هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
It is He who created you from a single soul, and made from it its mate, that he might find comfort with her. So when he had covered her, she bore a light burden and passed [some time] with it. When she had grown heavy, they both invoked Allah, their Lord: ‘If You give us a healthy [child], we will be surely grateful.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:189
[Pooya/Ali Commentary 7:189] Refer to an Nisa: 1. Aqa Mahdi Puya says: There is a general reference to the creation of man, whether male or female, from a single source. They must live in peace and harmony with love and affection for each other. When a child is born to a mother, the parents vow to make the child a true servant of Allah if He gives them a goodly child, but neglect their duties when the child begins to grow. That is how polytheism took roots in human society.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:189-206
199. Therefore, take to overlook their short comings and advise them to virtue and turn away from the mischievous, 1. God states how He created, and latergenerationstarted associating with Him, others, who bear not power to help others or self. Rather, they are His creatures. 2. He then describes state of those whose hearts are sealed against guidance and inspite of appearing to see and hear are unable to grasp facts on guidance. 3. He then suggests golden way of tackling such persons to adopt forgiveness by over-looking their shortcomings by advice to virtue and avoid the mischievous and during excitement think of God, before action, praying His protection to avoid the situation, in safety. 4. Devil ruins them, who are of sealed hearts by persistent breting into them who adopt his society creating all kinds of doubts, misgivings, making them blind hearted,while they think themselves guided. 5. Be cool and hearing when the Glorious Gur’an is being read to obtain Divine grace. those who seek Divine Proximity, do not get tired at prahying, glorifying Him and prostrating to Him.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:189-193
ایک عظیم نعمت کا کفران
ایک عظیم نعمت کا کفران ان آیات میں مشرکین کے حالات اور طرزِ فکر کے ایک اور پہلو اور ان کے اشتباہ کا جواب دیا گیا ہے ۔ گذشتہ آیت میں سود وزیاں اور علم غیب سے آگاہی کو خدا میں منحصر قرار دیا گیا ہے اور در حقیقت خدا تعالےٰ کی توحید افعالی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، ، اب یہ آیات گذشتہ آیات کے مضمون کی تکمیل شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھی خدا کی توحیدِ افعالی کی طرف اشارہ ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اس کی بیوی کو اس کی جنس سے قرار دیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے (ھُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ إِلَیْھَا) ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے پہلو می آرام بخش زندگی گزار رہے تھے ”لیکن جب شوہر نے اپنی بیوی سے جنسی ارتباط کیا تو وہ ہلکے سے بوجھ سے حاملہ ہوگئی، ابتداء میں تو اس حمل سے کوئی مشکل پیدا نہ ہوئی اور حاملہ ہونے کے باوجود اپنے دوسرے کاموں کو جاری رکھے ہوئے تھی (فَلَمَّا تَغَشَّاھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیفًا فَمَرَّتْ بِہِ) ۔ (۱) لیکن جوں جوں روز وشب گزرے حمل کا بوجھ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اس نے بہت بوجھ محسوس کیا (فَلَمَّا اٴَثْقَلَتْ) ۔ اس وقت وہ دونوں ایک فرزند کے انتظار میں تھے اور ان آرزو تھی کہ خدا انھیں نیک فرزند عطا فرمائے لہٰذا وہ بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اپنے پروردگار کو اس طرح پکارا: بارالٰہا! اگر تونے ہمیں صالح اور نیک فذزند عطا کیا تو ہم شکرگزار میں سے ہوں گے (دَعَوَا اللهَ رَبَّھُمَا لَئِنْ آتَیْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِینَ) ۔لیکن جب خدا نے انھی صحیح وسالم اور باصلاحیت فرزند عطا کیا تو وہ اس نعمت کی عنایت میں خدا کے شرکاء کے قائل ہوگئے لیکن خدا ان کے شرک سے برتر وبالاتر ہے (فَلَمَّا آتَاھُمَا صَالِحًا جَعَلَالَہُ شُرَکَاءَ فِیمَا آتَاھُمَا فَتَعَالَی اللهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ) ۔ ۱۔ ”تغشاھا “ ”تغشیٰ “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے ڈھاپنا اور چھپانا ۔ یہ لفظ عربی زبان میں مباشرت کے لئے ایک لطیف اشارہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:189-193
