وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
His people argued with him. He said, ‘Do you argue with me concerning Allah, while He has guided me for certain? I do not fear what you ascribe to Him as [His] partners, excepting anything that my Lord may wish. My Lord embraces all things in [His] knowledge. Will you not then take admonition?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:80
[Pooya/Ali Commentary 6:80] (see commentary for verse 74)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:80-83
یہاں ظلم سے کیا مراد ہے؟
مفسّرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہاں ”ظلم“ شرک کے معنی میں ہے۔ سورہٴ لقمان (کی آیہ ۱۳) میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ ”اِنَّ الشِّرک لَظُلْمٌ عَظِیمٌ “ (شرک ظلم عظیم ہے) کو اس معنی کا شاہد قرار دیا ہے۔ ایک روایت میں بھی ابن مسعود سے یہ نقل ہوا ہے کہ جس وقت یہ (زیر بحث) آیت نازل ہوئی، تو یہ بات لوگوں کو بہت گراں معلوم ہوئی۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول ایسا کون ہے کہ جس نے اپنے اُوپر تھوڑا بہت ظلم نہ کیا ہو (لہٰذا یہ آیت تو سبھی کو شامل کرلیتی ہے) رسول اللہ نے فرمایا:جو تم نے خیال کیا ہے اس سے وہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے خدا کے صالح بندے (لقمان کا) قول نہیں سنا (جو اپنے بیٹے سے) کہتا ہے ”میرے بیٹے خدا کا شریک قرار نہ دے کہ شرک، ظلم عظیم ہے“۔(1) لیکن چونکہ قرآن کی آیات بہت سے مواقع پر دو یا دو سے زیادہ معانی کی حامل ہوتی ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ اُن میں سے ایک معنی دوسرے معنی دوسرے معنی سے زیادہ وسیع اور عمومی ہوتو آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”امنیت“ سے مراد عام امنیت ہے خواہ خدا کے عذاب سے امن و امان ہو یا اجتماعی دردناک حوادث سے امن و امان ہو۔ یعنی جنگیں ایک دوسرے پر زیادتیاں، مفاسد اور جرائم سے امان، یہاں تک کہ روحانی سکون و اطمینان صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب کہ انسانی معاشرے میں دو اصولوں کی حکمرانی ہو، اوّل ایمان اور دوسرے عدالت اجتماعی، اگر خدا پر ایمان کی بنیادیں ہل جائیں اور پروردگار کے سامنے جواہدہی کا احساس ختم ہوجائے اور عدالت اجتماعی کی جگہ ظلم و ستم کا دَورہ ہو، تو ایسے معاشرے میں ان و امان ختم ہوجائے گا اور یہی سبب ہے کہ دنیا کے بہت سے مفکرین کی طرف سے دنیا میں بدامنی کی مختلف صورتوں کو ختم کرنے کی تمام کوششوںکے باوجود دنیا کے لوگوں کا واقعی امن دامان سے دن بدن فاصلہ بڑھتا جارہا ہے، اس کیفیت کا سبب وہی ہے کہ طرف زیر نظر آیت میں اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایمان کی بنیادیں ہل رہی ہیں اور عدالت کی جگہ ظلم کا دور دورہ ہے ۔ خاص طور پر روحانی امن و سکون میں ایمان کی تاثیر سے تو کسی کے لیے بھی تردید کی گنجایش نہیں ہے۔ جیسا کہ ارتکاب ظلم سے وجدان کی پریشانی اور روحانی امن وسکون کا چھن جانا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ بعض روایات میں بھی حضرت صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ زیر بحث آیت سے مراد یہ ہے کہ:وہ لوگ کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے حکم کے مطابق اُمت اسلامی کی ولایت و رہبری کے سلسلے میں آپ کے بعد ایمان لے آئیں اور اُسے دوسرے لوگوں کی ولایت و رہبری کے ساتھ مخلوط نہ کریں تو وہ امن و امان میں ہیں۔ (2) یہ تفسیر حقیقت میں آیہ شریفہ میں موجود مطلب کی روح اور نچوڑ پپر نظر رکھتے ہوئے بیان ہوئی ہے کیونکہ اس آیت میں خدا کی ولایت و رہبری کے متعلق گفتگو ہے اور اُسے اُس کے غیر کی رہبری کے ساتھ خلط ملط نہ کرنے کے سلسلہ میں ہے اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری آیہ ”اِنَّمَا وَلِیّکُمُ اللّٰہ وَ رَسُولَہ“““کے اقتضا کے مطابق خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رہبری کا پرتو ہے اور خدا کی طرف سے معین نہ ہونے والی رہبریاں ایسی نہیں ہیں لہٰذا اُوپر والی آیت ایک وسیع نظر سے ان سب پر محیط ہوگی، اس بناء پر اس حدیث سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے، بلکہ یہ تفسیر آیت کے اصلی مفہوم کا پرتو ہے۔ اسی لیے ہم حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک دوسری حدیث میں پڑھتے ہیں کہ یہ آیت خوارج جو ولی خدا کی ولایت سے نکل گئے تھے اور شیطان کی ولایت و رہبری میں چلے گئے تھے، کے بارے میں بھی ہے۔(3) بعد والی آیت اُن تمام بحثوں کی طرف۔ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہ جو حضرت ابراہیم- کی طرف سے توحید کے بیان اور شرک کے خلاف مبارزہ و مقابلہ کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: یہ ہمارے وہ دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم - کو اس کی قوم و جمعیت کے مقابلہ میں دیئے تھے (وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاہَا إِبْرَاہِیمَ عَلیٰ قَوْمِہِ)۔ یہ صحیح ہے کہ اس استدلال میں منطقی پہلو بھی تھا اور ابراہیم - عقلی قوت اور فطری الہام کی بناپر اُن تک پہنچے تھے لیکن چونکہ یہ قوت عقل اور وہ الہام فطرت سب خدا کی ہی طرف سے تھے، لہٰذا خدا ان تمام استدلالات کو اپنی نعمات میں سے شمار کررہا ہے کہ جو ابراہیم - کے دل جیسے آمادہ دلوں میں منعکس ہوتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ”تلک“ عربی زبان میں بعید کے لیے اسم اشارہ ہے۔ لیکن بعض اوقات موضوع کی اہمیت، اور اس کا بلند پایہ ہونا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ایک نزدیک کا موضوع بھی اسم اشارہٴ بعید سے ذکر ہو، جس کی مثال سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں ہے: ”ذَٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ“۔ ”یہ عظیم کتاب وہ ہے کہ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے“۔ پھر اس بحث کی تکمیل کے لیے فرمایا یا ہے: ہم جس کے درجات کو چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں (نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ)۔(4) لیکن اس غرض سے کہ کوئی اشتباہ واقع نہ ہو۔ کہ لوگ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ خدا اس درجے کے بلند کرنے میں کسی تبعیض سے کام لیتا ہے، قرآن فرماتا ہے: تیرا پروردگار حکیم اور عالم ہے اور وہ درجات عطا فرماتا ہے وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے آگاہی اور میزان حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جب تک کوئی شخص لائق اور قابل نہ ہو اُس سے بہرہ مند نہیں ہوگا (إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ)۔ ۸۴ وَوَہَبْنَا لَہُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا ہَدَیْنَا وَنُوحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ- ۸۵ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ- ۸۶ وَإِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ- ۸۷ وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنَاہُمْ وَہَدَیْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ- ترجمہ ۸۴۔ور ہم نے اُسے (ابراہیم - کو) اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ہر ایک کو ہدایت کی، اور نوح کو (بھی) ہم نے (ان سے) پہلے ہدایت کی تھی، اور اس کی ذریت و اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (ہم نے ہدایت کی) اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں۔ ۸۵۔ اور (اسی طرح) زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس سب صالحین میں سے تھے۔ ۸۶۔ اور اسماعیل، الیسع، یونس اور ہر ایک کو ہم نے عالمین پر فضیلت دی۔ ۸۷۔ اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے برگزیدہ کیا اور اُنہیں راہ راست کی ہدایت کی۔ 1۔ تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ 2۔ تفسیر نور الثقلین جلد اوّل صفحہ ۷۴۰۔ 3۔ تفسیر برہان جلد اوّل صفحہ ۵۳۸۔ 4۔ ”درجہ“ کے بار سے میں اور اس کے اور ”درک“ کے درمیان فرق کے بارے میں ہم سورہٴ نساء آیہ ۱۴۵ جلد چہارم صفحہ ۱۴۸ میں بحث کرچکے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:80-83
نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل
اِن آیات میں اپنی نعمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو خداوندتعالیٰ نے حضرت ابراہیم- کو عطا کی تھیں اور وہ نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل جو نعمات الٰہی میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ابراہیم- کو اسحاق اور (فرزند اسحاق) عطا کیے (وَوَہَبْنَا لَہُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ) ۔ اور اگر یہاں ابراہیم- کے دوسرے فرزند اسماعیل کی طرف اشارہ نہیں ہوا، بلکہ بحث کے دوران کہیں ذکر آیا ہے، شاید اس کا سبب یہ ہے کہ اسحاق کا سارہ جیسی بانجھ ماں سے پیدا ہونا، وہ بھی بڑھاپے کی عمر میں، بہت عجیب وغریب امر اور ایک نعمت غیر مترقبّہ تھی۔ پھر اس چیز کو بیان کرنے کے لئے کہ ان دونوں کا افتخار صرف پیغمبر زادہ ہونے کے پہلو سے نہیں تھا، بلکہ وہ ذاتی طور پر بھی فکر صحیح اور عمل صالح کے سائے میں نور ہدایت کو اپنے دل میں جاگزین کیے ہوئے تھے، قرآن کہتا ہے: ان میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی (کُلًّا ہَدَیْنَا )۔ اس کے بعدیہ بتانے کے لئے کہ کہیں یہ تصور نہ ہو کہ ابراہیم- سے قبل کے دور میں کوئی علَم بردارِ توحید نہیں تھا اور یہ کام بس انہی کے زمانے سے شروع ہوا ہے مزید کہتا ہے: اس سے پہلے ہم نے نوح کی بھی ہدایت ورہبری کی تھی (وَنُوحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ)۔ اور ہم جانتے ہیں کہ نوح- پہلے اولوالعزم پیغمبر ہیں جو آئین وشریعت کے حامل تھے اور وہ پیغمبران اولوالعزم کے سلسلے کی کڑی تھے۔ حقیقت میں حضرت نوح- کی حیثیت اوران تمام کی طرف اشارہ کرکے کہ جو حضرت ابراہیم- کے اجداد میں سے ہیں، اور اسی طرح پیغمبروں کے اس گروہ کے مقام کا تذکرہ کرکے کہ جوابراہیم- کی اولاد اور ذریّت میں سے تھے، حضرت ابراہیم- کی ممتاز حیثیت کو دراثت، اصل اور ثمرہ کے حوالے سے مشخص کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد بہت سے انبیاء کے نام گنوائے ہیں جو ذریت ابراہیم- میں سے تھے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: ابراہیم کی ذریت میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، موسیٰ اور ہارون تھے(وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ)اور اس جملے کے ساتھ کہ: ”اس قسم کے نیکوکار لوگوں کو ہم جزا دیں گے“ واضح کرتا ہے کہ ان کا مقام وحیثیت ان کے اعمال وکردار کی بناپر تھا(وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ)۔ اس سلسلے میں کہ ”وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ “ (اس کی اولاد میں سے) کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے، ابراہیم- کی طرف یا نوح- کی طرف، مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن زیادہ تر مفسّرین ابراہیم- کی طرف لوٹاتے ہیں اور ظاہراً اس بات کی تردید نہیں کرنا چاہیے کہ مرجع ضمیر ابراہیم- ہیں کیونکہ آیت کی بحث ان خدائی نعمات کے بارے میں ہے جو ابراہیم- کی نسبت سے ہوئی تھیں نہ کہ حضرت نوح- کے بارے میں۔ علاوہ ازیں اُن متعدد روایات میں سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، جنھیں ہم بعد میں نقل کریں گے۔ صرف ایک مطب اس بات کا سبب بنا ہے کہ بعض مفسّرین نے ضمیر کو نوح- کی طرف لوٹایا ہے اور وہ ہے بعد کی آیات میں حضرت یونس- اور حضرت لوط- کا نام، کیونکہ تواریخ میں مشہور یہ ہے کہ یونس- حضرت ابراہیم- کی اولاد میں سے نہیں تھے اور لوط- بھی حضرت ابراہیم- کے بھتیجے یا بھانجے تھے۔ لیکن یونس- کے بارے میں تمام مورخین میں اتفاق نہیں ہے، بعض انھیں بھی اولاد ابراہیم- میں سے سمجھتے ہیں(۱) اور بعض انھیں انبیاء بنی اسرائیل میں سے شمار کرتے ہیں(۲) علاوہ ازیں عام طور پر مورخین نسب کی باپ کی طرف سے حفاظت کرتے ہیں لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ حضرت یونس- کا بھی حضرت عیسیٰ - کا بھی حضرت عیسیٰ کی طرح کہ جن کا نام درج بالا آیات میں ہے کا سلسلہ نسب ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم - تک پہنچتا ہو۔ باقی رہے لوط تو وہ اگر چہ ابراہیم - کے فرزند نہیں تھے لیکن ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں سے تھے، تو جس طرح عربی زبان میں بعض اوقات ”چچا“ کو ”اب“ (باپ) کہا جاتا ہے اسی طرح بھتیجے اور بھانجے پر بھی ”ذریت“ اور فرزند کا اطلاق ہوتا ہے، اس طرح سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ظاہر آیات سے دست بردار ہوجائیں جو کہ ابرہیم - کے بارے میں ہیں اور ضمیر کو نوح - کی طرف پلٹادیں جو یہاں موضوعِ سُخن بھی نہیں ہیں۔ بعد کی آیت میں زکری-، یحییٰ، عیسیٰ - اور الیاس کا نام لیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ یہ سب صالحین میں سے تھے۔ یعنی ان کا مقام و منزلت تشرفاتی اور اجباری پہلو نہیں رکھتا تھا بلکہ انھوں نے عمل صالح کے ذریعہ بارگاہ خداوندی میں عظمت و بزرگی حاصل کی تھی (وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ)۔ بعد والی آیت میں بھی چار اور پیغمبروں اور خدائی رہنماؤں کے نام آئے ہیں اور فرمایا گیا ہے: اور اسماعیل, الیسع، یونس اور لوط بھی، اور سب کو ہم نے عالمین پر فضیلت عطا کی (وَإِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ)۔اس بارے میں الیسع کس قسم کا نام ہے اور پیغمبروں میں سے کون سے پیغمبر کی طرف اشارہ ہے مفسرّین اور ادباء عرب کے درمیان اختلاف ہے بعض اسے ایک عبرانی نام سمجھتے ہیں جو اصل میں یوشع تھا اس کے بعد اس پر الف لام داخل ہوئے اور شین، سین سے تبدیل ہوگئی اور بعض کا نظریہ ہے کہ یہ ایک عربی نام ہے اور ”یسع“ سے لیا گیا ہے (جو وسعت کا فعل مضارع ہے)۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسی صورت میں گذشتہ انبیاء میں سے کسی نبی کا نام تھا بہرحال وہ جناب بھی نسل ابراہیم - میں سے ایک پیغمبر ہیں۔ اور آخری آیت میں مذکورہ انبیاء کے صالح آباؤ اجداد، اولاد اور بھائیوں کی طرف کہ جن کے نام یہاں پر تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیے گوے ایک کلی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے آباؤ اجداد، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے فضیلت دی، انھیں برگزیدہ کیا اور راہ راست کی ہدایت کی (وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنَاہُمْ وَہَدَیْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ ۱۔ تفسیر آلوسی, ج۷، ص۱۸۴- ۲۔ دائرة المعارف فرید وجدی، ج۱۰، ص۱۰۵۵ (ذیل مادہ یونس)