قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
Say, ‘Tell me, should Allah’s punishment overtake you, or should the Hour overtake you, will you supplicate anyone other than Allah, should you be truthful?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:40
[Pooya/Ali Commentary 6:40] The pagans, who believe in false gods, must call upon the imaginary deities whom they worship, but instead they cry out to Allah in moments of extreme helplessness, danger and affliction. In utter helplessness, unable to find help from any quarter, the "inner self" of every human being, be he an unbeliever, is liberated from the obstinacy of personal views, and commands to cry for the help of the omnipotent and omniscient Lord. When a man asked Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq to enable him to see Allah, the Imam advised him to meet him some other day. On one occasion he met the Imam while he was standing beside a river, and repeated his request. As directed by the Imam, his companions tied the hands and legs of the man and threw him in the river. While struggling to save himself from drowning he solicited help from every man standing there one by one, but none came to his rescue. Losing all hopes, he cried "O God! Help me", when he was about to go down under the water. Then the Imam took him out from the river and asked him "Did you see Allah?" He said: "Yes, my master." The Imam said: "You cannot see Allah with your eyes. You can see Him through your insight by realizing His essential existence."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:40-41
فطری توحید
دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے ایک دوسرے طریقہ سے توحید ویگانہ پرستی کے لئے ان کے سامنے استدلال کرتا ہے، وہ اس طریقہ سے کہ انھیں ان کی زندگی کے بہت ہی سخت اور دردناک لمحات یاد دلاتا ہے اور ان کے وجدان سے مدد چاہتا ہے کہ اس قسم کے لمحات میں جب کہ ہرچیز کو بھول جاتے ہیں تو اس وقت خدا کے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ انھیں اپنے لئے سمجھا دیتا ہے، اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر خدا کا دردناک عذاب تمھارے پیچھے آپہنچے یا قیامت اپنی اس ہولناک ،ہیجان اور وحشتناک حادثات کے ساتھ برپا ہوجائے، تو سچ بتاؤ کہ کیا تم خدا کے سوا کسی اور کو اپنے شدائد کو بر طرف کرنے کے لئے پکارو گے( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمْ السَّاعَةُ اٴَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُونَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )(۱) یہ آیت نہ صرف مشرکین کے لئے ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے باطنی طور پر تمام افراد کے لئے شدائد اور سخت حوادث کے ظہور کے وقت قابل فہم ہے، ممکن ہے کہ عام حالات میں اور چھوٹے چھوٹے حادثات میں انسان غیر خدا کے ساتھ متوسل ہوجائے لیکن جب حادثہ بہت زیادہ سخت ہو تو انسان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے ، البتہ یہی حالت ہوتی وہ جب کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں نجات کے لئے ایک قسم کی امید محسوس کرتا ہے کہ جو ایک پوشیدہ اور نامعلوم قدرت سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے، یہی وہ توجہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف ہوتی ہے اور یہی حقیقت توحید ہے ۔ یہاں تک کہ مشرکین اور بت پرست بھی اس قسم کے لمحات میں بتوں کی بات کو درمیان میں نہیں لاتے اور وہ سب کو بھلا دیتے ہیں ۔ بعد والی آیت میں فرمای گیا ہے :بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو اگر وہ چاہے تو تمھاری مشکل کو حل کردے اور شریک جو تم نے خدا کے لئے تیار کررکھے تھے ان سب کو بھلا دیتے ہو( بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْہِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ ) ۱۔ جیسا کہ عربی ادب کے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”ک“ اریتک“ میں اور ”کم“ اراٴیتکم“ میں نہ اسم ہے نہ ضمیر بلکہ صرف خطاب ہے، جو حقیقت میں تاکید کے لئے آتا ہے، ایسے موقع پر عام طور پر فعل مفرد کی شکل میں آتا ہے اور اس کا مفرد ، تثنیہ اور جمع ہونا اسی حرف خطاب کی تغیرات سے ظاہر ہوتا ہے، اسی لئے ”اراٴیتکم“ میں باوجود یہ کہ مخاطب جمع ہے فعل ”رئیت“مفرد لا یا گیا ہے اور اس کا جمع ہونا ”کم“ سے جو کہ حرف خطاب ہے سمجھا گیا ہے، ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ معنی کے لحاظ سے مساوی ہے ”اخبرنی“ یا اخبرونی“ کے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے استفہامی معنی کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور ”اخبرونی“ اس کے معنی کا لازمہ ہے نہ کہ خود اس کے معنی ہے(غور کیجئے گا)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:40-41
چند اہم نکات
