وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ
Then Pharaoh and those who were before him, and the towns that were overturned, brought about iniquity.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 69:9
[Pooya/Ali Commentary 69:9] For the destruction of Firawn see commentary of Araf: 103 to 136; and for "the cities overthrown" (Sodom and Gomorah) where prophet Lut preached, see commentary of Araf: 80 to 84.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:9-12
١: علی کے فضائل میں سے ایک او رفضیلت
بہت سی مشہور اسلامی کتابوں میں ، چاہے وہ تفسیر کی ہوں یا حدیث کی ،یہ آ یاہے کہ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اوپر والی آ یہ ( و تعیھااذن واعیة ) کے نزول کے وقت فرمایا: سأ لت ربی ان یجعلھا اذن علی میں نے خُدا سے سوال کیاہے کہ علی علیہ السلام کے کان کوان سننے والے حقائق کومحفوظ رکھنے والے کانوں میں سے قراردے ۔ اس کے بعد امام علی علیہ السلام فرماتے تھے : ماسمعت من رسول اللہ (ص) شیئاً قط فنسیتہ الا و حفظتہ ۔ میں نے رسُول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کوئی چیزنہیں سُنی جسے بھُول گیاہوں بلکہ وہ ہمیشہ میرے حافظ میں رہیں ہے( 1)۔ غایة المرام میں اس سلسلہ میں سولہ احادیث شیعہ اوراہل سنّت کے طرق سے نقل ہُوئی،اور محدّث بُحرانی نے تفسیر البرہان میں محمد بن عبّاس سے نقل کیاہے کہ اس سلسلہ میں تیس احادیث عامہ اورخاصہ کے طرق سے نقل ہوئی ہیں ۔ ہاں !یہ اسلام کے عظیم پیشوااورامام علی علیہ السلام کی ایک عظیم فضیلت ہے کہ وہ اسرارِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خز ینہ اوررسُول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے تمام علوم کے وارث ہیں. اِسی بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بعدان مشکلات میں جواسلامی معاشرے کوپیش آ تی تھیں ، موافق ومخالف سبھی لوگ آپ کی پناہ لیتے ،اورآپ سے ہی مشکل کاحل چاہتے تھے .یہ واقعات کتبِ تواریخ میں تفصیل کے ساتھ آ ئے ہیں ۔ 1۔ تفسیرقرطبی جلد ١٠ ،صفحہ ٦٧٤٣ مجمع البیان ،روح البیان ، رُوح المعانی ، ابو الفتوح رازی،المیزان میں زیر بحث آ یات کے ذیل میں،نیز یہ حدیث "" مناقب ابن مغاذلی شافعی "" صفحہ ٢٦٥ (طبع اسلامیہ ) میں بھی آ ئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:9-12
٢: گناہ اور سزا میں تناسب
جوتعبیریں اوپر والی آیات میں آئی ہیں قابلِ توجّہ ہیں. قومِ ثمود کے عذاب کے بارے میں طاغیة قوم ِ عاد کے بارے میں عاتیة قوم فرعون اورقوم لُوط کے بارے میں رابیة اورقوم نوح کے بارے میںطفاالماء کی تعبیر لاتاہے ،ان سب میں طغیان اورکسرکشی کامفہوم پوشیدہ ہے .اِس طرح سے اس سر کشی کرنے والی قوم کے عذاب میں زندگی کی بعض نعمتوں کے سرکش ہونے کوشمارکیاگیاہے ،چاہے وہ پانی ،ہو ایا مٹی اورآگ ہو ۔ یہ تعبیر یں اس حقیقت پر ایک تاکید ہیں کہ دنیا و آخرت کے عذاب خود ہمارے اعمال ہی کاتجسّم ہیں اوریہ خود انسانوں کاکر دارہی ہے جوانہیں کی طرف لوٹا یاجائے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:9-12
