يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
O Prophet! If faithful women come to you, to take the oath of allegiance to you, [pledging] that they shall not ascribe any partners to Allah, that they shall not steal, nor commit adultery, nor kill their children, nor utter any slander that they may have intentionally fabricated, nor disobey you in what is right, then accept their allegiance, and plead for them to Allah for forgiveness. Indeed Allah is all-forgiving, all-merciful
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 60:12
[Pooya/Ali Commentary 60:12] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:12
عورتوں کی بیعت کے شر ائط
گزشتہ آ یات کے بعد جن میں مہاجر عورتوں کے احکام کابیان تھا ، زیربحث آیت میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے عورتوں کے بیعت کرنے کے حکم کی تشریح کرتاہے ۔ جیساکہ کفر مفسّرین نے لکّھا ہے کہ یہ آ یت فتح مکّہ کے دن نازل ہُوئی جبکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے کوہ ِصفاپر قیام فرمایا اور مردوں سے بیعت لی ،بعدہ مکّہ کی وہ عورتیں جو ایمان لے آ ئی تھیں بیعت کرنے کے لیے آ پ کی خدمت میں حاضر ہُوئیں تو اوپرو الی آ یت نازل ہُوئی اور ان کی بیعت کی تفصِیل بیان کی ۔ رُوئے سُخن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی طرف کرتے ہُوئے فرماتاہے : ” اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! جب مومن عورتیں تیرے پاس آ ئیں اور ان شر ائط پرتُجھ سے بیعت کریں کہ وہ کسی چیز کوخُدا کاشریک قر ار نہیں دیں گی ،چوری نہیں کریں گی ، زنا سے آلودہ نہیں ہوں گی ، اپنی اولاد کوقتل نہیں کریں گی ، اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے آگے کوئی افتر اء اور بُہتان نہیں باندھیں گی اورکسِی شائستہ حکم میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی ،تو تم اُن سے بیعت لے لو اور ان کے لیے بخشش طلب کرو ، بے شک خُدا بخشے و الا اورمہر بان ہے “(یا اٴَیُّہَا النَّبِیُّ إِذا جاء َکَ الْمُؤْمِناتُ یُبایِعْنَکَ عَلی اٴَنْ لا یُشْرِکْنَ بِاللَّہِ شَیْئاً وَ لا یَسْرِقْنَ وَ لا یَزْنینَ وَ لا یَقْتُلْنَ اٴَوْلادَہُنَّ وَ لا یَاٴْتینَ بِبُہْتانٍ یَفْتَرینَہُ بَیْنَ اٴَیْدیہِنَّ وَ اٴَرْجُلِہِنَّ وَ لا یَعْصینَکَ فی مَعْرُوفٍ فَبایِعْہُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحیمٌ) ۔ اِس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اُن سے بیعت لی ۔ بیعت کے کیفیّت کے بارے میں بعض نے یہ لکھاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے پانی کا ایک برتن لا نے کاحکم دیا اور اپنا ہاتھ پانی کے اُس برتن میں رکھ دیا ،عورتیں اپنے ہاتھ برتن کے دُوسری طرف رکھ دیتی تھیں ،بعض نے کہاہے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)لباس کے اُوپر سے بیعت لیتے تھے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اوپرو الی آ یت میں عورتوں کے بیعت کرنے کے لیے چھ شرطیں بیان کی گئی ہیں اور ان کے لیے ان سب کوقبول کرناضُروری ہے ۔ ۱: ہرقسم کے شرک اوربُت پرستی کو ترک کرنا ، یہ شرط اسلام و ایمان کی بُنیاد ہے ۔ ۲:چوری کوترک کرنا اور شاید اِس سے مُر اد زیادہ تر شوہر کامال ہو، کیونکہ اُس زمانہ کی مالی بد حالی ، مردوں کی سخت گیری اور تہذیب وتمدّن کی سطحکاپست ہونا اس بات کاسبب ہوتاتھا کہ عورتیں اپنے شوہر وں کے مال میں سے چوری کریں اور احتمالاً اپنے رشتہ داروں کودے دیں ”ہند“کی داستان جوبعد میں آ ئے گی ،وہ بھی اسی معنی کی گو اہی ہے ۔ بہر حال آ یت کامفہوم وسیع اورعام ہے ۔ ۳:زنا سے آلودہ نہ ہونا .کیونکہ تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ زمانہٴ جاہلیّت میںعِفّت کی ر اہ سے بُہت زیادہ انحر اف تھا ۔ ۴:اولاد کوقتل نہ کرنا . یہ فعل دوصُورتوں میں یعنی اوقات ” اسقاطِ حمل “ کی صُورت میں اور کبھی ” وئاد “(لڑ کیوں اور لڑکو ں کوزندہ در گور کرنے )کی صُورت میں انجام پاتا تھا ۔ ۵:بُہتان و افتر اء کوترک کرنا، بعض نے اس کی اس طرح تفسیر کی ہے وہ مشکوک بچّوں کور استے سے اُٹھا لیتی تھیںاور یہ دعویٰ کرتی تھیں کہ یہ بچّہ اُن کے شوہر سے ہے ( یہ امر شوہر کی طویل غیبت کے زمانہ میں زیادہ امکان پذیر تھا ) ۔ بعض نے اسے شرم آور کام کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ وہ بھی زمانہٴ جاہلیّت کے باقیات میں سے تھا ،وہ یہ تھاکہ ایک عورت اپنے آپ کوچند افر اد کے اختیار میں دے دیتی اور جب اس سے کوئی بچّہ پیدا ہوتا تو وہ ان میں سے جس کی طرف مائل ہوتی ، بچّے کو اس کی طرف منسُوب کردیتی تھی ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ مسئلہ زناپہلے بیان ہوچُکا ہے اور اس قسم کے کام کا اسلام میں جاری رہنا ممکِن نہیں تھا یہ تفسیر بعید نظر آ تی ہے اورپہلی ہی تفسیر زیادہ مُناسب ہے .اگرچہ آیت کے مفہوم کی وسعت ہرقسم کے افتر اء اوربُہتان کوشامل ہے ۔ ” بَیْنَ اٴَیْدیہِنَّ وَ اٴَرْجُلِہِنَّ “ (ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے آگے )کی تعبیر ، ممکن ہے وہی سرر اہ ملنے و الے بچوں کی طرف اشارہ ہوجو دُودھ پلانے کے وقت ذہن میں ہوتے تھے .لہٰذاطبعاً وہ ان کے پاؤں اورہاتھوں کے سامنے ہوتے تھے ۔ ۶:پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اِصلا حی احکام کی نافرمانی نہ کرنا:یہ حکم بھی وسعت رکھتاہے اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے تمام فرامین کوشامل ہے اگرچہ بعض نے اسے زمانہ ٴجاہلیّت کے بعض افعال مثلاً مُردوں پر بلند آو از میں نوحہ کرنا ،گریبان چاک کرنا اور منہ کونوچنا وغیرہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ یہاں یہ سو ال سامنے آ تاہے کہ عورتوں کی بیعت کیوں ان شر ائط کے ساتھ مشروُط تھی ؟ حالانکہ مردوں کی بیعت صرف اِسلام اورجہاد پرتھی ۔ اِس کے جو اب میں یہ کہا جاسکتاہے کہ مردوں کے بارے میں اس مُعاشر ے اور ماحول میں جو چیزسب سے زیادہ اہم تھی وہ ایمان اورجہادی تھا ، چُونکہ عورتوں کے لیے جہاد مشروع نہیں تھا لہٰذا ان کے لیے دوسرے شر ائط ذکر کرتے ہُوئے کہ جن میں توحید کے بعد سب سے زیادہ اہم امُور وہی تھے جن سے اس مُعاشرے کی عورتیں انحر اف میں مُبتلا تھیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:12
