وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
Certainly We have established you on the earth, and made in it [various] means of livelihood for you. Little do you thank.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:10
[Pooya/Ali Commentary 7:10] Ma-ayish means the means for the fulfilment of life. In addition to all the material things necessary to sustain life, it also refers to all those powers and faculties which help man to rise to a higher plane to prepare for his spiritual destiny, on account of which the angels were asked to prostrate themselves before Adam. Iblis refused to be of those who bowed down, because he arrogantly despised the angels who bowed down as well as man to whom they bowed down. Arrogance, envy and rebellion were his crimes . As said above the spiritual destiny of man put him above the angels and jinn, so the refusal of Shaytan (Iblis) to accept man's superiority was unreasonable. It was egotism which prompted him to impertinent rebellion. Allah created man with His own hands from clay and gave him His own spirit (ruh)). The essential quality of clay is softness which makes it adaptable to any form or shape-obedience and submission, and total submission to Allah's will is Islam-the spiritual destiny of man. So Shaytan, a product of fire, not having the qualities of adaptability, nor blessed with the holy spirit, was the first creature of Allah who resorted to conjecture, therefore was thrown out, eternally accursed. On his request Allah gave him respite (by saying): Be you among those who have respite. It implies that there are others, like him, under respite. Shaytan has a large army of wicked seducers, and those who are their associates, helpers and deputies. The assault of Shaytan's evil is from all sides, and as said in verse 17; most men are led astray by him, while verse 18 says that Allah will fill hell with all of them. For verses 19 to 25 see commentary of al Baqarah: 21 to 38.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:10
جہانِ ہستی میں انسان کا عظیم الشان مقام
اردو جن آیات میں مبداٴ و معاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کے بعد اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں موضوع گفتگو یہ امور ہیں: ”انسان“ اور اس کے مقام کی عظمت و اہمیت، اس طرح کے افتخارات کی کیفیت جو اللہ نے اسے عطا کیے ہیں اور وہ عہد و پیمان جو ان نعمتوں کے بارے میں اللہ نے اس سے لئے ہیں ۔ یہ اس لئے ہے تاکہ تربیّت انسانی کی بنیاد و مستحکم ہو اور اس کی ترقی کی راہ ہموار ہو ۔ سب سے پہلے ایک آیت میں ان تمام مطالب کو بطور خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے ۔ پھر بعد والی آیات میں اس کی تشریح و تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ شروع میں فرماتا ہے: ہم نے زمین پر تمھیں مالکیّت، حکومت اور تسلّط عطا کیا ہے (وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِی الْاٴَرْض) ۔ اور اس میں تمھارے لئے زندگی کے طرح طرح کے وسائل پیدا کیے ہیں ( وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیھَا مَعَایِشَ) ۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم نعمتوں اور عطیوں کا بہت کم شکر کرتے (قَلِیلًا مَا تَشْکُرُونَ) ۔ ’تمکین’“ کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی شخص کو کسی جگہ ٹھہرا دیا جائے، بلکہ اس کے معنی میں ہے کہ اسے وہاں کام کرنے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہو وہ بھی اس کے لئے فراہم کیے جائیں، اسے قوت و توانائی دی جائے، کام کرنے کے تمام آلات فراہم کیے جائیں اور رکاوٹیں دور کی جائیں ۔ ان تمام امور پر لفظ ”تمکین“ بولا جاتا ہے، حضرت یوسف(علیه السلام) کے بارے میں قرآن مجید میں ہے: ” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ“ ”ہم نے اس طرح یوسف کو زمین پر قبضہ عطا کیا“(اور ہر طرح کی قدرت ان کے اختیار میں دی) ۔ (یوسف/۵۴) اس آیت میں بھی دیگر آیات کی مانند پروردگار کی نعمتوں کے ذکر کے بعد بندوں کو شکر گذاری کی دعوت دی گئی ہے اور ان کے ناسپاس اور کفرانِ نعمت کی مذمت کی گئی ہے ۔ یہ امر بدیہی ہے کہ لوگوں میں خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں شکرگزاری اور قدر دانی کا جذبہ بیدار کرنا صرف اس لئے ہے کہ بندہ فرمان فطرت کے مطابق ان تمام نعمتوں کے عطا کرنے والے کے سامنے سر تسلیم خم کرے، اسے پہچانے اور اس کے ہر فرمان کو جان و دل سے قبول کرے اور یوں اس کی ہدایت و تربیت کا سامان ہو جائے، نہ یہ کہ شُکر گزاری کا کوئی فائدہ پروردگارِ عالم کو پہنچتا ہے، بلکہ اس کا جو کچھ بھی اثر اور فائدہ ہے وہ دیگر عورتوں کی طرح خود انسان ہی کو پہنچتا ہے ۔ ۱۱ وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ لَمْ یَکُنْ مِنَ السَّاجِدِینَ- ۱۲ قَالَ مَا مَنَعَکَ اٴَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ اٴَمَرْتُکَ قَالَ اٴَنَا خَیْرٌ مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ- ۱۳ قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُونُ لَکَ اٴَنْ تَتَکَبَّرَ فِیھَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ- ۱۴ قَالَ اٴَنظِرْنِی إِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُونَ- ۱۵ قَالَ إِنَّکَ مِنَ الْمُنظَرِینَ- ۱۶ قَالَ فَبِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ- ۱۷ ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اٴَیْدِیھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اٴَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ وَلَاتَجِدُ اٴَکْثَرَھُمْ شَاکِرِینَ- ۱۸ قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اٴَجْمَعِینَ- ترجمہ ۱۱۔ہم نے تمھیں پیدا کیا، پھر ہم نے تمہاری شکل و صورت بنائی، اس کے بعد ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو، انھوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا ۔ ۱۲۔(خدانے اس سے) فرمایا: تجھے کس چیز نے سجدے سے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا؟ اُس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، مجھے تونے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے خاک سے ۔ ۱۳۔کہا اس (مقام و مرتبہ سے اتراجا! تجھے اس مقام و مرتبہ) میں یہ حق نہیں پہنچتا کہ تو تکبّر کرے، تو یہاں سے نکل جا، تو پست و حقیر افراد میں سے ہے ۔ ۱۴۔اس (شیطان) نے کہا مجھے روزِ محشر تک کے لئے مہلت دے (اور زندہ رہنے دے) ۔ ۱۵۔(اللہ نے) فرمایا: تو مہلت یافتہ افراد میں سے ہے ۔ ۱۶۔اس نے کہا: اب جبکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے، میں تیرے سیدھے راستے پر ان لوگوں کی تاک میں رہوں گا ۔ ۱۷۔اس کے بعد ان کے آگے سے ، پیچھے سے، داہنی طرف سے ، بائیں طرف سے ان کی طرف آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شُکر گزار نہ پائے گا ۔ ۱۸۔(اللہ نے) فرمایا: اس (مقام) سے ذلّت و خواری ے ساتھ باہر نکل جا، جو شخص بھی ان میں سے تیری پیروی کرے گا، میں ان سے اور تجھ سے جہنم کو بھردُوں گا ۔ تفسیر