وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا صُمّٞ وَبُكۡمٞ فِي ٱلظُّلُمَٰتِۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضۡلِلۡهُ وَمَن يَشَأۡ يَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
Those who deny Our signs are deaf and dumb, in a manifold darkness. Allah leads astray whomever He wishes, and whomever He wishes He puts him on a straight path.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:39
[Pooya/Ali Commentary 6:39] If man sees the signs but shuts his ears to the true message and refuses (like a dumb) to speak out the message which all nature proclaims, then according to the divine plan he must suffer and wander, just as, in the opposite case, he will receive grace and salvation. Allah bestows His pleasure according to inclination and competence.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:39
بہرے اور گونگے
بہرے اور گونگے قرآن ہٹ دھرم منکرین کی بحث کو دوبارہ شروع کررہا ہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا بہرے اور گونگے ہیں اور ظلمت اور تاریکی میں قرار پاتے ہیں(وَالَّذِینَ کَذَّبُوابِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِی الظُّلُمَاتِ ) نہ تو وہ ایسے سننے والے قرآن رکھتے ہیں کہ جو حقائق کو سنیں اور نہ ہی ایسی حق گو زبان رکھتے ہیں کہ اگر انھوں نے کسی حقیقت کو سمجھ لیا ہو تو دوسروں سے بیان کردیں اور چونکہ خود خواہی ،خود پرستی،ہٹ دھرمی اور جہالت کی تاریکی نے انھی ہر طرف سے گھیر رکھا ہے لہٰذا وہ حقائق کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تو اس طرح سے وہ ان تین عظیم نعمتوں (یعنی سننا، دیکھنا اور بولنا) سے جو انھیں خارجی دنیا سے مربوط کرتی ہیں محروم ہیں ۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ بہروں سے مراد وہ مقلد ہیں جو جو بغیر چون و چرا کے اپنے گمراہ رہبروں کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں اور خدائی رہبروں کی بات نہیں سنتے اور گونگے افاد سے مراد وہی گمراہ رہبر ہیں جو حقائق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن اپنی حیثیت اور اپنے مادی منافع کی حفاظت کے لئے انھو ں نے اپنے اصول مہرسکوت لگائی ہوئی ہے اور دونوں گروہ جہالت اور خودپرستی کی تاریکی میں گرفتار ہیں (۱) اور اس کے بعد فرماتا ہے کہ”خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے جادہٴ مستقیم پربر قرار رکھتا ہے ۔ (مَنْ یَشَاٴْ اللّٰہُ یُضْلِلْہُ وَمَنْ یَشَاٴْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم) ۔ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ مشیت واراد ہ خدا کی طرف ہدایت وضلالت کی نسبت دینا ایک ایسی بات ہے کہ جس کی قرآن کی دوسری آیات سے اچھی طرح تفسیر ہوجاتی ہے، ایک جگہ ہم پڑھتے ہیں: ” یضل اللّٰہ الظالمین“۔۔ خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔ دوسری جگہ ہے: ”وما یضل بہ الَّاالفاسقین“۔ صرف فاسقین کو گمراہ کرتا ہے ۔ ایک اور جگہ ہے: ”والذین جاھدوا فینا لنھدیھم سبیلا“۔ جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انھیں سیدھی راہوں کی ہدایت کریں گے ۔ ان آیات اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہ کہ وہ ہدایتیں اور وہ ضلالتیں کہ جن کی ان موقع پر خدا کے ارادہ کی طرف نسبت دی گئی ہے حقیقت میں وہ جزا ئیں اور وہ سزائیں ہیں جو وہ اپنے بندوں کو اچھے یا برے اعمال کے بدلے دیتا ہے اور زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات انسان سے ایسے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں کہ جن کے زیر اثر ایک ایسی وحشتناک تاریکی اس کی روح کو گھیر لیتی ہے کہ جس سے حقیقت میں آنکھیں چھین لی جاتی ہیں اور اس کے کان حق کی آواز کو نہیں سنتے، اور اس کی زبان حق بات کہنے سے رک جاتی ہے ۔ اس کے برعکس کبھی انسان سے ایسے بہت سے نیک کام صادر ہوتے ہیں کہ ایک عالم نور وروشنی اس کی روح پر نچھاور ہوتا ہے، اس کی نظروادراک زیادہ وسیع اور اس کی فکر فزوں تر اور اس کی زبان حق بات کہنے گویا تر ہوجاتی ہے، یہ ہے معنی ہدایت وضلالت کا جس کی خدا کے ارادے کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔ ۴۰ قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمْ السَّاعَةُ اٴَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُونَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ۔ ۴۱ بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْہِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ۔ ترجمہ ۴۰۔کہہ دو کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اگر خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے یا قیامت آجائے تو کیاق تم (اپنی مشکلات کے حل کے لئے) خدا کے سوا کسی اور کو بلاؤ گے اگر تم سچے ہو ۔ ۴۱۔نہیں بلکہ تم صرف اسی کو بلاؤ گے اور اگر وہ چاہے گا تو اس مشکل کو جس کے لئے تم نے اسے بلایا ہے برطرف کردے گا اور جسے (آج ) تم (خدا کا) شریک قرار دیتے ہو( اسے اس دن)بھول جاؤ گے ۔ ۱۔ المیزان، جلد ہفتم، صفحہ ۸۴-