وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
It is He who has made you successors on the earth, and raised some of you in rank above others so that He may test you in respect to what He has given you. Indeed your Lord is swift in retribution, and indeed, He is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:165
[Pooya/Ali Commentary 6:165] The word khala-if, in this verse, means deputies. Every human being has been created to manifest the divine attributes in his or her life. If one lives in this world, keeping in view this sacred assignment, it will make man reach the glorious heights of divine perfection. Aqa Mahdi Puya says: The theory that every believer is a vicegerent of Allah cannot be used to assume that men have the right to select or elect anyone from among themselves to exercise authority on their behalf. The verse clearly says that Allah has raised some of His deputies over others in ranks, on account of their wisdom, piety and total dedication to the cause of Allah (jihad); therefore they should be allowed to exercise the divinely delegated authority, followed and obeyed.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:165
زمین پر انسانی خلافت
ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے کئی بار انسان کو زمین پر بطور اپنے ”خلیفہ“ اور ”نمائندہ“ کے تعارف کروایا ۔ اس تعبیر کے ذریعے جہاں ضمنی طور پر مقام کو واضح کرنا مقصود ہے وہاں اس حقیقت کا بھی اظہار مقصود ہے کہ اموال و ثروتیں ۔ استعدادیں اور وہ تمام انعامات اور عطیے جو خدانے انسان کو دیئے ہیں ان سب کا مالک اصلی خدا ہے اور انسان ان سب پر اللہ کی طرف سے صرف نمائندہ، مجاز اور اجازت یافتہ ہے اور یہ بات بدیہی و بالکل واضح ہے کہ کوئی نمائندہ اپنے تصرفات میں مستقل نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کے تمام تصرفات مالکِ اصلی کی اجازت کے دائرے اور حدود میں ہونا چاہیں ۔ یہیں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مثلاً مسئلہ مالکیت اشیاء میں اسلام نے ”کیٹپل ازم“ (سرمایہ داری)اور ”کمیونزم“ دونوں راستوں سے دوری اختیار کی ہے کیونکہ اوّل الذکرنے مالکیت کو فرد کے ساتھ مخصوص کردیا ہے جبکہ دوسرے نے تمام مالکیت کو اجتماع کے ساتھ وابستہ کردیا ہے لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ مالکیت نہ تو کسی فرد کی ہے اور نہ اجتماع کی، بلکہ فی الحقیقت ہر چیز کا مالک اصلی خدا ہے ۔ تمام انسان اس کے نمائندے اور وکیل ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر اسلام انسان کی آمدنی اور خرچ دونوں کے طریقوں اور کیفیات میں نظارت و نگہبانی کا فرض ادا کرتا ہے اور دونوں کے لئے اس نے حدود و شرایط مقرر کردیس ہیں جن کی بناء پر اقتصاد اسلامی کو اس نے بطور ایک خاص نظام کے تمام دیگر مکاتب فکر سے الگ کرکے نمایاں کردیا ہے ۔