يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ
That day you will be presented [before your Lord]: none of your secrets will remain hidden.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 69:18
[Pooya/Ali Commentary 69:18] Refer to Bani Israil: 71 and Waqi-ah for the people of the right hand who are described as those who are given their record in their right hand on the day of judgement. The righteous will rejoice that the faith he followed in the life of the world was true. He will be happy in the garden of delight fully enjoying a life of satisfaction and fulfillment, because what Baqarah : 110 says: "Whatever good you send for your souls before you, you shall find it with Allah" has to be proved true. It will be a wholly new world of existence. "The days that are gone" refer to the life of the world. Even time and space will have no bearing, therefore all phenomena conditioned by time and space will disappear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:18-24
سوره حاقه/ آیه 18- 24
١٨ ۔یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لا تَخْفی مِنْکُمْ خافِیَة ۔ ١٩۔فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتابَہُ بِیَمینِہِ فَیَقُولُ ہاؤُمُ اقْرَؤُا کِتابِیَہْ ۔ ٢٠۔ِنِّی ظَنَنْتُ أَنِّی مُلاقٍ حِسابِیَہْ ۔ ٢١۔فَہُوَ فی عیشَةٍ راضِیَةٍ ۔ ٢٢۔فی جَنَّةٍ عالِیَةٍ ۔ ٢٣۔ قُطُوفُہا دانِیَة ۔ ٢٤۔ کُلُوا وَ اشْرَبُوا ہَنیئاً بِما أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخالِیَة۔ ترجمہ ١٨۔اس دن تم سب کے سب بارگاہِ خدا وندی میں پیش کئے جائو گے اور تمہارے کاموں میں سے کوئی چیزمخفی نہیں رہے گی ۔ ١٩۔ لیکن وہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ہوگا ،(وہ فرطِ مسّرت اور فخر کے ساتھ پکار اُٹھے گاکہ (اے اہل محشر )لو میرانامہ ٔ اعمال پڑھو۔ ٢٠۔مجھے یقین تھاکہ ( قیامت آگے رہے گی اور )میرے اعمال کاحساب ہوگا ۔ ٢١۔ وہ ایک کامل پسند یدہ زند گی میں قرار پائے گا۔ ٢٢۔ ایک عالی جنّت ۔ ٢٣۔ جس کے پھل دستر س میں ہوں گے ۔ ٢٤۔(اوران سے کہا جائے گا ) مزے مزے سے کھائواور پیو ،یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جنہیں تم نے گذ شتہ ایّام میں انجام دیاتھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:18-24
اے اہل محشر میرانامۂ اعمال پڑھو
گذشتہ آ یات کی تفسیر میں بیان کیا جاچکاہے کہ نفخ ِصور دو مرتبہ رُو نماہوگا. پہلی دفعہ سب ذی رُوح مرجائیں گے اور نظامِ زندگی بکھر کر رہ جائے گا .دوسری مرتبہ ایک نیاجہاں آورایک نیا عالم بر پا ہوگا،انسان اور فرشتے ایک نئی زندگی حاصِل کریں گے ،جیساکہ ہم نے بیان کیاہے ان آ یات کاآغازتوپہلے نفخہ کی اور ان کاآخر دوسرے نفخہ کی خبردیتاہے ۔ اسی مطلب کوجاری رکھتے ہُوئے زیر بحث آیات میں فرماتاہے : اس دن تم سب کے سب بارگاہِ خدا وندی میں پیش کیے جائو گے اور تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی (یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لا تَخْفی مِنْکُمْ خافِیَة) ۔ تعرضون عرض کے مادّہ سے کسِی چیز کودکھانے اورپیش کرنے کے معنی میں ہے . چاہے معاملہ ہے وقت مال اور جنس ہویااس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو .البتّہ انسان اوران کے علاوہ جوکچھ بھی ہے اس دنیامیں بھی ہمیشہ اس کے سامنے ہیں . لیکن یہ بات قیامت میں زیادہ سے زیادہ نمایاں اور ظاہر ہوگی جیساکہ خدا کی حاکمیت عالمِ ہستی پر دائمی ہے لیکن یہ حاکمیت اس دن ہر زمانہ اوروقت سے زیادہ واضح اور آشکار ہو گا ۔ لا تَخْفی مِنْکُمْ خافِیَة کاجُملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ اس دن غیب اور لوگوں کے اسرار ، شہود و ظہور میں بدل جائیں گے ، جیساکہ قرآن قیامت کے بارے میں کہتاہے :یوم تبلی السرائر : وہ ایسادن ہوگاجس میں سارے پوشیدہ صفات ظاہر ہوجائیں گے(طارق۔ ٩) ۔ نہ صرف انسانوں کے مخفی اعمال،بلکہ ان کے صفات ،جذ بات ، اخلاق اور نیّتیں،سب کھل کرسامنے آ جائیں گی۔ یہ ایک عظیم حادثہ ہے اور بعض مفسّرین کے مطابق بہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر نے اور آسمانوں کے کرّوں کے پھٹ جانے سے زیادہ ،عظیم بد کار وں کی عظیم رسوائی اور مومنین کی بے مثال سربلند ی کادن ہے .وہ ایسا دن ہوگاجس میں آنسان اس میدان میں ، اعمال اور اند رونی اسرار کے لحا سے عُریاں ظاہر ہوگا، ہاں !اس دن ہمارے وجود کی کوئی چیز پنہاں اور مخفی رہے گی ۔ ممکِن ہے کہ یہ اس دن خُدا کے ہر چیز پر احاطہ ء علمی کی طرف اشارہ ہو ،لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔ لہٰذا اس کے بعد کہتاہے: لیکن و ہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ہوگا وہ فرطِ مسرّت میںپکا ر اُٹھے گا، لو آ ئو اورمیرانامۂ اعمال پڑھو (فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتابَہُ بِیَمینِہِ فَیَقُولُ ہاؤُمُ اقْرَؤُا کِتابِیَہ)(١) ۔ گو یاخوشی سے پھولا نہیں سماتا اوران سب نعمتوں،تو فیقات اور ہدایت کی وجہ سے جوخُدا نے اُسے دی ہیں اس کے وجُود کو ہرہر ذرّہ شکر گزار ہے اوروہ بے ساختہ الحمدللہپکار رہاہے ۔ اِس کے بعد اپنے عظیم ترین افتخارافتخار کواس کلمہ میں خلاصہ کرتے ہُوئے کہتا ہے : مجھے یقین تھاکہ قیامت آ کے رہے گی اور مجھے اپنے اعمال کاحساب دینا پڑ ے گا (انِّی ظَنَنْتُ أَنِّی مُلاقٍ حِسابِیَہْ ) (٢) ۔ ظن اِس قسم کے موارد میں یقین کے معنی دیتاہے .وہ یہ کہناچا ہتاہے کہ مجھے جوکچھ نصیب ہواہے ،وہ اس دن پر ایمان کی وجہ سے ہے،واقعاً بات یہی ہے کہ حساب وکتاب پرایمان،انسان کوتقوٰی اور پر ہیز گار ی کی رُوح عطاکرتاہے،تعہداور مسئو لیّت کااحساس پیدا کرتاہے اورانسان کی تر بیت کااہم ترین عامل ہے ۔ بعد والی آ یت میں اس قسم کے افراد کے اجرو ثواب کے ایک گوشہ کوبیان کرتے ہُوئے فرماتاہے : وہ ایک کامل اور پسندیدہ زندگی میں قرار پائے گا (فَہُوَ فی عیشَةٍ راضِیَةٍ)( ٣) ۔ اگرچہ اس نے اسی ایک جُملہ کے ساتھ کہنے کی باتیں کہہ دی ہیں لیکن مزید وضاحت کے لیے کہتاہے : وہ عالی مرتبہ بہشت میں ہوگا (فی جَنَّةٍ عالِیَةٍ ) ۔ وہ بہشت جواتنی بلندوبالااو ررفیع و والا قد رہے کہ نہ کسی شخص نے دیکھی ہے نہ سُنی ہے اور نہ ہی کبھی اس کا تصوّر کیاہے ۔ ایسی بہشت جِس کے پھل وسترس میں ہوں گے (قُطُوفُہا دانِیَة ) ۔ نہ پھلو ں کو توڑ نے کی زحمت اٹھاناپڑے گی، نہ ہی اس کے لدے پھندے درختوں کے قریب ہونے میں کو ئی مشکل ہوگی اور اصولی طورپر اس کی تمام نعمتیں بغیر کسی استثناء کے دستر س میں ہوں گی ( ٤) ۔ آخری زیربحث آ یت میں ،ان بہشتیوں کے لیے خداکے محبّت آمیز خطاب کواس طرح بیان کیاہے : مزے مزے سے کھائواورپیو ، یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جنہیںتم نے گذشتہ ایّام میں انجام دیاتھا (کُلُوا وَ اشْرَبُوا ہَنیئاً بِما أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخالِیَةِ) ۔ ہاں !یہ عظیم نعمتیں بے حساب نہیں ملیں گی . یہ تمہارے اعمال کابدلہ ہے جنہیں تم نے دنیامیں آج کے لیے دخیرہ کیااور آگے بھیجاہے ،لیکن یہ ناچیز اعمال جب فضل ورحمت ِالہٰی کے افق میں قرار پائے ہیں تواس قسم کے ثمرات ،ونتائج تک منتہی ہُوئے ہیں ۔ ١۔"" ھائوم ""ارباب لغت کے قول کے مُطابق، "" لے لو"" کے معنی میں ہے اگر مخاطب مردوں کی جماعت ہوتو ""ھاوم ""کہا جاتاہے .