سوره حاقه/ آیه 9- 12
٩۔وَ جاء َ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَہُ وَ الْمُؤْتَفِکاتُ بِالْخاطِئَةِ ۔ ١٠۔فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّہِمْ فَأَخَذَہُمْ أَخْذَةً رابِیَةً ۔ ١١۔ِنَّا لَمَّا طَغَی الْماء ُ حَمَلْناکُمْ فِی الْجارِیَةِ ۔ ١٢۔ لِنَجْعَلَہا لَکُمْ تَذْکِرَةً وَ تَعِیَہا أُذُن واعِیَة ۔ ترجمہ ٩۔ اور فرعون اور وہ لوگ جواس سے پہلے تھے اور تہ وبالا ہونے والے شہروں کے لوگ (قومِ لوط) بہت بڑ ے گناہوں کے مُر تکب ہُوئے ۔ ١٠۔ انہوں نے اپنے پر وردگار کے بھیجے ہُو ئے رسُول کی مخالفت کی اورخدا نے بھی انہیں شدید عذاب میں گرفتار کیا۔ ١١۔ ہم نے اس وقت ، جب پانی میں طغیانی آ ئی ، توتمہیں کشتی میں سوار کردیا۔ ١٢۔ تاکہ ہم اسے تمہارے لیے تو تذ کُّر کاوسیلہ قرار دیں اورسننے والے کان اسے یاد رکھتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:9-12
سننے والے کان کہاں ہیں ؟
قومِ عاد وثمود کی سر گزشت کے ایک گوشہ کوبیان کرنے کے بعد دوسرے اقوام جیسے قوم نوح اورقومِ لُوط کی طرف توجّہ کرتاہے ، تاکہ ان کی زِندگی سے بیدار دل افراد کوایک او ر درسِ عبرت دے ، فر ماتاہے : فرعون اوروہ لوگ جواس سے پہلے تھے اور تہ وبالا ہونے والے شہروں کے لوگ ( قومِ لُوط) بہت بڑ ے گناہوں کے مُرتکب ہوئے (وَ جاء َ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَہُ وَ الْمُؤْتَفِکاتُ بِالْخاطِئَةِ ) ۔ خا طئة خطا کے معنی میں ہے ( دونوں مصدری معنی رکھتے ہیں ) اور یہاں خطا سے مُراد شرک وکفر ، ظلم و فساد اور انواع و اقسام کے گناہ ہیں ۔ مؤ تفکا ت مؤ تفکة کی جمع ہے أ أ تفاک کے مادّہ سے اُلٹ پلٹ اور تہ وبالا ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں قومِ لُوط کے شہروں کی طرف اشارہ ہے جوایک شدید زلزے کی وجہ سے تہ و بالا ہوگئے ۔ من قبلہ سے مُراد وہ قو میں ہیں جو فرعون سے پہلے تھیں . مثلاً قومِ شعیب اورقومِ نمر ود جیسے سرکش لوگ ۔ اِس کے بعد مزید کہتاہے : وہ اپنے پر وردگار کے بھیجے ہُوئے رسُول کی مخا لفت کے لیے کھڑ ے ہوگئے اورخُدا نے انہیں شدید عذاب میں گرفتار کر لیا ( فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّہِمْ فَأَخَذَہُمْ أَخْذَةً رابِیَةً ) ۔ فرعونی ، موسٰی اور ہا رون کی مُخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے . سدوم کے شہروں میں رہنے والوں نے لُوط علیہ السلام کی مخالفت کی اور دوسری اقوام نے بھی اپنے پیغمبر وں کے فرمان سے رو گردانی کی . ان سر کشوں میں سے ہر گروہ ایک خاص قسم کے عذاب میں گرفتار ہُوا . فر عونی نیل کی موجود میں ، جوان کی حیات و آ بادی اور مُلک کی برکت کاسبب تھا ، غرق ہوگئے ،اورقومِ لُوط علیہ السلام کے لوگ شدید زلزلہ اوراس کے بعد پتھروں کی بارش سے تباہ و برباد اور نابُود ہوگئے ۔ رابیة اور ربا ایک ہی مادّہ سے ہیں اور آز مائش اوراضافہ کے معنی میںہیں ، یہاں وہ عذاب مُراد ہے ، جو بہت ہی سخت اور شدید تھا ۔ قومِ فرعون کی داستان کی تفصِیل قرآن کی بہُت سی سو رتوں میں آ ئی ہے .سب سے زیادہ تفصیل تفسیر نمونہ جلد ١٥ سُورہ شعراء کی آ یت ( ١٠ تا ٦٨ ) میں ، تفسیر نمونہ ، جلد ٦ (سُورہ اعراف آ یت ١٠٣ تا ١٣٧ ) میں اور تفسیر نمو نہ جلد ١٣ (سورہ طٰہ آ یہ ٔ ٢٤ سے ٧٩ ) میں آ ئی ہے ۔ قومِ لُوط علیہ السلام کی داستان بھی قرآن کی بہت سی سو رتوں میں ہے ، چنانچہ تفسیر نمونہ جلد ١١ (سورہ حجرآ یت ٦١ تا ٧٧ ) اور تفسیر نمونہ جلد ٩ سورہ ہودآ یت ٧٧ تا ٨٣ ) میں آ یاہے ۔ ّآخر میں قومِ نوح کی سرنوشت اوران کے دردناک عذاب کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے : ہم نے اس وقت جب پانی طغیانی آئی توتمہیں کشتی میں سوار کردیا (انَّا لَمَّا طَغَی الْماء ُ حَمَلْناکُمْ فِی الْجارِیَةِ ) ۔ پانی کی طغیانی اِس طرح تھی کہ تیرہ و تاریک بادلوں نے آسمان کوڈھانپ لیاتھا. اس کے ساتھ ایسی بارش ہُوئی کہ گو یا آسمان کی طرف سے سیلاب گررہاہے اور زمین سے بھی چشمے اُبلنے لگے . پھر یہ دونوں طرف کے پانی ایک دُوسرے کے ساتھ مل گئے اور ہر چیزپانی میں ڈوب گئی ، پس باغات ،کھیتیاں آور سرکش قوم کے محلّات اور مکا نات سب غر قاب ہوگئے .جن لوگوں سے نجات پائی ان میںصرف وہ مومنین تھے جو نوح علیہ السلام کے ہمراہ کشِتی میں سوار ہوگئے تھے ۔ حملناکم ( تمہیں کِشتی میں سوار کیا)کی تعبیر ہمارے اسلاف اور بڑ وں سے کنایہ ہے ، کیونکہ اگر انہوں نے نجا ت حاصل نہ کی ہوتی تو آج ہم موجود نہ ہوتے ( ١) ۔ اس کے بعد ان سزائوں کے ہدف اصلی کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : مقصد یہ تھا کہ اسے تمہاری یاد آ وری اور تذ کرکے لیے وسیلہ قرار دیں (لِنَجْعَلَہا لَکُمْ تَذْکِرَةً ) ۔ اور سننے والے کان اس کی حفاظت کریں (وَ تَعِیَہا أُذُن واعِیَة) ۔ ہم ہر گزان سے انتقام لینانہیں چاہتے تھے ،بلکہ ہدف انسانوں کوتربیت اور راہ ِکمال میں ان ہدایت ، راستہ دکھانا اور مطلوب تک پہنچاناتھا۔ تعیھا وعی ( بر وزن ِ سعی )کے مادّہ سے ہے حس طرح راغب نے مفردات میں اور ابن منظور نے لسان العرب میں کہا ہے .اصل میں کسِی چیز کودل میں محفوظ رکھنے کے معنی میں ہے .اس کے بعد ہربر تن کودُعا کیاگیا ،کیونکہ وہ اپنے اندر کسِی چیز کومحفوظ رکھتاہے ۔ یادوسرے لفظوں میں بعض اوقات انسان ایک بات کرستنا ہے اورفوراً اُسے کان سے باہر نکال دیتاہے ، جیساکہ عام لوگوں کی تعبیروں میں کہاجاتا ہے : ایک کان سے سُنی اوردوسرے کان سے نکال دی لیکن بعض اوقات وہ اس بات میں غو وفکر کرتاہے ،اسے اپنے دل میں جگہ دیتاہے اوراس کواپنی زندگی کی راہ کاچراغ شمار کرتاہے . یہی وہ چیز ہے جسے د عی سے تعبیر کیاجاتاہے۔ ١۔ اس طرح بعض نے یہ کہا ہے کہ ایت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں حملنا اٰبا ئکم تھا ۔