وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
When they are told, ‘Come, that Allah’s Apostle may plead for forgiveness for you,’ they twist their heads, and you see them turn away disdainfully.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 63:5
[Pooya/Ali Commentary 63:5] (see commentary for verse 1)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
شانِ نزول
تاریخ ،حدیث اورتفسیر کی کتابوں میں اوپر و آلی آ یت کے لیے ایک مفصّل شانِ نزول بیان کی گئی ہے جس کاخلاصہ یہ ہے : عزّ و ۂ بنی المصطلق کے بعد ( یہ جنگ ہجرت کے چھٹے سال سرزمین قدید میں و آقع ہوئی )مسلمانوں میں سے دو آفراد کے درمیان ،جن مین سے ایک انصار میں اور ددُوسرا مہاجرین میں سے تھا ، کنوئیں سے پانی لینے کے وقت اختلاف ہوگیا .ایک نے انصا ر کو اور دُوسرنے مہاجر ین کو آپنی مدد کے لیے پکارا . مہاجر ین میں سے ایک شخص اپنے ساتھی کی مدد کے لیے آ یا اور عبداللہ بن ابی جومنافقین کے مشہُور سرغنوں میں سے تھا، وہ انصار ی کی مدد کے لیے آگے پڑھا اور تب اُن دونوں کے درمیان شدید توتکار ہوئی ہم نے اس گروہ ِ مُہاجر ین کوپناہ دی اور ان کی مدد کی لیکن ہمارا مُعاملہ اس ضربُ المثل کی مانند ہے جوکہتی ہے : سمن کلبک یاکلک (اپنے کتّے کو موٹا کردے تاکہ وہ تجھے کاٹ کھائے )و آللہ لئن رجعنا الی المد ینة لیخرجن الا عزمنھا الاذل خداکی قسم ! اگرہم مدینہ پلٹ گئے توعزّت دار ذ لیلوں کوباہر نکال دیں گے یہاں عزّت داروں سے اس کی مُراد وہ خود اوراس کے پیرو کار تھے ، اورذلیلوں سے مراد مہاجرین تھے ،.اس کے بعد اس نے اپنے ساتھ و آلوں سے کہا: یہ اس کام کا نتیجہ ہے جوخُود تم نے اپنے سروں پر تھوپ لیاہے .تم نے انہیں اپنے شہر میں جگہ دی ، اوراپنے مال ان میں تقسیم کیے .اگرتم اپنی بچی ہُوئی غذا اس جیسوں کو( اس امد ّ مقابل مہاجر کی طرف اشارہ ہے )نہ دیتے تویہ تمہاری گردن پر سو آ نہ ہوتے ، تمہاری گردن پرسو آرنہ ہوتے ،تمہاری سرزمین سے چلے جاتے اوراپنے قبائل سے جاملتے ۔ اس موقع پر زیدبن ارقم نے جو آس وقت ایک نوخیز جو آن تھا عبدُاللہ بن ابی کی طرف مُنّہ کرکے کہا: خُداکی قسم !ذلیل اور کمینہ توہی ہے .محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)خداکی عزّت اور مُسلمانوں کی محبت میں ہیں . خداکی قسم ! میں اج سے تجھے دوست نہیں رکھّوں گاعبداللہ نے چلّا کرکہا: اے لڑکے خاموش رہ ، تو اپنے کھیل کودسے کام رکھ ! زید بِن ارقم حضرت رسُول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں آ یا اورسارا ماجرا کہہ سُنا یا ۔ پیغمبرنے کسِی کو عبداللہ کے پاس بھیج کراُسے بلا یا اورفر مایا: یہ کیابات ہے جومُجھ سے بیان کی گئی ہے ۔ عبداللہ نے کہا: اس خداکی قسم ہے جس نے آپ پر آسمانی کتاب نازل کی ہے میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اورزید جھوٹ بولتاہے ۔ انصار کے کچھ لوگ وہاں موجُود تھے،اُنہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! عبداللہ ہمارابزرگ ہے ، لہٰذانصار کے بچّوں میں سے ایک بچّے کی بات اس کے برخلاف قبول نہ کیجئے . لہٰذاپیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ان کاعُذر قبُول کرلیا تو آس موقع پرگروہِ انصار نے زید بن ارقمکوملات سرزنش کی ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم)نے کوچ کرنے کاحکم دے دیا. بزرگانِ انصار میں سے ایک شخص اُسید نامی آ پ کی خدمت میں آ یا اورعرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)آپ نے ایک نا مناسب وقت میں کوچ کردیاہے ۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! کیاتُو نے سُنانہیں ہے کہ تیرے ساتھی عبداللہ نے کیاکہا ہے ؟ اُس نے یہ کہا ہے کہ جب وہ مدینہ پلٹ جائے گا توعزّت و آلے ذلیلوں کووہاں سے نکال دیں گے ۔ سید نے کہا: یارسول اللہ ! اگر آپ چاہیں تو آج سے مدینے سے باہر نکال سکتے ہیں .