فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ
So do not obey the deniers,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 68:8
[Pooya/Ali Commentary 68:8] The enemies of truth, in order to save their skin and to cling to their fast disappearing privileges, try to make compromise with the upholders of truth, but the rightly guided believers who submit their wills to the will of Allah do not ever choose the easy path of compromise. The hateful qualities mentioned in verses 10 to 13 made the enemies of the Holy Prophet peculiarly despicable, as was Walid ibn Mughayra, a ringleader of those who used to belie and slander the Holy Prophet. Zanim means the son of an adulteress. When this verse was revealed, Walid, very proud of his high position among the Quraysh, in anger and desperation, went to his mother and demanded the truth about his birth. His mother said: "Your father was a very rich man, but as he was impotent we did not have any child; and I did not want his brother's sons to own our wealth, so I cohabited with a slave and you were born."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:8-16
٢مداھنہ اور سازگاری
وہ واضح اختلافات پر جوراہِ حق کے راہر وںاور سیاسی بازی گروں کے درمیان موجود ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کہ دوسراگروہ کسِی خاص اصول پر ثابت قدم نہیں رہتا ، بلکہ وہ ہمیشہ اس بات کے لیے تیار ہتے ہیں کہ ان امتیازات کے مقابلہ میں جوان کوحاصل ہیں کچھ اور امتیاز ات حاصل کر یں اوراپنے اصول سے کچھ منافع کی خاطر صرفِ نظر کرلیں ان کے اہداف و عقاید ان کیلئے کوئی مقدّس چیز نہیں ہیں ، اور وہ ہمیشہ ان کی قیمت پر معاملہ کرتے رہتے ہیں . یہ ٹھیک اوپر والی آ یت کامضمون ہے جوکہتی ہے : (وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ)وہ دوست رکھتے ہیں کہ تجھے بھی اپنے جتھے میں کھینچ لیں اور جس طرح وہ مداہنت اور معاملہ کرتے ہیں ، تو بھی کرے ۔ لیکن پہلاگروہ ہرگز مُعاملہ گر نہی ہوتا، وہ اپنے مقدّس اہداف کوکسِی بھی قیمت پر اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے اوراس پر معاملہ نہیں کرتے .مداہنت و موافقت اور اس قسم کے سیاسی لین دین ان میں نہیں ہوتے . یہ ایک بہترین نشانی ہے جِس سے پیشہ ور سیاست بازوں کو پہچاناجاسکتا ہے اور انہیں مرادنِ خدا سے الگ کیا جاسکتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:8-16
ایسی صفات والوں کی پیر وی نہ کرو