ایک اہم سوال کا جواب
ایک اہم سوال کا جواب مندرجہ بالا آیات میں جن میاں بیوی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے وہ کون ہیں؟ اس سلسلے میں مفسّرین میں بہت اختلاف ہے ۔ کیا نفس واحدہ اور اس کی بیوی سے مراد آدم اور حوّا ہیں، جبکہ آدم نبی تھے اور حوّا ایک اچھی باایمان خاتون تھی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ راہِ توحید سے منحرف ہوکر راہِ شرک پر چل پڑے ہوں ۔ اور اگر آدم کے علاوہ کوئی اور مراد ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہے تو فقط ”واحدة“ سے یہ بات کیسے مناسبت رکھتی ہے؟ اس سے قطع نظر یہاں کس عمل یا فکر ونظر کو شرک قرار دیا گیا ہے ۔؟ ان باتوں کا جواب پیش خدمت ہے: ان آیات کی تفسیر میں ہمارے سامنے دو راستے ہیں، اس سلسلے میں مفسرین کی جو مختلف باتیں سامنے آئی ہیں شاید ان سب کی بنیاد انہی سے سمجھ میں آجائے ۔ ۱۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ”واحد“ سے مراد آیت میں ”واحد شخصی“ ہے، جیسا کہ بعض دوسری آیات میں بھی ہے ۔ مثلاً سورہٴ نساء کی پہلی آیت میں بھی ایسا ہی ہے(1) ”نفس واحدہ“ قرآنِ مجید میں پانچ مقامات پر آیا ہے، ایک زیر بحث آیت میں، دوسرا سورہٴ نساء کی پہلی آیت میں، تیسرا انعام آیہ۹۸ میں چوتھا لقمان آیہ۲۸ میں اور پانچواں زمر آیہ۶ میں ۔ ان میں سے بعض مقامات کا ہماری موجودہ بحث سے متعلق نہیں ہے البتہ بعض مقامات زیرِ بحث آیت کے مشابہ ہیں لہٰذا ”واحد شخصی“ کا مطلب یہ ہوگا کہ یہاں پر مختصر طور پر حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی بیوی کی طرف اشارہ ہے ۔ مسلّم ہے کہ اس صورت میں شرک سے مراد غیر خدا کی پرستش اور پروردگار کے علاوہ کسی کی الوہیت کا اعتقاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اس سے مراد بیٹے کی طرف ایک طرح میلان ہو کہ کبھی بعض میلانات بھی خدا سے غافل کردیتے ہیں ۔ ۲۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”واحد“ سے مراد یہاں ”واحد نوعی“ ہے یعنی خدا نے تم سب کو ایک ہی نوع سے پیدا کیا ہے اور تمھاری بیویوں کو بھی تمھاری جنس میں سے قرار دیا ہے ۔ اس صورت میں دونوں آیات اور بعد والی آیات نوعِ انسانی کی طرف اشارہ ہیں یعنی انسان بچے کی پیدائش کے انتظار کے دنوں میں تو بہت دستِ دعا بلند کرتے ہیں اور خدا سے نیک اور قابل اولاد کی خواہش کرتے اور ان لوگوں کی طرح جو مشکل اور خطرے کے وقت تو پورے خلوص سے بارگاہِ خداوندی کی طرف جاتے ہیں اور اس سے عہد کرتے ہیں کہ وہ حاجات پوری ہونے اور مشکلات حل ہونے کے بعد شکرگزار رہیں گے لیکن جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے یا ان کی مشکل حل ہوجاتی ہے تو تمام عہدوپیمان فراموش کردیتے ہیںکبھی کہتے ہیں کہ ہمار بیٹا اگر صحیح وسالم اور خبصورت ہے تو ماں باپ پر گیا ہے اور قانونِ وراثت کا تقاضا تھا، کبھی کہتے ہیں کہ ہماری غذا، طریقہ اور دیگر امور اور حالات سازگار اور اچھے تھے لہٰذا یہ انہی کا نتیجہ ہے اور کبھی ان بتوں کا رخ کرتے ہیں کہ جن کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے بچّے پر انہی کی نظرِ کرم تھی ۔ اسی طرح باتیں کرتے ہیں اور خلقتِ الٰہی کے تمام نقوش نظر انداز کردیتے ہیں، یہ لوگ اس نعمت کی علت وسبب عوامل طبیعی کو قرار دیتے ہیں یا پھر اسے اپنے بیہودہ معبودوں کا کرشمہ شمار کرتے ہیں ۔ (2) مندرجہ بالا آیات میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جو دوسر ی تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں مثلاً: ۱۔ آیات کی تعبیریں ایسے میاں بیوی کی حالت بیان کرتی ہیں جو پہلے سے کسی معاشرے میں رہتے تھے اور اچھی بری اولاد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے ۔ لہٰذا انھوں نے اپنے خدا سے اچھی اولاد کا تقاضا کیا اور اگر آیات آدم وحوّا سے متعلق ہوتیں تو ان کے ہاں تو ابھی بچہ ہی نہیں ہوا تھا اور ابھی صالح وغیر صالح اور اچھے برے کا وجود ہی نہ تھا کہ وہ خدا سے اپنے لئے اچھے بیٹے کی درخواست کرتے ۔ ۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسری آیت اور اس کے بعد والی آیات میں سب جمع کی ضمیریں ہیں، یہ چیز بتاتی ہے کہ تثنیہ کی ضمیر سے مراد دو گروہ تھے نہ کہ دو شخص۔ ۳۔ تیسری بات یہ ہے کہ بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ ان آیات میں شرک سے مراد بت پرستی ہے نہ کہ اولاد کی محبت وغیرہ اور یہ بات حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی زوجہ کے لئے روا نہیں ہے ۔ ان قرائن کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اُوپر والی آیت نوعِ انسانی اور شوہروں اور بیویوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہے ۔ جیسا کہ ہم ا س تفسیر کی تیسری جلد صفحہ۱۸۲ (اردو ترجمہ) میں اشارہ کر آئے ہیں ، انسان کی بیوی کا انسان سے پیدا ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اس کے لئے مرد کے بدن کا کوئی حصّہ الگ ہوکر بیوی بن گیا ہے(جیسا کہ بعض جعلی اور اسرائیلی روایت میں ہے کہ حوّا، آدم(علیه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں) بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی بیوی اس کی نوع سے ہے جیسا کہ سورہٴ روم کی آیہ۲۱ میں ہے: <وَمِنْ آیَاتِہِ اٴَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ اٴَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْھَا قدرتِ خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے تمھاری بیویاں نوع سے پیدا کی ہیں تاکہ ان سے سکون حاصل کرو۔ 1۔ تفسیر نمونہ، ج۳، ص۱۸۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔ 2۔ بعض مفسرین نے ابتدائے آیت کو حضرت آدم(علیه السلام) کے لئے اور ذیل آیت کو اولادِ آدم کے لئے قرار دیا ہے جو آیت کے ظاہری مفہوم سے کسی طرح سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور اصطلاح کے مطابق حذف اور تقدیر یا ضمیر کا مرجع کے غیر کی طرف پلٹانے کا محتاج ہے.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:189-193
ایک مشہور اور جعلی روایت
ایک مشہور اور جعلی روایت اہل سنّت کی بعض کتب میں اور کچھ غیر معتبر کتب میں مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے جو انبیاء(علیه السلام) کے بارے میں اسلامی عقائد سے کسی لحاظ سے بھی مناسبت نہیں رکھتی اور وہ یہ ہے: سمرہ بن جندب، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے حوالے سے بیان کرتا ہے: ”لمّا ولدت حوّاء طاف بھا ابلیس وکان لایعیش لھا ولد فقال سمیہ عبدالحارث فعاش وکان ذٰلک من وحی الشیطان واٴمرہ. یعنی جب حوّا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو شیطان اس کے چکر لگانے لگا اور اس سے پہلے حوّا کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، شیطان نے حوّا سے کہا: اس کا نام عبدالحارث رکھو (کیونکہ حارث شیطان کے ناموں میں سے ہے لہٰذا عبدالحارث کا معنی ہے شیطان کا بندہ) حوّا نے ایسا کیا اور وہ بچہ زندہ رہ گیا اور ایسا شیطان کی وحی اور حکم سے ہوا ۔ (1) اسی مضمون کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) بھی اس بات پر راضی ہوگئے تھے ۔ اس روایت کا راوی چاہے مشہور گذّاب سمرہ بن جندب یا کعب الاحبار اور وہب بن منبہ جیسے افراد جو یہودیوں کے مشہور لوگوں میں سے تھے اور پھر مسلمان ہوگئے اور بعض علماء اسلام کے نظریے کے مطابق تورات اور بنی اسرائیل کی خرافات یہی دونوں مسلمانوں میں لائے، بہرحال جو بھی ہو رایات کا مضمون خود ہی اس کے بطلان کی دلیل ہے کیونکہ آدم(علیه السلام) جو خلیفة الله اور خدا کے عظیم پیغمبر تھے اور علم الاسماء کے حامل تھے ۔ اگرچہ وہ ترک اولیٰ کی وجہ سے جنت سے زمین پر آئے تاہم وہ ایسی شخصیت نہ تھے کہ شرکِ کی راہ انتخاب کرتے اور اپنے بیٹے کا نام ”بندہٴ شیطان“ رکھتے، ایسا کام توصرف کسی بت پرست، جاہل، نادان اور بے خبر ہی کے شایانِ شان ہوسکتا ہے ۔ سا سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ روایت میں شیطان کا معجزہ اور کرامت بیان کی گئی ہے کہ اس بچّے کا نام جب اُس کے نام پر رکھا گیا تو گذشتہ تمام بچوں کے برخلاف زندہ رہا ۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ بعض گذشتہ مفسرین ایسی روایات سے اتنے متاٴثر ہوئے کہ انھیں تفسیر کے طورپر بیان کردیا ۔ بہرکیف یہ روایت چونکہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی لہٰذا اسے کسی ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے ۔ اس واقعہ کے بعد قرآن بت پرستی کی دوبارہ سخت الفاظ میں مذمّت کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا یہ لوگ کچھ ایسے موجودات کوخدا کا شریک قرار دیتے ہیں جو کوئی چیز پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے بلکہ وہ خود اس کی مخلوق ہیں (اٴَیُشْرِکُونَ مَا لَایَخْلُقُ شَیْئًا وَھُمْ یُخْلَقُونَ) ۔ علاوہ ازیں یہ جعلی معبود پیدا اپنے بچاریوں کی کسی بھی مشکل میں مدد نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ مشکلات میں خود اپنی مدد نہیں کرسکتے (وَلَایَسْتَطِیعُونَ لَھُمْ نَصْرًا وَلَااٴَنفُسَھُمْ یَنصُرُونَ) ۔ یہ معبود ایسے ہوتے ہیں کہ ”اگر تم انھیں ہدایت کرنا چاہو تو وہ تمھاری پیروی نہیں کریں گے یہاں تک کہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے“ (وَإِنْ تَدْعُوھُمْ إِلَی الْھُدیٰ لَایَتَّبِعُوکُمْ) ۔ جو ہادیوں کی پکار اور ندا کو بھی نہیں سنتے اور وہ دوسروں کی ہدایت کیسے کرسکتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے کے لئے ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور یہ کہ ”ھُمْ “کی ضمیر بت پرستوں اور مشرکوں کے لئے ہے یعنی ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم اور متعصّب ہے کہ انھیں جتنی بھی توحید کی دعوت دی جائے وہ اسے تسلیم اور قبول نہیں کرتے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اگر تم ان سے ہدایت کا تقاضا کرو تو اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا، بہرحال ”تمھارے لئے برابر ہے کہ انھیں دعوت حق دو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں ہٹ دھرم بت پرست اپنے رویّے سے دست بردار نہیں ہوںگے (سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اٴَدَعَوْتُمُوھُمْ اٴَمْ اٴَنْتُمْ صَامِتُونَ) ۔ دوسرے احتمال کے مطابق اس جملے کا معنی یہ ہے کہ: تمھارے لئے برابر ہے، چاہے بتوں سے کسی چیز کا تقاضا کرو چُپ رہو دونوں صورتوں میں نتیجہ منفی ہے کیونکہ بت کسی کی تقدیر میں کوئی اثر نہیں رکھتے اور کسی کی خواہش پوری کرسکتے ۔ فخرالدین رازی اس آیت کی تفسیرز میں لکھتے ہیں: مشرکین جب کسی مشکل میں پھنس جاتے تھے تو بتوں کے سامنے فریاد کرتے اور جب انھیں کوئی مشکل درپیش نہ ہوتی تو خاموش رہتے، قرآن ان سےکہتا ہے: چاہے ان کے سامنے تضرع وزاری کرو یا چُی رہو، دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ۱۹۴ إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اٴَمْثَالُکُمْ فَادْعُوھُمْ فَلْیَسْتَجِیبُوا لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ. ۱۹۵ اٴَلَھُمْ اٴَرْجُلٌ یَمْشُونَ بِھَا اٴَمْ لَھُمْ اٴَیْدٍ یَبْطِشُونَ بِھَا اٴَمْ لَھُمْ اٴَعْیُنٌ یُبْصِرُونَ بِھَا اٴَمْ لَھُمْ آذَانٌ یَسْمَعُونَ بِھَا قُلْ ادْعُوا شُرَکَائَکُمْ ثُمَّ کِیدُونِی فَلَاتُنظِرُونِِ. ترجمہ ۱۹۴۔ جنھیں وہ خدا کے علاوہ پکارتے ہیں (اور جن کی پرستش کرتے ہیں) تمھاری طرح کے بندے میں، اگر سچّے ہو تو انھیں پکارو تو انھیں چاہیے کہ وہ تمھیں جواب دیں (اور تمھارے تقاضوں کو پورا کریں) ۔ ۱۹۵۔ کیا وہ (کم ازکم خود تمھاری طرح) پاؤں رکھتے ہیں کہ جن کے ساتھ چلیں پھریں یا ہاتھ رکھتے ہیں کہ جن چیز اٹھا سکیں (اور کوئی کام انجام دے سکیں) یا کیا وہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھ سکیں یا ان کے کان ہیں کہ ان سے سن سکیں (نہیں ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں) کہہ دو: (اب جبکہ ایسا ہے تو) ان بتوں کو جنھیں تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے، (میرے برخلاف) انھیں پکارو اور میرے خلاف سازش اور مکروفریب کرو اور لحظہ بھر کی مہلت نہ دو (تاکہ تمھیں معلوم ہوجائے کہ ان سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا) ۔ 1۔ المنار، ج۹، بحوالہٴ مسند احمد.