يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
O you who have faith! Shall I show you a deal that will deliver you from a painful punishment?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 61:10
[Pooya/Ali Commentary 61:10] Truly that which is mentioned in these verses is the most profitable bargain man can strike to achieve success in the life of hereafter. Also see commentary of Bara-at: 111. Verse 13 refers to the days of Imam Mahdi al Qa-im. See commentary of Bara-at: 32 and 33.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:10-13
١۔ فتح قریب کون سی ہے ؟
ان آ یات میں جس فتح کاوعدہ کیاگیاہے وہ مسلمانوں کومنطقی پہلوؤں میں اورجنگ کے میدانوں میں بھی بارہا حاصل ہُوئی ہے ۔ لیکن اس بارے میں کہ فتح قریبسے مُراد کون سی فتح ہے ؟ مفسّر ین نے کئی احتمال دیئے ہیں ، اوربہُت سے مفسّرین نے تواس کی فتحمکہ کے ساتھ تفسیر کی ہے ، بعض نے ایران وروم کے شہروں کی فتح اور بعض نے تمام اسلامی فتوحات سے تعبیر کیاہے جومسلمانوں کے ایمان وجہاد کے بعد تھوڑے سے عرصے میں ہی حاصل ہوگئیں ۔ چُونکہ مخاطب صرف پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اصحاب وانصارہی نہیں، بلکہ طو ل تاریخ کے تمام مومنین اس خطاب کے مخاطب ہیں ، لہٰذا نصرمن اللہ وفتح قریبکاجملہ ،ایک وسیع وعریض معنی رکھتاہے اوریہ ان سب کے لیے ایک بشارت ہے ،اگرچہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے زمانے میں اوران آ یات کے نزول کے وقت ، اس کا واضح مصداق فتح مکّہ ہی تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:10-13
سوره صف/ آیه 10- 13
١٠۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلی تِجارَةٍ تُنْجیکُمْ مِنْ عَذابٍ أَلیمٍ ۔ ١١۔تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ تُجاہِدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ بِأَمْوالِکُمْ وَ أَنْفُسِکُمْ ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ ١٢۔یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَ یُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ وَ مَساکِنَ طَیِّبَةً فی جَنَّاتِ عَدْنٍ ذلِکَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ۔ ١٣۔ وَ أُخْری تُحِبُّونَہا نَصْر مِنَ اللَّہِ وَ فَتْح قَریب وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنینَ ۔ ترجمہ ١٠۔اے ایمان لانے والو! کیامیں تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہبری نہ کروں جوتمہیں درد ناک عذاب سے رہائی بخشے ۔ ١١۔خدااور اس کے رسُول (ص) پر ایمان لے آ ئو اورخدا کی راہ میں اپنے مالوں اورجانوں کے ساتھ جہاد کرو ، یہ تمہارے لیے ہر چیز سے بہتر ہے اگرتم جانو ۔ ١٢۔اگرتم یہ کام کروگے توخدا تمہارے گناہوں کوبخش دے گا اورتمہیں اس جنّت کے باغوںمیں داخل کرے گاجِس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اوربہشت جاو داں کے مساکن میں تمہیں جگہ دے گا ، اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے ۔ ١٣۔ اورایک دوسری نعمت نہیں بخشے گاجسے تم دوست رکھتے ہو ، اور خُدا کی نصرت اور فتح قریب ہے اور مومنین کو بشارت دے دے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:10-13
٢۔ مساکن طیّبہ کیاہیں ؟