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے عظیم اخلاق کاذکر کرنے کے بعد کہ جو گز شتہ آ یات میں بیان ہُوئے تھے، ان آ یات میں ان کے دشمنوں کے اخلاق کوبیان کررہاہے تاکہ ان میں موازنہ کرنے سے ان دونوں کافرق کامل طور سے آشکار ہوجائے ۔ پہلے فر ماتاہے :ان تکذیب کرنے والوں کی ، جوخدا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،قیامت کے دن اور خدا کے دین کی تکذیب کرتے ہیں ، اطاعت اور پیروی نہ کرو (فَلا تُطِعِ الْمُکَذِّبینَ )۔ وہ خود گمراہ اوردوسروں کوگمراہ کرنے والے لوگ ہیںاورانہوں نے حق کے تمام اصول اپنے پائوںتلے روند ڈالے ہیں.ایسے لوگوں کی صرف ایک بات میں اطاعت بھی گمراہی اور بدبختی کے علاوہ اورکوئی نتیجہ نہیں رکھتی ۔ اِس کے بعد پیغمبر کواپنے ساتھ ملانے اوراپنی طرف مائل کرنے کی ساز باز میںان کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہُو ئے مز ید کہتاہے : وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرمی اختیار کرلو تاکہ وہ بھی کچھ نرمی کریں (وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ)۔ نرمی اور جھکا ئو کامعنی یہ ہے کہ ان کی خدا کے فرامین کے ایک حصّہ سے صرف ِ نظر کرے ۔ مفسّرین نے نقل کیاہے کہ یہ آ یات اس وقت نازل ہُوئیں جب رئو سائِ مکہ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواپنے بزرگوں کے دین ،شرک اور بُت پرستی کی دعوت دی تو خدانے آپ کوان کی اطاعت سے منع کیا(١)۔ بعض دوسروں نے یہ نقل کیاہے کہ ولید بن مغیرہ ،جوشرک کے بہت بڑے سرغنوں میں سے تھا ، اس نے بہت زیادہ مال پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں پیش کیااورقسم کھائی کہ اگرآپ اپنے دین سے پھر جائیں تو یہ سارامال آپ کودے دے گا ( ٢)۔ آ یات کے لب ولہجہ اور تاریخوںمیں درج واقعات سے اچھی طر ح معلوم ہوجاتاہے کہ جب دل کے اندھے مشرکین نے دین اسلام کی پیش رفت کی سرعت کامشاہد ہ کیاتووہ اس فکر میں پڑ گئے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوکچھ امتیازات لے لیں اورانہیں سازش کے ذ ریعہ اپنی طرف کھینچ لیں .جیساکہ طول تاریخ میں سب ہی طرفدارانِ باطل کا طریقہ رہاہے . لہٰذاکبھی توبہت زیادہ مال کی ،کبھی خوبصورت عورتوں کی اور کبھی اعلیٰ عُہدے اور مقام کی پیش کش کرتے .حقیقت میں وہ روحِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوبھی اپنے وجود کے تر ازو میں تول رہے تھے ۔ لیکن قرآن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوبار بار خبر دار کرتاہے کہ انحرافی پیشکشوں کے مقابلہ میں اپنی طرف سے معمولی سے جھکا ئو کابھی اظہار نہ کریں اور اہل باطل کی خاطر ہرگز نرمی نہ کریں. جیساکہ سورۂ مائدہ کی آ یت ٤٩میں آ یاہے :وَ أَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّہُ وَ لا تَتَّبِعْ أَہْواء َہُمْ وَ احْذَرْہُمْ أَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ ما أَنْزَلَ اللَّہُ ِلَیْک ان (اہل کتاب )کے درمیان خُدا کے نازل کہ وہ فرمان کے مُطابق حکم کرو اوران کی ہواو ہوس کی پیروی نہ کر و اور اس بات سے ڈرتے رہو کہ وہ تمہیں ان تعلیمات سے جوخدانے تم پر نازل کی ہیں منحرف نہ کردیں ۔ ید ھنون مداھنہ کے مادہ سے اصل دمیں دھن بمعنی روغن لیاگیاہے ، اور اس قسم کے مواردمیں نرمی کرنے اورجھکائو کے معنی میں استعمال ہوتاہے .عام طورپر یہ تعبیر مذموم اورمنا فقانہ نہ جھکائو کے مواردمیں استعمال ہوتی ہے ۔ اس کے بعد دوبارہ ان کی اطاعت سے منع کرتے ہُوئے نومذموم صفات کو جن میں سے ہر ایک اکیلی ہی اطاعت اورپیر وی کرنے سے مانع ہوسکتی ہے ،ان کو شمار کرتا اور فر ماتاہے اورایسے لوگوں کی جوپست اور بہت زیادہ قسمیں کھانے والے ہوں اطاعت نہ کرو (وَ لا تُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَہین)۔ حُلّاف اس شخص کوکہتے ہیں جوبہت زیادہ قسمیں کھاتا ہواورہر چھوٹے بڑے کام کے لیے قسم کھانے لگے .عام طور پر اس قسم کے لوگ اپنی قسموں میں سچے نہیں ہوتے ۔ مھین مہا نت سے حقارت وپستی کے معنی میں ہے .بعض نے اس کی کم عقل یاجھوٹے یا بہت زیادہ شریر افراد کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔ اس کے بعد مزیدکہتا ہے : وہ شخص جوبہت ہی زیادہ عیب جُو اورچغلخور ہے (ہَمَّازٍ مَشَّاء ٍ بِنَمیمٍ )۔ ھمّاز ھمز( بروزن طنز)کے مادّہ سے غیبت اور عیب جُوئی کرنے کے معنی میں ہے ۔ مَشَّاء ٍ بِنَمیمٍ ایساشخص جوتعلقات خراب کرنے ، فساد پھیلانے اور لوگوںمیں دشمنی پیدا کرنے کے لیے آمدورفت رکھتاہو ( اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں اوصاف صیغہ مبالغہ کی صُورت میں آ ئے ہیں جواس قسم کے قبیح کاموں میں ان کے انتہائی اصرار کی ترجمانی کرتے ہیں)۔ پانچویں چھٹی اور ساتوین صفت میں کہتاہے : وہ شخص جونیک کاموں میں بہت زیادہ رکاوٹیں ڈالنے والا ، تجاوز گر اور گنہگار ہے (مَنَّاعٍ لِلْخَیْرِ مُعْتَدٍ أَثیمٍ)۔ نہ صرف خود کو ئی اچھاکام نہیں کرتا اوراچھائی کاراستہ نہیں دکھاتا، بلکہ دوسروں کی خیر وبرکت کے مقابلہ میں بھی ایک رکاوٹ بناہُوا ہے .علاوہ ازیں وہ ایک ایساانسان ہے جوحدودِالہٰی اوران حقوق سے جوخدا نے ہرانسان کے لیے معیّن کردیئے ہیں ، تجاوز کرنے والا ہے . ان صفات کے علاوہ ہرقسم کے گناہ میں بھی آلودہ ہے ،اس طرح کہ گناہ اس کی طبیعت اورمزاج کاجُز ء بن چکاہے ۔ آخر کار ان کی آٹھویں اور نویں صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے : وہ ان سب باتوں کے علاوہ پرخورو بدنام ہے (عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِکَ زَنیمٍ)۔ عتل جیساکہ راغب نے مفردات میں کہاہے ،ایسے شخص کوکہتے ہیں جو غذابہت کم کھاتاہو، ہر چیز کواپنی طرف کھینچتاہو اور دوسروں کواس سے محروم کردیتاہو ۔ بعض دوسروں نے عتل کوایک بدخُو ،کینہ پرور ،سخت مزاج انسان یابے حیا اور بد خلق انسان کے معنی میں تفسیر کیاہے ۔ زنیمایسے شخص کوکہتے ہیں جِس کاحسب ونسب واضح نہ ہو اوراسے کسِی قوم کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ وہ ان میں سے نہیں ہوتا .اصل میں زنمہ (بروزن قلمہ )گوسفند کے کام کے اس حصّہ کوکہتے ہیں جولٹکا ہوا ہوتاہے گویا وہ کام کاجزء نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ وابستہ کر دیاگیاہے ۔ بعد ذالک کی تعبیر اس معنی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں صفات سابقہ صفات سے زیادہ قبیح اور مذموم ہیں ، جیساکہ مفسّرین کی ایک جماعت نے اس کاتذ کرہ کیاہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں خدا نے جھٹلا نے والوں ، ان کی قبیح صفات ،اوراخلاقِ رذ یلہ کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ شاید سارے قرآن میں اس کی مِثل ونظیر نہ ہو .