يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
They question you concerning the Hour, when will it set in? Say, ‘Its knowledge is only with my Lord: none except Him shall manifest it at its time. It will weigh heavy on the heavens and the earth. It will not overtake you but suddenly.’ They ask you as if you were in the know of it. Say, ‘Its knowledge is only with Allah, but most people do not know.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:187
[Pooya/Ali Commentary 7:187] Isa also gave a similar reply when asked about the end of this world and the day of judgement. "But about that day and hour no one knows, not even the angels in heaven, not even the son; only the Father." (Matthew 24: 36 and Mark 13: 32) Aqa Mahdi Puya says: About the sa-at (hour) and "when will be its appointed time" the Quran says that none knows it save Allah. See Nazi-at 42 to 44. "To your Lord is the end of it" says verse 44 of an Nazi-at. The word sa-at refers to the end of the creatures' striving unto their destiny. The destiny is fixed. It may be individual or collective. There are many grades also. It is a relative term applicable to resurrection or destiny of an individual, or a community or any part of the universe. Many worlds have been created and reached their destinies and experienced their resurrections. There are many worlds which are in the early stages of becoming, and many are drawing to their end. So no finite being knows the hour of termination. Allah is the end, unto Him everything is journeying and to Him everything shall return. He is free and independent of the application of time and space, because they are finite, applicable only to dimensional beings. The resurrection is beyond dimensions. The fact of coming of the final hour is a certainty. The appointed time is not known to finite beings. Our duty is to be prepared for it at all times.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:187
قیامت کب برپا ہوگی؟
قیامت کب برپا ہوگی؟ جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے(۱) قریش نے چند آدمیوں کو مامور کیا کہ وہ نجران جائیں اور یہودی علماء سے ملیں (کیونکہ عیسائی کے علاوہ نجران میںیہودی بھی آباد تھے) ان کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان سے پیچیدہ قسم کے سوالات پوچھ آئیں تاکہ وہ سوالات پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کی خدمت میں پیش کئے جاسکیں (ان کا گمان تھا کہ رسولِ خدا ان کے جواب نہ دے پائیں گے) ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قیامت کب برپا ہوگی ۔ جب انھوں نے یہ سوال رسول الله سے کیا تو زیرِ نظر آیت کے ذریعے اُنھیں جواب دیا گیا(۲) تفسیر اگرچہ آیت کے لئے مخصوص شان نزول بیان کی گئی ہے تاہم یہ قبل کی آیات سے واضح طور سے وابستہ ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں مسئلہ قیامت کا ذکر تھا اور ساتھ اس کے لئے تیاری کو لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے، فطری طور پر ایسی بحث کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کب آئے گی لہٰذا قرآن کہتا ہے: تجھ سے ساعت (روزقیامت) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی (یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ السَّاعَةِ اٴَیَّانَ مُرْسَاھَا) ۔ لفظ ”ساعت“ اگرچہ ”دنیا سے جانے کے آخری وقت“ کے مفہوم میں بھی آتا ہے لیکن زیادہ تر اور بقول بعض ہمیشہ قرآن مجید میں ”قیام قیامت“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، خاص طور پر اس سلسلے میں تاکید کرنے والے کچھ قرائن بھی ہیں جن کا ہم اس بحث کے ضمن میں ذکر کریں گے: مثلاً شانِ نزول کا جملہ ”متیٰ تقوم الساعة“ (یعنی قیامت کب برپا ہوگی) ۔ لفظ ”ایّان“، ”متی“ کے مساوی ہے اور زمانے کے بارے میں سوال کے لئے ہے ۔ ”مرسیٰ“ اصطلاح کے مطابق مصدر میمی ہے ”آرساء“ کا ہم معنی ہے اور کسی چیز کے اثبات یا وقوع کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اسی لئے مستحکم اور ثابت پہاڑوں کو جبال راسیات کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا ”اٴَیَّانَ مُرْسَاھَا“کا مفہوم ہے ”قیامت کس زمانے میں وقوع پذیر اور ثابت ہوگی“۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! اس سوال کے جواب میں صراحت سے کہہ دو کہ یہ علم صرف پروردگار کے پاس ہے اور اس کے علاوہ کوئی اس وقت کا ظاہر نہیں کرسکتا (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّی لَایُجَلِّیھَا لِوَقْتِھَا إِلاَّ ھُوَ) ۔ لیکن سربستہ طور پر اس کی دو نشانیاں ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قیامت کا برپا ہونا آسمانوں اور زمین میں ایک سخت معاملہ ہے (ثَقُلَتْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔اس سے سنگین اور سخت حادثہ اور کونسا ہوسکتا ہے کیونکہ آستانہٴ قیامت میں تمام آسمانی کرات ریزہ ریزہ ہوکر گرپڑیںگے، آفتاب بے نور ہوجائے گا، ماہتاب تاریک ہوجائے گا، ستارے اپنی روشنی سے محروم ہوجائیں گے اور ذرّارت عالم ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے ۔ ان میں سے جو کچھ بچے گا اس سے ایک نیا جہان معرضِ وجود میںآئے گا ۔ (3) پھر ارشاد ہوتا ہے: تجھ سے یوں پوچھتے ہیں گویا تو قیامت کے زمانہٴ وقوع سے باخبر ہے (یَسْاٴَلُونَکَ کَاٴَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَا) ۔ (4) مزید ارشاد ہوتا ہے: ان کے جواب میں ”کہو کہ یہ علم صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت سے آگاہی نہیں رکھتے“ کہ یہ علم اس ذاتِ پاک سے مخصوص ہے لہٰذا پے درپے اس کے متعلق سوال کرتے ہیں (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللهِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ) ۔ ہوسکتا ہے یہ سوال کیاجائے کہ یہ علم ذاتِ خدا سے کیوں مخصوص ہے اور کیوں کسی کو یہاں تک کہ انبیاء کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وقوعِ قیامت سے عدم آگاہی سے اس کے عظیم موقع کے ناگہانی ہونے کا مقصد حاصل ہوتا ہے تاکہ لوگ کسی وقت بھی قیامت کو دور نہ سمجھیں اور ہمیشہ اس کے انتظار میں رہیں اور اس طرح سے اس موقع پر اپنے آپ کو نجات دلانے کے لئے تیار رہیں ۔ یہ عدم آگاہی تربیت نفوس، ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہونے اور گناہ سے پرہیز کرنے کے لئے مثبت اور واضح طور پر موٴثر ہے ۔ ۱۸۸قُلْ لَااٴَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَاضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ وَلَوْ کُنتُ اٴَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِی السُّوءُ إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ. ترجمہ ۱۸۸۔ کہہ دو: میں اپنے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو کچھ خدا چاہے (اور پوشیدہ و غیب اسرار سے بھی باخبر نہیں ہوں مگر وہ کہ جس کا خدا ارادہ کرے) اور اگر میں غیب سے باخبر ہوتا تو اپنے لئے بہت سے منافع فراہم کرلیتا اور مجھے کوئی برائی (اور نقصان) نہ پہنچتا ۔ میں تو صرف ایمان لانے والوں کے لئے (عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا اور (اس کی عظیم جزاؤں کی) خوشخبری دینے والا ہوں ۔ ۱۔ تفسیر برہان: ج۲، ص۵۴. ۲۔ بعض مفسرین (مثلاً مرحوم طبرسی) نے اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ذکر کی ہے کہ وہ خدمت پیغمبر میں آئے اور انھوں نے قیامت کے متعلق سوال کیا لیکن سہ سورت چونکہ مکّہ میں نازل ہوئی ہے اور وہاں پیغمبر اکرم کا یہودیوں سے سابقہ نہیں پڑتا تھا لہٰذا یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے ۔ 3۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے مراد یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں جاننا اور آگاہی حاصل کرنا اہلِ آسمان وزمین کے لئے ثقیل اور بوجھل ہے ۔ لیکن حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے کیونکہ لفظ ”علم“ اور ”اھل“ کو محذوف مانن آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ۔ 4۔ ”حفی“ اصل میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو پے درپے کسی چیز سےمتعلق سوال کرے اور اصرار سے اس کے پیچھے پڑا رہے اور چونکہ سوال میں اصرار انسان کے علم میں پیش رفت کا باعث ہوتا ہے اس لئے کبھی یہ لفظ ”عالم“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