خدا کی قسم آپ عزّت دارہیں اوروہ ذلیل ہے پھر اُس نے عرض کیا: یارسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! اس کے ساتھ نرمی کیجئے ۔ عبدُاللہ کی باتیں اس کے بیٹے کے نوں تک پہنچیں تووہ رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو آ اورعرض کیا: میں نے سُنا ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میرے باپ کو قتل کردیں، اگرایسا مُعاملہ ہے توخود مُجھے حکم دیجیے کہ میں اس کاسرقلم کرکے آپ کی خدمت میں لے آ ئوں ،کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے ماں باپ کی نسبت مُجھ سے زیادہ نیک رفتار نہیں ہے .میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کوئی اُسے قتل کرے اور میں اس کے بعداپنے باپ کے قاتل کونہ دیکھ سکوں گا اور خدانخو آستہ میں اُسے قتل کردوں اوراس قتل مومن کی پاداش میں جنّت کے بجائے جہنم میں چلا جائوں ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا: تیرے باپ کے قتل کامسئلہ درپیش نہیں ہے . جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے تو آس کے ساتھ مدارا اورنیکی کرتارہ ۔ اس کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے حکم دیاکہ سارادن اور ساری .رات لشکر چلتارہے .دُوسرے دن جب سُورج نکل آیاتو آپ نے ٹھہرنے کاحکم دیا. لشکر اس قدر تھک گیاتھا کہ زمین پر سررکھتے ہی سب گہری نیند سوگئے (اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کامقصد بھی یہی تھا کہ لوگ کل کاماجر ا اورعبداللہ بن ابی کی بات کوبُھول جائیں) ۔ آخر کار پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)مدینہ میں وآرد ہُوئے .زیدبن ارقم کہتے ہیں کہ میں شدّتِ غم اورشرم کے مارے گھر کے اندر ہی رہا اور باہر نہ نکلا .اس موقع پر سُورةمنافقون نازل ہُوئی کہ جس نے زید کی تصدیق اورعبدُاللہ کی تکذیب کی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے زید کا کان پکڑ کر فر مایا: اے جو آن !خُدا نے تیری بات کی تصدیق کردی !بالکل اسی طرح سے جیساکہ تونے اپنے کانوں سے سُنا اور دل میں محفوظ رکھاتھا ، خُدانے اس چیز کے بارے میں جوتونے کہی ، قرآن کی آ یات نازل کی ہیں ۔ اس موقع پر عبداللہ بن ابی مدینہ کے قریب پہنچ چکاتھا. جب اس نے چاہا کہ مدینہ میں داخل ہوجا ئے تو آس کے بیٹے نے آ کر اس کاراستہ روک لیا، عبداللہ نے کہا: و آئے ہو تجھ پر . یہ کیا کررہاہے ؟ اس کے بیٹے نے کہا ، خدا کی قسم ! رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اجازت کے بغیر تومدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا .اورآج توسمجھ لے گاکہ عزیز کون ہے ، اور ذلیل کون ؟ ۔ عبداللہ نے اپنے بیٹے کی شکایت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم ) کی خدمت میں پہنچا ئی ، توپیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اس کے بیٹے کوپیغام بھیجا کہ اپین باپ کومدینہ میں داخل ہونے دو . تب اس کے بیٹے نے کہا: اب رسُولِ خدا کی اجازت ہوگئی ہے لہٰذا اب تمہارے داخل شہر ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ عبداللہ شہر میں داخل ہوآ لیکن کچھ زیادہ دن نہیں گُز رے تھے کہ وہ بیمار پڑگیا اورپھر دنیا سے چل بسا (اور شاید اُسے جان لیو اتپِ دق ہوگیا تھا) ۔ جس وقت یہ آ یات نازل ہُوئیں اور عبداللہ کا جُھوٹ ظاہر ہو گیا توبعض لوگوں نے اُس سے کہا: تیر ے بارے میں شدید تر آیات نازل ہو ئی ہیں توپیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں جاتا کہ وہ تیرے لیے استغفار کریں اس پر عبد اللہ نے اپنے سر کوہلاتے ہُوئے کیا: تم نے مُجھ سے کہا ایمان لے آ تومیں ایمان لے آ یا. تم نے کہا زکوٰةدے تومیں نے زکوٰة دی .اب اس کے سو آکچھ باقی نہیں رہا کہ کہو،محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر ! اِس موقع پر آ یت و آذاقیل لھم تعالو آ نازل ہُوئی ( ١) ۔ ١۔"" مجمع البیان "" زیربحث آ یات کے ذیل میں کامل ابن اثیر جلد ٢،صفحہ ١٩٢ ،سیرت ابن ہشام جلد ٣،صفحہ ٣٠٢(تھوڑے فرق کے ساتھ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
