فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
Then, when they have completed their term, either retain them honourably or separate from them honourably, and take the witness of two honest men from among yourselves, and bear witness for the sake of Allah. Whoever believes in Allah and the Last Day is advised to [comply with] this. Whoever is wary of Allah, He shall make for him a way out [of the adversities of the world and the Hereafter]
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 65:2
[Pooya/Ali Commentary 65:2] (see commentary for verse 1)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 65:2-3
١مشکلات سے نجات اورتقوٰی
اوپر والی آ یات قرآنی مجید کی سب سے زیادہ امّید دلانے والی آ یات ہیں .ان کی تلاوت دل کو صفائی اورروح کو نور وروشنی بخشتی ہے .یہ تلاوت یاس ونا امید ی کے پردوں کوچاک کردیتی ہے ،دل میں امید کی حیات بخش شعاعیں چمکاتی ہے اورتمام پرہیزگار اور باتقوٰی افراد کونجات اورحل مشکلات کا وعدہ دیتی ہے ۔ ایک حدیث میں ابوذر غفاری سے نقل ہُوا ہے کہ پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا: انی لاعلم اٰیة لواخذ بھا الناس لکفتھم ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ... فما زال یقولھا و یعید ھا۔ میں ایک ایسی آ یت کوپہچانتاہُوں کہ اگر تمام انسان اس کے دامن کوتھام لیں تووہ ان کی مشکلات کے حل کے لیے کافی ہے اس کے بعد آپ نے آیتہ ومن یتق اللہ کی تلاوت فرمائی اوراس کی بار بار تکرار فرماتے رہے ( ١) ۔ ایک اورحدیث میں رسُول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہُوا ہے کہ آپ نے اس آ یت کی تفسیر میں فر مایا: من شبھات الدّ نیا ومن غمرات الموت وشد ائد یوم القیا مة ۔ خداپرہیزگاروں کادُنیا کے شبہات ،موت کی سختی اور روزِقیامت کے شدائدسے رہائی بخشے گا (٢) ۔ یہ تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اہل تقوٰے کے لیے اُمور کی کشائش دنیا میں ہی منحصر نہیں بلکہ قیامت کو بھی شامل ہے ۔ ایک اور حدیث میں بھی آ نحضرت (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم) سے آیاہے : من اکثر الا استغفار جعلہ اللہ لہ من کل ھمّ فرجاً ومن کل ضیق مخرجاً ۔ جوشخص کثرت سے استغفار کرے گا ( اورلوحِ دل کوگناہوں کے زنگ سے دھوئے گا)توخُدا اس کے لیے ہر غم ونداوہ سے کشائش اورہر تنگی سے نجات کی راہ قرار دے گا ( ٣) ۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اوپر والی پہلی آ یت عوف بن مالک کے بارے میں نازل ہُوئی ہے جواصحابِ پیغمبرمیں سے تھا اور دشمنانِ اِسلام نے اس کے بیٹے کوقید کر لیاتھا .وہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ یا، اس واقعے اور فقر وفاقہ ، نیز تنگدستی کی شکایت کی . آپ نے فر مایا تقوٰی اختیار کر ،صبر کر ، اور لاحولا ولا قوّة الاباللہ کابہت زیادہ ذکر کیاکر .اس نے اس کام کوانجام دیاتو اچانک جبکہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہُواتھا اس کابیٹا دروازے سے اندر آ یامعلوم ہواکہ وہ دشمن کی غفلت کے ایک لمحہ سے فائدہ اُٹھا کربھاگ آیا ہے ، یہاں تک کہ دشمن کا اونٹ بھی اپنے ساتھ لے آ یا ہے . یہ وہ مقام تھاجس پر اوپروالی آیت نازل ہوئی اوراس باتقوٰی شخص کی مشکِل کی کشائش اورجہاں سے توقع نہیں تھی وہاں سے روزی کی خبردی ( ٤) ۔ اِس بات کاذکر کرنابھی ضروری ہے کہ آ یت کامفہوم ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان سعی و کوشش کو بالکل ہی تر ک کردے اور یہ کہے کہ میں گھر میں بیٹھ جائوں گا، تقوٰی اختیار کروں گا اورلاحولا ولا قوّة الاباللہ کاذکر کرو نگا یہاں تک کہ جہاں سے مجھے گُمان بھی نہیں ہے میری روزی پہنچ جائے گی .