خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
Adopt [a policy of] excusing [the faults of people], bid what is right, and turn away from the ignorant.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:199
[Pooya/Ali Commentary 7:199]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:199-203
جامع اخلاقی ترین آیت
جامع اخلاقی ترین آیت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:قرآن مجید میں کوئی آیت اخلاقی مسائل میں اس آیت سے زیادہ جامع نہیں ہے ۔ (1) بعض علماء نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ہے کہ قوائے انسانی کے اصول تین ہیں: عقل، غضب اور شہوت اور اخلاقی فضائل بھی تین حصّوں میں ہیں: ۱۔ فضائل عقلی: جن کا نام ”حکمت“ ہے اور آیت میں ”وَاٴْمُرْ بِالْعُرْفِ“ میں ان کا خلاصہ کیا گیا ہے (یعنی نیک اور شائستہ کاموں کا حکم دے) ۲۔ فضائل جنسی: جو کہ طغیان اور شہوت کے مقابلے میں ہیں، انھیں ”عفّت“ کہتے ہیں اور زیرِ بحث آیت میں ”خذ العفو“ میں ان کی تلخیص کی گئی ہے ۔ ۳۔ قوتِ غضبیہ کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول کو ”شجاعت“ کہتے ہیں، اس کی طرف اشارہ ”وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْجَاھِلِینَ“ میں کیا گیا ہے ۔ مندرجہ بالا حدیث کی تشریح چاہے اس صورت میں کی جائے جیسے مفسرین نے کی ہے یا رہبر کی شرائط کی صورت میں جیسے ہم نے بیان کیا ہے، بہرحال اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ زیر نظر آیت میں مختصر اور اچھے انداز میں اخلاقی اور اجتماعی حوالے سے ایک جامع، وسیع اور ہمہ گیر پرورگرام پیش کیا گیا ہے، اس طرح سے کہ اس میں تمام مثبت اصلاحی امور اور انسانی فضائل مل سکتے ہیں، بعض مفسّرین کے بقول اس آیت میں جچے تلے انداز میں جس طرح سے معانی کی وسعت وگہرائی سمودی گئی ہے وہ اعجازِ قرآن کی مظہر ہے ۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضر وری ہے کہ آیت میں مخاطب اگرچہ پیغمبر اکرم ہیں لیکن آیت ساری امت اور تمام رہبروں اور مبلغوں کے بارے میں ہے ۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں مقام علم عصمت کے خلاف کوئی مطلب موجود نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اور معصوم ہستیوں کو بھی وساوسِ شیطانی کے مقابلے میں اپنے آپ کو سپردِ خدا کرنا چاہیے اور وساوسِ شیاطین کے مقابلے میں کوئی بھی خدا کے لطف اور حمایت سے بے نیاز نہیں ، یہاں تک کہ معصومین بھی ۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے اس کے بارے میں جبرئیل سے وضاحت چاہی (کہ لوگوں سے کس طرح سے نرمی برتی جائے اور سخت گیری نہ کی جائے) ۔ جبئیل نے کہا: میں تو نہیں جانتا، لازم ہے کہ میں سے سوال کروں جو جانتا ہے ۔ اس کے بعد جبرئیل دوبارہ نازل ہوئے اور کہا: یا محمد انّ اللّٰہ یاٴمرک اٴن تعفوا عمّن ظلمک وتعطی عمّن حرمک وتصل من قطعک یا محمد!خدا آپ کو حکم دیتا ہے کہ جنھوں نے آپ پر ظلم کیا ہے (جب آپ میں قدرت آجائے) تو ان سے انتقام نہ لیں اور درگزکردیں، جنھوں نے آپ کو محروم کیا ہے انھیں عطا کریں اور جنھوں نے آپ سے قطع رحمی کی ہے ان سے رحمی کریں(2) ایک اور حدیث میں ہے:جب یہ آیت نازل ہوئی اور پیغمبرخدا کوحکم دیا گیا کہ جاہلوں کے مقابلے میں تحمل کیجئے، تو پیغمبر نے عرض کیا: پروردگار! خشم وغضب کے ہوتے ہوئے کیسے تحمل کیا جاسکتا ہے؟ اس پر دوسری آیت نازل ہوئی اور پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ ایسے موقع پر اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیں(3) روی عن جدنا الامام جعفر الصادق رضی اللّٰہ عنہ.... یعنی ہمارے جد امام جعفر صادق رضی الله عنہ سے یوں نقل کیا گیا ہے.... اس نکتے کا ذکر بھی مناسب ہے کہ دوسری آیت بعینہ سورہٴ حٰم السجدہ کی آیت ۳۶ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ ”انّہ سمیع علیم“ کی جگہ وہاں پر ”انہ ہو السمیع العلیم“ ہے ۔ بعد والی آیت میں پشیطانی وسوسوں پر غلبے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: شیطان وسوسے جب پرہیزگار لوگوں کو گھیر لیتے ہیں تو وہ خدا کو یاد کرلیتے ہیں، اس کی لامتناہی نعمات کا ذکر کرتے ہیں اور گناہوں کے بُرے نتائج اور دود عذاب کو یاد کرتے ہیں تو اس وقت وسوسوں کے تاریک بادل اطرافِ قلب سے چھٹ جاتے ہیں اور وہ راہ حق کو دیکھتے ہیں اور اُسے ہی انتخاب کرلیتے ہیں(إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّھُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوا فَإِذَا ھُمْ مُبْصِرُونَ) ۔ ”طائف“ کا معنی ہے ”طواف کرنے والا“ گویا شیطانی وسوسے طواف کرنے والے کی طرح انسانی روح اور فکر کے مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں تاکہ نفوذ کرنے اور اندر جانے کا کوئی راستہ پالیں ۔ ایسے موقع پر اگر انسان خدا کو یاد کرے اور گناہوں کے برے نتائج پر نظر کرے تو انھیں دور کرکے رہائی حاصل کرلیتا ہے ورنہ آخر کاران وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے ۔ اصولی طور پر ہر شخص ایمان کے ہر عمر میں کبھی نہ کبھی شیطانی وسوسوں میں گرفتار رہتا ہے اور کبھی یوں محسوس کرتا ہے کہ خود اس کے اندر کوئی سخت محرک قوت پیدا ہوگئی ہے جو اسے گناہ کی طرف دعوت دے رہی ہے ۔ مسلم ہے کہ یہ وسوسے اور تحریکیں جوانی میں زیادہ ہوتی ہیں اور اسی طرح گناہ کے ماحول میں بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔ جیسے آجکل کے آلودہ معاشرں اور ماحول کہ جن میں فساد اخلاقی کے مراکز بہت زیادہ ہیں، ہر طرف بے قید و بند آزادی میسر ہے، نشرو اشاعت کے ادارے زیادہ تر شیطان کی خدمت میں مصروف ہیں اور شیطانی وسوسوں کی اشاعت کررہے ہیں ۔ ایسے حالات میں راہ نجات کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے ”تقویٰ“ کی جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے، اس کے بعد مراقبت ہے اور آخر میں اپنی طرف توجہ کرنا، خدا سے پناہ مانگتا، اس کے الطاف و نعمات کو یاد کرنا اور خطا کاروں کے دردناک عذاب کو یاد کرنا ہے ۔ روایات میں بارہا شیطانی وساوس کو دور کرنے کے لئے ذکر خدا کی گہری تاثیر کا تذکرہ ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ بہت سے صاحب ایمان علماء اور شخصیات ہمیشہ شیطانی وسوسوں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مراقبت کے ذریعے اپنا دفاع کرتے تھے ۔ (مراقبت علم اخلاق میں ایک تفصیلی موضوع ہے) ۔ اصولی طور پر نفس اور شیطان کے وسوسے بیماری کے جراثیم کی طرح ہیں جو ہر کسی میں مجود ہوتے ہیں لیکن وہ کمزور اور ناتوان گوشوں اور جسموں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ وہاں نفوذ کریں لیکن جن کا جسم صحیح یالم، قوی اور طاقت ورہے وہ ان جراثیم کے اثرات سے خود کو بچالیتے ہیں ”اذاہم مبصرون“ (یعنی یاد خدا کے وقت ان کی آنکھیں بینا ہوجاتی ہیں اور وہ حق کو دیکھ لیتے ہیں) یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شیطانی وسوسے انسان کی باطنی نگاہ پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور حالت یہ ہووجاتی ہے کہ راہ اور چاہ کی، دوست اور دشمن کی اور نیک اور بد کی پہنچان نہیں رہتی لیکن خدا کی یاد انسان کو بینائی اور روشنی بخشتی ہے اور اسے حقائق کی شناخت کی قدرت عطا کرتی ہے ۔ ایسی شناخت اور معرفت کے جس کے ذریعے انسان وسوسوں کے چنگل سے نجات پالیتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ پرہیزگار ذکر خدا کے سائے میں شیطانی وسوسوں سے رہائی حاصل کرتے ہیں لیکن یہ اس حالت میں ہے کہ جب گناہ آلودہ افراد جو شیطان کے بھائی ہیں اس کے دام اور جال میں گرفتار ہوں ۔ اگلی آیت میں قرآن اس بارے میں کہتا ہے: ان پر آپ نے جملے جاری رکھتے ہیں (وَإِخْوَانُھُمْ یَمُدُّونَھُمْ فِی الغَیِّ ثُمَّ لَایُقْصِرُونَ) ۔ ”اخوان“ شیاطین کے لئے کنایہ ہے اور ”ہم“ کی ضمیر مشرکوں اور گناہگاروں کے لئے ہے ۔ جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت ۲۷ میں ہے: <إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ”یمدونہم“”امداد“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے مددینا، دوام بخشنا اور اضافہ کرنا ۔ یعنی وہ اس راہ کی طرف ہمیشہ اور مسلسل انھیں کھینچتے رہتے ہیں اور آگے بڑھاتے رہتے ہیں ۔ ” لا یقصرون “ کا معنی ہے کہ شیاطین انھیں گمراہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے ۔ اس کے بعد مشرکوں اور گنہگاروں کی ایک جماعت کی حالت بیان کرتا ہے ۔ یہ لوگ منطق و استدلال سے دور ہیں فرمایا گیا ہے: جب ان کے سامنے قرآن کی آیات پڑھو تو وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور جب ان کے لئے کوئی آیت نہ لاؤ اور نزولِ وحی میں تاخیر ہوجائے تو کہتے ہیں کہ ان آیات کا کیا بنا، اپنی طرف سے کیوں نہیں بنالیتے ہیں، یہ سب خدا کی وحی تھوڑی ہیں (وَإِذَا لَمْ تَاٴْتِھِمْ بِآیَةٍ قَالُوا لَوْلَااجْتَبَیْتَھَا)(4) ۔لیکن ان سے ”کہہ دو کہ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے اور جو کچھ خدا نازل کرتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہتا“ (قُلْ إِنَّمَا اٴَتَّبِعُ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ مِنْ رَبِّی) ۔ یہ قرآن اور اس کی نورانی آیات پروردگار کی طرف سے بینائی اور بیداری کا ذریعہ ہیں کہ جو ہر آمادہ انسان کو بصارت، روشنی اور نور عطا کرتی ہیں (ھٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ) ۔ ”اور با ایمان اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے افراد کے لئے سرمایہ ہدایت اور رحمت ہے ۔“ اس آیت سے ضمنی طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی تمام گفتار اور کردار کا سرچشمہ وحی آسمانی تھی اور جو لوگ اس بات کے خلاف کچھ کہتے ہیں وہ در اصل قرآن سے ناواقف ہیں ۔ ۲۰۴ وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَاٴَنصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ. ۲۰۵ وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَخِیفَةً وَدُونَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَاتَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ. ۲۰۶ إِنَّ الَّذِینَ عِنْدَ رَبِّکَ لَایَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیُسَبِّحُونَہُ وَلَہُ یَسْجُدُونَ. ترجمہ ۲۰۴۔ جب قرآن پڑھا جائے تو کان دھر کر سنو اور خاموش رہوتا کہ رحمت خدا تمھارے شامل حال ہو۔ ۲۰۵ ۔ اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع اور خوف سے آہستہ اور آرام سے صبح و شام یاد کرو اور غافلیں میں سے نہ ہو جاؤ۔ ۲۰۶۔ وہ جو (مقام قرب میں) تیرے پروردگار کے نزدیک ہیں کسی حالت میں اس کی عبادت کے بارے میں تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے لئے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ 1۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں. 2۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں. 3۔ المنار کے موٴلف نے جلد ۹ صفحہ۵۳۸ پر یہ حدیث اس عنوان کے تحت درج کی ہے: 4۔ ”اجتناء“ ”جبایت“ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے حوض یا اس قسم کی چیز میں پانی جمع کرنا ۔ اس لئے حوض کو ”جابیة“ کہا جاتا ہے ۔ خراج کی جمع آوری کو بھی ”جبایت“ کہتے ہیں ۔ بعد ازاں کسی چیز کو انتخاب کے لئے جمع کرنے کو ”اجتباء“ کہا جانے لگا ۔ ” لو لا اجتبیتہا “ کا معنی ہے تو نے کیوں انتخاب نہیں کیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:199-203
شیطانی وسوسے