۲ ابوسفیان کی بیوی ھند کی بیعت کا ماجر ا
ہم سُورہ ٴ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے ( آیة ۱۸ کے ذیل میں ) بیعت ، اس کے شر ائط اور اسلام میں اس کی خصوصیات کے بار ے میں ایک تفصیلی بحث کرچکے ہیں کہ جس کے دُہر انے کی یہاں ضرورت نہیں ہے ( ۱) ۔ یہاں جس بات کابیان کرناضروری ہے ،وہ عورتوں کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی بیعت کرنے کا مسئلہ ہے اور وہ بھی ایسی مُفیداور اصلاحی شر ائط کے ساتھ کہ جو اوپر و الی آیت میں بیان ہُوئے ہیں ۔ بے خبر اور مفاد پرست لوگوں کے برخلاف جویہ کہتے ہیں کہ اسلام انسانی معاشرے کے نصف حِصّے یعنی عورتوں کے لیے کسی قدروقیمت کاقائل نہیں ، اور اس نے انہیں کسِی حساب میں شمار نہیں کیا ہے ، یہ مسئلہ اس بات کی نشا ندہی کرتاہے کہ اسلام نے اسے خصُوصیّت کے ساتھ اہم ترین مسائل میں شمار کیاہے ، منجملہ ان کے مسئلہ بیعت ہے جو ایک مرتبہ صلح حدیبیہ میں( ہجرت کے چھٹے سال) اور ایک مرتبہ فتح مکّہ میں انجام پایاتوعورتیں بھی مردوں کے دوش بدوش اس خُدائی عہدو پیمان میں داخل ہُوئیں. یہاں تک کہ اُنہوں نے مردوں کی نسبت زیادہ شر ائط کوقبول کیا ایسی شر ائط کوجوعورت کی انسانی حیثیّت کوزندہ کرتی تھیں .نیزاس کوبے قدر وقیمت متاع میں تبدیلی ہونے یا بو الہوس ، مردوں کی لُطف اندوزی کاذ ریعہ بننے سے نجات دیتے تھے ۔ ۱۔تفسیر نمونہ جلد۲۲ میں سورہٴ فتح آ یہ ۱۸ کے ذیل میں دیکھیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:12
سوره ممتحنه/ آیه 12
۱۲۔یا اٴَیُّہَا النَّبِیُّ إِذا جاء َکَ الْمُؤْمِناتُ یُبایِعْنَکَ عَلی اٴَنْ لا یُشْرِکْنَ بِاللَّہِ شَیْئاً وَ لا یَسْرِقْنَ وَ لا یَزْنینَ وَ لا یَقْتُلْنَ اٴَوْلادَہُنَّ وَ لا یَاٴْتینَ بِبُہْتانٍ یَفْتَرینَہُ بَیْنَ اٴَیْدیہِنَّ وَ اٴَرْجُلِہِنَّ وَ لا یَعْصینَکَ فی مَعْرُوفٍ فَبایِعْہُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحیمٌ ۔ ترجمہ ۱۲۔اے پیغمبر (ص) ! جب موٴ من عورتیں تیرے پاس آ ئیں اورتجھ سے ان شر ائط پر بیعت کریں کہ وہ کسِی چیز کوخُدا کاشریک قر ار نہیں دیں گی .چور ی نہیں کریں گے .زنا سے آلودہ نہ ہوں گی .اپنی اولاد کوقتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے آگے کوئی افتر اء اوربہُتان نہیں باندھیں گی ، اورکسِی شائستہ کام میں تیرے حکم کی مُخالفت نہیں کریں گی توتم ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے بارگاہِ خُدا میں طلبِ بخشش کرو ، بیشک خُدا بخشے و الا اورمہربان ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:12
۱عورتوں کی بیعت کا ان کی اسلامی شخصیّت کے ساتھ ربط
