قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
Say, ‘My Lord has enjoined justice,’ and [He has enjoined,] ‘Set your heart [on Him] at every occasion of prayer, and invoke Him, putting your exclusive faith in Him. Even as He brought you forth in the beginning, so will you return.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:29
[Pooya/Ali Commentary 7:29] See commentary of al Baqarah: 142 and 144 for "setting faces to Allah at every time and place of worship"-qibla; and see commentary of Ali Imran: 18 for justice (qist)-Allah is just, therefore, He enjoins justice. Refer to the commentary of nufkhus sur in al Fatihah: 4 on page 22 for ultimate return to Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:29-30
سرگزشت آدم اور لباس کی مناسبت
ان آیات میں سرگزشت آدم اور لباس کی مناسبت سے دوبارہ مسئلہ پوشاک اور دیگر نعمات زندگی اور ان کے طریقِ استفادہ سے متعلق گفتگو کی گئی ہے ۔ سب سے پہلے تمام فرزندان آدم کو ایک ایسا حکم دیا گیا ہے جو ایک لازوال قانون کے طور پر تمام زمانوں پر محیط ہے: اپنی زینت کو مسجد میں جاتے وقت ہمراہ رکھنا (یَابَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ) ۔ اس جملہ سے جسمانی زینتوں کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جیسے صاف ستھرا لباس پہننا، کنگھی کرنا، عطر لگانا اور اسی طرح کی دوسری زینتیں کرنا، اور اس سے روحانی زینتوں کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جس سے مراد صفات انسانی ، ملکات نفسانی، نیت کی پاکیزگی اور اخلاص ہے ۔ بعض روایات اسلامی میں یہ جو ہے کہ اس سے مراد اچھے کپڑے پہننا یا کنگھی کرنا ہے یا یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مراسم نماز عید و جمعہ ہیں تو یہ اس کی دلیل نہیں ہے کہ تفسیر صرف انھیں چیزوں میں منحصر ہے بلکہ اس سے ان کے واضح مصداق بیان کرنا مقصود ہے ۔(۱) اسی طرح اگر ہم دیکھیں کہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ لفظ ”زینت“ سے مراد لائق رہبر و پیشوا ہیں تو یہ وسعت مفہوم(۳) کی ایک دلیل ہوگی ۔ مطلب یہ ہے کہ آیت کا مفہوم ہر قسم کی ظاہری و باطنی زینت کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ۔ اگر چہ مذکورہ بالا حکم (زینت) ہر زمانے کے فرزندانِ آدم کے لئے ہے ۔ لیکن ضمنی طور سے یہ سرزنش ہے عربوں کی ایک جماعت کو جن کا زمانہ جاہلیت میں طریقہ یہ تھا کہ جب خانہ کعبہ کے طواف کیلئے مسجد الحرام میں آتے تھے تو بالکل برہنہ ہوجاتے تھے نیز انھیں اس کی بھی نصیحت کرنا مقصود تھی کہ وہ جب نماز جماعت کے لئے مسجد میں آئیں تو ذرا صاف ستھرے کپڑے پہن کے آئیں کیونکہ ان کی عادت یہ تھی کہ جب وہ مسجد میں آتے تھے تو انہی میلے کچلے کپڑوں میں آجاتے تھے جو گھر میں پہنے ہوتے تھے ۔ افسوس یہ ہے کہ ہماے زمانہ میں بھی بعض نادان مسلمانوں کی عادت یہی ہے کہ وہ معمولی لباس میں ہی مسجد میں آجاتے ہیں اور خراب کپڑوں کے ساتھ شریکنماز جماعت ہوتے ہیں جبکہ اس آیت کی تفسیر میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جن میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب مسجدوں میں آئیں تو اپنا بہترین لباس پہن کر اور آراستہ ہوکر آئیں ۔ اس کے بعد کی آیت میں خدا کی دیگر نعمتوں، جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے، کی طرف اشارہ ہوا ہے، فرمایا گیا ہے: کھاؤ اور پیو (وَکُلُوا وَاشْرَبُوا) ۔ لیکن چونکہ انسان کی طبیعت میں ہوس ہے ا س لئے ہوسکتا تھا کہ وہ ان دو احکام سے ناجائز فائدہ حاصل کرلیتا اور صحیح پوشاک اور مناسب خوراک کی بجائے تجمل پرستی، فضول خرچی اور کھانے میں افراط کا راستہ اختیار کرلیتا لہٰذا اس کی طرف فوراً تنبیہ کردی ہے کہ: اسراف نہ کرنا کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ) ۔ ”اسراف“کا کلمہ ایک بہت جامع ہے، جو ہر قسم کی زیادہ روی کا مفہوم دیتا ہے چاہے وہ کمیت کے لحاظ سے ہو یا کیفیت کے اعتبار سے ،اتلاف ہو یا فضول خرچی یہ سب کو اپنے دائرہ میں لئے ہوئے ہے ۔قرآن کریم کی ایک روش ہے کہ جب بھی وہ نعمات فطرت سے بہرہ اندازی کی طرف شوق دلاتا ہے تو فوراً راہِ اعتدلال سے بھٹکنے کی روک تھام بھی کردیتا ہے ۔ اس کے بعد کی آیت میں ذرا تند لہجہ میں ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ زہد کے معنی یہ ہیں کہ زینتوں کو اپنے اوپر حرام کردیا جائے، اور پاک و حلال رزق و روزی کو ترک کردیا جائے ۔ تو یہ زہد و پارسائی کی نشانی اور مقربِ بارگاہ الٰہی ہونے کی علامت ہے ۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! ”کہو کس نے خدا کی ان زینتوں کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اور کس نے اس کی نعمتوں اور پاک روزیوں کو حرام کیا ہے “ (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی اٴَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ) ۔ اگر یہ چیزیں بری تھیں تو سے سے اللہ انھیں پیدا، ہی نہ کرتا، اور اب جبکہ اس نے ان چیزوں کو بندوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے، کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ انھیں حرام کردے؟ کیا خلقت کی فطرت اور شریعت کے احکام میں تضاد ممکن ہے؟ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے: ان سے یہ کہہ دو کہ یہ نعمتیں با ایمان لوگوں کے لئے اس دنیا میں خلق ہوئی ہیں، اگر چہ دوسرے افراد بھی لیاقت نہ ہونے کے باوجود ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن بروزِ آخرت اور اعلیٰ زندگی کے موقع پر جبکہ انسانوں کی صفوں کو چھانٹ کر کھوٹا کھرا الگ کیا جائے گا تب یہ سب نعمتیں اور لذّتیں صرف یا ایمان اور نجات یافتہ افراد کودی جائیں گی، دوسرے لوگ ان سے بالکل محروم ہوجائیں گے (قُلْ ھِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ) ۔ بنابریں وہ نعمتیں اور لذّتیں جو دنیا میں بھی ان کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور آخرت میں تو صرف انہی کے لئے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ خدا انھیں حرام قرار دے دے، حرام وہ چیز ہوتی ہے جس میں کوئی ضرر ہو نہ کہ نعمت و مرحمت۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ قدرت کے یہ عطیے اور نعمتیں اگر چہ دار دنیا میں رنج و تکلیف کے ساتھ مخلوط ہیں لیکن آخرت میں یہ نعمتیں ہر قسم کے رنج و اذیت سے خالص ہوکر موٴمنین کو ملیں گی (لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے) ۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: ہم اپنی آیتوں اور احکام کی ان لوگوں کے لئے جو آگاہ ہیں اور سمجھتے ہیں تشریح کرتے ہیں (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ) ۔ ۱،2۔ ان روایات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر برہان جلد دوم ص ۹۔۱۰ و تفسیر نورالثقلین جلد دوم ص ۱۸۔ ۱۹-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:29-30