شیطانی وسوسے ان آیات میں تبلیغ اور لوگوں کی رہبری و پیشوائی کی شرائط جاذب نظر طریقے سے اور جچے تلے انداز میں بیاں کی گئی ہیں ۔ ان آیات کا مفہوم گذشتہ آیات سے بھی مناسبت رکھتا ہے جو کہ مشرکین کے لئے تبلیغ کے طور پر ہی تھیں ۔ پہلی آیت میں رسول خدا سے خطاب کی صورت میں رہبروں اور مبلغوں کے فرائض کے تین حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: لوگوں سے سخت گیری نہ کرو اور ان سے نرمی برتو، ان کے عذر قبول کرو اور وہ جتنی قدرت رکھتے ہیں ان سے اس سے زیادہ خواہش نہ کرو ( خُذْ الْعَفْوَ ) ۔ ”عفو“ بعض اوقات کسی چیز کی اضافی مقدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کبھی ”حدوسط“ کے مفہوم کے لئے آتا ہے، کبھی خطا کاروں کے عذر قبول کرنے اور انھیں بخش دینے کا معنی دینا ہے اور کبھی کاموں کو آسان سمجھنے کامفہوم لئے ہوتا ہے ۔ آیات کے قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ زیر نظر آیت بعض مفسرین کے قول کے برخلاف مالی مسائل اور لوگوں کے مال سے اضافی مقدار لینے سے کوئی ربط نہیں رکھتی بلکہ یہاں اس کے لئے مناسب مفہوم آسان سمجھنا، درگزر کرنا اور حدّوسط انتخاب کرنا ہی ہے ۔ (۱) واضح ہے کہ رہبر اور مبلغ اگر سخت گیر شخص ہوتو بہت جلد لوگ اس کے گردا گرد سے منتشر ہوجائیں گے اور دلوں میں اس کا نفوذ ختم ہوجائے گا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے: <وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِک اگر تم سخت گیر، بد اخلاق اور سنگدل ہوتے تو مسلم ہے کہ لوگ تمھارے ارد گرد پراگندہ ہوجاتے ۔ (آل عمران۔۱۵۹) اس کے بعد دوسرا حکم دیا گیا ہے: لوگوں کو نیک کاموں کا اور وہ کہ جنہیں عقل و خرد شائستہ قرار دے اور خدا ان کی نیکی اور اچھائی کے طور پر تعارف کروائے ، حکم دو ( وَاٴْمُرْ بِالْعُرْفِ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سخت گیری نہ کرنے مطلب ”سب اچھا“ اور خوشامد نہیں بلکہ رہبر اور مبلغ کو چاہیے کہ وہ حقائق پیش کرے اور لوگوں کو حق کی دعوت دے اور کوئی چیز فروگذاشت نہ کرے ۔ تیسرے مرحلے میں جاہلوں کے مقابلے میں تحمل وبردباری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جاہلوں سے رُخ موڑلو اور ان سے لڑو جھگڑو نہیں (وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْجَاھِلِینَ) ۔ جب کسی رہبر اور مبلغ کو ہٹ دھرم متعصب، جاہل اور کوتاہ فکر اور پست اخلاق افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو گالیاں سننا پڑتی ہیں تہمتیں لگتی ہیں، اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور اس پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ایسی صورت حال میں کامیابی کا طریقہ یہ نہیں کہ جاہلوں سے دست وگریباں ہوا جائے بلکہ بہترین راہ تحمل، حوصلہ اور چشم پوشی ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جاہلوں کی بیداری اور ان کے غضب، حس اور تعصّب کی آگ خاموش کرنے کے لئے یہ بہترین طریقہ ہے ۔ بعد والی آیت میں ایک اور حکم دیا گیا ہے جس میں در حقیقت رہبروں اور مبلغوں کے لئے ان کی چوتھی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ مقام ومنزلت، مال ودولت اور خواہشات وشہوت وغیرہ کی صورت میں شیطانی وسوسے ہمیشہ ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، شیطان اور شیطان صفت لوگ ان وسوسوں کے ذریعے انھیں ان کے راستے سے منحرف کرنے کے درپے رہتے ہیں ۔ قرآن حکم دیتا ہے: اگر شیطانی وسوسوے تیرا رخ کریں تو اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں دے دے، خود کو اُ س کے سپرد کردے اور اسی کے لطف سے مدد طلب کر کیونکہ وہ تیری بات سنتا ہے، تیرے اسرارِ نہاں سے آگاہ ہے اور شیطانوں کے وسوسوں سے باخبر ہے (وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ إِنَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ) ۔ (2) ۱۔ لفظ ”عفو“ کی مزید و وضاحت کے لئے تفسیر نمون جلد دوم (ص ۷۳۔ ۷۴ اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔ 2۔ ”یَنزَغَنَّکَ“ کا ”نزَغَ“ (بروزن ”نزَعَ“) ہے، اس کامعنی ہے کسی کام میں خرابی پیدا کرنا یا اس کی تحریک دین.