نہیں ! آ یت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے ، تقوٰی وپر ہیز گاری کامقصد سعی وکوشش کے ساتھ ہے ، اگراس حالت میں انسان پردر وازے بندہوں گے توخُدا نے انکے کھولنے کی ضمانت لی ہے ۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیاہے کہ امام ِ صادق علیہ السلام کاصحابی عمربن مسلم ایک مُدّت تک آپ کی خدمت میں نہ آ یا .حضرت نے اس کے حالات دریافت فر مائے تولوگوں نے بتلایا کہ اس نے تجارت چھوڑ دی ، او رعبادت کی طرف رُخ کر لیا ہے ، آپ نے فر مایا : وائے ہواس پر : اما علم ان تارک الطف لایستجاب لہ ۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ جوشخص سعی و کوشش اورروزی طلب کرنے کوترک کردے تواس کی دُعا قبول نہیں ہوتی ۔ اس کے بعد مزید فر مایا: اصحابِ رسول میں سے ایک جماعت نے جب آ یت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاًویر زقہ من حیث لایحتسب نازل ہوئی تواپنے در وازے بند کرلیے ،عبادت میں مصروف ہوگئے ، اورانہوں نے کہا:خُدا نے ہماری روزی کاذمّہ لے لیاہے .اس واقعہ کی اطلاع پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو ہُوئی تو آپ نے کسِی کوان کے پاس بھیج کربُلوایا اوراُن سے کہا:تم نے ایساکیوں کہاہے؟انہوں نے جواب دیا:یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)چُونکہ خداہماری روزی کاکفیل ہوگیاہے لہٰذاہم عبادت میں مشغول ہوگئے ہیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: انہ من قبل ذالک لم یستجب لہ، علیکم بالطلب جو شخص ایسا کرے گا اس کی دُعا قبول نہیں ہوگی.تم پر لازم ہے کہ سعی وکوشش اور جدّو جہد کرو( ٥) ۔ ١۔مجمع البیان ،جلد١٠ ،صفحہ ٣٠٦۔ ٢۔ نورالثقلین ، جلد٥،صفحہ حدیث ٤٤۔ ٣۔نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٥٧ حدیث ٤٥۔ ٤۔مجمع البیان جلد١٠،صفحہ ٣٠٦ یہی ماجرا "" تفسیر فخر رازی "" اوررُوح البیان میں بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ آ یا ہے اوربعض نے ایک سواونٹ کی تعداد لکھی ہے ۔ ٥۔""کافی "" مُطابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٣٥٤( حدیث ٣٥)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 65:2-3
٢روحِ توکّل
خداپر تو کّل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے کام کی سعی وکوشش کواس کے سپرد کردے اور اپنی مشکلات کاحل اسی سے چاہے .وہ خدا جواس کی تمام احتیاجات سے آگاہ ہے،وہ خدا جواس کے بارے میں رحیم ومہربان ہے،اوروہ خُدا جوہرمشکل کوحل کرنے کی قدرت رکھتاہے ۔ اب جوشخص روحِ توکل کاحامل ہے ، وہ ہرگز یاس ونا امیدی کواپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا . مشکلات کے مقابلہ میں ضعف وزبوںحالی کا احساس نہیں کرتا اور سخت حوادث کے مقابلے میں ڈٹا رہتاہے،اس کایہی علم و عقیدہ اسے ایسی رُو حانی طاقت دیتاہے جس سے وہ مشکلات پر غلبہ حاصل کرسکتاہے .دوسری طرف سے غیبی امدادیں کہ توکّل کرنے والوں کوجن کی خوشخبری دی گئی ہے ، وہ اس کی مدد کو آ جاتی ہیں اوراُسے شکست و ناتوانی سے نجات بخشتی ہیں ۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:میں نے خدا کی وحی پہنچانے والے فرشتے جبرئیل سے پوچھا :توکّل کیاہے ؟ تواس نے کہا: العلم بان المخلوق لایضر ولاینفع ، ولا یعطی ولا یمنع، و استعمال الیأس من الخلق ،فاذا کان العبد کذالک لم یعمل لاحد سوی اللہ و ولم یرج ولم یخف سوی اللہ ولم یطمع فی احد سوی اللہ فھٰذا ھو التوکل ۔ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ مخلوق نہ نقصان پہنچا سکتی ہے ، نہ ہی نفع، نہ کچھ عطا کرسکتی ہے ، نہ روک سکتی ہے ، مخلوق سے کوئی اُمید نہ رکھنا (اور خداہی سے لو لگا نا) جس وقت ایسا ہو جائے گا توپھر انسان خدا کے علاوہ کسِی کے لیے کام نہیں کرتا اوراس کے غیر سے اُمید نہیں کرتا، نہ اس کے غیر سے ڈ رتا ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کسِی اور کے ساتھ دل لگاتاہے ، یہ ہے توکّل کی روح ( ۱) ۔ اس عمیق مضمون کے ساتھ ، توکّل انسان کوایک نئی شخصیّت بخشتی ہے ، اوراس کے تمام اعمال میں اثر پیداکرتی ہے .اسی لیے ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے شب معراج بارگاہِ خدا وندی میں سوال کیا : پرور دگار ا:ای الا عمال افضل ؟ کون ساعمل سب سے افضل و برتر ہے ؟ خداوند متعال نے فرمایا: لیس شی ء عندی افضل من التو کل علیّ والرضا بما قسمت میرے نزدیک مجھ پر توکّل کرنے اورجوکچھ میں نے تقسیم کیاہے اس پرراضی رہنے سے افضل و برتر کوئی چیز نہیں ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ اس معنیٰ میں توکّل ہمیشہ جہاد اورسعی وکوشش کے ساتھ ہوتی ہے ،سُستی اور ذمّہ دار یوں سے فرار کے ساتھ نہیں ہوتی ۔ ہم نے اس سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد ١٠ میں ( سورۂ ابراہیم کی آ یت ١٢ کے ذیل میں ایک اور تشریح بھی پیش کی ہے ۔ ۱۔بحارالانوار ،جلد٦٩ ،صفحہ ٣٧٣،حدیث ١٩۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 65:2-3
صلح یاپسندِ خدا علیٰحد گی
طلاق سے مربُوط مباحث جوگزشتہ آ یات میں آ ئے ہیں ان کو جاری رکھتے ہُوئے پہل یزیر بحث آیت میں چند مزید احکام کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے پہلے فرما تاہے : جب ان کی عدّت کی مدّت آخر کو پہنچ جائے توانہیں شائستہ طورپر ، رجوع کے طریق سے ، روک لویاشائستہ طورپر،رجوع کے طریق سے ، روک لویاشائستہ طورپران سے الگ ہوجائو (فَِذا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ ) ۔ بلوغ اجل (مدّت کے آخر کوپہنچنے ) سے مُراد یہ نہیں ہے کہ عدت کی مدت پُورے طوپر ختم جانے پررجُوع کرناجائز ہی نہیں ہے .مگریہ کہ انہیں روک رکھنا عقدِ جدید کے صیغہ کے ذ ریعہ ہو ،لیکن یہ معنی آ یت سے بہت بعید نظر آ تاہے ۔ بہرحال اس آیت میں ازدواجی زندگی سے مربُوت ایک اہم ترین اور مناسب ترین حکم پیش ہوا اوروہ یہ ہے کہ عورت اور مرد یاتوشائستہ طورپر آپس میں زندگی بسر کریں یاپھر شائستہ طریقے سے ایک دوسرے سے جُدا ہوجائیں .جس طرح مشترک زندگی کوصحیح اصول ، انسانی طرز اور شائستہ اورمناسب طور پر ہونا چاہیے . اسی طرح سے جدائی بھی ہرقسم کے نزاع اور جھگڑے ،بدگوئی اور ناسزا کہنے ، ظلم وستم اوعرحقوق ضائع کرنے سے خالی ہونی چاہیے .اہم بات یہ ہے کہ جس طرح تعلقات صلح صفائی کے ساتھ انجام پا ئیں اسی طرح علیٰحد گیا ں بھی افہام و تفہیم کے ساتھ ہوں . کیونکہ ممکِن ہے یہ مرد اورعورت مستقبل میں دوبارہ مشترک زندگی کی سوچ لیں لیکن جُدائی کے وقت بدسلوکیاں ان کی فکری فضا کواس طرح سے تیرہ وتاریک بنادیتی ہیں کہ بازگشت کی راہ ان کے لیے بندکردیتی ہیں اور بالفرض اگروہ نئے سر ے سے ازدواج کرنابھی چاہیں تو مناسب فکری اورعاطفی ذ ریعہ موجود نہیں ہوتا. دوسری طرف آ خر وہ مسلمان ہیں اورایک ہی معاشر ے سے تعلّق رکھتے ہیں ،لہٰذامخاصمت اور ناشائستہ طریقے سے جدائی نہ صرف انہیں میں اثر انداز ہوگی ، بلکہ دونوں کے خاندانوں میں بھی نقصان وہ اثرات چھوڑ ے گی .اوربعض حالات میں آ ئندہ کے لیے بھی ان کی ہمکاریوں کاسلسلہ کلّی طور پر برباد کردے گی ۔ واقعاً یہ کتنی اچھی بات ہے کہ نہ صرف از دواجی زندگی میں بلکہ ہرقسم کی دوستی اور مشترک عمل میں بھی جہاں تک ہو سکے ، انسان شائستہ اورمناسب ہمکاری کوجاری رکھے . اگرایسانہ ہوسکے تو پھر شائستہ طورپر جدا ہوجائے ،کیونکہ شائستہ طوپر جُدائی بھی طرفین کے لیے ایک قسم کی کامیابی اور موفقیت ہے ۔ ہم نے جوکچھ بیان کیاہے اس سے معلوم ہوگیا کہ امساک بمعروف اور فراق بہ معروف وسیع معنی رکھتے ہیںیہ ہرقسم کے واجب مستحب شرائط اوراخلاقی کاموں کواپنے اندرلیے ہُوئے ہیں اوراِسلامی واخلاقی آداب کے ایک مجموعہ کوذہن میں مجسّم کرتے ہیں .اس کے بعد دُوسرے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : تم طلاق اورجدائی کے وقت اپنے ( مُسلمانوں ) میں سے شاہد گواہ بنالو :(وَ أَشْہِدُوا ذَوَیْ عَدْلٍ مِنْکُم) ۔ تاکہ اگرآئندہ کوئی اختلاف پیدا ہوجائے توطرفین میں سے کوئی انکارنہ کرسکے ۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال دیاہے کہ گواہ بناناطلاق کے سلسلہ میں اور رجوع کرنے کے سلسلہ میں بھی ہے .لیکن چونکہ رجوع بلکہ تزویج کے وقت بھی گواہ بنانا قطعاً واجب نہیں ہے ،لہٰذا اس بناء پر اگرہم فرض کربھی لیں کہ اوپر والی آ یت رجوع کوبھی شامل ہے تویہ اِس سلسلہ میں مستحبی حکم ہوگا۔ تیسرے حکم میں گواہ ہوں کی ذمّہ داری کواس طرح بیان کرتاہے : شہادت کوخدا کے لیے قائم کرو (وَ أَقیمُوا الشَّہادَةَ لِلَّہِ ) ۔ کہیں ایسانہ ہوکہ تمہارا دونوں میں سے کسِی ایک طرف قلبی میلان ، حق کی شہادت سے مانع ہوجائے،لہٰذا رضائے خُدا اورحق کوقائم کے سوا اور کسِی چیز کو اس میں راہ نہیں پاناچاہیے .یہ ٹھیک ہے کہ گواہوں کو عادل ہوناچاہیے ،لیکن عدالت کے باوجود بھی گناہ کاصدُور محال نہیں ہے .اِس بناء پر انہیں خبر دار کرتاہے کہ وہ اپنے نگران ہوں اورجان بوجھ کریا نادانستہ طور پر حق کی راہ سے مُنحرف نہ ہوں ۔ ضمناً ذ وی عدل منکمکی تعبیراس بات کی دلیل ہے کہ دونوںگواہ مُسلمان ،عادل اورمرد ہونے چاہئیں ۔ آ یت کے آخر میں تاکید کے عنوان سے تمام گزشتہ احکام کے متعلق مزید کہتاہے : صرف وہ لوگ جوخُدا اور روز قیامت پرایمان رکھتے ہیں ، اس وعظ ونصیحت سے سبق حاصل کرتے ہیں (ذلِکُمْ یُوعَظُ بِہِ مَنْ کانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِر)۔ بعض ذالکم کوصرف خدا کی طرف توجّہ کرنے اور گواہوں کی طرف سے عدالت کی رعایت کرنے کے مسئلہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں .لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تعبیر ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور طلاق کے بارے میں گزشتہ تمام مسائل کواپنے اندر لیے ہُوئے ہے ۔ بہرصُورت یہ تعبیران احکام کی حد سے زیادہ اہمیّت کی دلیل ہے ، اس طرح کہ اگر کوئی شخص ان کی رعایت نہیں کرتا اوران سے وعظ ونصیحت حاصِل نہیں کرتاتو گویا وہ خدا اورقیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ چُونکہ بعض اوقات آئندہ کی معیشت اور زندگی سے مربُوط مسائل یادوسری گھر یلو مجبوریاں، اس بات کاسبب بن جاتی ہیں کہ میاں بیوی طلاق کے وقت یارجوع کے وقت یا دونوں گواہ شہادت دینے کے وقت حق وعدالت کی راہ سے منحرف ہو جائیں ، لہٰذا آ یت کے آخر میں فرماتاہے : جوشخص خُدا سے ڈ رے اور گناہ کوترک کردے توخُدا اس کے لیے نجات کی راہ قرار دے دیتا ہے اوراس کی زندگی کی مشکلات کوحل کردیتاہے (وَ مَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجاً ) ۔ اوراس کوایسی جگہ سے جس کا اسے گمان بھی نہ ہوگا روزی دے گا (وَ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لا یَحْتَسِبُ ) ۔ اور جوشخص خداپر توکّل کرے اور اپنا امر اس کے سپرد کردے تو خدا اس کی کفایت کرتا ہے(وَ مَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ ) ۔ لیکن خُدا نے ہر کام اور ہر چیز کے لیے ایک اندازہ اورحساب قرار دیاہے (قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْراً) ۔ اِس طرح سے وہ مردوں،عورتوں اور گواہوں کوخبر دار کرتا ہے کہ وہ حق کی مشکلات سے نہ گھبرائیں اورعدالت کو جاری کریں .پھر اپنے مشکل کاموں کی کشائش خُدا سے چاہیں کہ خدا نے یہ ضمانت لی ہے،کہ وہ پر ہیزگاروں کی مشکل کوحل کرے گا اورانہیں ایسی جگہ سے روزی دے گاجہاں سے خود انہیں بھی گمان نہیں ہوگا ۔ خدانے ضمانت دی ہے کہ جوتوکّل کرے گا وہ مصیبت میں گرفتار نہیں رہے گا، اور خدا اس ضمانت کے اداکرنے پر قادر ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ یہ آ یات طلاق اوراس سے مربُوط احکام کے سلسلہ میں نازل ہُوئی ہیں ،لیکن ان کامضمون وسیع ہے جودیگر موارد کوبھی شامل ہے.یہ خداکی طرف سے تمام پرہیزگار وں اور توکّل کرنے والوں کے لیے ایک امید بخش وعدہ ہے کہ انجام کارلطفِ الہٰی انہیں اپنی پناہ میں لے لے گا ، انہیں مشکلات کے پیچ وخم سے گزار دے گا ،سعادت کے تانباک افق کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا، معیشت کی سختیوں کوبرطرف کردے گا اور مشکلات کے تیرہ وتاریک بادلوں کوان کی زندگی کے آسمان سے ہٹا دے گا ۔ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْراًکاجملہ اس نظام کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جوعالم ِ تشریع وتکوین پر حاکم ہے . یعنی یہ احکام جوخدانے طلاق وغیرہ کے بارے میں صادر فرمائے ہیں سب کے سب ایک حساب اوردقیق حکیمانہ انداز ے کے مطابق ہیں ۔ اسی طرح سے وہ مشکلات جوانسان کی زندگی میں ازدواجی مسئلہ میں یاکسِی اور مسئلہ میں رُو نما ہوں ، ان میں سے ہرایک کا اندازہ وحساب اور مصلحت واختتام ہوتاہے ، انہیںحوادث کے ظاہر ہونے پر گھبرانانہیں چاہیے اورزبان پر گلہ اور شکوہ کے الفاظ نہیں لانے چاہئیں .نیز مشکلات کے حل کے لیے خلاف تقوٰی اُمور سے متوسّل نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ تقوٰی کے ساتھ ان سے جنگ کرنی چاہیے .اوران کاحل خداسے طلب کرناچاہیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 65:2-3
سوره طلاق/ آیه 2- 3
٢۔فَِذا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَ أَشْہِدُوا ذَوَیْ عَدْلٍ مِنْکُمْ وَ أَقیمُوا الشَّہادَةَ لِلَّہِ ذلِکُمْ یُوعَظُ بِہِ مَنْ کانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ مَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجاً ۔ ٣۔ وَ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ ِنَّ اللَّہَ بالِغُ أَمْرِہِ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْراً۔ ترجمہ ٢۔ جب ان کی عدّت ختم ہو جائے توپھر یاتوشائستہ طور پر انہیں روک لویاشائستہ طریقہ سے ان سے جُدا ہوجائو اور اپنے میں سے دوعادل مردوں کوگواہ بنالو، اورخدا کے لیے شہادت کوقائم کرو، یہ ایسی چیزہے جس کی ان لوگوں کونصیحت کی جاتی ہے جوخدا اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں .اورجوشخص تقوائے الہٰی اختیار کرتاہے توخدا اس کے لیے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ فراہم کردیتاہے ۔ ٣۔ اوراسے ایسی جگہ سے روزی عطافرماتاہے جس کا اس گمان بھی نہیں ہوتا .اورجو شخص خداپر توکّل کرے تو خدا اس کے امر کی کفایت کرتاہے .خدا اپنے امر کو انجام تک پہنچا کر رہتاہے .اورخدانے ہرچیز کے لیے ایک اندازہ مقرّر کردیاہے ۔