نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
Nun. By the Pen and what they write:
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 68:1
[Pooya/Ali Commentary 68:1] Nun is an abbreviated letter. See commentary of Baqarah: 1. According to some commentators it would be an appropriate link with pen, mentioned in this verse, if nun is taken as ink or ink-holder. They imply knowledge and learning. The wisdom of countless men from the beginning of civilisation is available today and will be there in every age in future in the form of written words. It is a continuous source of knowledge importance of which might have been referred to here. Some commentators say that the pen and the writing refer to the source of knowledge revealed through revelation to the Holy Prophet who only spoke words, revealed to him, full of meaning which unfolds itself in innumerable aspects to countless generations in all ages. The Holy Prophet was the living grace and mercy of Allah and he was exalted above abuse and persecution of ignorant men like the heathens of Makka. Aqa Mahdi Puya says: Nun, according to some traditions from the Ahl ul Bayt and Ibn Abbas, is ink or ink-holder because of the mention of pen. However neither the pen nor the ink, mentioned in this verse, refers to the tools of writing used by man. They refer to the recording of events taking place in this world by the angelical agencies. By inference it lays great emphasis on learning and knowledge. The Holy Prophet, as said by Imam Ali, ever since his birth received guidance, wisdom and inspiration from Allah to condition and regulate all aspects of his life.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 68:1-33
Sins are at war with reason and conscience. We are hungry, they offer us bread but it is poisoned, we are thirsty and they offer us drink, but is from a deadly fountain. They may often satisfy us for the moment but it is death in the end. It is only the bread of Heaven and water of life which can so satisfy, which we shall hunger no more and thirst no more, i.e. Divine provision through Divine Lights. Sins reduce provision by catastrophe. The private and personal blessings we enjoy of immunity, safeguard, liberty, integrity deserve the thanksgiving of a whole life. If one should give me a dish of sand and tell me there are particles of iron in it, I might look out for them in vain with my clumsy fingers and be unable to detect them, but let me have a magnet to sweep through it, and how would it draw to itself the almost invisible particles by the mere power of attraction. The unthankful heart, like my finters in sand, discovers no sins, but let the thankful heart sweep through the day, and as the magnet find iron, so will it find on every hour some Heavenly blessings. Only the iron in God’s sand is gold.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:1-7
٢پیغمبر (ص) کے اخلاق کاایک نمونہ
