وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
There is a [preordained] time for every nation: when their time comes, they shall not defer it by a single hour nor shall they advance it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:34
[Pooya/Ali Commentary 7:34] The time is limited for an individual or for a group of people. If they do not do good and believe during that time of probation, the chance is lost, and it cannot come back.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:34
ہر گروہ کا ایک انجام ہے
اس آیت میں خداوند کریم قوانین آفرینش میں سے ایک اہم قانون، فنا و نیستی کا ذکر فرماتا ہے، فرزندان آدم کی روئے زمین پر زندگی سے متعلق جو بحثیں ہوئی ہیں پھر آخر امر میں گناہکاروں کا جو انجام بدگذشتہ آیات میں دکھلایا گیا ہے یہ سب اس بحث سے واضح ہوجائے گا ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہر امت کے لئے ایک زمانہ و مدت معیّن مقرر کی گئی ہے (وَلِکُلِّ اٴُمَّةٍ اٴَجَلٌ) ۔ اور جس وقت یہ مدت پوری ہوجائے گی تو پھر ایک لحظہ کے لئے وہ اس سے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے ہٹ سکیں گے (فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُھُمْ لَایَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلَایَسْتَقْدِمُونَ) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں بھی افراد کی طرح قانون موت و حیات سے مستثنیٰ نہیں ہیں ۔ کچھ قومیں تو صفحہ ہستی سے نابود ہوجاتی ہیں پھر ان کے بجائے دوسری قومیں آجاتی ہیں ۔ لہٰذا قانون فنا سے نہ افراد الگ ہیں نہ قومیں بس فرق اتنا ہے کہ راستہ اختیار کرتے ہیں، شہوت رانی و خواہشات کے دریا میں غرق ہوجاتے ہیں، تجمل پرستی، تن پروری کی موجوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ جب دنیا کی کوئی قوم ان راستوں پر آنکھیں بند کرکے چل پڑے اور مسلم الثبوت قوانین فطرت کو پس پشت ڈال دے تو اس کا قہری نتیجہ یہ بر آمد ہوگا کہ وہ اپنے سایہ، ہستی کو کھوبیٹھے گی اور تباہی کے گڑھے میں ہمیشہ کے لئے جاگرے گی ۔ اگر مختلف قوموں کے تمدنوں کا مطالعہ کیا جائے جیسے بابل، فراعنہٴ مصر، قوم سبا، کلدانی، آشوری، مسلمانان اُندلس اور اسی طرح کی دوسری قومیں تو معلوم ہوگا کہ جب ان کی کج ردیاں اور شرکشیاں حد سے بڑھ گئیں تو ان کی نابودی کا فرمان آسمان سے نازل ہوگیا ۔ پھر ایک گھڑی کے لئے بھی وہ اپنی حکومت کے لرزان ستونوں کو باقی نہ رکھ سکے ۔ معلوم ہونا چاہیٴے کہ عربی میں لفظ ”ساعت“ کم از کم وقت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اگر چہ آج کل شب و روز کے چوبیسویں حصہ (ایک گھنٹہ) کو ”ساعت“ کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:34
ایک شبہ او ر اس کا جواب
بعض خود ساختہ مذہب جو اس زمانہ میں رونما ہوئے ہیں، انھوں نے اپنے مقاصد شوم تک پہنچنے کیلئے یہ ضروری خیال کیا ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاتمیت پر بخیال خود ضرب کاری لگا کر اسے متزلزل کردیا جائے بنابریں انھوں نے قرآن کریم کی بعض آیتوں کو مغالطے اور تفسیر بالرائے کے ذریعہ اپنے مقصد پر منطبق کرنے کی ناکام کوشش کی ہے چنانچہ آیت مورد بحث سے بھی انھوں نے اپنا مطلب نکالنا چاہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے کہا ہے کہ ہر امت کا ایک اختتام اور انجام ہوتا ہے اور امت سے مراد مذہب ہے، بنابریں مذہب اسلام کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے ۔ اس غلط استدلال کی حقیقت سمجھنے کے لئے بہتر ہے کہ لفظ ”امت“ کے معنی پہلے لغت میں اس کے بعد قرآن میں تلاش کیے جائیں ۔ جس وقت لغت کی کتابوں کو دیکھا گیا، نیز قرآن میں اس لفظ ”امت“ کے استعمال کو دیکھا گیا جو ۶۴ مرتبہ آیا ہے تو معلوم ہوا کہ دونوں میں اس کے معنی مجمع اور گروہ کے ہیں ۔ مثلاً موسیٰ کی داستان میں ہے: <وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ اٴُمَّةً مِنَ النَّاسِ یَسْقُونَ۔ ”جب وہ مدین کے گھاٹ پر پہنچے تو وہاں انھوں نے ایک مجمع کو دیکھا کہ وہ (اپنے لئے اور اپنے جانوروں کے لئے) پانی کھینچنے میں مشغول ہے“۔(۱) نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں یہ آیت ملتی ہے: <وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اٴُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ۔ ”تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیٴے جو (لوگوں) کو خیر کی دعوت دے“۔(2) نیز یہ آیت بھی ہے: <وَقَطَّعْنَاھُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اٴَسْبَاطًا اٴُمَمًا۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا ۔(3) یہ آیت بھی قرآن میں ہے: <وَإِذْ قَالَتْ اٴُمَّةٌ مِنْھُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُھْلِکُھُمْ ۔ اگر گروہ (جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہرایلہ میں سکونت رکھتا تھا اس ) نے کہا:”ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا(ان کے گناہوں کی وجہ سے) ہلاک کرنے والا ہے---“(4) ان تمام آیتوں سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”امتہ“ قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے وہ گروہ اور مجمع کے معنی میں آیا ہے، نہ کہ مذہب یا پیروان مذہب کے معنی میں اور کہیں پیروان مذہب پر بھی یہ لفظ بولا گیا ہے تو وہ بھی اس وجہ سے ہے کہ وہ بھی ایک گروہ ہوتا ہے ۔ بنا بریں مورد زیر بحث آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہ گروہ کا ایک وقت میں خاتمہ ہوگا یعنی صرف افاد ہی الگ الگ نہیں مریں گے بلکہ ”من حیث القوم “ بھی ان کے لئے موت و فنا برحق ہے ۔ ان کی جمعیت بھی ایک وقت میں پراگندہ ہوجائے گی ۔ بہرحال اصولی طور پر کہیں بھی لفظ ”امت“ کا اطلاق مذہب پر نہیں ہوا ہے ۔ لہٰذا زیر بحث آیت کسی لحاظ سے بھی مسئلہ خاتمیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔ بلکہ قرآن و حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ختم نبوت ہونے کی ناقابل تردید نصوص موجود ہیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: <مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ ۔ ”محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کا اختتام کرنے والے ہیں“ (احزاب ۴۰) ۔ نیز رسواللہ کی حدیث متواتر کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا: ”انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہُ لا نبی بعدی “ اے علی! تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کی نسبت موسیٰ سے تھے سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب بد و الخلق باب غزوئہ تبوک، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة) ۔ علاوہ بریں یہ حدیث بھی صحیح بخاری میں موجود ہے: ”ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنیٰ بیتا فاحسنہ والجملہ الامرضع لنبیة من زاویة فجعل الناس یطرفون بہ و یعجبون لہ و یقولون: ہلا وضعت ہذہ النبیة فقال: فانا النبیة وانا خاتم النبیین“۔ میں اور دیگر انبیاء کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک بہت اچھا اور عمدہ مکان بنایا ہو لیکن اس میں ایک اینٹ نامکمل چھوڑ دی ہو تو لوگ اس کے چاروں طرف پھر کردیکھیں گے اور تعجب سے کہیں گے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگائی اس کے بعد حضرت نے فرمایا: میں وہ آخری اینٹ ہوں اور نبیوں کا آخری ہوں ۔ (صحیح بخاری کتاب بد و الخلق باب خاتم النبیین)(مترجم) ۳۵ یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَاٴْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَاٴَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُونَ- ۳۶ وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْھَا اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ- ترجمہ ۳۵۔ اے آدم کی اولاد! اگر تمھارے پاس تم میں سے رسول آئیں اور وہ میری آیتیں تمھارے لئے پڑھیں (تو ان کی پیروی کرنا) کیونکہ جو لوگ تقویٰ اختیار کیں اور عمل صالح بجالیں، (اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کریں) تو ان کے لئے نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ ۳۶۔ اور وہ لوگ جو ہمارری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کریں گے وہ دوزخی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ ”امّا“در اصل ”ان“ و ”ما“ سے مرکب ہے ۔ ”ان“ حرف شرط ہے او ر ”ما“برائے تاکید شرط ہے ۔ ۱۔ سورہ قصص آیت ۲۳- 2۔ سورہ آل عمران آیت ۱۰۴- 3۔ سورہ اعراف آیت ۱۶۰- 4۔ سورہ اعراف آیت ۱۶۴-