عورتوں کی جماعت ہو تو ھائن اور اگر مفر و مذ کر ہوتو "" ھا"" (زبر کے ساتھ )اور مفر د مرنّث ہوتو "" ھائ"" (زیر کے ساتھ )اور تثنیہ کے لیے""ھائما""کہاجا تاہے راغب مفرادت میں کہتاہے "" ھائ"" لینے کے معنی میں اور"" ھات""دینے کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ ٢۔"" حسابیہ "" میں ھاء استراحت کی یا سکتہ کی ہے اوراس کاکوئی خاص معنی نہیں ہے ،جیساکہ کتابیہ میں بھی ایساہی ہے ۔ ٣۔اگرچہ "" رضا یت اور خوشی ""اس زندگی والوں کی ایک صفت ہے لیکن اوپرووالی آ یت میں اسے خود زندگی کی صفت قرار دیاہے . یہ چیزانتہائی تاکید کافائدہ دیتی ہے .یعنی وہ ایک ایسی زندگی ہے جوساری کی ساری رضا یت وخوشی ہے ۔ ٤۔قطوف ،قطف(بروزن "" حزب""کی جمع ہے جوچُنے ہُوئے پھلوں کے معنی میں ہے اورکبھی چُننے کے لیے تیّار پھلوں کے لیے بھی آ یاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:18-24
١لفظِ عرش کی ایک اور تفسیر
ایک حدیث میں امام ِ صادق علیہ السلام سے آ یاہے کہ آپ نے فرمایا: حملة العرش ، والعرش العلم، ثما نیة اربعة منا، وار بعة ممن شاء اللہ ۔ حاملین عرش ،عرش سے مراد علمِ خدا ہے ،آٹھ افراد میں چار توہم میں سے ہیں آور چار ان میں سے جنہیں خُدا نے چاہا ہے ( 1) ۔ ایک اورحدیث میں امیر المو منین علی علیہ السلام سے آ یاہے : فالذین یحملون العرش ،ھم العلمائ، الذ ین حملھم اللہ علمہ ۔ حا ملین عرش وہ غلماء اور دانش مند ہیں جنہیں خدانے اپنے علم کی تعلیم دی ہے (2) ۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آ یاہے : العرش لیس ھو اللہ والعرش اسم علم وقد رة ۔ عرش خدانہیں ہے ، بلکہ اس کے علم وقدرت کانام ہے ( 3) ۔ ان احادیث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے کہ عرش کی اس تفسیر کے علاوہ ، جوہم نے پہلے بیان کی تھی،ایک اور تفسیر بھی ہے ، یعنی وہ خداکے علم و قدرت جیسی صفات ہیں ، اس بناء پر عرش الہٰی کے حامل اس کے علم کے حامل ہیں .پس انسان یافرشتے جتنا زیادہ علم رکھتے ہوں گے ،اتنا ہی زیادہ حصّہ اس عظیم عرش کااُٹھا ئے ہُوئے ہوںگے ۔ اِس طرح یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے ،کہ عرشِ تختِ سلطنت کے مشابہ کسِی جسمانی تخت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ جب خداکے بارے میں آستعمال ہوتاہے ، تومختلف کنائی معانی رکھتاہے ۔ 1۔نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٤٠٦ حدیث ٢٨۔ 2۔نورالثقلین،جلد ٥،صفحہ ٤٠٥ حدیث ٢٦۔ 3۔نورالثقلین،جلد ٥،صفحہ ٤٠٥ حدیث ٢٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:18-24
٢علی علیہ السلام اوران کے شیعوں کامقام
کئی روایات میں آ یا ہے آ یت .. علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ، یاعلی علیہ السلام اوران کی شیعوں کے بارے میں ہے ( 1) ۔ حقیقت میںیہ واضح مصادیق کے بیان کے قبیل سے ہے . اس سے آ یت کے مفہوم کو محدود نہیں کیاجاسکتا۔ 1۔ تفسیر المیزان ،جلد ٢٠ ،صفحہ ٦٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:18-24
٣ایک سوال کاجواب
ممکن ہے یہاں ایک سوال کیاجائے کہ کیاوہ مومنین جواوپر والی آیات کے مطابق پکاریں گے اے اہل محشر آئواورہمارے نامۂ اعمال کوپڑھو،توکیاان کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اس سوال کاجواب بعض احادیث سے معلوم کیاجاسکتاہے ، منجملہ ان کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے : خدا قیامت میں پہلے اپنے بندوں سے ان کے گنا ہوں کااقرار لے لے گاپھر فرمائے گا ، میں نے تمہارے یہ گناہ دنیا میں بھی مستور اور پوشیدہ رکھے ہیں اور آج بھی میں آنہیں بخشتا ہوں اس کے بعد (صرف )ان کے حسنات اورنیکیوں کادفتر ان کے دائیں ہاتھ میں دے دے گا ( 1) ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس دن خدامو منین کے سیئات اور برا ئیوں کوحسنات اور نیکیوںمیں بدل دے گا .اسی وجہ سے ان کے سارے نامۂ اعمال میں کوئی ضعیف نقط نہیں ہوگا۔ 1۔ فی ظلال القرآن ،جلد ٨،صفحہ ٢٥٦۔