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامیابی اگرچہ خدائی تائید و امداد کے ساتھ ہُو ئی تھی ، لیکن آپ ظاہر ی لحاظ سے بھی اس کے لیے کئی عوامل رکھتے تھے . جن میں سے اہم ترین پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاجاذبۂ اخلاقی تھا . اعلیٰ انسانی صفات اورمکارمِ اخلاق آپ میں اس طرح سے جمع تھے جوسخت ترین دشمنوں کوبھی متاثر کردیتے ، انہیں سرِ تسلیم خم کرنے پرابھارتے ہیں اور دوستوں میں شدید جذب ومحبت پیداکردیتے تھے ۔ بلکہ اگرہم اسے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کااخلاق معجزہ کہیں توکوئی مبالغہ نہیں ہوگا.چنانچہ اس اخلاق معجزہ کاایک نُمونہ فتح مکّہ میں نمایاں ہواجب وہ خونخوار اورجرائم پیشہ مشرکینِ مکّہ جنہوں نے سالہا سال تک اسلام اوراپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے خلاف اپنی پوری قوّت صرف کی تھی .مسلمانوں کے چُنگل میں گرفتار کا فرمان جاری کردیا، اوران کے تمام جرائم کومعاف کردیا . یہی چیزاس بات کاسبب بنی کہ وہ ید خلون فی دین اللہ افواجا کے مصداق بن کر فوج درفوج مسلمان ہوجائیں ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حُسنِ خلق ، عفود درگزر ، عطوفت ومہربانی ، ایثار وفدا کاری اورتقوٰی وپرہیزگار ی کے بارے میں تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں بہت زیادہ واقعات لکھے ہُوئے ہیں. ان سب کابیان ہمیں تفسیر ی بحث سے خارج کردے گا .لیکن ہمارے لیے اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں حضرت امام حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام سے آ یاہے ، کہ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے پدرِ بزرگوار امیر المومنین علی علیہ السلام سے پیغمبر کی زندگی کی خصوصیا ت اور آپ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیاتومیرے والد نے تفصیل کے ساتھ مجھے جواب دیا .اس حدیث کے ایک حصّہ میں آ یاہے : اپنے پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفتار اس طرح تھی کہ آپ خوشرو، خنداں ، خلیق اور نرم رہتے تھے ،اور کبھی بھی سخت مزاج ،سنگدل ، پُرخاش رکھنے والے ، سخت زبان ،عیب جو اور تعریف پسند نہ تھے . کوئی شخص آپ سے مایُوس نہ ہوتاتھا،جوشخص بھی آپ کے گھر کے در وازے پر آ تا مایوس وناامید نہ لوٹتا تھا .تین چیزوں کوآپ نے اپنے سے الگ کررکھا تھا ،گفتگو میںجھگڑنا،زیادہ باتیں کرنا، اورایسے کام میں دخل دینا جوآپ سے مربُوط نہ ہو .اسی طرح تین چیزوں کولوگوں کے بارے میں چھوڑ رکھاتھا ، کسِی کی مذمّت نہیں کرتے تھے ، کسِی کو سرزنش نہیں کرتے تھے اورلوگوں کے پوشیدہ عیوب اورلغز شوں دکی جستجو نہیں کرتے تھے .آپ ہرگز کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے سوائے ان امور کے بارے میں جن میں حصولِ ثواب کی اُمید ر کھتے تھے ، گفتگو ایسی موثر ہوتی تھیں کہ تمام سننے والے لوگ سکوت اختیا کر لیتے تھے اوراراپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں تھے .جب آپ خاموش ہوجاتے توپھر وہ لوگ بولتے ، لیکن وہ آپ کے پاس نزاع اورجھگڑانہیں کرتے تھے ، جب کوئی اجنبی اورنا واقف آدمی سختی سے بات کرتا اور درخواست کرتاتوآپ تحمّل سے کام لیتے اوراپنے اصحاب سے فر ماتے : جب کسِی کو دیکھو کہ وہ کوئی حاجت رکھتاہے تواس کی حاجت پُوری کرو ، آپ ہرگز کسِی کی بات کونہیں کاٹتے تھے جب تک کہ اس کی بات ختم نہ ہوجا تی (١)۔ ہاں ! اگریہ اخلاِق کریمہ اور یہ ملکاتِ فاضلہ نہ ہوتے تووہ پسماندہ اور جاہل قوم اوروہ سخت اوراثر ناپذیر گروہ آغوشِ اسلام میں ہرگزر نہ آتا،اور نفضوا من حولک کامصداق بن کرسب پراگندہ ہوجاتے ۔ کیا ہی اچھاہو کہ یہ اسلامی اخلاق آج زندہ ہو ں اورہر مسلمان میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اخلاق و عادات کاعکس نظر آئے ۔ اس سلسلہ میں اسلامی روایات بھی چاہے وہ خود پیغمبر کے بارے میں ہوں یا سب مسلمانوں کی ذمّہ داری کے بارے میں ،بہت زیادہ ہیں جِن میں سے چندہ روایات کی طرف ہم یہاں اشارہ کرناضروری سمجھتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا: ١: انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق میں اس لیے مبعوث ہُوا ہوں کہ اخلاقی فضائل کی تکمیل کروں (٢)۔ اِسی طرح پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بعثت کاایک اصلی ہدف یہی اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہے ۔ ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آ یاہے : ٢: انما المؤ من لید رک بحسن خلقہ درجة قائم اللّیل وصائم النھار (٣)۔ مومن اپنے حُسنِ خلق کی وجہ سے اس شخص کے درجہ تک پہنچ جاتاہے جو راتوں کوعبادت کے لیے کھڑا ہوتاہے اور دنوںمیں روزے رکھتاہے ۔ ٣: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے یہ بھی آ یاہے کہ آپ نے فر مایا: مامن شی ء اثقل فی المیزان من خلق حسن ۔ کوئی چیز میزان عمل میں قیامت کے دن اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہیں ہوگی (٤)۔ ٤: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے یہ بھی نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا: احبکم الی اللہ احسنکم اخلا قا المو طؤ اکنافاً ،الذین یألفون و یؤ لفون،وابغضکم الی اللہ المشائون بالمنیمة المفر قون بین الاخوان، الملتمسون للبراٰ ء العثرات ۔ تم سب میں سے خداکے ہاں زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں ، وہی لوگ جومتواضع ہیں ، دُوسروں سے جوشِ محبت کے ساتھ ملتے ہیں .تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ لوگ ہیںجوچغلیاں کرتے ہیں کہ بھائیوں کے درمیان جُدائی ڈال دیں اوربے گناہ لوگوں کے لیے لغزش کی جستجو میںلگے رہتے ہیں ( 5)۔ ٥:ایک اورحدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آ یاہے : اکثر ماید خل النامن الجنةتقوی اللہ وحسن الخلق۔ وہ چیز جوسب سے زیادہ لوگون کو جنّت میںداخل کرے گی ، تقوٰی اور حُسنِ خلق ہے (6)۔ ٦: ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آ یاہے : ان اکملالمؤ منین ایماناً احسنھم خلقاً ۔ مومنین میں سے اس کا ایمان سب سے بہتر ہے جس کے اخلاق زیادہ کامل ہیں (٧)۔ ٧: ایک حدیث میں امام علی علیہ السلام بن موسیٰ رجا سے آ یا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا : علیکم بحسن الخلق،فان حسن الخلق فی الجنةلا محالة وایاکم و سوء الخلق ،فان سوء الخلق فی النار لا محالة ۔ تمہارے لیے لازم ہے کہ حُسن ِخلق اختیار کرو ،کیونکہ حُسنِ خلق والا انجام کار جنّت میں ہے .سوء خلق سے بچو ، کیونکہ سُوء ِخلق والا انجامِ کار جہنم میں ہے ( ٨)۔ اوپر والی روایت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے کہ حسن خلق جنّت کی کلیداوررضائے خدا کے حاصل کرنے کاایک وسیلہ ہے ،قُدرتِ ایمانی کی انشانی ہے ، دن رات کی عبادتوں کے ہم پلّہ ہے اوراس سلسلہ میں احادیث بہت زیادہ ہیں ۔ ١۔ معانی الاخبار ،صفحہ ٨٣ ( تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ ) ۔ ٢۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔ ٣۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔ ٤۔مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ٣٣٣۔ 5۔مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ٣٣٣۔ 6۔سفینہ "" البحار جلد ١،صفحہ ٤١٠( یہی مضمون وسائل الشیعہ جلد ٨ ،صفحہ ٥٠٤ میں بھی آ یاہے .اسی طرح تفسیر قرطبی جلد ١٠ ،صفحہ ٦٧٠٧ میں ب بھی ہے )۔ ٧۔رورح البیان ،جلد١٠ ،صفحہ ١٠٨۔ ٨۔وسائل الشیعہ ،جلد ٨ ،صفحہ ٥٠٦ حدیث ٢١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:1-7
ا: افسانی زندگی میں قلم کانقش و اثر