۱۔ جواستدلال اوپر کی دوآیات میںنظر آتا ہے وہی توحید فطری والااستدلال ہے کہ جس سے دو مباحث میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ،ایک خدا کے اصل وجود کے اثبات میں اور دوسرا اس کی یگانگت اور توحید ثابت کرنے میں، اسی لئے اسلامی روایات میں اور اسی طرح علماء کے کلام میں منکرین خدا کے مقابلے میں بھی اور مشرکین کے ،مقابلے میں بھی استدلال کیا گیا ہے ۔ ۲۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والے استدلال میں قیامت کے برپا ہونے کی بات درمیان میں آئی ہے، حالانکہ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ تو اس قسم کے دن کو بالکل قبول ہی نہیں کرتے تھے، اس بنا پر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کے سامنے اس قسم کا استدلال پیش کیا جائے ۔ لیکن اس حقیقت پر توجہ کرنا چاہئے کہ پہلے تو وہ سب قیامت کے منکر نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک گروہ ایک طرح سے قیامت کا اعتقاد رکھتا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ”ساعة“ سے مراد ہی موت کی گھڑی یا وحشتناک حوادث کی گھڑی ہو جو انسان کو موت کی چھوکھٹ تک لے جاتی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر ہولناک حوادث کی طرف اشارہ ہو کیوں کہ قرآنی آیات بار بار کہتی ہے کہ قیامت کی ابتدا بہت ہی ہولناک حوادث کے سلسلہ کے ساتھ شروع ہوگی اور زلزلے، طوفان، بجلیاں او ایسی ہی دوسری ناگہانی آفتیں اس وقت وقوع پذیر ہوں گی ۔ ۳۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ قیامت کا دن اور اس سے قبل کے حوادث حتمی اور یقینی مسائل میں سے ہیں اور کسی طرح بھی قابل تغیر نہیں ہیں تو پھر اوپر والی آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے :اگر خدا چاہے تو اسے برطرف کردے گا، کیا اس سے صرف پروردگار عالم کی قدرت کا بیان کرنا مقصود ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ خدا ان کی دعا سے اصل قیام ساعة اور روز قیامت کو ہی ختم کردے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین بلکہ غیر مشرکین بھی جب قیامت کے روبرو ہوں گے تو اس کے حوادث ومشکلات اور اس کے سخت تریں عذاب سے جو انھیں درپیش ہوگا، وحشت اور پریشانی میں ہوں گے اور خدا سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کیفیت اور حالت کو ان کے لئے آسان کردے اور انھیں خطرات سے رہائی بخشے، تو حقیقت میں یہ دعا دردناک حوادث سے اپنے آپ کی نجات کے لئے ہے نہ کہ قیامت کےختم ہوجانے کی دعا ۔ ۴۲وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاٴَخَذْنَاہُمْ بِالْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّھُمْ یَتَضَرَّعُونَ۔ ۴۳ فَلَوْلاَإِذْ جَائَھُمْ بَاٴْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَکِنْ قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمْ الشَّیْطَانُ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ ۴۴ فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اٴَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاھُمْ بَغْتَةً فَإِذَا ھُمْ مُبْلِسُونَ۔ ۴۵فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِینَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ ترجمہ ۴۲۔ہم نے ان امتوں پر جو تم سے پہلے تھیں (پیغمبر بھیجے اور جب وہ ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے) تو ہم نے انھیں شدت وتکلیف اور رنج وبے آرامی میں مبتلا کردیا کہ شاید (وہ بیدار ہوجائیں اور حق کے سامنے ) سرتسلیم خم کردیں ۔ ۴۳۔جب ہمارا عذاب ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے (خضوع کیوں نہیں کیا ؟) اور سرتسلیم کیوں خم نہ کیا؟، لیکن ان کے دل سخت ہوں گے اور شیطان نے ہر اس کام کو جو وہ کرتے تھے ان کی نظروں میں پسندیدہ کرکے دکھاےا ۔ ۴۴۔ جب (نصیحتوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور ) جو کچھ یا ددہانی کرائی گئی تھی وہ اسے بھول گئے تو ہم نے (نعمتوں میں سے) تمام چیزوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئےے یہاںتک کہ وہ (مکمل طور پر) خوشحال ہوگئے( اور انھوں نے ان کے ساتھ دل لگا لیا ) تو ہم نے یکا یک انھیں دھر پکڑا(اور سخت سزا دی) تو اس وقت وہ سب کے سب مایوس ہوگئے( اور امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوگئے) ۔ ۴۵۔اور (اس طرح سے ) جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا( اور ان کی نسل منقطع ہوگئی) اور حمد مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو عالمین کا پروردگار ہے ۔ ۱۔ جیسا کہ عربی ادب کے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”ک“ اریتک“ میں اور ”کم“ اراٴیتکم“ میں نہ اسم ہے نہ ضمیر بلکہ صرف خطاب ہے، جو حقیقت میں تاکید کے لئے آتا ہے، ایسے موقع پر عام طور پر فعل مفرد کی شکل میں آتا ہے اور اس کا مفرد ، تثنیہ اور جمع ہونا اسی حرف خطاب کی تغیرات سے ظاہر ہوتا ہے، اسی لئے ”اراٴیتکم“ میں باوجود یہ کہ مخاطب جمع ہے فعل ”رئیت“مفرد لا یا گیا ہے اور اس کا جمع ہونا ”کم“ سے جو کہ حرف خطاب ہے سمجھا گیا ہے، ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ معنی کے لحاظ سے مساوی ہے ”اخبرنی“ یا اخبرونی“ کے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے استفہامی معنی کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور ”اخبرونی“ اس کے معنی کا لازمہ ہے نہ کہ خود اس کے معنی ہے(غور کیجئے گا)