دو اہم نکات:
۱۔ ”وَاٴَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ“کا مفہوم : مفسرین نے جملہ ”وَاٴَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ“ کے بارے میں مختلف تفسیریں کی ہیں: کبھی تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہر نماز کے وقت قبلہ رو ہونا ہے ۔ کبھی کہا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ ہنگام نماز روزانہ مسجدوں میں حاضر ہونا ۔ کبھی یہ احتمال دیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نماز میں حضور قلب و خالص نیت ہونا چاہیےٴ۔ لیکن ہم نے جو تفسیر مذکورہ بالا سطور میں بیان کی ہے یعنی خدا کی طرف توجہ اور ہر طرح کے شرک اور غیر اللہ کی طرف التفات کرنے سے مبارزہ و اختلاف کرنا وہ آیت کے ماقبل و مابعد سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، اگر چہ ان تمام معانی کا مراد لیا جانا بھی آیت کے مفہوم سے بعید نہیں ہے ۔ ۲۔ معاد پر ایک مختصر ترین استدلال: اگر چہ معاد اور حیات بعد الموت کے متعلق بہت بحثیں کی گئی ہیں اور آیات قرآنی کے مطالعہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں بہت سے کوتاہ فکر افراد کے لئے یہ حقیقت قبول کرنا بہت دشوار تھا ۔ حدیہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے انبیائے الٰہی کو اس لئے (معاذ اللہ) جھوٹا بلکہ دیوانہ خیال کیا کہ وہ نہیں روز قیامت اور دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کی خبر دیتے تھے ۔ وہ یہ کہ دیتے تھے: <افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴَمْ بِہِ جِنَّةٌ ۔ یہ جو پیغمبر نے خبردی ہے کہ مٹی ہوجانے کے بعد اور اجزا منتشر ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے یہ خدا پر ایک بہتان ہے، یا یہ شخص دیوانہ ہے ۔(۱) لیکن اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیٴے کہ جو بات سب سے زیادہ ان کے تعجب کا باعث بنتی تھی وہ معاد جسمانی کا مسئلہ تھا، کیونکہ کسی طرح سے یقین نہیں آتا تھا کہ بدن خاک ہونے کے بعد ، اور اس خاک کے ذرات ہوا میں منتشر ہوکر کرہ زمین کے مختلف گوشوں میں بٹ جانے کے بعد بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پراگندہ اجزاء زمین کے مختلف گوشوں سے، دریاؤں کی موجوں کی آغوش سے، مختلف ہواؤں کے دامن سے دوبارہ اکٹھے کیے جاسکیں گے اور ان کے اکٹھا ہنے کے بعد وہی پہلا انسان دوبارہ زندہ ہوکر کھڑا ہوجائے گا ۔ قرآن نے اپنی متعدد آیات میں اس غلط استبعاد اور بے جا استعجاب کا جواب دیا ہے ۔ آیت مذکورہ بالا انہی جوابات میں سے ایک مختصر ترین لیکن جاذب ترین جواب ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:ذرا اپنی ابتدائے آفرینش پر ایک نظر تو ڈالو اور دیکھو کہ یہی تمہارا جسم جس کا زیادہ حصہ با قی مختلف معدنیات پر مشتمل ہے، پہلے کہاں تھا؟ تمھارے جسم میں جو پانی دوڑرہا ہے اس کا ہر قطرہ شاید روئے زمین کے کسی اوقیاس میں سرگرداں تھا، جو عمل تبخیر کے ذریعہ اَبر بنا ، پھر قطرات باراں کی شکل میں زمین پر برسا، پھر تمہارا جز و بدن بنا، اسی طرح وہ ذرات جن سے تمھارے جسم کی عمارت بنی ہے، کسی روز یہ دانہ گندم یا کسی میوہ یا سبزی کی شکل میں تھے جو زمین کے مختلف حصوں سے سمٹ کر آئے اور تمہارا جز و بدن بنے ۔ بنابریں اس بات میں کونسا تعجب ہے کہ جب یہ ذرات دوبارہ پریشان ہوجائیں گے ۔(2) اس کے بعد دوبارہ وہ خالق کے حکم سے اکٹھا ہوجائیں گے اور اسی جسم کی تشکیل کریں گے ۔ اگر یہ امر محال تھا تو پہلی دفعہ کیسے ہوگیا ؟ لہٰذا: ”جس طرح آغاز میں خدانے تمھیں مختلف اجزاء سے بنایا روز محشر بھی وہ تمھیں پلٹائے گا ۔ یہی مفہوم اس مختصر آیت میں پنہان ہے“۔ اس کے بعد کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس دعوت (یعنی نیکیوں، توحید اور معاد کی طرف دعوت)کا لوگوں پر کیا اثر ہوا اور انھوں نے اس کا کیا رد عمل پیش کیا، ارشاد ہوتا ہے: خدا کی توفیق ایک گروہ کے شامل حال ہوگئی اور اسے حق کے راستہ کی طرف ہدایت کی، جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا کہ اس کی گمراہی مسلّم ہو گئی ( فَرِیقًا ھَدیٰ وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْھِمْ الضَّلَالَةُ ) ۔(3) اور چونکہ کسی کے ذہن میں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ خدا بلا جہت کسی کو ہدایت کرتا ہے اور کسی کو گمراہ کرتا ہے، لہٰذا اس خیال کی تردید کے لئے بعد والے جملے میں فرمایا: گمراہ گروہ وہی لوگ ہیں کہ جنھوں نے شیطان کو اپنا ولی منتخب کرلیا ہے اور بجائے خدا کی ولایت کے شیطان کی ولایت اختیار کرلی ہے (إِنَّھُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ) ۔ جائے تعجب یہ ہے کہ: ان تمام گمراہیوں کے بعد بھی وہ یہ تصور کرتے تھے کہ حقیقی ہدایت یافتگان وہی ہیں ( اللهِ وَیَحْسَبُونَ اٴَنَّھُمْ مُھْتَدُونَ) ۔ یہ حالت خاص کر ان لوگوں کی ہے جو طغیان اور گناہ میں ڈوب جائیں اور اس طرح فساد ”تباہی“ بت پرستی اور کج روی کے دلدل میں غرق ہوجائیں کہ ان کی حسِ تشخیص بالکل دگرگوں ہوجائے، برائی کو اچھائی اور گمراہی کو ہدایت سمجھنے لگیں ۔ یہی وہ حالت ہوتی ہے کہ درہائے ہدایت ان کے لئے بالکل بند ہو جاتے ہیں اور یہ حالت ان کی خود فراہم کردہ ہوتی ہے ۔ ۳۱ یَابَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ- ۳۲ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی اٴَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ھِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ- ترجمہ ۳۱۔ اے اولاد آدم! مسجد میں جاتے وقت اپنی زینت اپنے ساتھ لے لو، کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ ۳۲۔ کہو کس نے حرام کیا ہے ان زینتوں کو جو خدا نے اپنے بندے کے لئے پیدا کی ہیں اور پاک روزیوں کو؟ کہو کہ یہ زندگی دنیا میں ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے (اگر چہ دوسرے لوگ بھی ان کے شریک ہیں لیکن) قیامت کے روز خالص ہوگی (صاحبان ایمان کے لئے) ایسی آیتوں کی تفصیل ہم ان لوگوں کے لئے پیش کرتے ہیں جو آگاہ ہیں ۔ ۱۔ سورہ سبا آیت ۸۔ 2۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترکیب موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشان ہونا (مترجم) ۔ 3۔ جملہ ”فریقاً ھدی“ اس کی ادبی ترکیب اس طرح پر ہے ”فریقاً“ مفعول مقدم”ھدی“ فعل موّخر اور”فریقاً“”اضل“ کا مفہوم دوم ہے اور جملہ”حق علیہم الضلالة“ اس پر دلالت کرتا ہے ۔