وہ اس طرح سے یہ واضح کرناچاہتاہے کہ اسلام و قرآن کے مخا لفین اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی ذات کے مخالفین خودکِس قسم کے لوگ تھے .جھُوٹے ،پست ،عیب جُو ، جُغلخور، حد سے تجاوزکرنے والے ،گنہگار اور بے اصل ونست افراد اورواقعاً اِس قسم کے افراد کے علاوہ اور کسِی سے اِس قسم کے عظیم مصلح کی مخالفت کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ بعد والی آیت خبر دار کرتاہے : کہیں ایسا نہ ہو کہ جب وہ زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں ،اس بناء پر تم ان کے مقابلہ میں نرم پڑ جائواور سر تسلیم خم کرکے ان کی اطاعت کرنے لگو (أَنْ کانَ ذا مالٍ وَ بَنینَ )۔ اس میں شک نہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہرگز ان کی اطاعت و پیروی نہ کرتے ،لیکن یہ آ یات حقیقت میں اس امر پر ایک تاکید ہیں تاکہ آپ کے مکتب کی راہ اور عملی روش سب پر آشکار ہو جائے اور دوست و دشمن میں سے کوئی بھی شخص اِس کی تو قع نہ رکھّے۔ اِس بناء پر اوپر والاجُملہ آ یت و لا تطع کل حلّاف مھین کا تتمہ ہے ،لیکن بعض نے کہاہے کہ یہ آ یت حقیقت میں ان صفات کی پیدائش کی علّت کابیان ہے .یعنی دولت وثروت اورافرادی قوت سے پیداہونے والا غرُور تکبّر انہیںان اخلاقی رذائل کی طرف کھینچ لے جاتاہے .چنانچہ بہت سے بے ایمان دولت مندوں اورقد رت رکھنے والوں میںیہ صفات نظر آ تی ہیں .لیکن آ یات کالب ولہجہ پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ،اوراسی وجہ سے اکثر مفسّرین نے بھی اس کوانتخاب کیاہے ۔ بعد والی آ یت میں اس قسم کی پست صفات کے حامل افراد کاآیات الہٰی کے مقابلہ میں عکس العمل دکھاتے ہُوئے کہتاہے : جب ہماری آ یات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تووہ کہتاہے کہ یہ تو گذ رے ہُوئے لوگوں کے بے فائدہ افسانے ہیں(اذا تُتْلی عَلَیْہِ آیاتُنا قالَ أَساطیرُ الْأَوَّلینَ)۔ وہ اس بہانے سے اور اس قبیح نسبت کی وجہ سے آیات خداسے دور ہوجاتاہے اورانہیںفراموش کر دیتاہے .نیز دوسروں کوبھی گمراہ کرتاہے .اسی بناء پر اس کے افراد کی اطاعت وپیروی نہیں کر ناچاہیئے اوریہ اس قسم کے افراد کی اطاعت سے نہی میں ایک تکمیل ہے ۔ آخری زیر بحث آ یت ، اس گروہ کی ایک سزاسے پردہ اٹھائے ہُوئے مزید کہتی ہے : ہم عنقریب اس کی ناک پرننگ وعار داغ اور نشانی لگادیں گے (سَنَسِمُہُ عَلَی الْخُرْطُومِ )۔ یہ ان کواتنہائی ذلیل کرنے کے لیے ایک منہ بولتی تعبیر ہے .کیونکہ اول توناک کی خرطوم سے تعبیر جوصرف سورۂ اورہاتھی کے لیے بولی جاتی ہے ،ان کے لیے ایک واضح تحقیر وتذلیل ہے .