہے، یہ حدیث حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے جس میں آنحضرت فرماتے ہیں: ”مَا مِن اٴَحَدٍ الّا وَلَہُ مَنزِلٌ فِی الْجنّة وَمَنزِلٌ فِی النّار فَامّا الکَافر فَیَرِث المُوٴمن مَنزِلہ مِنَ النّار، وَالموٴمنُ یَرِثُ الکَافر مَنزلہ مِنَ الْجَنّة فَذٰلک قَولَہُ:<اٴُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ہر شخص بغیر کسی استثناء کے ایک، ایک منزل جنت میں اور ایک منزل دوزخ میں رکھتا ہے، کافر مومنین کی ان منزلوں کو میراث میں پائیں گے جو جہنم میں ہیں اور مومنین کافروں کی جنت میں منزلوں کو میراث میں پائیں گے اور یہی ہیں معنی خدا کے قول اس قول کے (اٴُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ)(۱) اس حدیث میں در اصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر خوش قسمتی اور بدبختی کے دروازے ہر ایک شخص کے لئے کھلے ہوئے ہیں، اپنے آغاز میں کوئی شخص نہ جنتی ہے نہ جہنمی بلکہ ہر شخص دونوںکی استعداد رکھتا ہے، یہ خود انسان کا ارادہ ہے جو اس قسمت کو معیّن کرتا ہے، یہ بات بدیہی ہے کہ جب مومنین اپنے نیک ہر شخص نیک عمل کی وجہ سے جنّت میں جائیں گے اور ناپاک اور بے ایمان دوزخ میں جگہ پائیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک کی خالی جگہ دوسرے کو مل جائے گی ۔ بہرحال یہ آیت اور یہ حدیث ان واضح دلیلوں میں سے ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسئلہ جبرِباطل ہے اور انسان اپنے ارادہ میں کامل آزاد ہے ۔ ۴۴ وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ اٴَصْحَابَ النَّارِ اٴَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَاٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اٴَنْ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ- ۴۵ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْآخِرَةِ کَافِرُونَ- ترجمہ ۴۴۔ اور بہشت والے دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے ہم نے اس وعدہ کو حق پایا جو ہمارے الله نے ہم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی حق پایا اس وعدہ کو جو الله نے تم سے کیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں! اسی اثناء میں ایک نِدا کرنے والا ان کے درمیان یہ ندا کرے گا کہ خدا کی لعنت ہو ظالموں پر۔ ۴۵۔ (ایسے ظالم) جو لوگوں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور ان کے دلوں میں شبہات ڈال کر) اس (راستے) کو ٹیڑھا دکھلاتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔ ۱۔ نور الثقلین، ج۲، ص۳۱؛ تفسیر قرطبی، ج۴، ص۲۶۴۵ ،اور دیگر تفاسیر-