قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
Say, ‘I have no control over any benefit for myself, nor [over] any harm except what Allah may wish. Had I known the Unseen, I would have acquired much good, and no ill would have befallen me. I am only a warner and bearer of good news to a people who have faith.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:188
[Pooya/Ali Commentary 7:188] The Holy Prophet had to pronounce these words, lest his followers may deify him as the followers of Isa made him god or son of God. It should be remembered that he was the last prophet of Allah, so he could not leave behind the slightest possibility of this nature. He was a nadhir (warner) to the sinners-the eternal punishment they will be afflicted with in the hereafter. He was a bashir (giver of glad tidings) to the virtuous-the reward of eternal happiness they will enjoy in the hereafter.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:188
کیا پیغمبر غیب نہیں جانتے تھے؟
کچھ لوگ جن کا مطالعہ محدود ہے اور جو کسی ایک آیت کو فقط سطحی طورپر دیکھتے ہیں اور دوسری آیاتِ قرآن کو نگاہ میں نہیں رکھتے بلکہ خود اسی آیت میں موجود تمام قرائن پر توجہ نہیں دیتے، فیصلہ کردیتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت کو بھی ایسے لوگوں نے انبیاء کرام(علیه السلام) سے علم غیب کی مطقاً نفی کی دلیل سمجھا ہے ۔ حالانکہ یہ آیت پیغمبر سے علم بالذات ومستقل کی نفی کرتی ہے جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں نفع ونقصان کا مالک ہے ۔ لہٰذا قبل کا جملہ گواہ ہے کہ سود وزیاں کی مالکیت کی نفی یا علم غیب کی نفی سے نفیٴ مطلق مراد نہیں ہے بلکہ ہدف نفیٴ استقلال ہے، دوسرے لفظوں میں پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں جانتے تھے بلکہ جو کچھ خدا نے غیب اور اسرار نہاں سے انھیں عطا کیا تھا وہ اسے جانتے تھے، جیسا کہ سورہٴ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے: <عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہِ اٴَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ خدا تمام امورِ غیب سے آگاہ ہے اور وہ کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جن سے وہ راضی ہے ۔ اصول طور پر مقام رہبری کی تکمیل کے لئے اور بالخصوص ایک عالمی قیادت کے لئے تمام مادی وروحانی امور میں، بہت سے مسائل سے آگاہی ضروری ہے ۔ قیادت کے اس مرتبے کے لئے بہت سے ایسے امور سے واقفیت ضروری ہے جو دوسرے لوگوں سے پوشیدہ ہیں ۔ ایسے رہبر کے لئے نہ صرف احکام وقوانین کا علم ضروری ہے بلکہ جہان ہستی کے اسرار، انسانی عمارت کے امور اور ماضی ومستقبل کے حوادث کا علم کچھ خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے نمائندوں کوعطا کرتا اور اگر نہ کرے تو ان کی رہبری کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ باالفاظ دیگر کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ اسرارِ غیب سے بالکل آگاہ نہ ہوں تو ان کے اقدامات اور گفتگو زمان ومکان میں محدود ہوکر رہ جائیں گے اور ان کا قول وعمل ایک دور اور ایک ماحول میں مقید ہوجائے گا لیکن اگر وہ اسرارِ غیب میں سے ایک حصّہ پر مطلع ہوں تو وہ پروگراموں کی اس طرح تشکیل دیں گے کہ وہ آنے والے اور دوسرے حالات ومقتضیات میں موجود لوگوں کے لئے بھی مفید اور کافی وافی ہوں گے ۔ ”غیب کی آگاہی“ کے سلسلے میںمزید توضیح تفسیر نمونہ جلد۵ صفحہ۲۰۶ پر ملاحظہ کیجئے ۔ ۱۸۹ھُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ إِلَیْھَا فَلَمَّا تَغَشَّاھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیفًا فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا اٴَثْقَلَتْ دَعَوَا اللهَ رَبَّھُمَا لَئِنْ آتَیْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِینَ. ۱۹۰ فَلَمَّا آتَاھُمَا صَالِحًا جَعَلَالَہُ شُرَکَاءَ فِیمَا آتَاھُمَا فَتَعَالَی اللهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ. ۱۹۱ اٴَیُشْرِکُونَ مَا لَایَخْلُقُ شَیْئًا وَھُمْ یُخْلَقُونَ. ۱۹۲ وَلَایَسْتَطِیعُونَ لَھُمْ نَصْرًا وَلَااٴَنفُسَھُمْ یَنصُرُونَ. ۱۹۳ وَإِنْ تَدْعُوھُمْ إِلَی الْھُدیٰ لَایَتَّبِعُوکُمْ سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اٴَدَعَوْتُمُوھُمْ اٴَمْ اٴَنْتُمْ صَامِتُونَ. ترجمہ ۱۸۹۔وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کی بیوی کو اس کی جنس (اور نوع) سے قرار دیا ہے تاکہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ اس کے بعد وہ اس سے نزدیک ہوا تو وہ ایک ہلکے سے (بوجھ کے ساتھ) حاملہ ہوگئی کہ جس کے ہوتے ہوئے وہ اپنے پروردگار سے دعا کی (کہ انھیں نیک اور صالح فرزند عطا کرے اور عرض کیا) کہ اگر تو نے ہمیں نیک فرزند عطا کیا تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوں گے ۔ ۱۹۰۔پس جب اس نے انھیں نیک بیٹا عطا دیا (تو انھوں نے دوسرے موجودات کو اس میں موٴثر سمجھا اور) خدا نے انھیں جو نعمت بخشی تھی اس کے لئے شرکاء کے قائل ہوگئے اور جسے اس کا شریک قرار دیا جائے خدا اس سے برتر ہے ۔ ۱۹۱۔کیا ایسے موجودات کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود مخلوق ہیں ۔ ۱۹۲۔اور نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں ۔ ۱۹۳۔اور جب انھیں ہدایت کی طرف دعوت دو تو تمھاری پیروی نہیں کرتے ۔ ان کے لئے اس میںکوئی فرق نہیں، چاہے انھیں دعوت دو یا خاموش رہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:188
پوشیدہ اسرار صرف خدا جانتا ہے
شان نزول بعض مفسرین نے مثلاً مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے پیغمبر اسلام سے کہا کہ اگر تم خدا سے ارتباط رکھتے ہو تو کیا تمہارا پروردگار آئندہ اجناس کی قیمتوں میں ہونے والی کمی بیشی سے باخبر نہیں کرتا تا کہ اس طرح سے تم اپنے فائدے میں جو کچھ ہو اسے مہیا کرلو اور جو کچھ تمھارے نقصان میں ہو اس سے بچ جاؤ یا پھر وہ تمھیں مختلف علاقوں کی خشک سالی یا سیرابی سے آگاہ نہیں کرتا تاکہ خشک سالی کے دوران پر برکت زمینوں کی طرف کوچ کرجاؤ اس موقع پر زیر نظر آیت نازل ہوئی ۔ پوشیدہ اسرار صرف خدا جانتا ہے اس آیت کے لئے بھی اگر چہ ایک خاص شان نزول مذکورہے تا ہم گذشتہ آیت سے اس کا ارتباط واضح ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں اس سلسلے میں تھی کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور زیر نظر آیت میں علم غیب کی خدا کے علاوہ کسی کے لئے کاملاً نفی کی گئی ہے ۔ پہلے جملے میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ اپنے بارے میں میں کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر وہ کہ جو خدا چاہے (قُلْ لَااٴَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَاضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) ۔ اس میں شک نہیں کہ ہر شخص اپنے لئے نفع حاصل کرسکتا ہے یا ضرر اپنے سے دور کرسکتا ہے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں مطلقاً ہر بشر کی اس قدرت کی نفی کی گئی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ درحقیقت انسان اپنے کاموں کے لئے اپنی طرف سے کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتا بلکہ تمام قدرتیں خدا کی طرف سے ہیں اور وہی ہے جس نے یہ قدرتیں انسانی اختیار میں دی ہیں ۔