نوع بشر کی زندگی کااہم ترین مرحلہ ، جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے ، خط کاپیدا ہونا اور قلم کاکاغذ یاپتھر پرچلنا تھا ، یہ وہی وقت تھا کہ جس نے تاریخ کے دور کوماقبل تاریخ سے جُدا کردیا ۔ کاغذ کے صفحہ پر نوک قلم کی گردش بشر کی سرنوشت کو رقم کرتی ہے .لہٰذا انسانی معاشروں کی کامیابی اورشکست نوکِ قلم سے وابستہ ہے ۔ قلم علوم و معارف کامخافظ ،مفکّرین کے افکار کاپاسدار ،عُلماء کے فکر ی اتّصار کی کڑی اورنوعِ بشر کے ماضی وحال کے ارتباط کے لیے ایک پُل ہے . یہاں تک کہ آسمان وزمین کاارتباط بھی لوح وقلم کے ذ ریعہ ہی ہُوا ہے ۔ قلم ان انسانوں کوجوزمان ومکان کے لحاظ سے ایک دوسرے سے الگ زندگی بسرکرتے ہیں ، ایک دوسرے سے جوڑ دیتاہے .گویا تمام طول تاریخ اورتمام رُوئے زمین کے سب مفکّر ین نوعِ بشر کو ایک کتابخانہ عظیم میںدیکھ لیں گے ۔ قلم راز دار ِ بشر ہے ، خز انہ دارِ علُوم ہے ،قرونِ واعصار کے تجر بات کوجمع کرنے والاہے .اگرقرآن اس کی قسم کھاتاہے تواس کی وجہ یہی ہے. کیونکہ قسم ہمیشہ ایک بہت ہی عظیم اورقدر وقیمت رکھنے والی چیز کی کھائی جاتی ہے ۔ البتّہ قلم مایسطرون (تحر یروں ) کے لیے ایک وسیلہ ہے اورقرآن نے دونوں کی قسم کھائی ہے ، یعنی آلہ کی بھی اور آلہ کے محصول کی بھی ۔ بعض روایات میں آ یاہے : انّ اول ماخلق اللہ القلم پہلی چیزجو خدا نے خلق کی وہ قلم تھا ۔ اس حدیث کوشیعہ محدثین نے امام صادق علیہ السلام سدسے نقل کیاہے (١) نیز یہ اہل سنّت کی کتابوں میں بھی ایک مشہور خبر کے عنوان سے آ ئی ہے (٢)۔ ایک دوسری حدیث میں آ یاہے : پہلی چیز جس کو خدانے خلق کیاوہ ایک گوہرتھا ف( ٣)۔ بعض اخبار میں یہ بھی آ یاہے : ان اوّل ماخلق اللہ العقل ۔ پہلی چیز جسے خدا نے خلق فرمایا وہ عقل تھا ( ٤)۔ اس وصف کے تعلق کی طرف توجّہ جو گوہر قلم اور عقل کے درمیان ہے ،ان سب کے اوّل ہونے کے مفہوم کوواضح کردیتی ہے ۔ جوحدیث ہم نے اوپر امام صادق علیہ السلام سے نقل کی اس میںآ یاہے کہ خدا نے قلم کوپیدا کرنے کے بعد اس سے فرمایا : لکھ ! اوراس نے جوکچھ تھااورجوقیامت کے دن تک ہوگا، سب لکھ دیا ۔ اگرچہ اِس روایت میں قلم سے قلم تقدیر اورقضا وقدر کی طرف اشارہ ہے ،لیکن چاہے جوکچھ بھی ہے بشر کی سرنوشت اوراس کے مقدّرات میں قلم کے نقش واثر کوواضح کرتی ہے ۔ پیشوا یان اسلام متعدد واحادیث میں اپنے اصحاب کوتا کید کیا کرتے تھے ، کہ وہ اپنے حافظے پر قناعت نہ کریں اوراحادیث ِ اسلامی اور علوم ِ الہٰی کو تشتہ ٔ تحریر میں لاکر آنے والے لوگوں کے لیے یاد گار کے طورپر چھوڑ جائیں ( ٥)۔ بعض عُلماء نے کہاہے : البیان بیانان : بیان اللسان ، وبیان البنان ، وبیان اللسان تدرسہ الا عوام ، وبیان الاقلام باق علی مر الایام ۔ بیان دوقسم کے ہو تے ہیں : زبان کابیان اورقلم کابیان ، زبان کابیان تو زمانہ اور سالوں کے گزرنے سے کہنہ اورپرانا ہوجاتا اور ختم ہوجاتاہے، لیکن قلموں کابیان ابدتک رہتاہے : ( ٦)۔ یہ بھی کیاگہاہے : ان قوام امور الدین و الدنیا بشیئین القلم والسیف والسیف تحت القلم۔ دین و دنیا کے امور کی بنیاد دوچیزوں پر ہے . قلم وشمشیر ، شمشیر قلم کے زیرِ سایہ قرار پاتی ہے ( ٧)۔ اس معنی کوبعض شعرائے عرب نے اس طرح نظم کیاہے : کذاقضی اللہ للا قلام مذ بریت ان السیوف لھا مذ ا رھفت خدم خدانے قلم کے لیے اسی روز سے جب سے وہ بنا یاگیاہے اسی طرح مقدر کیاہے ۔ کہ تیز دھار تلوار یں اس کی خدمت گزار ہوں۔ ( یہ تعبیر قلم کے چاقو کے ذ ریعہ تراشے جانے کی طرف نیز تلواروں کاابتداء کار سے قلم کی خدمت میں ہونے کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے (٨)۔ ایک دوسرا شاعر ، زیر بحث آیات کے استناد کے ساتھ اس سلسلہ میں کہتاہے : اذ ااقسم الا بطال یوماً بسیفھم وعدوہ مما یجلب المجد والکرم کفی قلم الکتاب فخراً ور فعة مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم جس دن بہادر جنگجو لوگ اپنی تلواروں کی قسم کھائیں اورانہیں بزرگی اور افتخار کے اسباب میں سے شمار کریں تولکھنے والوں کے قلم کے لیے عالم کے تمام زمانوں میںیہی اعزاز اور سربلند ی کافی ہے کہ خدانے قلم کی قسم کھا ئی ہے ( نہ کہ تلوار کی )( ٩)۔ واقعاً یہی بات ہے.کیونکہ فوجی کامیابیوں کی اگر قومی تمدّن کے ذ ریعہ ضمانت نہ ہو تووہ ہرگز پائیدار نہ ہوں گی . مُغلوں نے ایران کی تاریخ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی لیکن چونکہ وہ ایک ایسی قوم تھی جس کاکوئی تمدّن نہیں تھا ، لہٰذا وہ جلدی ہی اسلام اور ایران کے تمدّن میں تحلیل ہوگئے اورانہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اگرچہ یہ بحث بڑی وسیع ہے لیکن اس بناء پر کہ ہم تفسیر کے راستہ سے باہر نہ وجائیں ،اس بحث کوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بہت ہی پُر معنی حدیث پرختم کرتے ہیں : ثلا ث تخرق الحجب ، وتنتھی الی مابین یدی اللہ : صریر اقلام العلماء ،و و طی اقدام المجا ھدین وصوت مغازل المحصنات ۔ تین آوازیں ایسی ہیں جو حجابوں کوتوڑ کرخدا کی باعظمت بارگاہ میں پہنچ جاتی ہیں .لکھتے وقت عُلماء کے قلموں کے چلنے کی آواز ،میدان ِ جہاد میں مجاہدین کے قدموں کی چاپ ، اور پاک دامن عورتوں کے چر خوں کی آ واز ( ١٠)۔ البتّہ جوکچھ بیان ہُوا ہے یہ سب ان قلموں کے بارے میں ہے جوحق وعدالت کی راہ اورصراط مستقیم میں چلتی ہیں ... لیکن مسموم ، زہریلے اور گمراہ کرنے والے توانسانی معاشروں کے لیے عظیم ترین بَلا اور بہت بڑا خطرہ ہوتے ہیں ۔ ١۔ نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٧٩ حدیث ٩۔ ٢۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔ ٣۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔ ٤۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔ ٥۔ وسائل الشیعہ جلد١٨صفحہ ٥٦( حدیث ١٤، ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠)۔ ٦۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔ ٧۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔ ٨۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔ ٩۔ روح البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ١٠٢۔ ١٠۔ الشہاب فی الحکم والآداب ،صفحہ ٢٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:1-7
سوره قلم/ آیه 1- 7
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔ن وَ الْقَلَمِ وَ ما یَسْطُرُونَ ۔ ٢۔ ما أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ ۔ ٣۔وَ ِنَّ لَکَ لَأَجْراً غَیْرَ مَمْنُونٍ ۔ ٤۔ وَ ِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظیمٍ ۔ ٥۔ فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُونَ ۔ ٦۔بِأَیِّکُمُ الْمَفْتُونُ ۔ ٧۔ِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبیلِہِ وَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدینَ۔ ترجمہ خدائے رحمن ورحیم کے نام سے ١۔ن ، قسم ہے قلم کی اوراس کی جو کہ وہ قلم سے لکھتے ہیں ۔ ٢۔اپنے پروردگار کی نعمت سے تومجنون نہیں ہے ۔ ٣۔اور تیر ے لیے عظیم اور ہمیشہ رہنے والا اجروثواب ہے ۔ ٤۔اورتیر ے اخلاق بہت ہی عمدہ اورعظیم ہیں ۔ ٥۔اور عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے ۔ ٦۔کہ تم میں سے کون مجنون ہے ۔ ٧۔تیرا پروردگار ہرشخص سے بہتر جانتاہے کہ اس کی راہ سے کون شخص گمراہ ہواہے ، اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی بہتر طورپر جاتناہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:1-7
تیرے اخلاق کتنے عمدہ ہیں !
