وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
Certainly We created you, then We formed you, then We said to the angels, ‘Prostrate before Adam.’ So they [all] prostrated, but not Iblis: he was not among those who prostrated.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:11
[Pooya/Ali Commentary 7:11] (see commentary for verse 10)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:11-25
Let your acts be based on certainty at first have patience under trials, touching obligations, maintain cheerful disposition with the Trust in God, while maintaining Justice, based on piety.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
سب سے پہلا قیاس کرنے والا شیطان تھا
اردو اہل بیت طاہرین علیہم اسلام کی متعد و حدیثوں میں اس بات کی شدت سے مذہب کی گئی ہے کہ احکام دین میں ”قیاس“ سے کام لیا جائے اب ان روایات میں ہم پڑھیں گے کہ جس شخص نے سب سے پہلے قیاس کیا وہ ابلیس تھا ۔(۱) مدارک و کتب اہل سنت میں بھی جیسے تفسیر المنار اور تفسیر طبری میں یہی بات ابن عباس اور حسن بصری سے نقل کی گئی ہے ۔(۲) ”قیاس“ سے مراد یہ ہے کہ دو موضوع جو بعض جہات میں ایک دوسرے سے مشابہ ہوں ان میں سے ایک کا دوسرے پر قیاس کیا جائے اور وہی حکم جو پہلے موضوع کا ہے دوسرے موضوع میں بھی اسے جاری کیا جائے ، بغیر اس کے کہ پہلے حکم کے اسرار اور فلسفے کا ہمیں علم ہو مثلاً یہ کہ ہمیں معلوم ہے کہ انسان کا پیشاب نجس و ناپاک ہے، اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے، اس کے بعد ہم انسان کے ”پسینہ“ کا بھی اس پر قیاس کریں اور کہیں کہ چونکہ یہ دونوں سیّال بعض حیثیتوں سے اور اپنے بعض اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا دونوں ناپاک و نجس ہیں، حالانکہ یہ دونوں سیّال اگر چہ بعض جہات سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن دیگر جہات سے مختلف بھی ہیں ، ایک رقیق ہے دوسرا قدرے گاڑھا ہے ۔ ایک سے اجتناب کرنا آسان ہے، دوسرے سے بہت مشکل ہے علاوہ بریں پیشاب سے اجتناب کرنے کا فلسفہ پورے طور سے ہمیں نہیں معلوم، لہٰذا یہ مقایسہ انداز ے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے ہمارے پیشواؤں نے جن کے ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین سے ماخوذ ہیں، قیاس کی سخت مذمّت کی ہے اور اسے بالکل باطل جانا ہے کیونکہ اگر ”قیاس“ کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھل جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر شخص اپنے محدود مطالعے اور کوتاہ فکر کے باوجود احکام شریعت میں قیاس سے کام لینے لگے گا اور جہاں بھی دوچیزوں میں تھوڑی مشابہت دیکھی ایک کا حکم دوسری پر لگادے گا اور اس طرح قوانین اسلام اور شریعت کے احکام میں ہرج مرج واقع ہوجائے گا ۔ عقل کی رو سے بھی قیاس کا ممنوع ہونا صرف دینی قوانین پر موقوف نہیں ہے، بلکہ ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ ایک بیمار کا نسخہ دوسرے بیمار کو ہرگز نہ استعمال کرایا جائے چاہے دونوں کی بیماری ظاہری طور پر ایک جیسی ہو ۔ اس کی وجہ ظاہرہے کیونکہ دونوں بیمار ممکن ہے ہماری نظر میں آپس میں مشابہ ہوں، لیکن بہت سی چیزوں میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، جیسے دوا کے لئے قوت برداشت، خون کا گروپ اور خون میں شکر اور چربی کی مقدار۔ ایک عام شخص ہرگز ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ ان کی تشخیص کرسکتا ہے انھیں تو ایک ماہر طبیب ہی سمجھ سکتا ہے ۔ اگر ان خصوصیات پر نظر رکھے بغیر ایک مریض کی دوا دوسرے مریض کو دے دی جائے تو بجائے فائدہ پہنچانے کے ہوسکتاہے اسے الٹا نقصان پہنچ جائے، نقصان بھی ایسا جس کا کوئی تدارک اور علاج نہ ہوسکے ۔ یہ ایک مثال تھی، ورنہ احکام الٰہی اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور نازک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں آیا ہے کہ اگر احکام خدا کے بارے میں قیاس کیا جائے تو دین خدا مٹ جائے گا یا یہ کہ قیاس کی خرابیاں اس کے فائدے سے زیادہ ہیں ۔