جنّت کی نعمتوںمیں سے یہاں خصوصیّت کے ساتھ پاکیزہ اور شاندار مساکن کاذکر ہوا ہے ، جوجنّت کے ابدی اور جاودانی باغات میں ہوں گے ، یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کے آسائش و آرام کے نبیادی شرائط میں سے ایک ، یہی مسکن کامسئلہ ہے وہ بھی ایساپاک وپاکیزہ مسکن،جوہرقسم کی ظاہری وباطنی آلودگی سے پاک ہو کہ جس میںانسان راحت و آرام کے ساتھ رہ سکے ۔ راغب مفردات میں کہتاہے : طیّب کامعنی اصل میں ایک ایسی چیز ہے جس سے ظاہری اور باطنی حواس لذّت حاصل کریں۔ یہ ایک جامع منعی ہے کہ جوایک مسکن کے تمام مناسب شرائط کواپنے اندرلیے ہُوئے ہے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ قرآن میں تین چیز یں آرام وسکون کاسبب شمار کی گئی ہیں : رات کی تا ریکی وَ جَعَلَ اللَّیْلَ سَکَناً ( انعام ، ٩٦) ۔ سکونت کے لیے گھر وَ اللَّہُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ بُیُوتِکُمْ سَکَناً ( نحل ، ٨٠) ۔ محبّت کرنے والی بیویاں وَ مِنْ آیاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْواجاً لِتَسْکُنُوا ِلَیْہا ( روم ،٢١) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:10-13
٣۔ دنیا اولیاء خدا کاتجارت خانہ ہے
نہج البلاغہ میں آ یاہے کہ امام علی علیہ السلام نے ایک ایسے دعوٰی کرنے والے شخص سے ، جواصطلاح کے مطابق جانماز آب می کشید ( جائے نمازکو بھی غسل دیتاتھا )اور مسلسل دُنیا کی مذ مّت کیا کتاتھا ، فرمایا :تجھے غلطی لگی ہے ، دُنیا ان لوگون کے لیے جوبیدار و آگاہ ہیں ، بہت بڑاسر مایہ ہے ،اس کے بعد آ پ دنے تشریح بیان فرمائی ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا متجر اولیاء اللہ دوستانِ خدا کاتجار تخانہ ہے ( 1) ۔ اِس بناء پر اگرایک جگہ دُنیا کو مز رعہ اخرتسے تشبیہ دی گئی ہے تویہاں اسے تجارت خانہ تشبیہ دی گئی ہے کہ انسان نے جوسر مایے خُدا سے لیے ہیں ، انہیں گراں ترین قیمت میں خوداسی کے ہاتھ بیچ دے اور ناچیز و حقیر مال و متاع کے بدلے میں اس سے عظیم ترین نعمت حاصل کرلے ۔ اصولی طورپر تجارت کی تعبیر اوروہ بھی ایسی فائدہ مند تجارت ، انسان کے اہم ترین محرکات کو تحریک دینے کے لیے ہے ، وہ جلبِ منفعت اور دفع ضرر کے محرکات ہیں ، کیونکہ یہ خُدا ئی تجارت صرف سودمند ہی نہیں بلکہ عذابِ الیم کوبھی دفع کرتی ہے ۔ اسی مطلب کی نظیر سورة توبہ کی آ یت ١١ ١ میں بھی آ ئی ہے : ِنَّ اللَّہَ اشْتَری مِنَ الْمُؤْمِنینَ أَنْفُسَہُمْ وَ أَمْوالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّة :خدا مومنین سے ان کی جانوں اورمالوں کوخرید لیتاہے اوراس کے بدلے میں انہیں جنّت عطافر ماتاہے ۔ ہم نے اس سلسلے مین سورۂ توبہ کی تفسیرمیں بھی تشریح کی ہے ( ٧) ۔ 1۔نہج البلاغة کلمات قصار ، جملہ ١٣١ ،(تلخیص کے ساتھ ) ۔ 2۔ تفسیر نمونہ ،جلد ۴،(سورہ توبہ کی آ یت ۱۱۱ کے ذیل میں)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:10-13
سود مند اور بے نظیر تجارت
جیساکہ ہم اس سورة کے آغاز میں بیان کرچکے ہیں کہ اس آ یت کے اہم مقاصد میں سے ایک ایمان اور جہاد کی دعوت ہے ، زیر بحث آ یات بھی ان ہی دونوں باتوں کی تاکید ایک ایسی لطیف مثال سے کی گئی ہے ،جوانسان کے دل وجان میں حرکت الہٰی کے جذبے کووجود میں لاتی ہے ،وہ خذ بہ جوتمام دینوں پر دین ِ اسلام کے غلبے کی شرط ہے اِس کی طرف گزشتہ آ یات میں بھی اشارہُوا ہے ۔ پہلے فرماتاہے : اے ایمان لانے والو! کیامیں تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہبری نہ کروں جوتمہیں دردناک عذاب سے نجات دے ؟ ّ(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلی تِجارَةٍ تُنْجیکُمْ مِنْ عَذابٍ أَلیمٍ) ۔ اس کے باوجود کہ ایمان اور جہاد یقینی اورقطعی واجبات میں سے ہیں مگر یہاں انہیں حکم کی صُورت میں نہیں بلکہ تجارت کی پیش کش کی صورت میں بیان کرتاہے ،وہ بھی ایسی تعبیروں کے ساتھ جوخدا کے بے پایاں لطف وکرم کی حکایت بیان کرتی ہیں ۔ اِس میں شک نہیں کہ عذاب ِ الیم سے نجات انسان کی اہم ترین خواہشات میں سے ایک ہے ۔اِس لیے یہ سوال کہ کیاتم چاہتے ہو کہ تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جوتمہیں عذابِ الیم سے رہائی بخشے، سب کے لیے جالبِ توجّہ ہے ۔ جب اس سوال کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف جذب کرلیا تواِن کے جواب کاانتظار کیے بغیر اس سُود مند تجارت کی تشریح کرتے ہُوئے فرماتاہے : اور وہ یہ ہے کہ تم خدا اوراُس کے رسول پر ایمان لے آ ئو اورخُدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو (تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ تُجاہِدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ بِأَمْوالِکُمْ وَ أَنْفُسِکُمْ ) (١). اِس میں شک نہیں کہ خداکواس سُود مند تجارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے نفع کاکلی تعلّق صِرف مومنین کے ساتھ ہے ،اِسی لیے آ یت کے آخر میں فرماتاہے :یہ تمہارے لیے ہرچیز سے بہتر ہے ،اگرتم جانو(ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُون) ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ یاایھا الذین اٰمنوا کے قرینہ سے مخاطب مومنین ہیں اورعین اس حالت میں انہیں ایمان اور جہاد کی دعوت دیتاہے ، ممکِن ہے یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ سطح اورنام کاایمان کافی نہیں ، گہرے اورخالِص ایمان کی ضُرورت ہے کہ جوایثار ، فدا کاری اورجہاد کا سرچشمہ بن سکے،یہ بھی ممکن ہے کہ خدااور رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرایمان کاذکر یہاں اس ایمان کی تشریح ہوجو گزشتہ آ یت میں اجمالی طورپر آ یاہے۔ بہرحال پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر ایمان ، خداپر ایمان سے الگ نہیں ہے،جیساکہ جان کے ساتھ جہاد ، مال کے ساتھ جہاد سے جُدا نہیں ہوسکتا ، کیونکہ تمام جنگیں وسائل وامکانات کی محتاج ہوتی ہیں جنہیں مالی امدادوںکے ذ ریعے پورا کیاجاناچاہیے ، بعض لوگ دونوں طرح کے جہاد وں پر قادر ہوتے ہیں اور بعض صرف میدانِ جنگ سے پیچھے رہ کرمالی جہاد پر ہی قدرت رکھتے ہیں، اِسی طرح بعض لوگ صرف جان ہی پیش کرسکتے ہیں اوراسے قربان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں ۔ بہرحال دونوں قسم کے جہادوں کوہر صورت میں ایک دُوسرے سے توام ہونا چاہیے تاکہ کامیابی حاصل دہو،اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مالی جہاد کومقدّم رکھا گیا ہے تواس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ جانی جہاد سے زیادہ اہم ہے ،بلکہ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اس کامقدّمہ شمار ہوتاہے ،کیونکہ جہاد کے آلات واسلحہ مالی امدا دوں کے ذریعے ہی فراہم ہوتے ہیں ۔ یہاں تک اس عظیم اور بے نظیر تجارت کے تین ارکان مشخّص ہُوئے ہیں : خریدار خُدا ہے ، بیچنے والے صاحبِایمان لوگ ہیں ، اور متاع ان کی جانیں اورمال میں ،اب چوتھے رُکن کی نوبت آ تی ہے جواس بڑے سودے کی قیمت ہے ۔ فرماتاہے : جب تم ایسا کرو گے توخُدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنّت کے باغوں میں جس کے درختوںکے نیچے نہریں جاری ہیں اور بہشت جاودانی کے پاکیزہ مسکنوں میں جگہ دے گا ،اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے (یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَ یُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ وَ مَساکِنَ طَیِّبَةً فی جَنَّاتِ عَدْنٍ ذلِکَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ) (٢) ۔ اُخروی اجر کے مر حلہ میں پہلے گناہوں کی بخشش کی بات کرتاہے ، کیونکہ انسان کو زیادہ ترفکر و پریشانی اپنے گناہوں سے ہوتی ہے ،جب مغفرت اور بخشش یقینی ہوجائے توپھرفکر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ تعبیر بتلاتی ہے کہ اس کی راہ میں شہیدہونے والوں کے لیے پہلا ہدیہ ٔخداوندی یہ ہے کہ وہ اُن کے گناہوں کوبخش دیتاہے ۔ اب رہی یہ بات کہ کیایہ صرف حقِ خدا کے بارے میں ہے یا حقّ الناسکوبھی شاملِہے ؟تو آ یت کامُطلق ہوناعمو میّت کی دلیل ہے ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ خدانے حق الناس خودانہیں کے سپرد کیے ہُوئے ہیں ، لہٰذابعض نے اس کی عمومیّت میں شک کیاہے۔ اِس طرح سے اوپر والی آ یات مین دوشاخیں توایمان کی ہیں،(خدااوررسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر ایمان )اور دوشاخیں جہاد کی ہیں ( مال اورجان کے ساتھ جہاد )اور دو شاخیں اُخروی جزائوں کی ہیں ، (گناہوں کی بخشش اور بہشت جاودان میں دخول )اورجیساکہ ہم دیکھیں گے بعد والی آ یت میں دنیا میں مواہبِ الہٰی کی بھی دوشاخیں آ ئی ہیں ۔ جہاں فرماتاہے : اور دوسری وہ نعمت تمہیں عنایت کرے گاجسے تم دوست رکھتے ہو اور تمہیں جس سے بہت لگائوں ہے اوروہ خدا کی مدد و نصرت اور نزدیک کی فتح ہے (وَ أُخْری تُحِبُّونَہا نَصْر مِنَ اللَّہِ وَ فَتْح قَریب ) (٣) ۔ کتنی سُود مند اور برکت والی تجارت ہے جوسراسر فتح وکامیابی اور نعمت ورحمت ہے اوراسی وجہ سے اس کوفوز عظیم اور بہت بڑی کامیابی قرار دیاہے ۔ اِسی وجہ سے بعد میں مومنین کواس عظیم تجارت کے بارے میں مُبارکبادکے ساتھ بشارت دیتا اور مزید کہتاہے : اورمومنین کوبشارت دے دو ( وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنینَ ) ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ جب لیلة عقبة ( جس رات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکّہ کے قریب مدینہ کے کچھ لوگوں سے مخفی طورپر مُلاقات کی اوران سے بیعت لی ) رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان عہدو پیمان ہُوا تو عبداللہ بِن رواحہ نے عرض کیا: اس پیمان کے ضمن میں آپ اپنے لیے اوراپنے پر وردگار کے لیے جوشرط چاہیں رکھ لیں ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : میرے پروردگار کے لیے تو یہ شرط ہے کہ کسِی طرح بھی کسِی چیز کو اس کاشریک قرار نہیں دو گے اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ جِس طرح تم اپنی جان ومال کادفاع کرتے ہو اسی طرح میرابھی دفاع کروگے ۔ عبدااللہ نے کہا: اس کے مقابلے میں ہمیں کیادیاجائے گا ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ ولہ وسلم)نے فرمایا:بہشت ! اُخروی اجر کے مرحلہ میں پہلے گناہون کی بخشش کی بات کرتاہے ، کیونکہ انسان کوزیادہ فکرو پریشانی اپنے گناہوں سے ہوتی ہے ،جب مغفرت اور بخشش یقینی ہوجائے توپھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ تعبیر بتلاتی ہے کہ اس کی راہ میں شہیدہونے والوں کے لیے پہلا ہدیہ ٔ خداوندی یہ ہے کہ وہ اُن کے گناہون کوبخش دیتاہے ۔ اب رہی یہ بات کہ کیایہ صرف حقِّ خدا کے بارے میں ہے یا حق الناس کوبھی شامل ہے ؟ توآیت کامُطلق ہونا عمومیّت کی دلیل ہے ،لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ خدانے حق الناس خودانہیں کے سپرد کیے ہُوئے ہیں ، لہٰذا بعض نے اس کی عمومیّت میں شک کیاہے ۔ اِس طرح سے اوپر والی آ یت میں دوشاخیںتوایمان کی ہیں ، (خدا اوررسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرایمان )اور دو شاخیں جہاد کی ہیں ( مال اورجان کے ساتھ جہاد )اوردو شاخیں اُخروی جزائوں کی ہیں ، ( گناہوں کی بخشش اور بہشت جاودان میں دخول )اور جیساکہ ہم دیکھیں گے بعد والی آ یت میں دنیا میں مواہب ِ الہٰی کی بھی دوشاخیں آ ئی ہیں ۔ جہاں فرماتاہے : اور دوسری وہ نعمت عنایت کرے گا جسے تم دوست رکھتے ہو اور تمہیں جس سے بہت لگائو ہے اوروہ خدا کی مدد ونصرت اور نزدیک کی فتح ہے (وَ أُخْری تُحِبُّونَہا نَصْر مِنَ اللَّہِ وَ فَتْح قَریب ) (٤) کتنی سُود مند اور برکت والی تجارت ہے جوسراسر فتح وکامیابی اور نعمت ورحمت ہے اوراسی وجہ سے اس کوفوز عظیم اور بہت بڑی کامیابی قرار دیاہے ۔ اِسی وجہ سے بعد میں مومنین کواس عظیم تجارت کے بارے میں مُبارکبادکے ساتھ بشارت دیتا اور مزید کہتاہے : اورمومنین کوبشارت دے دو ( وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنینَ ) ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ جب لیلة عقبة ( جس رات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکّہ کے قریب مدینہ کے کچھ لوگوں سے مخفی طورپر مُلاقات کی اوران سے بیعت لی ) رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان عہدو پیمان ہُوا تو عبداللہ بِن رواحہ نے عرض کیا: اس پیمان کے ضمن میں آپ اپنے لیے اوراپنے پر وردگار کے لیے جوشرط چاہیں رکھ لیں ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : میرے پروردگار کے لیے تو یہ شرط ہے کہ کسِی طرح بھی کسِی چیز کو اس کاشریک قرار نہیں دو گے اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ جِس طرح تم اپنی جان ومال کادفاع کرتے ہو اسی طرح میرابھی دفاع کروگے ۔ عبدااللہ نے کہا: اس کے مقابلے میں ہمیں کیادیاجائے گا ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ ولہ وسلم)نے فرمایا:بہشت ! عبداللہ نے کہا: ربح البیع لانقبل و لا نستقبلکتنا سود مند اورنفع بخش مُعاملہ ہے ؟نہ توہم اس مُعاملہ سے خود پھریں گے اور نہ ہم اس مُعاملہ سے پھرجانے کوقبول کریں گے ( نہ تو فسخ کریں گے اور نہ ہی فسخ کر قبول کریں گے ( ٥) ۔ ١۔"" تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ"" کاجمُلہ "" جملہ استینافیہ "" ہے جو تجارت کی تفسیرکرتاہے ،اوربعض نے اسے عطفِ بیان سمجھا ہے ، یہاں دیہ "" جملہ خبریہ "" بمعنی "" امر "" کی صورت میں ہے ۔ ٢۔"" یَغْفِرْ لَکُمْ"" کاجُملہ محذوف "" شرط "" کی"" جزاء "" کے طورپر آ یاہے کہ جس کاسابقہ جُملہ سے استفادہ ہوتاہے ، تقدیر میں اس طرح ہے ، ان تؤ منواباللہ و رسولہ وتجاھد وافی سبیلہ ... یغفرلکم ذ نو بکم ""یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ یہ "" امر "" کاجواب ہوکہ جو "" تؤ منون "" اور "" تجاھدون "" کے جملہ خبر یہ سے معلوم ہوتاہے ۔ ٣۔""اخرٰی ""ایک محذوف موصوف کی صفت ہے ، مثلاً نعمت یا خصلت ،بعض نے یہ بھی کہاہے کہ موصوف "" تجارت "" ہے لیکن یہ بعید نطر آ تاہے ۔ ٤۔""اخرٰی ""ایک محذوف موصوف کی صفت ہے ، مثلاً نعمت یا خصلت ،بعض نے یہ بھی کہاہے کہ موصوف "" تجارت "" ہے لیکن یہ بعید نطر آ تاہے ۔ ٥۔ "" فی ظلال ""جلد٨،صفحہ ٨٧۔