الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
—those who follow the Apostle, the untaught prophet, whose mention they find written with them in the Torah and the Evangel, who bids them to do what is right and forbids them from what is wrong, makes lawful to them all the good things and forbids them from all vicious things, and relieves them of their burdens and the shackles that were upon them—those who believe in him, honour him, and help him and follow the light that has been sent down with him, they are the felicitous.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:157
[Pooya/Ali Commentary 7:157] (see commentary for verse 156)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:157
چند قابل توجہ امور
چند قابل توجہ امور ۱۔ آنحضرت کی نبوّت پر ایک آیت میں پانچ دلیلیں: قرآنِ کریم کی کسی آیت میں آنحضرت کی حقانیت کی حقانیت پر اتنی دلیلیں اکھٹا نہیں ملیں گی جتنی اس آیت میں موجود ہیں ۔ اگر ہم پیغمبرِ آخر الزمان کی ان سات صفتوں پر غور کریں جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں تو ہمیں آنحضرت کی حقانیت کی پانچ روشن دلیلیں ملیں گی ۔ اوّل: یہ کہ وہ ”اُمّی“ تھے یعنی انھوں نے کسی آگے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا، اس کے باوجود انھوں نے ایسی کتاب پیش کی جس نے نہ صرف اہلِ حجاز کی قسمت بدل دی بلکہ وہ تاریخ بشریّت میں سب کی توجہ کا مرکز بنی ۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ جو آپ کی نبوت کے قائل نہیں ہیں انھیں بھی اس کتاب کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ایک ایسا انسان جس نے نہ تو کسی سے درس پڑھا، نہ وہ مدرسہ گیا، بلکہ اس نے ایک انتہائی جاہلانہ ماحول اور برریت کی فضا میں پرورش پائی، کیا بربنائے عادت ومعمول یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا شخص اتنا بڑا کام انجام دے؟! دوم: یہ کہ اس کی نبوت کی دلیلیں مختلف الفاظ میں گذشتہ آسمانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جس سے ایک حق طلب انسان کو اس کی حقانیت کا پتہ ملتا ہے اوروہ مطمئن ہوجاتا ہے، یہ ایسی بشارتیں ہیں جو صرف اس کی ذات اور اس کے صفات پر منطبق ہوتی ہیں ۔ سوّم: یہ کہ اس کی دعوت کے جو اصول ہیں وہ عقل ودانش کے مطابق ہیں، کیونکہ اچھائی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا عقل کے مطابق ہے یہی اس کی دعوت کا مقصد جو اس کی تعلیمات سے حاصل ہوتا ہے ۔ چہارم: یہ کہ اس کی دعوت کے اصول طبعِ سلیم اور فطرتِ انسانی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں ۔ پنجم: یہ کہ اگر آپ کے فرستادہ نہ ہوتے تو یہ بات حتمی ہے کہ آپ اتنے بڑے کام کے پرودہ میں اپنے ذاتی منافع کو پیشِ نظر رکھے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ نہ صرف لوگوں کو ان کے قید وبند سے آزاد نہ کرواتے بلکہ انھیں اسی عالم غفلت وبے خبری میں پڑا رہنے دیتے، اس طرح سے آپ ان سے زیادہ ناجائز فائدے حال کرسکتے تھے، جبکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ نے بشریت کے ہاتھ پاؤں سے بھاری زنجیروں کو الگ کردیا ہے: جن زنجیروں کو آپ نے کاٹا ان میں سے بعض یہ ہیں: جہل ونادانی کی زنجیریں، جنھیں آپ نے اس طرح کاٹا کہ لوگوں کو علم ودانش کی طرف مسلسل اور ہمہ گیر دعوت دی ۔ بت پرستی اور خرافات پرستی کی زنجیریں: جنھیں آپ نے دعوتِ توحید کے ذریعے کاٹا ۔ قبائلی تعصّب کی زنجیریں: جنھیں آپ نے یوں ختم کیا کہ انھیں اخوّتِ اسلامی کی تعلیم دی ۔ دنیاوی لحاظ سے پستی وبلندی کی زنجیریں: جنھیں آپ نے مساوات کی تعلیم کے ذریعے کاٹ دیا ۔ اس کے علاوہ دیگر طرح طرح کی زنجیریں جن کو آپ نے بیک قلم قلم کردیا، یہ کارنامہ بجائے خود آپ کی حقانیت کی زبردست دلیل ہے ۔ ۲۔ پیغمبر کے ’اُمّی“ ہونے کا کیا مطلب ہے؟: لفظ ”اُمّی“ کے مفہوم کے بارے میں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے عام طور پر تین احتمال بیان کئے جاتے ہیں: اوّل: اس کے معنی ”اَن پڑھ“ کے ہیں ۔ دوّم: ”اُمّی“ وہ ہے جو ”اُمّ القریٰ“ یعنی سرزمینِ مکّہ میں پیدا ہوا ہو اور وہاں اس کی پرورش ہوئی ہو۔ سوّم: وہ شخص جو عوام الناس میں سے اٹھا ہو، لیکن سب سے زیادہ مشہور پہلی تفسیر ہے جو اس کلمہ کے مواردِ استعمال سے بھی زیادہ تعلق رکھتی ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ممکن ہے کہ تینوں معنی مراد لئے گئے ہوں ۔ یہ بات کہ آنحضرتنے تو کسی معلم سے تعلیم حاصل کی اور نہ ہی آپ کسی مدرسہ میں گئے اس میں موٴرخین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، قرآن کریم میں بھی سورہٴ عنکبوت کی آیت ۴۸ میں پیغمبر کی قبل بعثت حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: <وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَابٍ وَلَاتَخُطُّہُ بِیَمِینِکَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ یعنی تم اس (اعلانِ رسالت) سے قبل نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے جس کی وجہ سے دشمنوں کو یہ موقع ملے کہ وہ تمھاری رسالت میں شک وشبہ ڈال سکیں ۔ سرزمینِ حجاز میں عام طور پر پڑھے لکھے لوگ اس قدر کم تھے کہ وہ تمام سرزمین میں گنتی کے ہونے کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے تھے، یہاں تک کہ سرزمینِ مکّہ جو حجاز کا مرکز سمجھی جاتی تھی اس میں پڑھے لکھے مَردوں کی تعداد کُل ۱۷ عدد تھی اور عورتوں میں سے صرف ایک عورت لکھنا پڑھنا جانتی تھی ۔ (1) یہ بات واضح اور مسلم ہے کہ ان چند محدود افراد میں سے کسی ایک سے بھی اگر پیغمبر پڑھنا لکھنا سیکھتے تو یہ ڈھکی چھپی بات نہ رہتی بلکہ سب کے زبان زد ہوجاتی ۔ اگر ہم آپ کی نبوت کو تسلیم نہ بھی کریں، تب بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مکہ کے محدود افراد میں سے کسی سے بھی پڑھا ہو اور اس کے بعد آپ نے پڑھا ہوتا تو اہلِ مکہ میں سے کوئی تو کہتا کہ اے محمد! تم غلط کہتے ہو کہ تم نے کسی سے نہیں پڑھا، تم نے تو فلاں شخص سے تعلیم حاصل کی ہے ۔ بہرحال پیغمبر کی یہ صفت (اَن پڑھ ہونا) آپ کی نبوّت کی بنیاد کو مستحکم کرتی ہے تاکہ آپ کو ذاتِ خداوندی اور دنیائے ماوراء الطبیعت سے جو تعلق حاصل ہے اس کا لوگوں کو یقین حاصل ہو اور اس سلسلہ میں آپ جو دعوت دیں اسے لوگ قبول کرلیں ۔ آپ کا یہ حال قبل از بعثت کا تھا، بعثت کے بعد بھی کسی تاریخ میں نہیں ملتا کہ آپ نے اپنے اعلانِ نبوّت کے بعد کسی سے تعلیم کی ہو، بنابریں آپ اپنی سابقہ اّمّی حالت میں آخر عمر تک باقی رہے ۔ لیکن ایک بڑی غلط فہمی جو یہاں پر پیدا ہوتی ہے اور اس سے اجتناب ضروری ہے یہ ہے کہ درس نہ پڑھنا الگ چیز ہے اور جاہل ہونے کا الگ مفہوم ہے، لہٰذا اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ آپ معاذ الله کوئی جاہل شخص تھے، اس لئے جن لوگوں نے ”اُمّی“ کی یہ تفسیر کی ہے کہ آپ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے گویا ان کی توجہ اس نکتے کی طرف نہیں ہے ۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم الٰہی تعلیم کے ذریعے سے پڑھنا یا پڑھنا اور لکھنا جانتے تھے بغیر اس کے کہ آپ نے کسی بشر سے ان امور کو سیکھا ہو کیونکہ اس صفت کا بلاشبہ کمالاتِ انسانی میں شمار ہوتا ہے اور اس مقام سے مقامِ نبوت کی تکمیل ہوتی ہے ۔ اس مطلب کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو آئمہ طاہرین صلوات الله علیہم سے مروی ہیں جن میں فرمایا گیا ہے پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم لکھنا پڑھنا جانتے تھے یا آپ میں اس کی صلاحیت موجود تھی(2) لیکن اس لئے کہ نبوّت میں کسی کو چھوٹے سے چھوٹا شبہ نہ ہونے پائے آپ اپنی اس صفت سے کام نہیں لیتے تھے ۔ اس مقام پر یہ جو کہا گیا ہے کہ لکھنے اور پرھنے کی قوت بذاتِ خود کوئی کمال نہیں ہے بلکہ یہ دونوں علم حقیقی اور کمالات تک پہنچنے کی سیڑھی ہیں، یہ خود حقیقی علم نہیں ہیں، اس بات کا جواب خود اس میں پوشیدہ ہے کہ کیونکہ کسی کمال کے وسیلے سے آگاہی بذاتِ خود ایک کمال شمار ہوتی ہے ۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ آئمہ طاہرین(علیه السلام) کی بعض روایات میں ”اُمّی“ کو ”امّ القریٰ“ سے لیا گیا ہے(3) اس کے جواب میں ہم کہیں گے اس مفہوم کی دو روایتیں ہیں جن میں سے ایک روایت وہ ہے جسے اصطلاح میں ”مرفوعہ“ کہا جاتا ہے لہٰذا وہ سند کے لحاظ سے بے وقعیت ہے، دوسری روایت میں ایک راوی بنام ”جعفر بن محمد صوفی“ہے جو علمِ رجال کی رُو سے مجہول شخص ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:157
اپنے پیغمبر کی پیروی کرو
اپنے پیغمبر کی پیروی کرو موجودہ آیت دز اصل اس گذشتہ آیت کی تفصیل وتکمیل ہے جس میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جنھیں الله کی وسیع رحمت میسر ہے، یعنی تقویٰ، ادائے زکوٰة اور آیاتِ الٰہی پر ایمان، ان صفات سہ گانہ کو ذدکر کرنے کے بعد، اس آیت میں توضیح کے طور پر کچھ مزید صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ پیغمبر اسلام کی پیروی کرنا ہے کیونکہ خدا پر ایمان لانا، پیغمبر پر ایمان لانے اور ان کی پیروی کرنے سے جدا نہیں ہے، اسی طرح تقویٰ اور زکوٰةبھی رسول الله کی پیروی اور رہبری کے بغیر مکمل نہیں ہے ۔ اس لئے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ اس رحمتِ الٰہی میں داخل ہیں جو پرورگارِ عالم کے اس فرستادہ رسول کی پیروی کریں (الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ) ۔ اس کے بعد اس رسول کے متعلق خداوندکریم رسالت کے علاوہ چھ علامتیں بیان فرماتا ہے: ۱۔وہ الله کا پیغمبر ہے(النَّبِیَّ ) ۔ نبی اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کا پیغام بیان کرے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے چاہے اسے دعوت الی الحق اور تبلیغ کرنے اور اس راہ میں قیام کرنے کا حکم بھی ملا ہو۔ درحقیقت رسالت کا درجہ نبوّت سے بالاتر ہے اس بناپر رسالت میں نبوت کا درجہ بھی شامل ہے لیکن چونکہ آیہ مذکورہ مقامِ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تشریح وتوضیح کرنا چاہتی ہے لہٰذا اس نے دونوں کا مستقلاً ذکر کیا ہے، واقع میں جو معنی لفظ ”رسول“ میں پوشیدہ ہیں اسے مستقل اور واضح طور پر اس کی تحلیل کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ۲۔ ایسا پیغمبر جس نے کسی سے درس پڑھا اور وہ عام لوگوں میں سے مبعوث ہوا، اس نے سرزمین مکّہ ام القریٰ سے توحید کا حقیقی آفتاب بن کر طلوع کیا ہے(الْاٴُمِّیَّ) ۔ لفظ ”اٴُمِّی“(جو یا تو مادّہٴ ”ام“ جس کے معنی ماں کے ہیں، یا مادّہٴ ”امّت“ جس کے معنی مجمع اور گروہ کے ہیں، سے ماخوذ ہوا ہے) کے بارے میں مفسرین میں بحث ہے، کچھ لوگ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ اُمّی وہ شخص ہے جس نے کسی سے درس نہ پڑھا ہو یعنی جس حالت میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا اسی طرح باقی رہا ہو کسی استاد کے مردسہ میں داخل نہ ہوا ہو۔ بعض نے اس کے یہ معنی لئے ہیں کہ اُمّی وہ ہے جو عام افراد کے گروہ سے نکلا ہو، اشراف ، عیاش اور جبّار طبقہ سے نہ نکلا ہو۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ لفظ ”اُمّی“”مکی“ کے مترادف ہے یعنی ام القریٰ (مکہ) کا رہنے والا کیونکہ مکہ کا ایک نام ”امّ القریٰ“ بھی ہے ۔ اسلامی روایات جو مختلف ماخذوں سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں بھی ”اُمّی“بمعنی ”اَن پڑھ“ نہیں ہے بلکہ ان میں سے بعض روایات میں ”اُمّی“ کی تفسیر ”مکی“ سے کی گئی ہے ۔ (۱) لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لفظ ”اُمّی“ سے تینوں مفہوموںکی طرف اشارہ مقصود ہو جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایک لفظ کا استعمال چند معنی میں جائز ہے ادبیاتِ عرب میں اس کے بہت سے شواہد ملتے ہیں (پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اُمّی ہونے کے معنی پر اس آیت کی تفسیر کے بعد تفصیلی طور سے روشنی ڈالی جائے گی ۔ ۳۔ ”نیز ایسا پیغمبر ہے جس کی صفات، علامتیں اور اس کی حقانیت کی نشانیاں گذشتہ آسمانی کتابوں (توریت وانجیل وغیرہ) میں لوگ پاتے ہیں“ (الَّذِی یَجِدُونَہُ مَکْتُوبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ) ۔ اس آیت کی تفسیر مکمل ہونے کے بعد ہم اس بارے میں بھی مفصل طور پر بحث کریں گے کہ کتب عہدین (توریت وانجیل) میں حتّیٰ کہ موجودہ تحریف شدہ کتب میں کہاں کہاں ہمارے نبی کی حقانیت کی مختلف بشارتیں اور پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں ۔ ۴۔ وہ ایسا پیغمبر ہے جس کی دعوت کا مفہوم عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے، وہ ان نیکیوں کی طرف جن کی عقل گواہی دیتی ہے لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور بُرے کام جن سے عقل منع کرتی ہے روکتا ہے (یَاٴْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْھَاھُمْ عَنْ الْمُنکَرِ) ۔ ۵۔ اس کی دعوت کا مفہوم فطرتِ سلیم سے بھی ہم آہنگ چنانچہ وہ تمام پاک وپاکیزہ چیزوں کو جن کو طبعِ سلیم پسند کرتی ہے لوگوں کے لئے پسند کرتا ہے اور وہ ان کے لئے حلال قرار دیتا ہے اور جو چیز خبیث اور قابلِ نفرت ہے اسے لوگوں پر حرام قرار دیتا ہے (وَیُحِلُّ لَھُمْ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمْ الْخَبَائِثَ) ۔ ۶۔ وہ ان جھوٹے نبیوں کی طرح نہیں ہے جن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ سادہ لوح افراد کو پھانسیں اور ان سے ناجائز فائدہ حاصل کریں، یہ نبی صرف اتنا ہی نہیں کہ ان کے کندھے پر کسی قسم کا بار نہیں رکھتا بلکہ ان کے دوش سے بھاری بوجھ اتارتا ہے اور ان تمام طوق وسلاسل کو ان سے الگ کرتا ہے جنھوں نے بشریت کے ہاتھوں اور پیروں کو (جاہلانہ عقائدہ ورسوم کی زنجیروں سے) جکڑ دیا تھا (وَیَضَعُ عَنْھُمْ إِصْرَھُمْ وَالْاٴَغْلَالَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیْھِمْ) ۔ (2) چونکہ یہ چھ صفات مقامِ رسالت کو ملانے کے بعد سات صفتیں بنتی ہیں، یہ سب رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے دعوے کی روشن دلیلیں ہیں اس لئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کے درجہ کو بلند سمجھیں اور تبلیغِ رسالت میں اس کی مدد کریں اور اس آشکار نور (یعنی قرآن مجید) کی پیروی کریں جو اس پر نازل ہوا ہے بلاشبہ ایسے افراد کامیاب ہیں (فَالَّذِینَ آمَنُوا بِہِ وَعَزَّرُوہُ وَنَصَرُوہُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی اٴُنزِلَ مَعَہُ اٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ) ۔ ”عَزَّرُوہُ “ مادّہٴ ”تعزیر“ سے ہے جس کے معنی اس طرح کی حمایت ومدد کرنے کے ہیں جس میں احترام کی آمیزش بھی ہو، بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی کسی چیز سے منع کرنے اور روکنے کے ہیں، اگر دشمن سے بچایا اور روکا جائے تو اس کا مفہوم مدد کرنے کا ہوگا اور اگر یہ منع کرنا گناہ س ہو تو اس کے معنی سزا اور تنبیہ کرنے کے ہوتے ہیں، اسی بناپر ہلکی سزاؤں کو ”تعزیر“ کہتے ہیں ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں ”اٴُنزِلَ اِلَیہ“ ”اٴُنزِلَ مَعَہُ “(اس کے ساتھ نازل ہوا) آیا ہے جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ آنحضرت آسمان سے نازل نہیں ہوئے تھے، لیکن چونکہ آپ کی نبوت ورسالت قرآن کے ساتھ خدا کی جانب سے نازل ہوئی ہے لہٰذا لفظ ”مَعَہُ “ کی تعبیر استعمال کی گئی ہے ۔ (3) ۱۔ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۷۸، ۷۹ اور تفسیر روح المعانی، ج۹، ص۷۰ زیر بحث آیت کے ذیل میں. 2 ”اصر“ کے معنی لغت میں نگہداشت کرنے اور محبوس کرنے کے ہیں اس بناپر اس سنگین کام کو جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے کہتے ”اصر“ ہیںن اگر عہد وپیمان یا کیفر وسزا کو بھی ”اصر“ کہتے ہیں تو ان محدویتوں کی بناپر ہے جو یہ چیزیں انسان کے لئے پیدا کرتی ہے ۔ 3۔ تفسیر برہان میں علی بن ابراہیم قمی سے منقول ہے کہ ”النُّورَ الَّذِی اٴُنزِلَ مَعَہُ “ سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہیں، نیز اس کی تائید ”انا وعلی من نور واحد“سے بھی ہوتی ہے ۔ (مترجم)