يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
O Children of Adam! If there come to you apostles from among yourselves, recounting to you My signs, then those who are Godwary and righteous will have no fear, nor will they grieve.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:35
[Pooya/Ali Commentary 7:35] Refer to the commentary of al Baqarah: 38. Piety and self-development are not possible unless one follows the teachings of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:35-36
ایک اور سازش کا جواب
جیسا کہ ہم نے سابقہ سطور میں بیان کیا کہ قرونِ آخر کے کچھ ”دین ساز“ گروہ، اپنی غلط کاریوں کیلئے راہ ہموا کرنے کے لئے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ قرآن کی کچھ آیتوں کے غلط معنی کرکے مسئلہ خاتمیت پر اپنے مدعیٰ کے مطابق استدلال کریں حالاکہ ان آیات کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ان آیات میں ایک آیت وہ ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے ۔ بغیر اس کے کہ آیت کا سیاق و سباق دیکھیں وہ کہتے ہیں: اس آیت میں لفظ ”یاٴتینکم“ جو فعل مضارع ہے اور جس کے معنی ہیں ”تمھارے پاس آئے گا“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آئندہ بھی کچھ پیغمبر آسکتے ہیں ان کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے ۔ لیکن اگر ہم تھوڑا پلٹ کر دیکھیں اور ان آیات پر نظر کریں جن میں خلقتِ آدم، ان کی بہشت میں سکونت، پھر بہشت سے ان کا اور ان کی زوجہ کا نکالا جانا بیان کیا گیا ہے، اور اس کا بھی لحاظ کریں کہ ان آیات میں مسلمان مخاطب نہیں ہیں بلکہ یہاں تمام انسانی معاشرے سے خطاب ہے، تو اس شبہ کا جواب واضح ہوجائے گا، کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تمام فرزندان آدم کے لئے بہت رسول آئے جن میں سے بہت سوں کا نام قرآن کریم میں لیا گیا ہے اور بہتوں کا نام کتب تاریخ میں ثبت ہے ۔ لیکن ان نیا مذہب گھڑنے والے افراد نے لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے پچھلی آیات کو نظر انداز کردیا ہے اور اس آیت کا مخاطب صف مسلمانوں کو قرار دیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ برآمد کیا ہے کہ دوسرے رسولوں کے آنے کا ابھی امکان پایا جاتا ہے ۔ اس طرح مغالطے سابقاً بھی بہت ہوئے ہیں خصوصاً ان لوگوں کے درمیان جو کسی آیت یا اس کے ایک حصّہ کو بقیّہ سے جدا کرکے من مانے معنی نکالتے ہیں، اور اس سے قبل و بعد سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی چاہے مفہوم برعکس ہوجائے ۔ ۳۷ فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ اٴُوْلٰئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیبُھُمْ مِنَ الْکِتَابِ حَتَّی إِذَا جَائَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ قَالُوا اٴَیْنَ مَا کُنتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَھِدُوا عَلیٰ اٴَنْفُسِھِمْ اٴَنَّھُمْ کَانُوا کَافِرِینَ- ترجمہ ۳۷۔ ان لوگوں سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر بہتان باندھیں، یا اس کی آیتوں کی تکذیب کریں! یہ لوگ جو کچھ ان کے مقدر میں ہے (اس جہاں کی نعمتوں میں سے) اس سے اپنا نصیبہ پائیں گے، یہاں تک کہ ہمارے فرستادہ (قبض ارواح کے فرشتے) انھیں لینے آ جائیں گے اور جانوں کو قبض کریں گے اور ان سے پوچھیں گے: کہاں ہیں تمھارے وہ معبود جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے تھے؟ (وہ آج تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتے؟) وہ کہیں گے کہ وہ (سب آج) گم ہوگئے (اور ہم سے دور ہوگئے) اور وہ اپنے بر خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:35-36
فرزندان آدم کیلئے ایک اور فرمان
باردیگر خداوند عالم فرزندان آدم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے اولاد آدم! اگر تم میں سے کچھ رسول (ہماری طرف سے) تمھارے پاس آئیں، جو ہماری آیتوں کو تمھارے سامنے پیش کریں تو ان کی پیروی کرنا، کیونکہ جو لوگ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں انھیں الٰہی عتاب و سزا کا نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم و اندوہ ہوگا (یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَاٴْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَاٴَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُونَ) ۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ اصحاب دوزخ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْھَا اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ) ۔