وَمِن قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ
Among the people of Moses is a nation who guide [the people] by the truth and do justice thereby.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:159
[Pooya/Ali Commentary 7:159] Incidents in Jewish history have been referred to in many verses of the Quran. Here they have special reference to their bearing when Islam was preached. See commentary of al Baqarah: 60 for water gushed forth from the rock for the twelve tribes of the Jews when Musa used his staff as directed by Allah. See commentary of al Baqarah: 57 for the shades of clouds and manna and quails. See commentary of al Baqarah: 57 for the injustice they had done to themselves; and al Baqarah: 58 for entering the gate bowing; and al Baqarah: 59 for wrongfully changing the words; and al Baqarah: 65 for exceeding the limits of the Sabbath.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:159-160
بنی اسرائیل پر الله کی نعمتوں کی ایک جھلک
بنی اسرائیل پر الله کی نعمتوں کی ایک جھلک ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل اور ان کی سرگزشت کی ذکرہوا ہے ۔ پہلی آیت میں ایک ایسی واقعیت کی طرف اشارہ ہے جس کی شبیہ اور مثل ہم قرآن میں دیکھ چکے ہیں،یہ ایک ایسی واقعیت ہے جو قرآن کریم کی روحِ حق طلبی کی حکایت کرتی ہے یعنی نیک کردار اقلیتوں کا پاس ولحاظ یعنی: ایسا نہ تھا کہ بنی اسرائیل تمام کے تمام فاسد ومفسد تھے جس کے نتیجے میں یہ قوم ایک سرکش وگمراہ قوم کی حیثیت سے پہچانی جائے، بلکہ ان کی فتنہ انگیز اکثریت کے مقابلے میں ان کی ایک ایسی اقلیت بھی تھی جو صالح تھی اور وہ اکثریت کے مذاق کے برخلاف تھی، قرآن اس صالح اقلیت کے لئے ایک خاص اہمیت کا قائل ہے، وہ کہتا ہے: اور قومِ موسیٰ میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور حق وعدالت کے ساتھ حاکم ہے (وَمِنْ قَوْمِ مُوسیٰ اٴُمَّةٌ یَھْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ) ۔ ممکن ہے اس آیت کے ذریعے ان تھوڑے سے افراد کی طرف اشارہ مقصود ہو جنھوں نے سامری کے حکم سے سرنہیں جھکایا تھا بلکہ وہ ہرحال میں حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے پیغام کے حامی وطرفدار تھے، یا اس سے وہ صالح گروہ مراد ہو جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے بعد برسرِ عمل آیا ۔ لیکن یہ معنیٰ آیت کے ظاہر سے بہت زیادہ مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ ”یھدون“ اور ”یعدلون“ فعل مضارع کے صیغے ہیں جو کم از کم زمانہٴ حال یعنی زمان نزولِ قرآن کی حکایت کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسا گروہ اس وقت بھی موجود تھا، الّا یہ کہ یہاں پر ایک لفظ ”کان“ کو مقدر مانا جائے تاکہ اس آیت کا مطلب حال کے بدلے ماضی میں ہوجائے مگر ہمیں معلوم ہے کہ بغیر کسی قرینہ کے کسی لفظ کو عبارت میں مقدر کرنا خلافِ ظاہر ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم سے مراد زمانہٴ حضرت رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم کے زمانہ کے وہ انصاف پسند یہودی ہوں جنھوں نے آنحضرت کی دعوت پر توجہ دی اور بعدمیں وہ آہستہ آہستہ مسلمان ہوتے چلے گئے، یہ تفسیر اس آیت کے الفاظ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ اب رہی یہ بات کہ بعض شیعہ اور سنّی روایات میں جو آیا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کا وہ چھوٹاسا گروہ ہے جو ماوراء چین میں زندگی بسر کرتا ہے، یہ لوگ عادلانہ، تقویٰ اور خدا سناشی اور خدا پرستی کی زندگی بسر کرتے ہیں، یہ تفسیر علاوہ اس کے کہ ہمارے اس علم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی جو ہمیں دنیا کے متعلق حاصل ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے، مذکورہ احادیث سند کی رُو سے بھی معتبر نہیں ہیں اس لئے ایسی روایات کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ہے ۔ اس کے بعد آیت میں ان چند نعمتوں کا ذکر ہے جو الله نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھیں: پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ گروہوں میں تقسیم کیا (وَقَطَّعْنَاھُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اٴَسْبَاطًا اٴُمَمًا) ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جب ایک قوم کی تقسیم بندی انتظامی طور پر کی جائے جس کا ہر حصّہ یا ہر گروہ ایک لائق رہبر کے زیر انتظام بھی ہو تو اس کی نگہداشت وتربیت زیادہ آسان ہوجاتی ہے اور ان کے درمیان عدالت وانصاف کرنا بھی سہل ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تمام ممالک اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اس قاعدہ کی پیروی کریں ۔ کلمہ ”اسباط“ جمع ہے ”سبط“ (بروزن ”ثبت“ اسی طرح بروزن ”سفت“) کی جس کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کو بآسانی وسعت دینا، بعد ازاں اس لفظ کو اولادِ انسانی کی ایک خاص قسم یعنی نواسہ کو کہا جانے لگا، نیز خداندان کے دوسرے شعبوں کو بھی سبط یا اسباط کہا جاتا ہے ۔ بنی اسرائیل کو ملنے والی دوسری نعمت یہ تھی کہ وہ جس وقت اس تپتے ریگستان میں بیت المقدس کی طرف سفر کررہے تھے اور انھیں خطرناک اور جان لیوا تشنگی نے آلیا اور انھوں نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) سے پانی طلب کیا تو ”ہم نے موسیٰ کی طرف یہ وحی کی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو، انھوں نے جب یہ عمل کیا تو ناگہاں اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے“ (وَاٴَوْحَیْنَا إِلیٰ مُوسیٰ إِذْ اسْتَسْقَاہُ قَوْمُہُ اٴَنْ اضْرِب بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا) ۔ اور یہ چشمے اس طرح سے ان کے درمیان تقسیم کردیئے گئے کہ ان میں سے ”ہر ایک بخوبی اپنے چشمے کو جانتا پہچانتا تھا“ (قَدْ عَلِمَ کُلُّ اٴُنَاسٍ مَشْرَبَھُمْ) ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بارہ چشمے جو اس عظیم پتھر سے نمودار ہوئے تھے، آپس میں الگ الگ نشانیاں رکھتے تھے اور ایک دوسرے سے مختلف تھے جس کی بناپر بنی اسرائیل کے قبائل میںسے ہر ایک اپنے چشمے کو پہچانتا تھا، اور یہ یہ بجائے خود اس بات کا سبب تھا کہ بنی اسرائیل آپس میں اختلاف نہ کریں ۔ان میں آپس کا نظم وانضباط برقرار ہے اور وہ آسانی کے ساتھ سیراب ہوجائیں ۔ ایک اور نعمت الله کی طرف سے ان کو ملی تھی جبکہ وہ انتہائی گرم اور جھلسانے والے بیابان میں سرکردان تھے اور ان کے لئے سر چھپانے کی کوئی پناہگاہ نہ تھی ”کہ ہم نے ان کے اوپر بادل سایہ فگن کیا“ (وَظَلَّلْنَا عَلَیْھِمْ الْغَمَامَ) ۔ بالآخر چوتھی نعمت ان کے لئے یہ تھی کہ ”من وسلویٰ کو دو لذیذ اور مقوی غذاؤں کے طور پر ان کے لئے بھیجا تھا(وَاٴَنزَلْنَا عَلَیْھِمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی) ۔ ”من وسلویٰ“ ان دو دل پسند غذاؤں (جو الله نے اس بیابان میں بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھیں) کے بارے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں بیان کی ہیں جنھیں ہم اسی کتاب کی جلد اوّل میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۷ کی تفسیر میں بیان کرآئے ہیں، وہاں ہم نے کہا ہے کہ یہ بات بعید نہیں کہ ”مَن“ ایک طرح کا شہد تھا جو اطراف کے پہاڑوں میں پایا جاتا تھا، یا مخصوص درختوں کا شیرہ تھا جو اسی بیابان کے درختوں سے نکلتا تھا اور ”سلویٰ“ کبوتر کی طرح کا ایک پرندہ تھا ۔ (۱) اور ہم نے ان سے کہا کہ ”جو پاک وپاکیزہ غذائیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ (اور خدا کے فرمان پر چلو) (کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ) ۔ لیکن انھوں نے کھایا اور ناشکری کی، ان لوگوں نے ”ہم پر ستم نہیں کیا بلکہ خود اپنی جانوں پر ستم ڈھایا“ (وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِنْ کَانُوا اٴَنفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ) ۔ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اس آیت کا مضمون تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورہٴ کی آیت ۵۷ و۶۰ میں بھی گزرچکا ہے اِلّا یہ کہ وہاں پر بجائے ”انبجست“کے ”انفجرت“ آیا ہے اور جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان دونوں لفظوں میں فرق یہ ہے کہ ”انفجرت“کے معنی زیادہ پانی کے زور کے ساتھ پھوٹنے کے ہیں، جبکہ ”انبجست“ کے تھوڑے پانی کے باہر نکلنے کے ہیں، اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ چشمہ یک بیک زور اور کثرت کے ساتھ باہر نہیں پڑا ورنہ اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا اور لوگ گھبرا جاے بلکہ وہ پہلے آہستہ آہستہ اور کم مقدار میں نمایاں ہوا پھر اس کے بعد زور اور مقدار میں اضافہ ہوا، جبکہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ دونوں کلمے ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ ۱۶۱ وَإِذْ قِیلَ لَھُمْ اسْکُنُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ.br / ۱۶۲ فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَھُمْ فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ. ترجمہ ۱۶۱۔ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ان لوگوں سے یہ کہا گیا کہ اس قریہ (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور ہر جگہ سے (اور ہر طرح سے) جیسا چاہو کھاؤ (اور فائدہ حاصل کرو) اور یہ کہو کہ بارالٰہا! ہمارے گناہوں کو گرادے، اور دروازہٴ (بیت المقدس) میں تواضع وفرتنی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، اگر ایسا کروگے تو میں تمھارے گناہوں کو بخش دوںگا اور نیک کام کرنے والوں کا صلہ زیادہ کروںگا ۔ ۱۶۲۔ لیکن ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے (اپنے اوپر) ظلم وستم کیاتھا، انھوں نے اس بات (اور طے شدہ پروگراموں) کو الٹ پلٹ کردیا اور جو بات ان سے کہی گئی تھی انھوں نے اس کے خلاف کیا، لہٰذا جو ستم انھوں نے کیا تھا ہم نے اس کی وجہ سے ان پر آسمان سے بَلا نازل کی ۔ ۱۔ ”من وسلویٰ“ کے بارے میں مزید توضیح کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ، جلد اوّل سورہٴ بقرہ آیت ۵۷ کے ذیل میں.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:159-160
تفسیر
پچھلی آیات کا تسلسل باقی رکھتے ہوئے، ان دو آیتوں میں بھی پروردگارِ عالم نے بنی اسرائیل کے لئے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ انھوں نے اپنی سرکشی اور طغیان کے ذریعے کسی طرح اس کا بدلہ دیا ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ اس سرزمین (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور وہاں کی بکثرت نعمتوں سے، ہر جگہ سے جس طرح چاہو استفادہ کرو (وَإِذْ قِیلَ لَھُمْ اسْکُنُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ) ۔ اور ہم نے ان سے کہا ”خداسے اپنے گناہوں کے جھڑنے اور اپنی خطاؤں کے بخشے جانے کی درخواست کرو اور بیت المقدس میں بڑی فروتنی کے ساتھ داخل ہوجاؤ (وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا) ۔ ”پس اگر تم نے اس بات پر عمل کیا تو ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے اور تم میں سے جو نیکوکار ہیں انھیں بہتر بدلہ عطا کریں گے“ (نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ) ۔ لیکن باوجودیکہ الله کی رحمت کے دروازے ان پر کھول دیئے گئے تھے اور انھیں اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس موقع سے استفادہ کریں تو اپنے گذشتہ اور آئندہ اعمال کی اصلاح کرلیں مگر بنی اسرائیل کے ظالموں نے نہ صرف یہ کہ اس موقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ انھوں نے فرمانِ پروردگار کے برعکس عمل کیا (فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَھُمْ) ۔ ”آخرکار ان کی اس نافرمانی اور اپنی حانوں پر ستم کرنے کی وجہ سے ہم نے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا“ (فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ) ۔ اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ ان دونوں آیتوں کا مضمون بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۸ اور ۵۹ میںآچکا ہے اور اس کی تفسیر بھی ہم شرح وبسط کے ساتھ وہاں بیان کرچکے ہیں(۱) دونوں مقامات پر جو فرق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ یہاں پر آخر میں فرمایا گیا ہے: ”بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ“ اور وہاں ارشاد ہوا ہے: ”بِمَا کَانُوا یَفْسقُونَ“اور شاید ان دونوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ گناہوں کے دو رخ ہوتے ہیں، ایک وہ جس کا تعلق خدا سے ہوتا ہے دوسرا وہ جس کا تعلق خود انسان سے ہوتا ہے، سورہٴ بقرہ کی آیت میں لفظ ”فسق“ استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے: ”پروردگارِ عالم کے فرمان سے خروج“ جبکہ اِس آیت میں ”ظلم“ سے تعبیر کرکے دوسرے رخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ۱۔ ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد اوّل.