يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ
O you who have faith! Do not befriend a people at whom Allah is wrathful: they have despaired of the Hereafter, just as the faithless have despaired of the occupants of the graves.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 60:13
[Pooya/Ali Commentary 60:13] See commentary of Mujadilah: 14 and verses 1 to 3 of this surah for not turning to disbelievers for friendship. Aqa Mahdi Puya says: The last portion of this verse asserts that to believe that the people of the grave have no existence at all and are just dust and decayed bones is kufr (infidelity).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:13
سوره ممتحنه/ آیه 13
۱۳۔ یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُو ا لا تَتَوَلَّو ا قَوْماً غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ قَدْ یَئِسُو ا مِنَ الْآخِرَةِ کَما یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اٴَصْحابِ الْقُبُور۔ ترجمہ ۱۳۔” اے ایمان لانے و الو! وہ قوم جس پر اللہ نے غضب کیاہے اس سے دوستی نہ کرو ،وہ آخرت سے اسی طر ح مایُوس ہوچکے ہیں جس طرح قبروں میں مدفُون کفّار مایوس ہیں “۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:13
اس مغضوب علیہ قوم سے دوستی نہ کرو
ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس سورة کا آغاز ،دشمنانِ خُدا سے قطع تعلق کرنے کے مسئلہ سے ہو ا ہے اور اب اسی چیزپر اس کا اختتام ہورہاہے ،دُوسرے لفظوں میں اِس سُورةکا اختتام اس کے آغاز کی طرف ایک بازگشت ہے ،فرماتاہے : ” اے ایمان لانے و الو! وہ قوم جس پرخُدا نے غضب کیاہے اس سے دوستی نہ کرو“(یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُو ا لا تَتَوَلَّو ا قَوْماً غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ ) ۔ تمہیں ان سے دوستی نہیں کرنی چاہیے اور اپنے اسر ار اور بھیدوں کو ان تک نہیں پُہنچاناچاہیے ۔ اس بارے میں کہ ” مغضوب علیہم قوم “کون لوگ ہیں ،بعض توصر احت اِس کویُہودیوں سے متعلق سمجھتے ہیں ، کیونکہ قر آن کی دوسری آ یات میںانہیں اس عنو ان کے ساتھ یاد کیاگیاہے جیساکہ سورة بقر کی آ یت ۹۰ میں بُہود کے بارے میں بیان ہُو ا ہے : ”فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلی غَضَب “ پس وہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہُوئے ۔ یہ تفسیر اس شانِ نزول سے بھی سازگار ہے جومفسّرین نے بیان کی ہے ، کیونکہ انہوںنے کہاکہ فقر اء مسلمین کی ایک جماعت مسلمانوں کی خبریںیُہود یوں کے پاس بے جایا کرتی تھی اور یہودی اس کے بدلے میں انہیں اپنے درختوں کے پھل بطور ہدیہ کے دیا کرتے تھے .اس پر اُوپر و الی آ یت نازل ہُوئی اور انہیں اس کام سے منع کیا( ۱) ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس آ یت کی تعبیر ات ایک وسیع مفہوم رکھتی ہیں جوتمام کفّار ومشرکین کوشامل ہیں ، کیونکہ قر آن مجید میں غضب کی تعبیر ” یُہود “ میں مُنحصر نہیں ہے بلکہ یہی تعبیر مُنافقین کے بارے میں بھی آ ئی ہے (سور ة فتح ، ۶)اور شان ِ نزول بھی آ یت کے مفہوم کومُحدود نہیں کرتا ۔ بناء بریں اس آ یت میں جو کچھ بیان ہُو اہے ،وہ اس وسیع مطلب کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو اس سورة کی پہلی آ یت دشمنان ِ خُدا سے دوستی نہ کرنے کے عنو ان سے آ یاہے ۔ اس کے بعد ایک اور مطلب کوبیان کرتاہے جو اس نہی کی دلیل کے طورپر بیان ہُو ا ہے .فر ماتاہے : ” آخرت میں نجات سے کُلّی طورپر مایُوس ہیں جیساکہ قبروں میں مدفُون کفّار مایوس ہیں (قَدْ یَئِسُو امِنَ الْآخِرَةِ کَما یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اٴَصْحابِ الْقُبُور)(۲) ۔ کیونکہ کفّار میں سے جو مرچکے ہیں وہ عالم برزخ میں اپنے کاموں کے نتائج دیکھ رہے ہیں اور تلافی کے لیے و اپسی کی کوئی ر اہ نہیں ہے ،لہٰذاوہ کلّی طورپر مایُوس ہیں ، یہ زندوں کاگروہ بھی گناہ سے اس قدر آ لُودہ ہے کہ ہرگز اپنی نجات کی اُمید نہیں رکھتا ، اور یہ ٹھیک کفّار کے مُردوں کی طرح ہے ۔ اِس قسم کے لوگ یقینا خطرناک اورناقابلِاعتماد افر اد ہیں ، نہ تو ان کے قول پر کوئی اعتماد ہے اور نہ ہی ان کے صداقت اور ار ادے پرکوئی اعتبار ہے وہ حق تعالےٰ کی رحمت سے مایوس ہیں، اسی بناء پر ہرجُرم وگناہ پر ہاتھ ڈالتے ہیں ، ان حالات میں تم ان پر کِس طرح اعتماد کرتے اور ان سے دوستی کرتے ہو ؟ خدا وندا ! ہمیں اپنے بے پایاں لطف وکرم سے ہرگز محروم و مایوس نہ کرنا ۔ پروردگار ا! ہمیں ایسی توفیق مرحمت فرماکہ ہم ہمیشہ تیرے دوستوں کے دوست اوردشمنوں کے دشمن رہیں اور تیری دوستی کی راہ میں ثابت قدم رہیں۔ بار الھٰا! ہمیں اپنے اولیاء اور انبیاء کر ام کی پیروی کرنے کی توفیق عطافر ما ۔ ۱۔” مجمع البیان “(جلد۹،صفحہ ۲۷۶۔ ۲۔ بعض نے اس آ یت کی تفسیر میں اور احتمال بھی دیئے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آ خرت کے ثو اب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح مشرکین اصحابِ قبُور کے زند ہ ہونے سے مایُوس ہیں، لیکن جوتفسیر ہم نے اوپر بیان کی ہے وہ زیادہ مُناسب ہے (توجّہ رہے کہ پہلی تفسیر کے مُطابق ” مِن اصحاب القبور “کفّار کاوصف ہے اور آخری تفسیر کے مطابق ’“ یئس سے متعلق ہے ) ۔