یہ واحد سورہ ہے جوحرف مقطع ن سے شروع ہُوا ہے .فرماتاہے : (ن)۔ ہم نے حروف مقطعات کے بارے میں بارہا خصوصاً سورہ بقرہ و آل عمران اور اعراف (تفسیر نمونہ جلد ١،٢ ،٦ )میں اس سے متعلق بحث کی ہے . جوچیزاب یہاں بیان کرنا ہے وہ یہ ہے کہ بعض نے یہاں ن کولفظ رحمن کامخفّفت اوراس کی طرف اشارہ سمجھاہے . بعض نے اس کو لوح کے معنی میں یا دوات کے معنی میںجنّت کی ایک نہر کے معنی میں تفسیر کی ہے ، لیکن ان تفسیروں میں سے کوئی بھی واضح قرینہ اورشاہد نہیں رکھتی ۔ اس بناء پر اس حرف مقطع کی تفسیر ان تمام حروفِ مقطع سے الگ نہیں جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیاہے ۔ اس کے بعد انسانی زندگی کے مسائل میں سے ، دواہم موضوعات کی قسم کھاتے ہوئے مزیدکہتاہے : قسم ہے قلم کی اوراس کی جسے وہ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں (ن وَ الْقَلَمِ وَ ما یَسْطُرُونَ )۔ کیسی عجیب و غریب قسم ہے ؟حقیقت میں وہ چیز جس کی یہاں قسم کھائی گئی ہے ، ظاہراً ایک چھوٹا ساموضوع ہے سرکنڈ ے کاایک ٹکڑایااس کے مشابہ کوئی چیز اور کچھ سیاہ رنگ کامادّہ اوراس کے بعد وہ سطریں جومعمولی کاغذ کے صفحہ پرلکھی جاتی ہیں ۔ لیکن حقیقت میں یہ وہی چیزہے جوتمام انسانی تمدّنوں کی پیدائش ،علوم کے پیش رفت ، افکار کی بیداری ، مذاہب کے تشکیل پانے کاسرچشمہ اورنوعِ بشرکی آگاہی اور ہدایت کاذ ریعہ ہے .یہاں تک کہ انسانی زندگی کو دو ادوارمیں تقسیم کردیتاہے . تاریخی دو ر اور تاریخ سے پہلے کادور تاریخِ بشر کادور اس وقت سے شروع ہوتاہے جب سے خط اورتحریر ایجاد ہُوئے اورانسان اپنی زندگی کے واقعات کوصفحات پرنقش کرنے کے قابل ہواہے .دوسرے لفظوں میں وہ دور جس میں انسان نے قلم کوہاتھ میں لیاہے اوراس سے مایسطرون یاد گار کے طور پر رہ گیاہے ۔ اس قسم کی عظمت اس وقت زیادہ آ شکار ہوتی ہے جب ہم اس بات کی طرف توجّہ کریں کہ جس دن یہ آیات نازل ہوئیں .اس وقت لکھنے والے اوراہل قلم اس ماحول میں موجود نہ تھے .اگر کچھ تھوڑے بہت لوگ لکھنے پڑھنے کی کچھ آگاہی اور علم رکھتے بھی تھے توان کی تعداد سرزمینِ مکہ میں ،جوحجاز کاعبادتی ،سیاسی اوراقتصاد ی مرکز تھا، بیس افرادتک بھی نہیں پہنچتی تھی .ہاں ایسے ماحول میں قلم کی قسم کھاناایک خاص عظمت رکھتاہے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے :ان پہلی آ یات میں بھی جو جیل النّور اور غارِحرامیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاک دل پر نازل ہُوئی تھیں ،قلم کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہوا ہے ،جہاں فرماتاہے : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذی خَلَقَ ،خَلَقَ الِْنْسانَ مِنْ عَلَقٍ ،اقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْأَکْرَمُ ،الَّذی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ،عَلَّمَ الِْنْسانَ ما لَمْ یَعْلَمْ ۔ اپنے پر وردگار کے نام سے پڑھیے ،جس نے مخلوقات کو پیدا کیاہے ، اورانسان کو بستہ اورجمے ہُوئے خُون سے پیداکیا ، اپنے عظیم پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے انسان کوقلم کے ذ ریعے تعلیم دی اورجوکچھ وہ نہیں جانتا تھااُسے وہ سکھایا ( علق آ یت ١ تا٥ )۔ سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ سب باتیں اس شخص کی زبان سے ادا ہورہی تھیں جس نے خود (عالم ظاہر میں)یا جس سے انسانوں کے اعمال نامے رقم کرتے ہیں .