قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
They said, ‘Our Lord, we have wronged ourselves! If You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:23
[Pooya/Ali Commentary 7:23] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:23-25
آدم کی بازگشت خدا کی طرف
آخر کار جب آدم و حوّا نے شیطان کی چال کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا اور مخالفت کرنے کا نتیجہ ان کے سامنے آگیا تو انھیں اپنے گذشتہ نقصان کی تلافی کی فکر لاحق ہوئی، چنانچہ انھوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ اپنے اوپر جو ظلم و ستم کیا تھا اس کا خدا کی بارگاہ میں اعتراف کیا اور کہا: اے پرورگارا! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و ستم کیا ( قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنَا اٴَنفُسَنَا ) ۔ اور اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اپنی رحمت ہمارے شامل حال نہ کرے گاتو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے(وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ) ۔ خدا کی طرف پلٹنے کے سلسلہ میں اور اصلاح مفاسد کے لئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آدمی غرور اور ہٹ دھرمی کی سواری سے نیچے اتر آئے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، ایک ایسا اعتراف جو اس کی اصلاح کرنے والا ہو اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد کرے ۔ یہاں پر یہ بات قابل توجہ ہے کہ آدم و حوا نے توبہ اور طلب عفو میں یہ ادب ملحوظ رکھا کہ یہ بھی نہ کہا کہ خدایا! ہمیں بخش دے (اغفرلنا) بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہمیں نہ بخشے گا تو ہم گھاٹا اٹھائیں گے! اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہر گناہ اور اس کی ہر نافرمانی اپنے اوپرظلم و ستم کا کرنا ہے کیونکہ جتنے بھی احکام و قوانین ہیں سب کے سب سعادتِ انسانی اور اس کے تکامل کے لئے بنائے گئے ہیں بنابریں ان قوانین کی جو بھی خلاف ورزی ہوگی وہ تکامل کی راہ میں حائل ہوکر انسان کے تنزل کا باعث بنے گی ۔ آدم و حوّا نے بھی اگر چہ گناہ واقعی نہیں کیا تھا لیکن یہی ترکِ اولیٰ ان کے لئے اپنے بلند و بالا مقام سے نیچے اتر آنے کا باعث بن گیا ۔ اگر چہ آدم و حوّا کی خالص توبہ خدا کی بارگاہ میں درجہ قبولیت پر فائز ہوگئی جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۳۷ میں ہم نے پڑھا کہ”فتاب علیہ“ (خدانے ان کی توبہ قبول کرلی)لیکن اس ”ترک اولیٰ“ کا جو لازمی نتیجہ تھا وہ ظاہر ہو کر رہا کیونکہ انھیں یہ حکم ملا کہ بہشت سے باہر نکل جائیں فرمایا: نیچے اتر جاؤ اس طرح سے تم (یعنی انسان اور شیطان) ایک دوسرے کے دشمن ہوگے ( قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) ۔ اور زمین ایک مدت تک تمہاری قرارگاہ اور زندگی کے دن پورے کرنے کے لئے ایک وسیلہ بنے گی (وَلَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلیٰ حِینٍ) ۔ نیز یہ بات بھی ان کے کان میں ڈال دی کہ تم زمین میں زندگی کے دن پورے کرو گے، اسی میں مرو گے اور بروز محشر حساب کتاب کے لئے اسی سے بر آمد بھی ہوگے ( قَالَ فِیھَا تَحْیَوْنَ وَفِیھَا تَمُوتُونَ وَمِنْھَا تُخْرَجُونَ) ۔ اس آیت ” قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ“ سے ظاہر تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے آدم و حوّا اور شیطان سب مرد ہیں لیکن بعد والی آیت اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے صرف آدم و حوّا مراد ہیں کیونکہ انہی کا حشر و نشر زمین سے ہوگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:23-25
آدم(علیه السلام) کا ماجرا اور اس جہان پر ایک طائرانہ نظر
اگر چہ بعض ایسے مفسّرین نے افکار غرب سے بہت زیادہ متاثر ہیں، اس بات کی کوشش کی ہے کہ حضرت آدم اور ان کی زوجہ کی داستان کو اول سے لے کر آخر تک تشبیہ، مجاز اور کنایہ کا رنگ دیں اور آج کی اصطلاح میں یوں کہیں کہ یہ ایک سمبولک (Simbolic) تھا لہٰذا انھوں نے اس پوری بحث کو ظاہری مفہوم کے خلاف لیتے ہوئے مسائل معنوی سے کنایہ مراد لیا ہے لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان آیات کا ظاہر ایک ایسے واقعی اور حقیقی ”قصہ“ پر مشتمل ہے جو ہمارے اولین ماں باپ کو پیش آیا تھا ۔ چونکہ اس پوری داستان میں ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے جو ظاہری عبارت سے میل نہ کھاتا ہو یا عقل کے خلاف ہو، اس لئے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس کے ظاہری مفہوم پر یقین نہ کیا جائے یا جو اس کے حقیقی معنی ہیں ان سے پہلو تہی کی جائے ۔ لیکن در این حال اس حسّی و عینی واقعہ میں کچھ انسان کی آئندہ زندگی کے متعلق بھی ہوسکتے ہیں ۔ یعنی: انسان کو اس پر جنجال زندگی میں بہت سے ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں جو قصہ آدم و حوّا سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ اس کی مثال یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک طرف تو وہ انسان ہے جو قوت ، عقل اور ہوا و ہوس سے مرکب ہے، یہ دونوں طاقتیں اسے مختلف جہتوں میں کھینچ رہی ہیں ۔ دوسری طرف کچھ ایسے جھوٹے رہبر ہیں جن کا ماضی شیطان کی طرح جانا پہچانا ہے اور وہ انسان پانی کی امید میں ”سراب“ کو آب سمجھ کر ریگستانوں میں بھٹک کر اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ ایسے شیطانوں کے بہکانے میں آجانے کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے جسم سے ”لباس تقویٰ“ گر جاتا ہے اور اس کے اندرونی عیوب عیان و آشکارا ہوجاتے ہیں ۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقام ربِ الٰہی سے دور ہوجاتا ہے اور انسان کا جو بلند مقام ہے اس سے گر جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی بہشت سے نکل کر حیات مادی کی مشکلات و آفات کے جنگلوں میں گھِر جاتا ہے ۔ اس موقع پر بھی عقل کی طاقت اس کی مدد کرسکتی ہے اور اسے اس نقصان کی تلافی کا موقع فراہم کرسکتی ہے اور اسے خدا کی بارگاہ میں دوبارہ بھیج سکتی ہے تاکہ جراٴت و صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرے، ایسا اعتراف جو اس کی زندگی کی تعمیر نو کا ضامن ہو اور اس کی زندگی کا ایک نیا موڑ بن جائے ۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جبکہ دست رحمت الٰہی باردیگر اس کی طرف دراز ہوتا ہے تاکہ اسے ہمیشہ کے انحطاط اور تنزل سے نجات دے ۔ اگر چہ اپنے گذشتہ گناہ کا تلخ مزا اس کے کام و دہن میں باقی رہ جاتا ہے جو اس کا اثر وضعی ہے ۔لیکن یہ ماجرا اس کے لئے درس عبرت بن جاتا ہے کیونکہ وہ اس شکست کے تجربہ سے اپنی حیات ثانیہ کی بنیاد مستحکم کرسکتا ہے اور اس نقصان و زیان کے ذریعے سُرور آئندہ فراہم کرسکتا ہے ۔ ۲۶ یَابَنِی آدَمَ قَدْ اٴَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُوَارِی سَوْآتِکُمْ وَرِیشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَی ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ- ۲۷ یَابَنِی آدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا اٴَخْرَجَ اٴَبَوَیْکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْآتِھِمَا إِنَّہُ یَرَاکُمْ ھُوَ وَقَبِیلُہُ مِنْ حَیْثُ لَاتَرَوْنَھُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِینَ اٴَوْلِیَاءَ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ- ۲۸ وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْھَا آبَائَنَا وَاللهُ اٴَمَرَنَا بِھَا قُلْ إِنَّ اللهَ لَایَاٴْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ- ترجمہ ۲۶۔ اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمھارے لئے لباس اتارا تا کہ تمھارے اندام کو ڈھانپ لے اور تمھارے لئے زینت بنے، اور تقوے کا لباس اس سے بہتر ہے ۔ یہ (سب) خدا کی آیتوں (نشانیوں) میں سے ہے شاید تم (۱) تم اس کی نعمتوں کو یاد کرنے والے بنو ۔ ۲۷۔اے اولاد آدم ! شیطان تمھیں دھوکا نہ دے، جس طرح تمھارے ماں باپ کو دھوکا دے کر بہشت س باہر نکال دیا اور ان کے لباس کو ان کے جسموں سے اتار دیا تاکہ ان کی شرمگاہیں انھیں دکھادے، کیونکہ وہ (شیطان)اور اس کے کارندے تمھیں دیکھتے ہیں اور تم انھیں نہیں دیکھتے، (لیکن یہ جان لو) ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا ولی قرار دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ۲۸۔ اور جس وقت وہ کوئی کار بد کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپوں کو یہی کرتے دیکھا ہے اور خدا نے ہمیں یہی حکم دیا ہے (اے ہمارے رسول!) ان سے کہہ دو کہ خدا (ہرگز) کبھی کسی کو بُرے کام کا حکم نہیں دیتا، آیا خدا کی طرف اس بات کی نسبت دیتے ہو جو نہیں جانتے؟! ۱۔ لفظ شاید پر ہمارا نوٹ پہلے بھی گزرچکا ہے جو ”لعل“ کا ترجمہ ہے، یہ لفظ جب اللہ اپنے لئے استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی ”تاکہ “کے ہوتے ہیں، نہ کہ ”شاید“ وہ کہتا ہے جس کو نتیجہ کا نہ علم ہو(مترجم) ۔ تفسیر