وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
And they said, ‘Whatever sign you may bring us to bewitch us, we are not going to believe you.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:132
[Pooya/Ali Commentary 7:132] (see commentary for verse 103)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:132-133
مختلف اور پیہم بلاؤں کا نزول
ان آیات میں ان بیدار کنندہ درسوں کا ایک اور مرحلہ بیان کیا گیا ہے جو خدا نے قوم فرعون کو دئے، جب مرحلہٴ یعنی قحط، خشک سالی اور مالی نقصانات نے ان کو بیدار نہ کیا تو دوسرے مرحلہ کی نوبت پہنچی جو پہلے مرھلہ سے شدیدتر تھا، اس مرتبہ خدا نے ان کوپے در پے ایسی بلاؤں میں جکڑا جو ان کو اچھی طرح سے کچلنے والی تھیں، مگر افسوس ان کی اب بھی آنکھیں نہ کھلیں ۔ پہلی آیت میں ان بلاؤں کے نزول کے مقدمہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: انھوں نے موسیٰ کی دعوت کے مقابلے میں اپنے عناد کو بدستور جاری رکھا اور ”کہا کہ تم ہر چند ہمارے لئے نشانیاں لاؤ اور ان کے ذریعے ہم پر اپنا جادو کرو ہم کسی طرح بھی تم پر ایمان نہیں لائیں گے“( وَقَالُوا مَھْمَا تَاٴْتِنَا بِہِ مِنْ آیَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِھَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ) ۔ ’لفظ” آیت“ شاید انھوں نے از راہ تمسخر استعمال کیا تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے اپنے معجزات کو آیات الٰہی قرار دیا تھا لیکن انھوں نے سحر قرار دیا ۔ آیت کا لہجہ اور دیگر قرائن اس بات کے مظہر ہیں کہ فرعون کے پراپیگنڈا کا محکمہ جو اپنے زمانے کے لحاظ سے ہر طرح کے سازوسامان سے لیس تھا وہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے خلاف ہر طرف سے حرکت میں آگیا تھا اس کے نتیجے میں تمام لوگوں کا ایک ہی نعرہ تھا اور وہ یہ کہ اے موسیٰ! تم تو ایک زبردست جادوگر ہو! کیوں کی موسیٰ (علیه السلام) کی بات کو رد کرنے کا ان کے پاس اس سے بہتر کوئی جواب نہ تھا جس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وہ گھر کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن چونکہ خدا کسی قوم پر اس وقت تک اپنا آخری عذاب نازل نہیں کرتا جب تک کے اس پر خوب اچھی طرح سے اتمام حجت نہ کرلے اس لئے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم پہلے طرح طرح کی بلائیں ان پر نازل کیں کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ پہلے ”ہم نے ان پر طوفان بھیجا(فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ الطُّوفَانَ ) ۔ ”طوفان“ مادہٴ ”طوف“ (بروزن خوف) سے ہے جس کے معنی گھومنے اور طواف کرنے والی شئی کے ہیں، بعد ازاں ہر اس حادثے کو طوفان کہا جانے لگا جو انسان کو چاروں طرف سے گھیر لے لیکن لغت عرب میں زیادہ تر ”طوفان“ ایسے تباہ کار سیلاب کہتے ہیں جو گھروں کو اجاڑ دے اور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دے (اگر چہ آج کل کی فارسی میں ”طوفان“ جھکڑدار ہواوؤںکو کہتے ہیں)(۱) ”اس کے بعد ہم نے ان کی زراعتوں اور درختوں پر ٹڈیوں کو مسلط کر دیا “ (وَالْجَرَادَ ) ۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ اللہ نے ان پر ٹڈیاں اس کثرت سے بھیجیں کہ انھوں نے درختوں کے شاخ وبرگ کا بالکل صفایا کردیا، حتی کہ ان کے بدنوں تک کو وہ اتنا آزار پہنچاتی تھیں کہ وہ تکلیف سے چیختے چلاتے تھے ۔ جب بھی ان پر بلا نازل ہوتی تھی تو وہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے فریاد کرتے تھے کہ وہ خدا سے کہہ کر اس بلا کو ہٹا دیں طوفان اور ٹڈیوں کے موقع پر بھی انھوں نے جناب موسیٰ (علیه السلام) سے یہی خواہش کی، جس کو موسیٰ (علیه السلام) نے قبول کرلیا اور یہ دونوں بلائیں برطرف ہوگئیں، لیکن اس کے بعد پھر وہ اپنی ضد پر اُتر آئے جس کے نتیجے میں تیسری بلا ”قمل“ کی ان پر نازل ہوئی (وَالْقُمَّل) ۔ ۔ ۱۔ جیسا کہ اردو میں بھی طوفان آج کل اسی مفہوم کے مروج ہے ،(مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:132-133
”قمل“ سے کیا مراد ہے؟
اس بارے میں مفسرین کے درمیان گفتگو ہوئی ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی نباتاتی آفت تھی جو زراعت کو کھاجاتی تھی ۔ جب یہ آفت بھی ختم ہوئی اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو اللہ نے مینڈک کی نسل کو اس قدر فروغ دیا کہ مینڈک ایک نئی بلا کی صورت میں ان کی زندگی میں داخل ہوگئے (وَالضَّفَادِعَ ) ۔(1) جدھر دیکھتے تھے ہر طرف چھوٹے بڑے مینڈک نظر آتے تھے یہاں تک کہ گھروں کے اندر، کمروں میں، بچھونوں میں، دستر خوان پر، کھانوں کے برتنوں میں مینڈک ہی مینڈک تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی حرام ہوگئی تھی لیکن پھر بھی انھوں نے حق کے سامنے اپنا سر نہ جھکایا اور ایمان نہ لائے ۔ اس وقت اللہ نے ان پر خون مسلط کیا (وَالدَّمَ) ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ خون سے مراد مرض نکسیر ہے جو ایک وبا کی صور ت میں ان میں پھیل گیا، لیکن بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ دریائے نیل لہو رنگ ہوگیا اتنا کہ اس کا پانی کسی مصرف کے لائق نہ رہا!۔ آخر میں قرآن فرماتا ہے: ان معجزوں اور کھلی نشانیوں کو جو موسیٰ (علیه السلام) کی حقانیت دلالت کرتی تھیں ہم نے ان کو دکھلایا لیکن انھوں نے ان کے مقابل میں تکبر سے کام لیا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا وہ ایک مجرم اور گنہگار قوم تھے ( آیَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِین) ۔ بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک بلا ایک ایک سال کے لئے آتی تھی، یعنی ایک سال طوفان وسیلاب ، دوسرے سال ٹڈیوں کے دل، تیسرے سال نباتاتی آفت اسی طرح آخر تک لیکن دیگر روایا ت میں ہے کہ ایک آفت سے دوسری آفت تک ایک مہینے سے زیادہ فاصلہ نہ تھا، بہر کیف اس میں شک نہیں کہ ان آفتوں کے درمیان فاصلہ موجود تھا(جیسا کہ قرآن نے لفظ”مفصلات“ سے تعبیر کیا ہے) تاکہ ان کو تفکر کے لئے کافی موقع مل جائے ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ بالائیں صرف فرعون اور فرعون والوں کے دامن گیر ہوتی تھیں، بنی اسرائیل ان سے محفوظ تھے (2) بے شک یہ اعجاز ہی تھا لیکن اگر نکتہٴ ذیل پرنظر کی جائے تو ان میں سے بعض کی علمی توجیہ بھی کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ مصر جیسی سرسبز وشاداب اور خوبصورت جو دریائے نیل کناروں پر آباد تھی اس کے بہترین حصے وہ تھے جو دریا سے قریب تھے وہاں پانی بھی فراوان تھا اور زراعت بھی خوب ہوتی تھی تجارتی کشتیاں وغیرہ بھی دستیاب تھیں، یہ خطے فرعون والوں اور قبطیوں کے قبضے میں تھے جہاں انھوں نے اپنے قصر وباغات بنا رکھے تھے، اس کے برخلاف اسرائیلیوں کو دور دراز کے خشک اور کم آب علاقے دئے تھے جہاں وہ زندگی کے یہ سخت دن گزارتے تھے کیوں کہ ان کی حیثیت غلاموں کی سی تھی ۔ بنابریں یہ ایک طبیعی امر ہے کہ جب سیلاب اور طوفان آیا تو اس کے نتیجے میں وہ آبادیاں زیادہ متاثر ہوئیں جو دریائے نیل کے دونوں کناروں پر آباد تھی، اسی طرح مینڈک بھی پانی سے پیدا ہوتے ہیں جو قبطیوں کے گھروں کے آس پاس بڑی مقدار میں موجود تھا یہی حال خون کا ہے کیوں کہ رود نیل کا پانی خون ہوا تھا، ٹڈیوںاور زرعی آفتیں بھی باغات ، کھیتوں اور سرسبز علاقوں پر حملہ کرتی ہیں لہٰذا ان عذابوں سے زیادہ تر نقصان قبطیوں ہی کا ہوتاتھا ۔ جو کچھ آیات فوق میں ذکر ہوا ہے اس کا ذکر موجودہ توریت میں بھی ملتا ہے لیکن کسی حد تک فرق کے ساتھ۔(ملاحظہ ہو سفر خروج فصل ہفتم تا وہم توریت) ۱۳۴ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمْ الرِّجْزُ قَالُوا یَامُوسیٰ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِی إِسْرَائِیلَ ۔ ۱۳۵ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمْ الرِّجْزَ إِلیٰ اٴَجَلٍ ھُمْ بَالِغُوہُ إِذَا ھُمْ یَنکُثُونَ ۔ ۱۳۶ فَانتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاٴَغْرَقْنَاھُمْ فِی الْیَمِّ بِاٴَنَّھُمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَکَانُوا عَنْھَا غَافِلِینَ ۔ ترجمہ ۱۳۴۔جب ان پر بلا نازل ہوتی تھی تو وہ کہتے تھے اے موسیٰ ! اپنے خدا سے کہو کہ جو عہد اس نے تم سے کیا ہے اس کے مطابق کرے، اگر اس بلا کو ہم سے دور کردوگے تو ہم یقینا تمھارے اوپر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تمھارے ساتھ بھیج دیں گے ۔ ۱۳۵۔لیکن جب وہ ایک معینہ مدت تک پہنچتے تھے اور ہم ان سے بلا دور کردیتے تھے، تو اہ اپنے عہد کو توڑ دہتے تھے ۔ ۱۳۶۔آخر کار ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو دریا میں غرق کردیا کیوں کہ انھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے غافل رہے تھے ۔ ۔ 1۔”ضَّفَادِع“ جمع ہے ”ضفدع“ کی جس کے معنی مینڈک کے ہیں، یہ لفظ زیر بحث آیت میں جمع کے صیغہ میں آیا ہے لیکن دوسرا عذابوں کو واحد کے صیغہ میں ذکر کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مینڈکوں کی مختلف قسموں کو خدا نے ان پر مسلط کیا تھا ۔ 2۔ مثلاً پانی جب خون ہوا تو وہ صرف فرعون والں کے لئے خون تھا مگر بنی اسرائیل کے لئے پانی تھا، حتی کہ قبطی اسرائیلیوں سے کہتے تھے کہ تم اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو، جب اسرائیلی ایسا کرتے تھے تو وہ پانی جب تک ان کے منہ میں رہتا تھا پانی رہتا تھا لیکن جب وہ کسی قبطی کے منہ میں جاتا تھا تو خون ہوجاتا تھا، یہی حال مینڈکوں وغیرہ کا بھی تھا ۔(مترجم)