(3) علاوہ بریں احکام الٰہی معلوم کرے کے لئے قیاس کا سہارا لینا اس بات کی نشانی ہے کہ دین اسلام نامکمل ہے کیونکہ اگر ہم یہ مان لیں کہ ہمارے دین میں ہر موضوع کے متعلق کوئی نہ کوئی حکم ضرور موجود ہے اور زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر قرآن و حدیث نے روشنی نہ ڈالی ہو تو پھر قیاس کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ”شیعہ“ مکتب کے ماننے والے قیاس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے تمام ضروری احکام دین اہلبیت طاہرین سے حاصل کرتے ہیں جو پیغمبر اکر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی نائب اور وارث ہیں ۔ لیکن فقہائے اہلسنت نے چونکہ مکتب اہل بیت (جس کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان تھا کہ قرآن کے بعد مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے) کو نذر طاق نسیاں کردیا ہے اور اس بناء پر احکام اسلامی کے مدارک کی ان کے پاس کمی ہوگئی ہے، لہٰذا ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہ وہ ”قیاس“ کی طرف دست سوال دراز کریں ۔ اب رہا شیطان کا معاملہ جس کے متعلق روایات میں ملتا ہے کہ وہ پہلا فرد ہے جس نے قیاس سے کام لیا اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس نے اپنی مادی خلقت کوآدم کی خلقت پر قیاس کیا اور بعض جہات سے خاک پرآگ کی برتری کو، آگ کی کلی برتری کی دلیل قرار دیا اس نے خاک کے دیگر امتیازات پر نظر نہ کی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس نے آدم کے روحانی و معنوی امتیازات پر توجہ نہیں کی ۔ اصلاحاً اس قیاس کو ”قیاس اولویت“ کہا جاتا ہے ۔ اس نے اس قیاس کے ذریعے جو محض تخمین و گمان اور سطحی مطالعے پر منبی تھا، اپنے کو آدم سے بہتر و برتر سمجھ لیا حتیٰ کہ اس نے اسی باطل قیاس کے بل بوتے پر فرمان الٰہی کو ٹھکرانے کی جرئت کی ۔ قابل توجہ امر ی ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے جو روایات منقول ہیں ان میں ہے کہ: ”من قاس امرالدین براٴیہ قرنہ اللّٰہ تعالٰی یوم القیامة بابلیس“۔ جو شخص دین کے امور میں اپنے قیاس کو کام میں لائے گا، اسے خدا بروز قیامت ابلیس کے ساتھ ملائے گا ۔(4) خلاصہ یہ کہ ایک موضوع کا دوسرے موضوع پر قیاس کرنا، بغیر اس کے کہ اس کے تمام اسرار و رموز سے آگاہی ہو ان دونوں موضوعوں کے لئے ایک جیسے حکم کی دلیل نہیں بن سکتا ۔ اگر مسائل مذہبی میں یاس کا راستہ کھُل جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ احکام الٰہی کا کوئی ضابطہ باقی نہ رہے گا کیونکہ اس امر کا امکان ہوگا کہ ایک شخص کسی موضوع میں اپنی سمجھ کے مطابق قیاس کرے اور اس سے تحریم کا حکم اخذ کرے جبکہ کوئی دوسرا شخص اسی موضوع کو دوسرے موضوع پر قیاس کرے اور اس سے حلال ہونے کا نتیجہ نکالے ۔ ۱۔تفسیر نور الثقلین جلد دوم ص ۶۔ ۲۔تفسیر المنار جلد ۸ ص ۳۳۱، تفسیر طبری جلد ۸ ص ۹۸، تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۶۰۷۔ 3۔ وسائل الشیعہ ج ۱۸ باب قیاس کی طرف رجوع کریں ۔ 4۔ تفسیر ”المنار“ جلد ۸، ص ۳۳۱، تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
نظریہ تکامل انواع و پیدائش آدم
یہاں پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا آدم کی خلقت اس نظریہ سے مطابقت رکھتی ہے جسے علومطبعی (سائنس) میں بیان کیا جاتا ہے، یا نہیں؟ نیز یہ کہ اصولی طور پر نظر یہ تکامل سائنسدانوں کی نظر میں مرحلہ یقین پر پہنچا ہے یا نہیں؟ یہ بحثیں ضروری ہیں جنہیں انشاء اللہ ہم متعلقہ آیات کے ذیل (جیسے آیات ۲۶ تا ۳۳ سورہٴ حجر) میں بیان کریں گے ۔ ۱۹ وَیَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلَامِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِینَ- ۲۰ فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وُورِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْآتِھِمَا وَقَالَ مَا نَھَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ اٴَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ اٴَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِینَ- ۲۱ وَقَاسَمَھُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ- ۲۲ فَدَلاَّھُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْآتُھُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا اٴَلَمْ اٴَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَاٴَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ- ترجمہ ۱۹۔ اور اے آدم ! تم ، اور تمہاری زوجہ بہشت میں مقیم رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ستم کرنے والوں میں سے ہوجاؤ گے ۔ ۲۰۔ اس کے بعد شیطان نے انھیں پھسلایا تاکہ وہ چیز جو اُن کے اندام میں پوشیدہ ہے ظاہر ہوجائے اور اُس نے کہا کہ تمھارے پروردگار نے تم کو اس درخت سے نہیں روکا لیکن اس لئے کہ (اگر اس سے کھالو گے تو) فرشتہ بن جاؤ گے یا ہمیشہ کے لئے (بہشت میں)باقی رہو گے ۔ ۲۱۔ اور اس نے ان کے سامنے یہ قسم کھائی کہ تمہارا خواہ ہوں ۔ ۲۲۔اور اس طرح سے ان کو دھوکا دے کر (ان کے مقام و درجہ سے) نیچے گرادیا، اور جس وقت انھوں نے درخت سے چکھا، ان کا اندام (شرم گاہ) ان کے لئے نمایاں ہو گیا اور انھوں نے درخت کے پتوں کو ایک دوسرے پر رکھنا شروع کیا تاکہ اس کو چھپائیں ان کے پروردگار نے ان کو نِدا کی کہ آیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ، اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟! تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
شیطان کی پیدائش اور اسے مہلت دینے کا فلسفہ
اس طرح کی بحثوں میں بالعموم مختلف سوال ذہن میں آتے ہیں جن میں سب سے اہم دو سوال ہیں: ۱۔ خدانے شیطان کو کس لئے پیدا کیا؟ جبکہ اسے علم تھا کہ وہ ہر طرح کی گمراہی اور وسوسہ انگیزی کا سرچشمہ ہے ۔ ۲۔ جبکہ شیطان اتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہوا تو اس کے بعد اللہ نے اس کی درخواست کو کیوں منظور کیا کہ اسے ایک طولانی عمر دی جائے؟ پہلے سوال کا جواب ہم نے تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں دیا ہے کہ: اوّلا ۔ شروع میں شیطان کی خلقت پاک اور بے عیب تھی ۔ اسی لئے وہ سالہائے دراز تک فرشتوں کی صفوں میں رہ کر عبادت کرتا رہا اور مقام قرب الٰہی پر فائز تھا، اگر چہ اپنی آفرینش کے لحاظ سے ان میں سے نہ تھا ۔ اس کے بعد اس نے اپنی آزادی سے سوء استفادہ کیا اور اپنی سرکشی و طفیان کی وجہ سے راندہٴ بارگاہ الٰہی ہوگیا اور اس نے ”شیطان“ کا لقب حاصل کیا ۔ ثانیا ۔ شیطان کا وجود راہ حق پر چلنے والوں کے لئے نہ صرف یہ کہ ضرر رسان نہیں بلکہ یہ ان کی ترقی و کمال کا ایک امتیاز ہے کیونکہ انسان کے مقابلے میں ایک قوی دوشمن کا وجود در حقیقت انسان کی قوت اور پنپنے کا ایک سبب ہے ۔ آپ دیکھیں کہ جہاں بھی کوئی ترقی کرتا ہے وہاں اس کے سامنے کوئی متضاد چیز ضرور موجود ہوتی ہے ۔ کوئی موجود راہِ کمال میں اس وقت تک آگے نہیں بڑھتا جب تک اس کے سامنے کوئی زبردست مخالف موجود نہ ہو ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان اگر چہ اپنی آزادی ارادہ کی وجہ سے اپنی بد اعمالیوں کا جواب وہ ہے لیکن اس کی وسوسہ انگیزیاں بندگانِ خدا کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو راہ حق پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ضرر رسان نہیں ، بلکہ بالواسطہ ان کے لئے مفید ہیں ۔ دوسرے سوال کا جواب بھی اس بات سے ظاہر ہوجائے گا جو ہم نے پہلے سوال کے جواب میں کہی ہے کیونکہ ایک منفی نقطے کے طور پر اس کی زندگی کا اس کی زندگی کا اس لئے باقی رہنا تاکہ مثبت نقاط کو تقویت پہنچے نہ صرف اس میں کوئی ضرر نہیں بلکہ یہ موٴثر بھی ہے ۔ حتیٰ کہ شیطان سے اگر قطع نظر بھی کرلی جائے تب بھی خود ہمارے اندر بھی ایسے مختلف غرائز (طبایع) پائے جاتے ہیں جو عقلائی و روحانی قوتوں کا مقابلہ کرتے رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے ایک تضاد و اختلاف کا میدان کا ر راز بن جاتا ہے اور اس میدان میں انسان کی ترقی اور آگے بڑھنے کا راز مضمر ہوتا ہے ۔ شیطان کی زندگی کی زندگی کا باقی رہنا بھی در اصل اسی تضاد کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کے لئے ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیئے کہ راہ راست ہمیشہ اس وقت پہنچانی جاتی ہے جب اس کے پہلو میں بہت سی ٹیڑھی اور کج راہیں ہوں، جب تک ایسا نہ ہوگا راہ راست ہوگا راہ راست کا انداز نہ ہوسکے گا ۔ اس کے علاوہ ، بہت سی احادیث میں وارد ہوا ہے کہ چونکہ اتنے عظیم گناہ کے بعد شیطان نے جہاں آخرت میں اپنی نجات و سعادت کو پورے طور سے خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ اور اسے اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی لہٰذا اس نے اپنی ان عبادتوں کے بدلے میں جو اس نے دار دنیا میں ادا کی تھیں، خدا سے طویل عمر کی خواہش کی، جو خدا کے قانون عدالت کی بناپر قبول کرلی گئی ۔ نیز اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ شیطان کو خدا نے گمراہ کرنے اور وسوسہ انگیزی کی پوری آزادی دے دی لیکن اس کے مقابلے میں انسان کو بھی بالکل نہتا اور بے دفاع نہیں رکھا کیونکہ اولاً اسے عقل و خرد کی عظیم طاقت عطا کی جس سے اس کے امکان میں ہے کہ اس کی وجہ سے وسوسہ ہائے شیطانی کے سیلاب کو روکنے کے لئے مضبوط بند قائم کرسکے (خصوصاً اگر اس کی صحیح طور سے تربیت کی جائے تو یہ طاقت اور بڑھ جاتی ہے) ۔ دوم، یہ کہ انسان کی پاک فطرت اور اس کی نہاد میں چھپا ہوا ترقی کرنے کا عشق، یہ بھی خدا کا عطیہ ہے جو انسان کو سعادت ابدی کی طرف بڑھنے میں مدد دیتا ہے ۔ سوم، یہ کہ جب شیطان بہکاتا ہے اور انسان اس سے بچنا چاہتا ہے لیکن کمزور پڑتا ہے تو ایسے موقع پر خداوند کریم اس کی مدد کرنے کے لئے ایسے فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اسے نیکی کا الہام کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے: <اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنِا اللّٰہُ ثُمَّ استَقَّامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآئِکةُ وہ بندے جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدائے یگانہ ہے، اس کے بعد اس قول پر باقی بھی رہتے ہیں، ان پر فرشتے نازل ہوتے رہتے ہیں (اور ان کے دلوں کو قوت بخشنے کے لئے بذریعہ الہام طرح طرح کی بشارتیں دیتے ہیں) ۔ ( حٰم ٓ السجدہ /۳۰) اور ایک اور جگہ وارد ہوا ہے: < إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَائِکَةِ اٴَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا تیرا پروردگار فرشتوں کی طرف وحی کرتا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمہاری مدد کرتا ہوں تاکہ با ایمان بندوں کی راہ حق پر مدد کرو اور انھیں ثابت قدم رکھو ۔(انفال/۱۲)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
مسلک جبر کا بانی بھی ابلیس تھا
مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس نے اپنی برائت بیان کرنے کے لئے جبر کی نسبت خدا کی طرف دی اور کہا: ”چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لئے میں بھی نسل آدم کی گمراہی کے لئے پوری کوشش کروں گا ۔“ اگر چہ کچھ مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ جملہ ” فبمآ اغویتنی“ کی اس طرح سے تفسیر کریں کہ اس سے ”جبر“ نہ نکلے، لیکن بہ ظاہر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس جملہ کا ظاہر ”جبر“کے معنی دیتا ہے اور شیطان سے بھی یہ کوئی بعید بات نہیں ہے ۔ اس امر کی گواہ حضرت امیرالمومنین(علیه السلام) کی وہ حدیث ہے جو آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی جبکہ آپ جنگ صفین سے پلٹ رہے تھے اور ایک بوڑھے شخص نے آپ سے ”قضاء و قدر“ کے متعلق سوال کیا حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا: ”ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب قضاء و قدر الٰہی تھا ۔“ اس سے وہ بوڑھا شخص یہ سمجھا کہ اس سے مراد وہی ”مسئلہ جبر“ہے، حضرت نے اس وقت اس کو بڑی شدت کے ساتھ اس خیال باطل سے روکا اور ایک طویل گفتگو کے ضمن میں اس سے فرمایا: ” تلک مقالة اخوان عبدة الاوثان و خصماء الرحمان و حزب الشیطان ۔“ ”یہ بت پرستوں اور دشمنان خدا اور شیطانی گروہ کا مقولہ ہے ۔“(۱) اس کے بعد آپ نے ”قضاء و قدر“کے معنی قضاء و قدر تشریعی کے کیے یعنی اس سے مراد خدا کے فرامین اور تکالیف شرعیہ ہیں، بہرحال اس سے معلوم ہوگیا کہ سب سے پہلے جس نے ”مسلک جبریہ“ کی حسامی بھری وہ۔ شیطان ہی تھا ۔ اس کے بعد شیطان نے اپنی بات کی مزید تائید و تاکید کے لئے یوں کہا: میں نہ صرف یہ کہ ان کے راستہ پر اپنا مورچہ قائم کروں گا بلکہ ان کے سامنے سے، پیچھے سے، واہنی جانب سے، بائیں جانب سے گویا چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا جس کے نتیجے میں تو ان کی اکثریت کو شکرگزار نہ پائے گا ( ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اٴَیْدِیھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اٴَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ وَلَاتَجِدُ اٴَکْثَرَھُمْ شَاکِرِینَ ) ۔ مذکورہ بالا تعبیر سے ممکن ہے مراد یہ ہو کہ شیطان ہر طرف سے انسان کا محاصرہ کرے گا اور اسے گمراہ کرنے کے لئے ہر وسیلہ اختیار کرے گا اور یہ تعبیر ہماری روز مرہ کی گفتگو میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ”“فلان شخص چاروں طرف سے قرض میں یا مرض میں گھرگیا ہے ۔ اوپر اور نیچے کا ذکر نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زیادہ تر اور عموماً فعالیت ان چار طرف ہوتی ہے ۔ لیکن ایک روایت جو امام محمد باقر علیہ السلام سے وارد ہوئی ہے، اس میں ان ”چار جہت“ کی ایک گہری تفسیر ملتی ہے اور پیچھے سے آنے کے معنی یہ ہیں کہ : شیطان انسان کو مال جمع کرنے اور اولاد کی خاطر بخل کرنے کے لئے ور غلاتا ہے، اور ”داہنی طرف“ سے آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ انسان کے دل میں شک و شبہ ڈال کر اس کے امور معنوی کو ضائع کردیتا ہے اور ”بائیں طرف“ سے آنے سے مراد یہ ہے کہ شیطان انسان کی نگاہ میں لذات مادّی و شہوات دنیوی کو حسین بنا کر پیش کرتا ہے ۔(2) زیر بحث کے آخر میں ایک مرتبہ اور شیطان کو یہ فرمان دیا جاتا ہے کہ وہ مقام قرب الٰہی اور اپنی سابقہ منزلت اور درجے سے نکل جائے ۔ بس اتنا فرق ہے کہ یہاں پر اس کے باہر نکل جانے کا فرمان شدید تر اور زیادہ تحقیر آمیز لہجے میں صادر ہوا ہے ۔ یہ شاید شیطان کی جرات و جسارت اور اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے جس کا اظہار اس نے افراد انسانی کو گمراہ کرنے کے سلسلے میں کیا تھا یعنی شروع میں اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، اسی لئے کے خروج کا حکم صادر ہوا ، اس کے بعد اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، اسی لئے اس کے خروج کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد اس نے ایک اور بڑا گناہ یہ کیا کہ خدا کے سامنے بنی آدم کو بہکانے کا عہد کیا اور ایسی بات کہی گویا وہ خدا کو دھمکی دے رہا تھا، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہوسکتاہے، لہٰذا خدا نے اس سے فرمایا: اس مقام سے بدترین ننگ و عار کے ساتھ نکل جا او رذلت و خواری کے ساتھ نیچے اتر جا ( قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا ) ۔(3) اور فرمایا میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کرے گا میں جہنم کو تجھ سے اور اس سے بھر دوں گا ( لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اٴَجْمَعِینَ) ۔ ۱۔ اصول کافی جلد ۱ باب جبرو قدر ص ۱۲۰- 2۔ تفسیر ”مجمع البیان“ جلد ۴ ص ۴۰۳- 3۔ ”مذؤم ”مادّہ“ ذئم“ (بروزن طعم) سے ہے جس کے معنی ہیں عیب شدید ”مدحور ”مادّہ“ وحر“ (بروزن دھراً)سے ہے جس کے معنی ہیں ذلت و خواری کے ساتھ باہر نکال دین-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
ایک سوال کا جواب
اردو یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ کہ شیطان نے خدا سے کس طرح گفتگو کی ، کیا اس پر بھی وحی نازل ہوتی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا بات کرنا ہمیشہ وحی کا پہلو نہیں رکھتا، کیونکہ وحی کا مفہوم ہے ”پیام رسالت و نبوت“ اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ خدا کسی شخص سے، نہ بہ عنوان وحی و رسالت، بلکہ بطریق الہام درونی، کسی فرشتے کے ذریعے بات کرے، چاہے یہ شخص صالح افراد میں سے ہو جیسے مریم و مادر حضرت موسیٰ یا غیر صالح ہو جیسے شیطان۔ اب ہم باقی آیات کی تفسیر کی طرف کرتے ہیں ۔ چونکہ شیطان کا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار، ایک عام اور معمولی انکار نہ تھا اور نہ تھا اور نہ تھا اور نہ ہی ایک عام گناہ شمار ہو سکتا تھا بلکہ یہ ایک سرکشی اور اعتراض تھا جس میں مقام پروردگار کا انکار چھپا ہوا تھا، کیونکہ وہ جو یہ کہتا ہے کہ : ”میں آدم سے بہتر ہوں“در حقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا باعث ہے، اس وجہ سے، اس کے اس انکار کا رشتہ کفر سے اور پروردگار کی حکمت اور علم کے انکار سے ملا ہوا ہے اور اسی وجہ سے وہ اس مقام اور مرتبے سے گرگیا جو اسے بارگاہِ احدیت میں حاصل کیا تھا اور اس سے فرمایا: اس مقام و مرتبہ سے گر جا(قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا) ۔ اس آیت میں ”مِنْھَا“میں میں جو ضمیر ہے اس کے بارے میں کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ”آسمان“یا بہشت کی طرف پلٹتی ہے جبکہ بعض مفسرین نے اس سے مراد ”مقام و مرتبہ“ لیا ہے، اگر چہ نتیجے کے لحاظ سے دونوں میں کوئی خاص فق نہیں ہے ۔ بعد ازان اس جملے کے ذریعے اس کے سقوط و تنزل کی اصل وجہ بیان فرمائی ہے: تجھے اس بات کا حق نہیں کہ تو اس مقام و مرتبے میں تکبر کا راستہ اختیار کرے (فَمَا یَکُونُ لَکَ اٴَنْ تَتَکَبَّرَ فِیھَا) ۔ ایک مرتبہ مزید تاکید کے لئے فرمایا: باہر نکل جا کہ تو پست و ذلیل افراد میں سے ہے (یعنی تو اپنے اس عمل کی وجہ سے نہ صرف کسی بزرگی کو حاصل نہ کرسکا بلکہ پستی و خواری کے گڑھے میں جاگرا)(فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ) ۔ اس جملے سے بخوبی واضح ہوگیا کہ شیطان کی تمام بدبختی اس کے تکبّر کی وجہ سے تھی ۔ اس کی یہ خود پسندی اور غرور کہ اس نے خود کو اس مرتبے پر قرار دیا جس کا وہ حقیقت میں مستحق نہ تھا، اس امر کا سبب بنا کہ اس نے نہ صرف آدم کے لئے سجدہ نہ کیا بلکہ اس نے خدا کے علم و حکمت کا بھی انکار کردیا اور اس کے فرمان پر نکتہ چینی کی جس کے نتیجے میں اس نے اپنا مقام و مرتبہ کھودیا اور بجائے بزرگی کے ابدی پستی و ذلت کو خرید لیا ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ وہ اپنے اپنے مقصد و مراد کو نہ پاسکا بلکہ اس کے بالکل برعکس دوسری سمت میں نکل گیا ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ ”قاصعہ“ میں تکبّر ، خود پسندی اور غرور کی مذمت میں یوں فرمایا ہے۹ فاعتبروا بما کان من فعل اللّٰہ بابلیس اذا حبط عملہ الطویل وجھدہ الجھید، وکان قد عبداللّٰہ ستة آلاف---عن کبر ساعة واحدة فمن ذا بعد ابلیس یسلم علی اللّٰہ بمثل معصیّة؟! کلاّ ما کان اللّٰہ سبحانہ لیدخل الجنة بشراً بامر اخرج بہ منھا ملکا ان حکمہ فی اہل السمآء و اہل الارض لواحد۔(۱) عبرت حاصل کرو اس بات سے جو اللہ نے ابلیس کے بارے میں کی، اس وقت جبکہ شیطان کے تمام اعمال اس کی، طول و طویل عبادتیں، پہیم زحمتیں جو اس نے چھ ہزار سال کی طویل مدّت میں خدا کی بندگی کی راہ میں انجام دی تھیں--- ایک گھڑی کے تکبّر کی وجہ سے اللہ نے ان سب کو برباد کردیا ۔ جب یہ کیفیت ہوتو ابلیس کے اس انجام کے بعد کس کی مجال ہے کہ وہی معصیت کرکے جو اس نے کی تھی عذاب الٰہی سے نجات حاصل کرے؟ نہیں ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے کہ خدا کسی انسان کو اس عمل کے ساتھ جنت عطا کرے جس کی وجہ سے ایک فرشتے(۲) کوجنت سے باہر نکال دیا ۔ اللہ کا حکم اہل آسمان و اہل زمین کے لئے ایک ہے ۔ نیز ایک حدیث میں امام زین العابدین علیہ االسلام سے اس طرح مردی ہے: گناہوں کی کئی قسمیں اور کئی اسباب ہیں، لیکن معصیت پروردگار کا سب سے بڑا سبب تکبر ہے، جو ابلیس کا گناہ تھا، جس کی وجہ سے اس نے خدا کے فرمان سے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا ۔ اس کے بعد دوسرا گناہ ”حرص“ بنا، جس کی بنا پر حضرت آدم و حوا سے گناہ (اور ترک اولیٰ) سرزد ہوا ۔ اس کے بعد ”حسد“ہے، جو اُن کے بیٹے (قابیل) کے گناہ کا سبب بنا، جس نے اپنے بھائی (ہابیل) سے حسد کیا اور اسے قتل کردیا ۔(3) امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اصول الکفر ثلاثة: الحرص والا ستکبار والحسد، فاما الحرص فان آدم حین نہی عن الشجرة، حملہ الحرص علی ان اکل منہا، و اما الاستکبار فابلیس حیث امر بالسجود لاٰدم فاٴبیٰ، واما الحسد فانبا آدم حیث قتل احد ہما صاحبہ۔(4) کفر و معصیت کی جڑیں تین ہیں: حرص، تکبر اور حسد۔ حرص اس بات کا سبب بنا کہ آدم نے شجر ممنوعہ سے کھایا، تکبر کی وجہ سے ابلیس نے خدا کے فرمان کو ماننے سے انکار کیا ۔ اب رہا حسد تو اس کی وجہ سے آدم کے ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کی ۔ لیکن شیطان کی داستان اسی جگہ پر ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اس نے جب یہ دیکھا کہ وہ درگاہ خدا وندی سے نکال دیا گیا ہے تو اس کی سرکشی اور ہٹ دھرمی میں اور اضافہ ہوگیا ۔ چنانچہ اس نے بجائے شرمندگی اور توبہ کے اور بجائے اس کے کہ وہ خدا کی طرف پلٹےاور اپنی غلطی کی اعتراف کرے، اس نے خدا سے صرف اس بات کی درخواست کی کہ: ”خدایا! مجھے دنیا کے اختتام تک کے لئے مہلت عطا فرمادے اور زندگی عطا کر“ ( قَالَ اٴَنظِرْنِی إِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُونَ) ۔ اس کی یہ درخواست قبول ہوگئی اور اللہ تعالےٰ نے فرمایا: تجھے مہلت دی جاتی ہے ( قَالَ إِنَّکَ مِنَ الْمُنظَرِینَ) ۔ اگر چہ اس آیت میں اس بات کی صراحت نہیں کی گئی کہ ابلیس کی درخواست کس حد تک منظور ہوئی لیکن سورہٴ حجر کی آیت ۳۸ میں ہے: ” اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ “ تجھ کو ایک روز معیّن تک کے لئے مہلت دی گئی یعنی اس کی پوری درخواست منظور نہیں ہوتی بلکہ جس مقدار میں خدا نے چاہا اتنی مہلت عطا کی ۔ انشاء اللہ ہم اس آیت کے ذیل میں اس بارے میں بحث کریں گے ۔ لیکن اس نے جو یہ مہلت حاصل کی وہ اس لئے نہیں تھا کہ وہ اپنی غلطی کا تدارک کرے بلکہ اس نے اس طولانی عمر کے حاصل کرنے کا مقصد اس طرح بیان کیا: اب جبکہ تونے مجھے گمراہ کردیا ہے، تو میں بھی تیرے سیدھے راستے پر تاک لگا کر بیٹھوں گا (مورچہ بناؤں گا) اور ان (اولاد آدم) کو راستے سے ہٹادوں گا ( قَالَ فَبِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ) ۔ تاکہ جس طرح میں گمراہ ہوا ہوں اسی طرح وہ بھی گمراہ ہوجائیں ۔ ۱۔نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ مطابق نہج البلاغہ صبحی صالح۔ ۲۔یہاںشیطان پر لفظ ”فرشتہ“کا اطلاق اس بناپر کیا گیا کہ وہ فرشتوں کی صفوں میں شامل تھا، نہ کہ وہ خود فرشتہ تھا جیسا کہ اس سے سے قبل بھی اس کی طرف اشارہ ہوچکا ہے ۔ 3۔ سفینة البحار جلد ۲ ص ۴۵۸ (مادّہ کبر)- 4۔ اصول کافی جلد ۲ ص ۲۱۹ باب اصول الکفر-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
ایک استثناء
اردو صرف ایک موضوع ایسا ہے جس کا استثناء کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ قانون بنانے والا مثلاً طبیعت اپنے حکم کا فلسفہ و دلیل بیان کردے، بس اس صورت میں ممکن ہے کہ جہاں بھی وہ دلیل اور فلسفہ پایا جائے وہاں اس حکم کو جاری کیا جائے ۔ اسے اصطلاح میں ”قیاس منصوص العلة“ کہتے ہیں ۔ مثلاً اگر طبیعت بیمار سے یہ کہے کہ فلاں میوہ سے پرہیز کرنا کیونکہ وہ ترش ہے ۔ اس سے بیمار یہ سمجھے گا کہ اس کے لئے ترشی مضر ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے چاہے وہ کسی میوہ میں پائی جائے ۔ بالکل اسی طرح قرآن یا سنت میں اس بات کی تصریح موجود ہو کہ شراب سے پرہیز کرو کیونکہ وہ نشہ آور ہے، اس سے ہم یہ سمجھیں گے کہ ہر نشہ آور مایع (چاہے وہ شراب نہ بھی ہو) حرام ہے ۔ اس طرح کا قیاس ممنوع نیں ہے کیونکہ اس کی دلیل قطعی کا ذکر کردیا گیا ہے ۔ قیاس صرف اس جگہ ممنوع ہے جہاں ہم حکم کے فلسفہ و دلیل کو تمام جہات سے ازروئے یقین نہ جان سکیں ۔ ”قیاس“ کا موضوع ایک طویل الذیل موضوع ہے، سطور بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مختصراً اور خلاصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ مزید توضیح کے لئے اصول فقہ اور احادیث کی کتابوں میں باب قیاس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ ہم یہاں پر ایک حدیث نقل کرکے اس بحث کو ختم کرتے ہیں: کتاب علل الشرایع میں منقول ہے: ایک دفعہ ابو حنیفہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس آئے ۔ امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم احکام خدا میں اپنے قیاس سے کام لیتے ہو! ابوحنیفہ نے جواب دیا: جی ہاں ایسا ہی ہے، میں قیاس کرتاہوں ۔ امام نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا جب اس نے کہا تھا، خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ ،اس نے آگ اور مٹی کا باہم قیاس کیا، حالانکہ وہ آدم کی نورانیت و روحانیت کا آگ پر جو فوقیت حاصل ہے اسے پہنچان لیتا ۔(۱) ۱۔تفسیر ”نورالثقلین“ جلد ۲ ص ۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:11-18
ابلیس کی سرکشی اور عصیان کا ماجرا
اردو قرآن کریم کی سات سورتوں میں انسان کی پیدائش اور اس کی خلقت کی کیفیّت کا ذکر کیا گیا ہے،اور جیسا کہ سابقاً بیاں کیا گیا ہے اس موضوع کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اور موجودات عالم میں اس کا مقام و مرتبہ بیان کیا جائے اور اس کے وجود میں جذبہٴ شکر گزاری بیدار کیا جائے ۔ اس سورہ میں مختلف تعبیروں سے خاک سے انسان کی خلقت ، اس کے لئے فرشتوں کا سجدہ کرنا اور شیطان کی سرکشی اس کے بعد نوعِ انسانی کو تباہ کرنے کے لئے اس کے گھات میں رہنے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ پہلے موردِ بحث آیت میں خدا تعالیٰ فرماتاہے : ہم نے تمھیں پیدا کیا، اس کے بعد تمھیں شکل و صورت دی اس کے بعد ہم نے فرشتوں کو (اور ان کے درمیان ابلیس کو بھی جو اگر چہ فرشتوں میں سے نہ تھا لیکن ان کے درمیان تھا) حکم دیا کہ آدم (جو تمہارا جد اول تھا) کے لئے سجدہ کریں (وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثَُّ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ) ۔ سب نے جان و دل سے اس فرمان کو قبول کیا اور انھوں نے آدم کے لئے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا (فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ لَمْ یَکُنْ مِنَ السَّاجِدِین) ۔ آیت مذکورہ بالا میں ”خلقت“ کا ذکر” صورت بندی“ سے پہلے کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہوکہ ہم نے سب سے پہلے خلقتِ انسانی کے مادہ اول کو پیدا کیا اور پھر ہم نے اسے انسانی شکل عطا کی جیسا کہ ہم نے سورہٴ بقرہ آیت ۳۴ کے ضمن میں بیان کیا ہے، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا ”سجدہٴ عبادت“ نہ تھا، کیونکہ پرستش صرف خدا کے لئے مخصوص ہے، بلکہ یہاں پر سجدہ برائے خضوع و احترام تھا (یعنی انھوں نے آدم کے آگے اظہار فروتنی کیا تھا) یا یہ کہ یہ سجدہ خدا کے لئے شکرانہ کے طور پر تھا کہ اس نے ایک ایسی موزوں، منسب اور باعظمت مخلوق پیدا کی ہے ۔ نیز ہم اُسی آیت کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں کہ ”ابلیس“ فرشتوں میں سے نہ تھا، بلکہ آیات قرآنی نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ وہ ایک اور قسم کی مخلوق تھا جس کا نام ”جن“ ہے (مزید توضیح کے لئے برائے مہربانی تفسیرِ نمونہ جلد اوّل صفحہ ۱۶۹ اُردو ترجمہ میں ملاحظہ فرمائیں) ۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدانے ”ابلیس“ کی سرکشی اور طغیان کی وجہ اس کا مواخذہ کیا اور کہا: اس بات کا کیا سبب ہے کہ تونے آدم کو سجدہ نہیں کیا اور میرے فرمان کو نظر انداز کردیا ہے؟ ( قَالَ مَا مَنَعَکَ اٴَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ اٴَمَرْتُکَ ) ۔ اس نے جواب میں ایک نادرست بہانے کا سہارا لیا اور کہا: میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو آب و گل سے (قَالَ اٴَنَا خَیْرٌ مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ) ۔ گویا اسے خیال تھا کہ آگ ، خاک سے بہتر و افضل ہے ۔ یہ ابلیس کی ایک بڑی غلط فہمی تھی ۔ شاید اسے غلط فہمی بھی نہ تھی بلکہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خاک طرح طرح کی برکتوں کا سرچشمہ، تمام موادِ حیاتی کا منبع اور زندہ موجودات کی بقائے حیات کاایک اہم ترین وسیلہ ہے، جبکہ آگ میں یہ خصوصیات موجود نہیں ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ آگ موجودات جہان کے تجزیہ و ترکیب کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے لیکن زندہ موجودات کی ہستی میں بنیادی حیثیت ان مواد کو حاصل ہے جو خاک کے اندر موجود ہیں ۔ آگ تو صرف ان کی تکمیل کا ایک وسیلہ ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ کرہٴ زمین اپنی آفرینش میں سورج سے جدا ہوا تھا، وہ آگ کے ایک گولے کی طرح تھا جو بعد میں تدریجاً ٹھنڈا ہوتا گیا لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ زمین جب تک گرم اور شعلہ ور تھی اس میں کوئی زندہ مخلوق نہیں پائی جاتی تھی اس میں زندگی اس وقت پیدا ہوئی جب آگ کی جگہ خاک و گل نے لے لی ۔ علاوہ بریں ہر آگ جو زمین میں پیدا ہوتی ہے انہی مواد سے ظاہر ہوتی ہے جو خاک سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ خاک سے درخت اگتے ہیں اور درخت سے آگ نکلتی ہے، حتیٰ کہ تیل کے اجزاء یا جلنے والی چربیاں ان سب کی بازگشت خاک کی طرف ہے یا ان جیوانات کی طرف جو نباتات سے خوراک حاصل کرتے ہیں ان تمام باتوں سے ہٹ کر سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ امتیاز خصوصیت صرف یہ نہ تھی کہ ان کی خلقت خاک سے ہوئی ہے بلکہ آدم کا امتیاز اس بات میں تھا کہ ان میں روح انسانیت پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے وہ مقام خلافت الٰہی اور خدا کی نمائندگی کے مرتبے پر فائز تھے ۔ اس بناء پر یہ مان بھی لیا جائے کہ شیطان کی خلقت کا مادہ اول افضل تھا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حضرت آدم جنہیں اللہ نے روح و عظمت عطا کی اور اپنی نمائندگی کے مرتبے پر فائز کیا، کے سامنے سجدہ و فروتنی نہ کرے، ظاہر یہ ہے کہ شیطان ان تمام باتوں کو جانتا تھا، صرف اس کی نخوت و تکبّر نے اسے ایسا کرنے سے روکا باقی یہ سب باتیں بہانہ تراشیاں تھیں ۔