لیکن مسلّمہ طورپر یہ آ یت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور یہ تفسیر اس کے ایک مصداق کوبیان کرتی ہے ، جیساکہ مایسطرونبھی ایک وسیع مفہوم رکھتاہے ، اورانسان کی عملی ، اخلاقی اور فکری ہدایت اور تکامل وارتقاء کے لیے جوکچھ بھی لکھتے ہیں ان سب کوشامل ہے . فقط وحی آ سمانی یاانسانوں کے اعمال میں منحصر نہیں ہے ( ١)۔ اس کے بعد اس چیز کو ، جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے ،پیش دکرتے ہُوئے فرماتاہے : اپنے پروردگار کی نعمت سے تو مجنون نہیں ہے (ما أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِمَجْنُون)۔ وہ لوگ جویہ نا روانسبت تیری طرف دیتے ہیں دل کے ایسے اندھے ہیں جو تیرے بارے میں خدا کی ان تمام نعمتوں کونہیں دیکھتے ، نعمت عقل ودرایت ، نعمت امانت وصدق وراستی ، نعمت علم و دانش اور مقام ِنبوت اور ،مقامِ عصمت ۔ دیوانے تووہ ہیں جوعقلِ کل کے مظہر کوجنون کے ساتھ متّہم کرتے ہیں اور انسانوں کے رہبر و رہنما کواس ناروانسبت کے ذ ریعہ اپنے سے دُور کررہے ہیں ۔ اِس کے بعد مزید کہتاہے : تیرے لیے عظیم اورہمیشہ رہنے والا اجرو ثواب ہے (وَ اِنَّ لَکَ لَأَجْراً غَیْرَ مَمْنُون)۔ تیرے لے ایسا اجرو ثواب کیوں نہ ہو ؟ جبکہ توایسی قبیح اور نار وا تہمتوں کے مقابلہ میں استقامت ظاہر کرتاہے .ان کے لیے ہدایت ونجات کی آرزو رکھتاہے .اوراس راستے میں سعی وکوشش کرنے سے تھکتا نہیں ہے ۔ ممنون من کے مادہ سے منقطع ہونے کے معنی میں ہے .یعنی ایسااجر و پاواش جوہرگز منقطع نہیں ہوگا اورہمیشہ باقی رہے گا . بعض نے کہاہے کہ اس معنی کی اصل اور ریشہ منت سے لیاگیاہے . کیونکہ منت ،نعمت کے قطع ہونے کاباعث ہوتی ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ غیر ممنون سے مراد یہ ہے کہ خُدا اس اجرِعظیم کے مقابلہ میں تجھ پرہرگز منت نہیں رکھتا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔ بعد والی آ یت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک اورصفت کے بارے میں کہتی ہے : توعظیم اور عمدہ اخلاق کاحامل ہے (وَ ِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظیمٍ )۔ ایسے اخلاق جن کے مقابل عقل حیران ہے ، بے نظیر لطف ومحبت، بے مثل صفا و صمیمیت اور توصیف سے باہر صبر واستقامت اورتحمّل وحوصلہ ۔ اگرتو لوگوں کوخدابندگی کی دعوت دیتاہے توسب سے زیادہ عبادت بھی کرتاہے .اگربُرے کام سے روکتاہے توسب سے پہلے خوداس کام سے رکتا ہے ،وتجھے تکلیف پہنچاتے ہیں اور توپندو نصیحت کرتاہے .وہ تجھے بُرا بھلاکہتے ہیں اورتوان کے لیے دعاکرتاہے ،وہ تیرے جسم پر پتھر مارتے ہیں اورگرم متی تیرے سر پر پھینکتے ہیںلیکن توان کی ہدایت کے لیے بارگاہِ خدا میں ہاتھ اٹھاتاہے ۔ ہاں !تومحب اور مہر بانیوں کامرکز اوررحمت کاسرچشمہ ہے ۔ خلق خلقت کے مادّہ سے ایسی صفات کے معنی میں ہے جوانسان سے جُدانہیں ہوتے اوروہ انسان کی خلقت و آفرینش کے مانند ہوتے ہیں ۔ بعض مفسّرین نے پیغمبرکے خلقِ عظیم کی راہ حق میں صبرواستقامت ،سخاوت ، وبخشش میں وسعت ، تد بیرامور ،رفق ومدارا ، خداکی طرف دعوت کی راہ میں سختیوں کابر داشت کرنا، عفو ودردگز ، پروردگار کی راہ میں جہاداورحسد وحرص کوترک کرنے کے ساتھ تفسیر کی ہے .اگرچہ یہ سب کی سب صفات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )میں موجود تھیں لیکن آپ کاخلق عظیم صرف انہیں میں منحصر نہیں تھا ۔ بعض تفاسیر میں خلق عظیم کی قرآن یادین اسلام کے ساتھ بھی تفسیر کی گئی ہے جواوپر والے وسیع مفہوم کاایک مصداق ہوسکتی ہے . بہرحال پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں اس خلق عظیم کاہونا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی عقل و درایت اور دشمنوں کی طرف سے دی گئی نسبتوں کی نفی پرایک واضح دلیل ہے د۔ اس کے بعد مزید کہتاہے :عنقریب توبھی دیکھ لے گا اوروہ بھی دیکھ لیں گے ( فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُونَ )۔ کہ تم میں سے کون مجنون ہے (بِأَیِّکُمُ الْمَفْتُونُ ) (٢)۔ ،مفتون فتنہ سے اسمِ مفعول ہے جو ابتلاء کے معنی میں ہے اور یہاں جنون میں مبتلا ہونے کے معنی میں ہے ۔ ہاں !وہ آج یہ نا روانسبت تیری طرف دیتے ہیں تاکہ بند گانِ خدا کوتجھ سے دُور کردیں ،لیکن لوگ عقل وشعُوررکھتے ہیں . آہستہ آہستہ تیری تعلیمات اورارشاد ات سے آگاہی حاصل کریں گے .اس وقت یہ مسئلہ واضح ہوجائے گاکہ یہ عمدہ تعلیمات خدائے عظیم کی طرف سے تیر ے پاک اور نورانی دل پر نازل ہُوئی ہیں اور خدانے عقل وعلم کاایک عظیم حصّہ تجھے بخشاہے ۔ مستقبل میں تیری تحریکیںاور طریق کار اوران کے سایہ میں اسلام کوپیش رفت اور سریع نفوذ بھی اس بات کی نِشان دہی کردے گا کہ تو عقل و درایت کاایک عظیم منبع ہے . دیوانے تو وہ چمگا دڑ ہیں جواس آفتاب کے نُورسے جنگ کے لیے اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں ۔ پھر قیامت میں تو بہ حقائق یقینی طورپر اور بھی زیادہ روشن اور زیادہ واضح وآشکار ہوجائیں گے ۔ نیز مزید تاکید کے لیے فرماتاہے : تیرا پر ور دگار سب سے بہتر جانتاہے کہ اس کی راہ سے کون شخص گمراہ ہوا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی بہتر طورپر جانتاہے (انَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبیلِہِ وَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدینَ )۔ کیونکہ یہ راستہ اسی کاراستہ ہے اور وہ اپنی راہ کو ہرشخص سے بہتر پہچانتاہے .گویا اس طرح پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوزیادہ سے زیادہ اطمینان دلاتاہے کہ وہ ہدایت کے ر استہ پرہیں اوران کے دشمن ضلالت و گمراہی کی راہ پر ہیں دف۔ ایک مستند حدیث میں آیاہے کہ جس وقت قریش نے دیکھا کہ پیغمبر علی علیہ السلام کو دوسروں پرترجیح دیتے اوران کی تعظیم اوراحترام کرتے ہیں توانہوں نے امام علی علیہ السلام کی مذمّت شروع کردی اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس کا مفتون اوراس پرفریفتہ ہو گیاہے ، اس موقع پر خدانے ن والقلم نازل فرمایا اورقسم کھا کرکہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تومفتون ومجنون نہیں ہے .یہاں تک فرمایا :خداان لوگوں کوبھی جاتناہے جوگمراہ ہے گئے ہیں ( یہ قریش فکے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جو یہ باتیں کرتے تھے )اورخدا ہدایت یافتہ لوگوں کوبھی بہتر طورسے جانتاہے ہے ( یہ امام علی علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے ) (٣)۔ ١۔"" مایسطرون ""کے "" ما"" کوبعض تو مامصدریہ سمجھتے ہیں اور بعض ماموصولہ لیکن دوسرامعنی زیادہ مناسب ہے .یہ تقدیر میں اِس طرح ہے "" و ما یسطرونہ ""بعض اس کو لوح یاکاغذ کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جس پر کتابت کی جاتی ہے اور تقدیر میں مایسطر ون فیہ ہے . بعض نے ماکو یہاں ذوی العقول اوران افراد کی طرف اشارہ سمجھاہے جوان سطور کولکھتے ہیںلیکن وہی معنی زیادہ مناسب ہے جوہم نے متن میں ذکر کیاہے ۔ ٢۔"" با یّکم "" میں "" با"" زائدہ ہے اورایّکم قبل کے دو افعال کامفعول ہے ۔ ٣۔ مجمع البیان جلد ١٠ صفحہ ٣٣٤( طبرسی نے اس حدیث کواپنی سند کے ساتھ اہل سنّت سے نقل کیاہے ) ۔