ہم سُورہ ٴ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے ( آیة ۱۸ کے ذیل میں ) بیعت ، اس کے شر ائط اور اسلام میں اس کی خصوصیات کے بار ے میں ایک تفصیلی بحث کرچکے ہیں کہ جس کے دُہر انے کی یہاں ضرورت نہیں ہے ( ۱) ۔ یہاں جس بات کابیان کرناضروری ہے ،وہ عورتوں کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی بیعت کرنے کا مسئلہ ہے اور وہ بھی ایسی مُفیداور اصلاحی شر ائط کے ساتھ کہ جو اوپر و الی آیت میں بیان ہُوئے ہیں ۔ بے خبر اور مفاد پرست لوگوں کے برخلاف جویہ کہتے ہیں کہ اسلام انسانی معاشرے کے نصف حِصّے یعنی عورتوں کے لیے کسی قدروقیمت کاقائل نہیں ، اور اس نے انہیں کسِی حساب میں شمار نہیں کیا ہے ، یہ مسئلہ اس بات کی نشا ندہی کرتاہے کہ اسلام نے اسے خصُوصیّت کے ساتھ اہم ترین مسائل میں شمار کیاہے ، منجملہ ان کے مسئلہ بیعت ہے جو ایک مرتبہ صلح حدیبیہ میں( ہجرت کے چھٹے سال) اور ایک مرتبہ فتح مکّہ میں انجام پایاتوعورتیں بھی مردوں کے دوش بدوش اس خُدائی عہدو پیمان میں داخل ہُوئیں. یہاں تک کہ اُنہوں نے مردوں کی نسبت زیادہ شر ائط کوقبول کیا ایسی شر ائط کوجوعورت کی انسانی حیثیّت کوزندہ کرتی تھیں .نیزاس کوبے قدر وقیمت متاع میں تبدیلی ہونے یا بو الہوس ، مردوں کی لُطف اندوزی کاذ ریعہ بننے سے نجات دیتے تھے ۔ ۱۔تفسیر نمونہ جلد۲۲ میں سورہٴ فتح آ یہ ۱۸ کے ذیل میں دیکھیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:12
۳معروف میں اطاعت
ان عمدہ نکات میں سے جو اوپر و الی آ یت سے معلوم ہوتے ہیں ایک یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی اطاعت معرُوف کے ساتھ مُقیّدکیاہے ،حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)معصُو م تھے اور کبھی بھی منکر اوربُری بات کاحکم نہیں دیتے تھے ،لیکن ممکِن ہے یہ تعبیر ان تمام احکام کے لیے ایک نمُونہ کے عنو ان سے ہو جو اسلامی سربر اہوں سے صادر ہوتے ہیں ، یعنی وہ احکام صرف اسی صُورت میں محتر م اورقابلِاجر اء ہیں جبکہ وہ تعلیمات قر آن اور اصُولِ شریعت اِسلام کے ساتھ سازگار ہوں اور ” لا یعصینک فی معروف “ کے مصداق ہوں ۔ وہ لوگ (حقیقت سے ) کتنے دُور ہیں جوبرسرِ اقتدار لوگوں کوو اجب الا طاعت سمجھتے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی ہوں اورکسِی بھی شخص کی طرف سے ہوں حالانکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جونہ تو عقل کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی شریعت اورقر آن کے حکم کے ساتھ مُطابقت رکھتی ہے ۔ امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے اس خط میں جو آپ نے مصر کے لوگوں کو” مالک اشتر“کی فر مانر و ائی (گو رنری )کے بارے میں لکھاتھا ان تمام اوصَافِ بلند کے باوجُودجو آپ نے مالک کے بارے میں بیان فر مائے تھے آخر میں یہ لکھا تھا: فاسمعو الہ و اطیعو ا امرہ فیما طابق الحق فانہ سیف من سیوف اللہ :( ۱) ۔ ” اس کی بات کوسنو اور اس کے اس حکم کی جوحق کے مطابق ہو اطاعت کرو ، کیونکہ وہ اللہ کی تلو ار وں میں سے ایک تلو ار ہے ۔ ۱۔نہج الباغہ خطبہ ۳۸ ،( یہ وہ مختصر خط ہے ،جو امام علیہ السلام نے مصر کے لوگوں کے نام لکھا تھا اورمالک اشتر کے نام معرُوف فر مان کے علاوہ ہے ) ۔