سوره منافقون/ آیه 5- 8
٥۔وَ ِذا قیلَ لَہُمْ تَعالَو آ یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّہِ لَوَّو آ رُؤُسَہُمْ وَ رَأَیْتَہُمْ یَصُدُّونَ وَ ہُمْ مُسْتَکْبِرُونَ ۔ ٦۔سَو آء عَلَیْہِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ لَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ ِنَّ اللَّہَ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ ۔ ٧۔ ہُمُ الَّذینَ یَقُولُونَ لا تُنْفِقُو آ عَلی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ حَتَّی یَنْفَضُّو آ وَ لِلَّہِ خَزائِنُ السَّماو آتِ وَ الْأَرْضِ وَ لکِنَّ الْمُنافِقینَ لا یَفْقَہُونَ ۔ ٨۔ یَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنا ِلَی الْمَدینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ وَ لِلَّہِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِہِ وَ لِلْمُؤْمِنینَ وَ لکِنَّ الْمُنافِقینَ لا یَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ ٥۔ جب ان سے یہ کہا جاتاہے کہ ( تم رسُول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)) کے پاس ) آ ئو تاکہ حضرت رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے لیے استغفار کریں توو ہ اپنے سروں کو(استہزاء ، تکبّر اورغُرور سے ) ہلانے لکتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ وہ تمہاری باتوں سے اعراض کرتے ہُوئے تکبّر کررہے ہیں ۔ ٦۔ تم ان کے لیے استغفار کر و یانہ کرو، ان کے لیے کوئی فرق نہیں ہے.خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا.کیونکہ خدافاسق قوم کوہدایت نہیں کرتا ۔ ٧۔ وہ تو آیسے لوگ ہیں جویہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر جورسُول اللہ کے پاس ہیں کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ سب کے سب پر اگندہ ہوجائیں اور (وہ اس بات سے غافل ہیں کہ )آسمانوں اور زمین کے خزانے خداہی کے لیے ہیں ،لیکن منافقین نہیں سمجھتے ۔ ٨۔ وہ یہ کہتے ہیں اگرہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے توعزت دار لوگ ذلیلوں کوباہر نکل دیں گے ،حالانکہ عزّت خُدا ، اس کے رسُول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اورمومنین کے لیے مخصوص ہے . لیکن منافق نہیں جانتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
٣منافق بے اخلاص اور ٹو ٹنے و آلا ہے
زندگی میں بہت سے طُوفان اُٹھے ہیں اور تُند وتیز لہریں اُبھر تی ہیں .مومنین ایمان وتوکّل کی قوّت سے فائدہ اُٹھا تے ہُوئے صحیح منصوبوں کے ذریعہ کبھی جنگ و گریز اور کبھی پے درپے حملے کرکے انہیں سر سے گزار کر کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن منافق ہٹ دھرمی کرتے ہُوئے اکڑ کر کھڑا ہوجاتاہے .یہاں تک کہ ٹوٹ کربے بس ہو جاتاہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آ یاہے : مثل المؤ من کمثل الزرع لا تزال الریع تمیلہ ،ولا یزال المؤ من یصیبہ البلاء ،ومثل المنافق کمثل شجرة الارز لا تھتز حتی تستحصد ۔ مومن زراعت کی شاخوں کی طرح ،جنہیں ہو آئیں گرادیتی ہیں،لیکن وہ پِھر کھڑ ی ہوجاتی ہیں اورہمیشہ سخت حادثات اور بلائوں کو بر داشت کرتی اور سر سے گزاردیتی ہیں .لیکن منافق صنوبر کے درخت کی مانند ہوتاہے جونرمی دکھائے بغیر کھڑا رہتاہے ،یہاں تک کہ اُسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیاجائے (۱) ۔ 1۔ "" صحیح مسلم"" جلد٤،صفحہ ٢١٦٣( باب المثل المومن کا لزرع ) اسی مضمون کے مشابہ تھوڑ ے سے فرق کے ساتھ تفسیرروح البیان جلد ٩ ،صفحہ ٥٣٢ میں بھی آ یاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