دُوسرے لغت عرب میں ناک عام طورپر بزرگی اورعزّت سے کہایہ ہوتاہے ، جیساکہ فارسی میں بھی جس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کی ناک کو مٹی میں رگڑ دو ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عزّت کوبرباد کردو ( اردو میں ناک کاکٹنا بے عزتی کے معنی میں آتاہے )تیسرے نشان وعلامت لگا نا جانوروں کے ساتھ مخصوص ہے،لیکن جانوروںمیں بھی ان کے چہر وںخصوصاً ان کے ناک پرعلامت نہیں لگا ئی جاتی ،اوراسلام میں بھی اس کام سے رو کاگیاہے .یہ سب چیزیں واضح بیان کے ساتھ کہتی ہیں کہ خدا اس قسم کے طغیان گر ، خود خواہ ، متجا وز اور سرکش افراد کواس طرح سے ذلیل کرتاہے اورہر جگہ ان کی رُسوائی کاڈھنڈورا پٹو ادیتاہے تاکہ سب کے لیے عبرت ہو ۔ تاریخ اسلام بھی اس معنی پر گواہ ہے کہ ہٹ دھرمی مخا لفین کا یہ گروہ اسلام کی پیش رفت سے اس طرح ذلیل و رُسوا ہُوا کہ جس کی کوئی مثال اور نظیر نہیں ملتی.آخرت کی رُسوائی اس سے بھی زیادہ ہے ۔ بعض مفسّرین نے کہاہے کہ اس سورہ کی زیادہ ترآیات شرک کے ایک مشہور سرغنہ ولید بن مغیرہ کے کے بارے میںآ ئی ہیں.لیکن یہ بات آیات کی عمومیّت ، وسعت اوراس کی تعبیرات کے شمول سے مانع نہیں ہے (٣)۔ زیربحث آیت کی طرف توجہ کرتے ہُوئے خدا کہتا ہے ہم اس کی خرطوم پر علامت لگائیں گے یہ تعبیر ایک عمدہ معنی رکھتی اور بتاتی ہے کہ خدا کایہ ارادہ اس کے مخصوص بندہ علی علیہ السلام کے ہاتھ سے پورا ہُوا ۔ ١۔فخر رازی جلد ٣٠ ،صفحہ ٨٥ ومراغی جلد ٢٩ ،صفحہ ٣١۔ ٢۔ تفسیر قرطبی ،جلد ١٠،صفحہ ٦٧١٠۔ ٣۔بعض نے کہاہے کہ ناک پرعلامت لگانا جنگ بد ر میںعملی طورپر صورت پذیر ہوگیا کہ کفر کے بعض سرغنوں کی ناک پراس طرح سے ضرب لگی کہ اس کی علامت باقی رہی . اگریہاںولید بن مغیرہ ہی مُراد ہوتو تاریخ یہ کہتی ہے کہ وہ جنگِ بدر سے پہلے ہی ذلت وخواری کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگیاتھا .لیکن اس کے علاوہ کوئی اور شخص مراد ہوتوپھر وہ بات ممکن ہے جوامام علی علیہ السلام بن الحسین علیہ اسلام کے شام کے مشہور خطبہ میں بھی آ ئی ہے "" انا ابن من ضرب خراطیم الخلق حتی قالوا لاالہٰ الااللہ "" ! میں اس کابیٹا ہوں جس نے مشر کین کی نا کوں پر ضرب لگا ئی ، یہاں تک کہ انہوں نے لاالہٰ الااللہ پڑ ھ لیا(اس سے مراد امیر المو منین علی علیہ السلام ہیں ۔بحارالانوارجلد ٤٥ ،صفحہ ١٣٨)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:8-16
١اخلاقی رذ ائل
اوپر والی آیات اگرچہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سخت مخالفین کی صفاتِ ر ذیلہ کی تفصیلات کے بارے میں ہیں. لیکن اس کے باوجودان صفات کی تشخیص کے لیے ایک نمونہ ہمارے ہاتھ میں دیتی ہیں.وہ ایسی بُری صفات ہیں جو انسان کوخدا سے دُور کردیتی ہیں اور شقاوت و بد بختی کے گڑھے میں گرا دیتی ہیں.وہ ایسی صفات ہیں کہ جن سے سچّے مومنین کوبچتے رہنا چاہیے اوران سے آلودہ نہیں ہوناچاہیے .اِسی لیے اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت زیادہ تاکید آ ئی ہے .منجملہ : ١:ایک حدیث میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آیاہے : الا انبئکم بشرار کم قالوبلیٰ یارسول اللہ (ص)قال :المشائون بالنمیمة المفرقون بین الا حبة البا غون للبرء اء المعایب ۔ کیامیں تمہیںتمہارے شریر ترین افراد کے بارے میںخبردوں؟ انہو ں نے کہاجی ہاں !اے رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)!فرمایا :وہ لوگ جوبہت زیادہ چغلخورہیں، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اور پاکیزہ اور بے گناہ افراد میں عیب کی جستجومیں لگے رہتے ہیں (1)۔ ٢: پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ وصیّت کیاکرتے اور فرماتے تھے : لایبلغنی احدعن احد من اصحابی شیٔافانی احب ان اخرج الیکم وانا سلیم الصدر۔ تم میں سے کوئی بھی شخص میرے اصحاب میں سے کسی ایک کے بارے میںبھی ایسی بات نہ کرے جومجھے اس کی نسبت بدظن کردے ، کیونکہ میں دوست رکھتاہوں کہ پاک وپاکیزہ دل کے ساتھ تم سے ملاکروں (2)۔ ٣: نیزایک اورحدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: لایدخل الجنة جواظ ، ولا جعظری، ولا عتل زنیم۔ تین گروہ جنّت میں داخل نہیںہوں گے جواظ ، جعظری زنیم روای کہتاہے کہ میں نے پوچھا . جواظ کون ہے ؟فرمایا : کل جماع مناع ہروہ شخص جو زیادہ مال جمع کرتاہے ،اوردوسروں سے بخل کرتاہے .میں نے پوچھا : جعظری کون ہے ؟ فر مایا:سخت مزاج اور تند خو .میں نے پوچھا : عتل زنیم کون ہے ؟فرمایا :شکمِ پر ور اور بداخلاق لوگ جوزیادہ کھاتے زیادہ پہنتے اور بیدادگراور ظاطلم ہیں (3)۔ 1۔اصول کافی ،جلد ٢،صفحہ باب المنیمہ حدیث ١۔ 2۔سنن ابو دائود ،وصحیح ترمذی ( مطابق نقل ظلال القرآن ، جلد ٨،صفحہ ف٢٣٠)۔ 3۔نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٩٤۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:8-16
سوره قلم/ آیه 8- 16
٨۔ فَلا تُطِعِ الْمُکَذِّبینَ ۔ ٩۔وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ ۔ ١٠۔وَ لا تُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَہینٍ ۔ ١١۔ہَمَّازٍ مَشَّاء ٍ بِنَمیمٍ ۔ ١٢۔مَنَّاعٍ لِلْخَیْرِ مُعْتَدٍ أَثیمٍ ۔ ١٣۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِکَ زَنیمٍ ۔ ١٤۔ أَنْ کانَ ذا مالٍ وَ بَنینَ ۔ ١٥۔ِذا تُتْلی عَلَیْہِ آیاتُنا قالَ أَساطیرُ الْأَوَّلینَ ۔ ١٦۔ سَنَسِمُہُ عَلَی الْخُرْطُومِ ۔ ترجمہ ٨۔ اب جب کہ یہ بات ہے توتکذیب کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو ۔ ٩۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرمی اختیاراختیار کرو تاکہ وہ بھی کچھ نرمی کریں(ایسی نرمی جوراہِ حق سے انحراف کے ساتھ ملی ہُو ئی ہو )۔ ١٠۔اورایسے اور بہت زیادہ قسمیں کھانے والے آدمی کی اطاعت نہ کرو ۔ ١١۔ جوبہت ہی زیادہ عیب جُو اورچغلخور ہے ۔ ١٢۔ نیک کاموں میں بہت زیادہ رُکاوٹیںڈالنے والا ، تجاوز گر اور گنہگار ہے ۔ ١٣۔اوران سب باتوں کے علاوہ کینہ پرور ، پُر خور ،سخت مزاج اور بد نام ہے ۔ ١٤۔کہیں ایسانہ ہوکہ صاحبِ مال اور زیادہ اولاد ہونے کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگو۔ ١٥۔جب ہماری آ یات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کہتاہے کہ یہ تو گزر ے ہُوئے لوگوں کے بے فائدہ افسانے ہیں ف۔ ١٦۔ہم عنقریب اس کی ناک پرننگ وعار کاداغ اور نشانی لگادیں گے ۔