٤عزت خدا اور اس کے دوستوں کے لیے مخصوص ہے
اگرچہ روز مرّہ کی فارسی ( اور اردو زبان میں ) عزّت آبرو، احترام اور گر انقدر ہونے کے معنی میں ہے ،لیکن عربی زبان میں ایسانہیں ہے .بلکہ عزّت شکست ناپذیر قُدرت کے معنی میں ہے ، قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اوپر و آلی آ یات اور سورة فاطر کی آیت ١٠ میں عزّت کی صفت خدامیں منحصر شمار کی گئی ہے .اور وہ زیر بحث آیات میں یہ اضافہ کرتاہے: اوراس کے رسول اورمومنین کے لیے ہے کیونکہ خدا کے اولیاء او ردوست اسی عزّت کاپر تو رکھتے اوراسی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اِسلامی رو آیات میں اس مسئلہ پر تاکید ہُوئی ہے کہ مومن کو آپنی ذات کے وسائل فراہم نہیں کرنے چاہئیں . خدا چاہتاہے کہ مومن عزیز رہے توپھر اُسے بھی اس عزّت کی حفاظت کی کوشش کرناچاہیئے ۔ ایک حدث میں امام صادق علیہ السلام سے اسی آ یت ( و آللہ العزة ولرسولہ وللمؤ منین ) کی تفسیر میں آ یاہے : فالمؤ من یکون عزیزاً ولا یکون ذلیلاً ... المؤ من اعز من الجبل ان الجبل یستقل منہ بالمعاول ، و آلمؤ من لایستقل من دینہ شی ء ۔ مؤ من عزیز ہے اوروہ ذلیل نہیں ہوتا . مومن پہاڑ سے بھی زیادہ سخت اور مستحکم ہوتاہے ،کیونکہ پہاڑ میں توکدال سے سوراخ کرنا ممکن ہے .لیکن مومن کے ایمان میں سے ہرگز کسِی چیز کو ہلایانہیں جاسکتا(1) ۔ ایک اورحدیث میں امام صادق علیہ السلام ہی سے آ یا ہے : لا ینبغی للمؤ من ان یذل نفسہ قیل لہ و کیف یدل نغسہ قال یتعرض لما لایطیق ۔ مناسب نہیں ہے کہ مومن اپنے آپ کوذلیل کرے .سو آل کیاگیا:وہ اپنے آپ کوکِس طرح ذلیل کرتاہے .فرمایا :ایسے کام کے پیچھے جائے جو اس سے نہیں ہوسکتا(2) ۔ ایک حداورحدیث میں بھی اُنہی سے آ یا ہے : ان اللہ تبارک وتعالیٰ فوض الی المؤ من امورہ کلھا ولم یفوضالیہ ان یذل نفسہ الم ترقول اللہ سبحانہ وتعالیٰ ھیھنا و آللہ العزّةو لر سولہ و للمؤ منین و آلمؤ من ینبغی ان یکون عزیزاً ولا یکون ذلیلاً : خدا نے مومن کے تمام کام خود اس کے سپرد کردیئے ہیں.لیکن خدا نے اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے آپ کوذلیل وخو آر کرے . کیاتم دیکھتے نہیں کہ خُدانے اس سلسلہ میں یہ فر مایاہے : عزت خدا ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہی مخصوص ہے .لہٰذامومن کے لیے یہی بات مُناسب اور لائق ہے کہ وہ ہمیشہ عزیز رہے اور ذلیل وخو آر نہ ہو ( 3) ۔ اس سلسلہ میں ہم نے جلد ١٨ ،سورہ فاطر آ یت ١٠ کے ذیل میں بھی بحث کی ہے ۔ 1۔ "" کافی "" مطابق نقل نورالثقلین، جلد٥،صفحہ ٣٣٦۔ 2۔ "" کافی "" مطابق نقل نورالثقلین، جلد٥،صفحہ ٣٣٦۔ 3۔ "" کافی "" مطابق نقل نورالثقلین، جلد٥،صفحہ ٣٣٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
٢منافقین کاخطرہ
جیساکہ ہم نے اس بحث کے مُقدّمہ میں بیان کیاہے مُنا فقین ہر معاشرے کے خطر ناک ترین افراد ہوتے ہیں کیونکہ : اوّلا : وہ مُعاشرے کے اندر رہتے ہُوئے تمام بھیدوں سے و آقف ہوتے ہیں : ثانیاً :انہیں پہنچاننا کوئی آسان کان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اکثر اپنے آپ کو آس طرح دوست کے لباس میں پیش کرتے ہیں انسان کویقین ہی نہیں آ تا کہ وہ منافق ہیں ۔ ثالثاً : چونکہ ان کا اصلی چہرہ بہت سے لوگوں کے لیے پہچانا ہُو آ نہیں ہوتا ، اس لیے ان سے براہِ راست اُلجھنا اورصریح مبارزہ کرنامشکل کام ہوتاہے ۔ رابعاً : مومنین کے ساتھ ان کے مختلف قسم کے تعلقات ہوتے ہیں (نسبی ،سببی رشتے اور دُوسرے تعلّقات ) اورانہیں رشتوں کی وجہ سے ان کے ساتھ مبارزہ پیچیدہ ہوجاتاہے ۔ خامساً : وہ معاشرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں اوران کی ضربیں غفلت کی حالت میں پڑتی ہیں ۔ اس قسم کی دوسری جہتوں سے بھی معاشروں کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تے ہیں ، اور اسی بناء پر ان کے شر کودفع کرنے کے لیے دقیق ووسیع پرو گرام مُرتّب کرنے کی ضر ورت ہوتی ہے ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فر مایا: انی لا اخاف علی امتی مؤ منا ولامشرگا اما المؤ من فیمنعہ بایما نہ ،و اما المشرک فیخزیہ اللہ بشرکہ ، ولکنی اخاف علیکم کل منافق عالم اللسان ،یقول ماتعرفون و یفعل ماتنکرون ۔ میں اپنی اُمّت کے لیے زمین سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی مُشرکین سے ، مومن کو آس کا ایمان اُس کے ضرر پہنچانے سے مانع ہے اور مشرک کوخُدا اِس کے شرک کی وجہ سے رسُو آ اور ذلیل کرتا ہے .لیکن میں تم میں اُس منافق سے ڈرتا ہوں کہ جس کی زبان سے علم ٹپکتا ہے (اوراس کے دل میں کفر وجہالت ہے ) وہ ایسی باتیں کرتاہے جوتمہارے دل پذیر ہیں لیکن ( مخفیانہ طور پر ) ایسے اعمال انجام دیتاہے جوقبیح اور بُر ے ہیں ( 1) ۔ مُنافقین کے بارے میں ہم نے جلداول (سورۂ بقرہ کی آ یات ٨ تا ١٦ کے ذیل میں اور جلد ٧ (سورہ ٔ توبہ آ یت ٤٣ تا ٤٥ کے ذیل میں ) اور جلد ٨ سورہ توبہ آ یات ٦٠ تا ٨٥ کے ذیل میں ) اور جلد ١٧ (سورہ احزاب آ یات ١٢ تا ١٧ کے ذیل میں ) تفصیلی بحث کی ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ بہت کم گروہ ایسے ہیں جن کے بارے میں قرآن نے اتنی بحثیں کی ہوں اوران کی نشانیاں ، اعمال اور خطرات بیان کیے ہوں ،قرآن کا اس سلسلہ میں اتناوسیع بیان منافقین کے حد سے زیادہ خطرے کی دلیل ہے ۔ 1۔ "" سفینة البحار "" جلد ٢،صفحہ ٦٠٦ مادہ "" نفق "" اسی کے مشابہ نہج البلاغة خط ٢٧ میں بھی آ یاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
١منافق کی دس نشا نیاں
اوپر و آلی تمام آ یات سے منافق کی متعد ّد نشانیوں کاپتہ چلتاہے ، ان کا یکجا طورپر دس نشانیوں میں خلاصہ کیا جاسکتاہے : ١: صریح و آشکار جُھوٹ ( و آللہ یشھد ان المنافقین لکاذبون ) ۔ ٢: لوگوں کوگمراہ کرنے کے لیے جُھوٹی قسمیں کھانا ، ( اتخذو ایما نھم جنة ) ۔ ٣: دین کی شناخت کے بعد اُسے چھوڑ دینے کی بناء پر حقیقت اور و آقعیّت کونہ سمجھ سکنا ( لا یفقھون ) ۔ ٤: باطن کے خالی ہونے کے باوجُود ظاہر میں آ راستہ اورچکنی چپڑی باتیں کرنا ( و آذار أ یتھم تعجبک اجسامھم ) ۔ ٥: مُعاشرے میں بے ہود گی اورحق ، سے عدم توجّہ کی بناء پر لکڑی کے ایک خشک ٹکڑے کی مانند ہونا ( کانھم خشب مسندة ) ۔ ٦: خائن ہونے کی بناء پر ہر حادثہ اور ہر چیز سے بد گمانی اورخوف ودہشت (یحسبون کل صیحة علیھم ) ۔ ٧: حق کا مذاق اُڑا نا اورتمسخر کرنا( لو و آر ء وسھم) ۔ ٨: فسق وگناہ ( ان اللہ لا یھدی القوم الفاسقین ) ۔ ٩۔ اپنے آ پ کو ہر چیز کامالک جاننا اور دوسروں کو آپنا محتاج سمجھنا ( ہم الذین یقولون لامتنفقو آ علیٰ من عند رسول اللہ حتّٰی ینفضو آ) ۔ ١٠۔ اپنے آپ کوعزّت دار اور دوسروں کوذلیل سمجھنا ( لیخرجن الا عز منھا الاذل )۔ اس میں شک نہیں کہ منافق کی نشانیاں انہیں چیزوں میں نہیں ، میں بلکہ ، قرآنی آیات ، اسلامی روآیات اور نہج البلاغة سے ان کی اور بھی بُہت سی نشانیوں کاپتہ چلتاہے ، یہاں تک کہ روز مرہ کی معاشرت سے بھی ان کے دُوسرے اوصاف اورخصوصیات کاپتہ چلا یاجاسکتا ہے .لیکن اس سورة کی آ یات میں جوکچھ آ یاہے وہ ان اوصاف کا ایک اہم قابلِ توجّہ حصّہ ہے ۔ نہج البلاغة میں ایک خطبہ منافقین کی کیفیت کے لیے مخصُوص ہے .اِس خطبہ کے ایک حصہ میں اس طرح آ یاہے :اے خُدا کے بندو! میں تمہیں تقوٰی اور پرہیز گار ی کی وصیّت کر تا ہوں اورمنافقین سے ڈراتا ہوں ، کیونکہ وہ خُود گمراہ اور گمراہ کرنے و آلے خطاکار اور غلط انداز ہیں ۔ وہ ہرروز ایک نئے رنگ میں آ تے ہیں اور مختلف قیافوں اور زبانوں کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں ۔ وہ ہرطریقہ سے تمہیں فریب دینے او ر درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر کمین گاہ میں تمہار ی گھات میں بیٹھے ہُوئے ہیں ۔ وہ بد باطن اور خوش ظاہر ہیں اور ہمیشہ پوشیدہ طورپر لوگوں کوفریب دیتے اور غلط راہ پر چلتے ہیں ۔ ان کی گفتگو بظاہر شفابخش ہے لیکن ان کاکردار ایک علاج ناپذیر بیماری ہے .وہ لوگوں کی خوش حالی پر حسد کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص کسِی مصیبت میں گرفتار ہوجائے تووہ خوش ہوتے ہیں ۔ ہمیشہ امید وآروں کومایوس کرتے ہیں اور ہرجگہ نا امیدی کی آ یت پڑ ھتے ہیں۔ ہر راستے میں ان کاکوئی نہ کوئی کشتہ (مارا ہو ) ہے .ہردل میں نفوذ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ رکھتے ہیں اور ہرمصیبت کے لیے بنائوٹی آنسُوں بہاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کومدح وثنا کافرضہ دیتے ہیں اورایک دوسرے سے اجرو پاداش کی توقع رکھتے ہیں ۔ اپنے تقاضوں میں اصرار کرتے ہیں اور ملامت کرنے مین پردہ دری کرتے ہیں .جب کوئی حکم لگاتے ہیں توحد سے تجاوز کرجاتے ہیں ۔ انہوں نے ہرحق کے مقابلے میں ایک باطل گھڑلیا ہے. اور ہردلیل کے مقابلے میں ایک شبہ کھڑا کردیا ہے .انہوں نے ہرزندہ کے لیے موت کاعامل ، ہردر کے لیے کلید اور ہر رات کے لیے ایک چراغ مہیّا کیاہے ۔ وہ اپنی طمع کاری اور گرمئی بازار کے لیے اوراپنے مال و آسباب کو گراں ترین قیمت پربیچنے کے لیے دلوں میں یاس و نا امید ی کابیج بوتے ہیں ۔ اپنے باطل کوحق پرظاہر کرکے دکھاتے ہیں اورتعریف وتوصیف میں فریب کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔ اپنی خو آہشات تک پہنچنے کی راہ کو آسان اور اپنے جان سے نکلنے کی راہ کوپُر پیچ وخم بنا کردکھاتے ہیں ،وہ شیطان کالشکر اور جہنم کی آگ کے شرار ے ہیں جیساکہ خدافر ماتاہے : اولٰئک حزب الشیطان الا ان حز ب الشیاط ھم الخا سروں وہ شیطان کا گروہ ہیں ، جان لو کہ شیطان گرو ہ خسارے میں ہے ( 1) ۔ اس روشن خطبہ میں ان کے بہت سے اوصاف کی طرف اشارہ کیاگیاہے کہ جوگزشتہ مباحث کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ٢۔ نہج البلاغة خطبہ ١٩٤۔ (اختصار کی وجہ سے مکمل خطبہ کامتن نقل نہیں کیاگیا ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 63:5-8
منا فقین کی دیگر نشانیاں
ان آ یات میں منافقین کے اعمال اوران کی گو ناگوں نشانیوں کابیان اسی طرح سے جاری ہے . فرماتاہے : جب ان سے یہ کہا جاتاہے کہ آ ئو تاکہ رسُول ِ خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)تمہارے لیے استغفار کریں تووہ اپنے سروں کو آستہزا ء اور کبرو نخوت کے ساتھ ہلاتے ہیں .اور تودیکھے گاکہ وہ تیری باتوں سے اعراض کرتے ہُوئے تکبّر کررہے ہیں (وَ ِذا قیلَ لَہُمْ تَعالَو آ یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّہِ لَوَّو آ رُؤُسَہُمْ وَ رَأَیْتَہُمْ یَصُدُّونَ وَ ہُمْ مُسْتَکْبِرُون) ۔ ہاں !ان لغزشوں کے مقابلہ میں جو آن سے سرزّدہوتی ہیں اوران کے پاس تو بہ اور تلافی کی فرصت بھی ہوتی ہے ، ان کا کبرو غرور انہیں تلافی کرنے کی اجازت نہیں دیتا .اس کاو آضح نمونہ عبداللہ بن ابی تھاکہ جس کاعجیب وغریب ماجراشانِ نزول میں بیان ہُوآ ہے ۔ جس وقت اُس نے وہ قبیح اور نارو آیات پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور مومن مہاجرین کے بارے میں کہی : جب ہم مدینہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے توعزّت وآلے ذلیلوں کوباہر نکال دیں گے ، اس پر قرآنی آیات نازل ہُو ئیں اوراس کی شدیدمذمّت ہُوئی .لوگوں نے اُس سے کہاکہ وہ رسُول ِخُدا کے پاس آئے تاکہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اس کے لیے بارگاہِ خدا وندی سے بخشش طلب کریں ،مگر اُس نے ایک اور نارو آبات کی کہ جس کاماحصل یہ تھا : تم نے کہا ایمان لے آ ،میں ایمان لے آ یاتم نے کہا زکوٰ ة دے ، میں نے زکوٰ ة دی . اب بجُز اس کے کوئی چیزباقی نہیں رہی کہ کہو محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر! یہ بات وآضح ہے کہ روِ اسلام حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے اور کبروغرور ہمیشہ اس تسلیم میں رکاوٹ ہے . اسی بناء پر منافقین کی ایک نشانی ، بلکہ اسی غرور ،خود خو آہی اور خود کوبرتر سمجھنے ہی کونفاق کا ایک سبب شمار کیا جاسکتاہے ۔ لووآ لی کے مدّہ سے اصل میں رسّی کوبَل دینے کے معنی میں ہے .اوراسی مناسبت سے منہ پھیر نے ، یاسر کوحرکت دینے اور ہلانے کے معنی میں بھی آ یا ہے ۔ یصدون جیساکہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں دومعانی میں استعمال ہوتاہے . منع کرنااور اعراض کرنازیر بحث آیت میں دوسرامعنی اور گزشتہ آ یت میں پہلا معنی مُناسب ہے ۔ بعدو آلی آ یت میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرنے کے لیے اس سلسلہ میں مزیدکہتاہے : بالفرض اگروہ تیرے پاس آ ئیں اورتو آن کے لیے استغفار بھی کرلے تون میں بخشش کے اسباب موجود ہی نہیں ہیں .اس بناء پراس سے کو ئی فرق نہیں پڑ تاکہ تو آن کے لیے استغفارکرے یانہ کرے ، خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا (سَو آء عَلَیْہِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ لَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ ) ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا فاسق کوہدایت نہیں کرتا(انَّ اللَّہَ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ) ۔ دُوسرے لفظوں میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار بخشش کے لیے علّتِ تامہ ، بلکہ مقتضیٰہے . یہ صرف اسی صُورت میں اثر کرتی ہے جبکہ مو آفق اسباب اور ضر وری قابلیّت فراہم ہو .اگروہ و آقعاًتوبہ کرلیں، اپنی راہ کوبدلیں، کبر وغرُورکی سو آری سے اُترآ ئیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کردیں توپیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار یقینامُوثرہے .اس صُورت کے علاوہ کچھ بھی اثر نہ ہوگا ۔ اسی معنی کے مشابہ سورۂ توبہ کی آ یت ٨٠میں بھی آ یاہے جو منافقین کے ایک اور گروہ کے بارے میں میں کہتی ہے : ہُمُ الَّذینَ یَقُولُونَ لا تُنْفِقُو آ عَلی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ حَتَّی یَنْفَضُّو آ وَ لِلَّہِ خَزائِنُ السَّماو آتِ وَ الْأَرْضِ وَ لکِنَّ الْمُنافِقینَ لا یَفْقَہُونَ ۔ چاہے تم ان کے لیے استغفارکردیا نہ کرو آس کاکوئی اثر نہیں ہوگا .اگرتم شتّرمرتبہ بھی ان کے لیے استغفارکروگے توبھی خدا ان کو نہیں بخشے گا. کیونکہ وہ خدا اوراُس کے رسُول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مُنکرہوگئے ہیں اور خد فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔ یہ بات و آضح ہے کہ ستّرتکثیرکاعدد ہے .یعنی چاہے جتنی مرتبہ بھی ا ن کے لیے استغفارکرو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ فاسق سے مُراد ہر قسم کاگنہگار نہیں ہے . کیونکہ پیغمبر گناہگار وں کی نجات کے لیے ہی آ ئے ہیں، بلکہ اس سے مُراد وہ گنہ گار ہیں جوگناہوں پراصرار کرتے ہیں، ہٹ دھرم ہیں اور حق کے مقابلے میں سرکش ہیں ۔ اس کے بعد ان کی ایک بُہت ہی بُری بات کی طرف ، جو آن کے نفاق کی و آضح ترین نشانی شمار ہوتی ہے ، اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے : یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ان افراد پر جورسُولِ خداکے پاس ہیں کچھ خرچ نہ کرو اوراپنے مال اورامکانات کو ان کے اختیار میں ہ دو تاکہ وہ پر اگندہ ہو جائیں (ہُمُ الَّذینَ یَقُولُونَ لا تُنْفِقُو آ عَلی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ حَتَّی یَنْفَضُّو آ ) ۔ وہ اس بات سے غافل ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے خدا ہی کے لیے ہیں،لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں (وَ لِلَّہِ خَزائِنُ السَّماو آتِ وَ الْأَرْضِ وَ لکِنَّ الْمُنافِقینَ لا یَفْقَہُونَ) ۔ یہ بدبخت نہیں جانتے کہ ہرشخص کے پاس جوکچھ ہے وہ خداہی کا دیاہُو آ ہے اور تمام بندے اسی کے خو آ ن سے روزی کھاتے ہیں .اگر انصارمہاجر ین کوپناہ دے سکتے ہیں اورانہیں اپنے مال میںحصّہ داراور شریک بناسکتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو آنہیں نصیب ہے لہٰذا انہیں نہ صرف یہ کہ احسان نہیں جتانا ہے چاہیے ، بلکہ خداکا اس عظیم توفیق پرشکرادا کرناچاہیے ،لیکن جیساکہ شانِ نزول میں بیان ہو آ ہے منافقین کی منطق کچھ اور ہی تھی ۔ اِس کے بعدان کی ایک اورنفرت انگیز بات کی طرف اِشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : یَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنا ِلَی الْمَدینَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ ۔ یہ وہی گفتگو ہے جوعبداللہ بن ابی کے آلودہ دہن سے نکلی اوراس کی مراد یہ تھی کہ ہم مدینہ کے رہنے و آلے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اورمومن مہاجرین کومدینہ سے باہر نکال دیں گے .مدینہ کی طرف لوٹنے سے مُراد غزوۂ بنی المصطلقسے لوٹناتھا، اوراس کی طرف شانِ نزول میں تفصیل کے ساتھ اشارہ ہوچُکاہے ۔ اگرچہ یہ بات صرف ایک ہی شخص نے کہ تھی لیکن چُونکہ سب منافقین کاطرز عمل اور طریقۂ کار یہی تھا ، لہٰذقرآن جمع کی صُورت میں تعبیرکرتے ہُوئے فرماتاہے : یقولون ... (وہ کہتے ہیں ) ۔ اِس کے بعد قرآن انہیں داندں شکن جو آب دیتے ہُوئے کہتاہے :عزّت توخدا ،رسُول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور مومنین کے لیے مخصوص ہے لیکن منافقین نہیں جانتے(وَ لِلَّہِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِہِ وَ لِلْمُؤْمِنینَ وَ لکِنَّ الْمُنافِقینَ لا یَعْلَمُون) ۔ یہ صرف مدینہ کے مُنافقین ہی نہیں تھے کہ جنہوں نے مومن مہاجر ین کے مقابلہ میں یہ بات کہی ،بلکہ اس سے پہلے سر دارانِ قریش بھی مکہ میں یہی بات کہا کرتے تھے :اگرہم مُسلمانوں کے اس چھوٹے سے فقیر گروہ کا اقتصاد ی محاصرہ کرلیں یا انہیں مکہ سے باہرنکال دیں تومُعاملہ ختم ہوجائے گا ۔ موجود ہ زمانہ میں بھی استعماری اور سامراجی حکو متیں اس خیال سے کہ آسمان وزمین کے خزانے ان کے پاس ہیں،یہ کہتی ہیں کہ وہ قومیں جوہمارے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتیں ان کا اقتصادی محاصرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی عقل ٹھکانے آجائے اوروہ سرتسلیم خم کردیں ۔ ان تاریخ کے اند ھوں کو ،جن کاشیوہ کل بھی یہی تھا اورآج بھی یہی ہے ، اس بات کی خبرنہیں کہ خُداکے ایک ہی اشارہ پران کی تمام ثروت اورامکانات تباہ ہوجائیں گے اوران کی عارضی اور ظا ہری عزّت قانون فنا کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوگی ۔ بہرحال یہ طرزِفکر( کہ اپنے آپ کوعزّت اور سمجھنا اور دوسروں کوذلیل ، اپنے آپ کوولی نعمت شمار کرنا اور دوسروں کومحتاج)ایک منافقانہ طرزِ فکر ہے .یہ ایک طرف توغرور و تکبّرسے اوردوسری طرف خداکے مقابلے میں استقلال کے گمان سے پیدا ہوتی ہے.اگروہ عبُودیّت کی حقیقت سے آشنا ہوتے اور خُدا کی مالکیّت کوہر چیزپرمسلم سمجھتے توہرگز ان خطر ناک غلطیوں کاشکار نہ ہوتے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آ یت میں منافقین کے بارے میں لا یفقھون (نہیں سمجھتے ) کی تعبیر آ ئی ہے اور یہاں لا یعلمون(نہیں جانتے ) کی تعبیر آ ئی ہے تعبیر کایہ فرق ممکن ہے تکرار سے پرہیزکے لیے ہو جوفصاحت کے خلاف ہے . یہ بھی ممکن ہے کہ اس بناء پر ہو کہ خداکا تمام آسمانوں اور زمین کے خزائن کا مالک ہونابہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے جوبہت زیادہ وقت اور فہم و فراست کا محتاج ہے ، جبکہ عزّت کا ،خداپیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کے ساتھ مخصوص ہونا کسِی پر مخفی نہیں ہے ۔