قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
Say, ‘Shall I seek a Lord other than Allah, while He is the Lord of all things?’ No soul does evil except against itself, and no bearer shall bear another’s burden; then to your Lord will be your return, whereat He will inform you concerning that about which you used to differ.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:164
[Pooya/Ali Commentary 6:164] After the emphatic denunciations of idolatry there remains no alternative but to say: "There is no god save Allah, the Lord of the worlds". The doctrine of personal responsibility is decisive. We ourselves are responsible for our deeds. We cannot transfer the consequences to someone else. Nor can any one vicariously atone for our sins. The idea of redemption renders Allah helpless against the evil done freely in His kingdom. Because of this conception the evil-doers run scot-free, without fear of punishment, and destroy peace, harmony and rule of law in the world . In Islam every individual is answerable for his faith and deeds when he returns to Allah on the day of reckoning. The faithful who have done good and followed the teachings of Allah and his Prophet shall be rewarded and the disbelievers and the sinners will be punished. Those believers who made mistakes but sincerely repented and amended their conduct shall receive His mercy and forgiveness. This system of accountability creates a viable discipline in the human society. The tradition attributed to the Holy Prophet that the dead will be punished if his friends and relatives weep and mourn over his death is disapproved by this verse. Aqa Mahdi Puya says: The Christians have a misconceived idea that the intercessor bears the burden of the sins of the person whom he has saved from punishment. They also say that all the prophets were sinners except Isa who alone will bear the sins of the sinners. But intercession does not mean bearing the burden of the sinner, therefore, all the prophets are able to intercede on behalf of the sinners for obtaining Allah's forgiveness, because no prophet had ever committed a sin.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:164
دو اہم نکات
دوسروں کے گناہ اپنے کندھے لینا: ۱۔ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ آیت مذکورہ بالا میںجو دو مسلم الثبوت اور منطقی قانو ن بیان کیے گئے ہیں، مذہبوں کے نزدیک بھی طے شدہ ہیں (یعنی کوئی شخص سوائے اپنے کسی کے لئے کار آخرت نہیں کرتا اور کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار اپنے کاندھے پر نہیں اٹھاتا )یہ دونوں اصول قرآن کریم کی بعض دیگر آیات اور بعض روایات سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ مثلاً سورہ نحل کی آیت ۲۵ میں ہے ۔ ” لِیَعْمِلُوْآ اَوْزَارَہُمْ کَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیَامَةِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ بِغَیْرِ عِلْیمٍ “ ”وہ لوگ بروز قیامت اپنے گناہوں کے بھاری بوجھ کو اپنے کاندھے پر اٹھائیں گے، اسی طرح ان لوگوں کے کناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انھوں نے اپنے جہل سے گمراہ کیا“۔ اگر یہ صحیح ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بار گناہ نہیں اٹھائے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ گمراہ کرنے والے ان لوگوں کا بار گناہ اٹھائیں گے جنہیں انھوں نے گمراہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ احادیث ”سنت حسنہ“ و ”سنت سیئہ“ بھی آیت زیر بحث سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ شیعہ سنی دونوں طریقوں سے بعض روایات وارد ہوئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اگر کسی شخص نے اچھی سنت قائم کی اسے ان لوگوں کا اجر دیا جائے گا جو اس پر چلیں گے (بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے) اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی سنت جاری کی اس کے نام ان لوگوں کا گناہ لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے (بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ کم کیا جائے گا) ۔ روایت کا متن یہ ہے: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم: ”من سنّ سنة حسنة کان لہ اجر من عمل بھا من غیر ان ینقص من اجورھم شیء ومن سنّ سنة سیّئة کان علیہ وزر من عمل بھا من غیران ینقص من اوزارھم من شیء“ لیکن اس شبہ کا جواب واضح ہے، کیونکہ آیہٴ مورد بحث کہتی ہے کہ بغیر کسی وجہ کے اور بغیر اس کے کہ دو گناہوں میں آپس میں کوئی ربط ہو ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے ذمہ نہیں لگایا جائے گا، لیکن وہ آیات وروایات جن کی طرف اشارہ کیا گیا ان کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان دوسرے دوسرے انسان کے عمل نیک یا عمل بد کی داغ بیل ڈالے گا، یا یوں کہنا چاہیے کہ دوسرے کے عمل میں ”سببی“ طور سے شریک ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس عمل کے تنائج خوب وبد میں بھی شریک ہوگا کیونکہ وہ عمل اس کا عمل متصور ہوگا کیونکہ اس نے اس عمل کی بنیاد رکھی ہے ۔ ۲۔ کیا دوسروں کے اعمال نیک ہمارے لئے مفید ہوسکتے ہیں؟:۔ دوسرا خیال آیہ مورد بحث سے یہ آسکتا ہے کہ یہ آیت کہتی ہے کہ ہر شخص کا عمل صرف اس کے لئے فائدہ بخش ہوگا ۔ اس بناپر وہ کارہائے خیر جو کسی کی نیابت میں کیے جاتے ہیں یا اموات کے لئے جو ثواب ہدیہ کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات زندہ شخص کے لئے بھی ثواب کا ہدیہ کرتے ہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ دوسرے شخص کے لئے مفید ہو، حالانکہ کثیر روایات میں شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا آئمہ طاہرین علیہم السلام سے وارد ہوا ہے کہ اس طرح کے اعمال مفید و سودمند ہوتے ہیں، نہ صرف اولادہ کا عمل والدین کیلئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی فائدہ بخش ہیں ۔ علاوہ بریں، ہمیں معلوم ہے کہ پاداش عمل کا تعلق ان اثرات سے ہے جو کسی کار خیر کے کرنے کی وجہ سے اس شخص کی روح و جان پر مرتب ہوتے ہیں، جو اس کی معنوی ترقی میں موٴثر ہوتے ہیں، اس کے برخلاف وہ شخص جس نے کوئی عمل خیر انجام نہیں دیا ۔ حتیٰ کہ اس کے ابتدائی امور میں شریک نہیں ہوا، کیسے ممکن ہے کہ وہ یہ روحانی و معنوی اثرات حاصل کرسکے؟ بعض لوگ یہ اعتراض بڑی آب وتاب سے بیان کرتے ہیں ۔ نہ صرف عام افراد بلکہ موٴلفین اور مفسرین بھی اس اعتراض سے متاثر نظر آتے ہیں جیسے تفسیر ”المنار“ لکھنے والے جس کے نتیجے میں بہت سی مسلم الثبوت احادیث انھوں نے نذر طاق نسیاں کردی ہیں، لیکن اگر دونکتوں کی طرف توجہ کی جائے تو ایسے اعتراضات کا جواب مل جاتا ہے، اور وہ یہ ہیں: ۱۔ یہ صحیح ہے کہ ہر شخص کا عمل نیک اس کی معنوی ترقی کا سبب بنتا ہے، اور اس کا فلسفہ، نتیجہ اور اثر واقعی ہوگا وہ اس کے کرنے والے کی طرف عائد ہوگا، جیسا کہ ورزشی حرکات، یا تعلیم و تربیت کا نتیجہ۔ قوت اور اخلاقی نشو و نما کی صورت میں اس کے جسم اور روح پر ہوتا ہے ۔ لیکن جس وقت کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے کوئی نیک کام بجا لاتاہے ،وہ یقیناکسی اسی خصوصیّت یانیک صفت کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس میںہوتی ہے ،یاتو دہ ایک اچھا مربّی تھا یاایک اچھا شاگردتھا یاوہ ایک باصفا دوست تھایا وہ ایک باوفا ایک دوست تھا یا وہ ایک باوفا ہمسایہ تھا یا وہ ایک خدمت کرنے والا عالم تھا اور یا ایک مومن حقیقی ہر صورت میں اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی روشنی کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی اور انھوں نے اس کے لئے اعمال خیر انجام دیئے ۔ اس بناپر اس شخص نے اپنی خصوصیت، نمایاں صفت اور اپنی زندگی کے اس درخشاں پہلو کا بدلہ پایا ہے اور اس طرح سے بالعموم دوسرے افراد کا عمل خیر اس کے لئے بھی کسی عمل خیر یا نیت نیک کے نتیجہ میں واقع ہوا ہے، جونی الحقیقت خود اس عمل کا ایک پرتو ہے ۔ ۲۔ خداوند عالم اپنے بندوں کو جو پاداش دیتا ہے وہ دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ پاداش جو اُن کے روحانی ارتقاء اور اُن کی اخلاقی شائستگی کے مطابق ہوتی ہے ۔ یعنی ان کے اعمال نیک کی وجہ سے ان کی روح و جان اس بلندی پر پہنچ جاتی ہے کہ انھیں حق پہنچتا ہے کہ وہ بہتر و بالا جہانوں میں زندگی بسر کریں اور اپنے ان پروں کے ذریعے جو انھوں نے اپنے نیک عقیدے اور نیک اعمال کے ذریعے حاصل کیے ہیں، آسمان سعادت کی بلندیوں میں پرواز کریں ۔ یہ بات طے ہے کہ اس طرح کے آثار و نتائج اسی عمل کے بجالانے والے کے ساتھ مخصوص و معین ہیں اور یہ اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں کسی دوسرے کو بخش دیا جائے ۔ لیکن چونکہ ہر عمل نیک فرمانِ خدا کی اطاعت کے نتیجے میں واقع ہوتا ہے اور اطاعت کرنے والا شخص اپنی اطاعت کے مقابلے میں جزا کا مستحق ہوتا ہے لہٰذا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی اس جزا اور انعام کو اپنی رضا مندی سے کسی دوسرے کو بخش دے ۔ اس کی ایک مثال بالکل اس طرح سے متصور ہوسکتی ہے ۔ مثلاً ایک استاد کسی اہم اور تعمیری شعبہ تعلیم میں کسی یونیورسٹی میں درس دیتا ہے، بلاشبہ وہ اپنی اس تدریس کے نتیجے میں دو طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ وہ روزانہ تدریس کرنے کی وجہ سے اپنے فن میں کامل سے کامل تر ہوتا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ وہ اس یونیورسٹی سے تنخواہ بھی پاتا ہے ۔ پہلا فائدہ وہ یقینا کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اسی کی ذات سے مخصوص ہے، لیکن دوسرا فائدہ وہ جسے چاہے بخش دے اسے یقینا اس بات کا اختیار ہے ۔ کسی عمل کا ثواب بھی کسی مردہ یا زندہ شخص کو ہدیہ کرنا اسی طرح سے ہے ۔ اس طرح ہر طرح کا شک و شبہ جو اس قسم کی احادیث کے بارے میں ہے دور ہوجاتا ہے ۔ تا ہم اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے ثواب جو بعض افراد کو دیئے جاتے ہیں ان میں اتنی قوت نہیں ہوتی کہ یہ ان کی کامل سعادت کا سبب بن سکیں، ان کا اثر تھوڑا ہوتا ہے، کیونکہ نجات انسانی کا اصلی سبب خود اس کا ایمان و عمل ہے ۔ ۱۶۵ وَھُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْاٴَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ- ترجمہ ۱۶۵۔ وہ (خدا) وہی ہے جس نے تمھیں زمین پر جانشین (اور اپنا نمائندہ) بنایا اور بعض افراد کو دوسرے افراد پر مرتبوں کی رو سے برتری عطا کی، تاکہ تمھیں ان چیزوں سے جو تمھارے اختیار میں دی ہیں، آزمائے ۔ یقینا تمہارا پروردگار بہت تیز حساب کرنے والا، بخشنے والا مہربان ہے (جو لوگ اپنے امتحان میں ناکامیاب ہوں گے ان کا حساب کتاب جلد کرے گا اور جن لوگوں نے راہ حق پر قدم اٹھایا ہے ان کے حق میں مہربان ہوگا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:164
مقام انسانی کی اہمیت
اس آیہٴ کریمہ میں جو سورہٴ انعام کی آخری آیت ہے مقام انسانی کی اہمیت اور جہاں ہستی میں اس کی حیثیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ ان گزشتہ بحثوں کی تکمیل ہوجائے جن میں توحید کے ستونوں کو استوار کیا گیا ہے اور مسلک شرک و بت پرستی سے مقابلہ کیا گیا ہے، یعنی انسان بہ حیثیت اشرف المخلوقات اپنی حقیقی قدر و قیمت پہچان لے تاکہ پتھر، لکڑی اور دیگر طرح طرح کے بتوں کے سامنے اپنی پیشانی نہ جھکائے اور ان کا بندہ نہ بنے بلکہ ان کا امیر بنے اور ان پر حکومت کرے ۔ لہٰذا اس آیت کے پہلے جملے میں فرماتا ہے: وہ خدا وہ ہے جس نے تمھیں زمین پر جانشین (اور اپنا نمائندہ) بنایا ہے (وَھُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْاٴَرْضِ) ۔(۱) وہ انسان ، جو روئے زمین پر خدا کا نمائندہ ہے (۲) ۔ جس کے ہاتھ میں اس کرہ زمین کی تمام قومیں اور خزانے سونپ دیئے گئے ہیں اور خدا کی طرف سے تمام موجودات پر اس کی حکومت کا فرمان صادر ہوا ہے، اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے کو اتنا گرادے کہ جمادات سے بھی پست ہوجائے اور انھیں سجدہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد خدا اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انسانوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور یہ کہ اس اختلاف کی کیا مصلحت ہے، فرماتا ہے: تم میں سے بعض کو بعض پر برتری دی تاکہ ان قدرتی عنایتوں اور سہولتوں کی وجہ سے جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں وہ تمھیں آزمائے ( وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ) ۔ دوسراقول، جو قواعد تحقیق سے مطابقت رکھتا ہے، یہ ہے کہ ”خلائف الارض“ سے مراد یہ ہے کہ ہر آئندہ انسان پچھلے انسان کا اور ہر آنے والی قوم گزشتہ قوم کی خلیفہ ہے، کیونکہ خلف کے اصلی معنی ”پیچھے “ کے ہیں علامہ طبرسیۺ اپنی مشہور تفسیر ”مجمع البیان“ میں اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: ”معناہ ان اہل کل عصر یخلف اہل العصر الذی قبلہ کلما مضیٰ قرن خلفہم قرن یجری ذلک علی النظام والساق حتّی تقوم الساعة وہٰذا لا یکون الّا من عالم مدبّر“ ”یعنی ہر عصر کے لوگ گذشتہ اہل عصر کے پیچھے آتے ہیں، جب ایک صدی گزر جاتی ہے دوسری آحاتی ہے، یہ حمل بڑی خوش اسلوبی سے منظم طریقے سے جاری وساری ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا الّا یہ کہ اس نظام کے پس پردہ ایک عام اور مدبشر (انتظام کرنے والی) ہستی موجود ہو ۔ نیزایسا ہی تفسیر صافی میں بھی ہے ۔ مترجم- اس آیت کے آخر میں یہ کہہ کر کہ ہر انسان کو خوش قسمتی اور بدبختی کے راستے کے انتخاب میں اختیار دیا گیا ہے، ان آزمائشوں کا نتیجہ اس طرح بیان فرمایاہے: تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لئے جو ان آزمائشوں سے سیاہ رو اور ناکام کلیں گے ”سریع العقاب“ : جلدی سزا دینے والا ، ہے اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی غلطیوں کی اصلاح میں لگے رہے ہیں ۔ بخشنے والا اور مہربان ہے (إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ انسانوں میں فرق۔ اور عدالت کے تقاضے اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں کہ انسانوں کے درمیان کچھ ایسے درجاتی اختلاف بھی موجود ہیں جو انسان کے بنائے ہوئے ہیں کیونکہ انسانوں نے دوسرے انسانوں پر ستم روا رکھا ہے مثلاً کچھ لوگ بے حساب ثروت کے مالک ہیں جبکہ کچھ لوگ خاک نشین ہیں، کچھ لوگ ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جاہل اور بے علم رہ گئے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ذرائع ہونے کی وجہ سے علوم کے آخری درجوں پر فائز ہیں، اسی طرح ایک طبقہ وہ ہے جو خوراک کی کمی کے باعث اور حفظان صحت کے لوازم نہ ہونے کی وجہ سے علیل وبیمار نظر آتا ہے، جبکہ اس کے برخلاف ایک طبقہ وہ ہے جس کے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں اس لئے وہ تندرستی اور سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کررہا ہے ہے ۔ اس طرح کے فرق، دولت وفقر، علم وجہل، تندرستی اور بیماری زیادہ تر استعمار واستحصال دوسروں کو غلام بنانے اور آشکار وپنہاں، ظلم کی پیداوار ہیں ۔ یہ بات مسلّم ہے کہ اس طرح کے اختلافات کو خدا کے ذمہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا، نہ اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ اس طرح کے اختلافات کو جائز ٹھہرا کر ان کی مخالفت نہ کی جائے ۔ لیکن اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسانوں کے درمیان جتنا بھی بھی اصول عدالت کی مراعات کی جائے پھر بھی سب انسان آپس میں برابر نہیں ہوسکتے، کیونکہ استعداد، ہوش وذہانت اور ذوق وسلیقہ کی رُو سے فرق باقی رہے گا یہاں تک کہ کم از کم وہ اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے یکساں نہ ہوں گے ۔ لہٰذا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے فکری اختلافات عدالت الٰہی کے خلاف ہیں؟ یا اس کے برخلاف حقیقی عدالت (یعنی ہر چیز کو اس کی جگہ رکھنے) کا تقاضا یہی ہے کہ تمام انسان برابر نہ ہوں؟ اگر انسانی معاشرے کے تمام افراد یکساں اور برابر ہوں، جیسے کپڑے با برتن جو ایک کارخانے سے بن کر نکلتے ہیں اور یکساں ہوتے ہیں اسی طرح تمام انسان بھی ایک شکل کے ایک استعداد کے بالکل مساوی ہوتے تو انسانی معاشرہ باکل مردہ اور روح سے خالی ہوکر رہ جاتا، اس میں کسی طرح کی حرکت ہوتی اور نہ ترقی کی راہوں پر پیش قدمی نظر آتی ۔ ایک پودے کی طرف نظر کیجئے جس کی جڑیں تو مضبوط اور سخت ہوتی ہیں مگر اس تنا لطیف ہوتا ہے لیکن ٹہنیوں کی نسبت سخت ہوتا ہے، پھر اس کے پتّے ، پھول، شکوفے بالترتیب لطیف سے لطیف تر ہوتے چلے جاتے ہیں، بات یہ ہے کہ ان سب نے اپنے باہمی تعاون اور اجتماع سے ایک خوبصورت پودے کو جنم دیا ہے ان میں سے ہر ایک کے خلئے اپنے فرائض کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف اور مصروف عمل ہیں ۔ بالکل یہی حال دنیائے انسانیت میں نظر آتا ہے ۔ افراد انسانی بھی باہم مل کر ایک عظیم الشان اور بار آور درخت کی مانند ہیں جس میں ہر طبقے بلکہ ہر فرد کا اس درخت کو تشکیل دینے میں ایک خاص مقام ہے جو اس کی ساخت کے مطابق ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن نے کہا ہے کہ یہ اختلافات تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں، جیسا کہ سابقاً بھی ہم نے کہا کہ خدائی منصوبوں میں جہاں بھی لفظ ”آزمائش “ استعمال ہوا ہے اس کے معنی ترتیب و پرورش کے ہیں اور اس طرح اس شخص کا جواب مل جاتا ہے جو مذکورہ آیت سے کوئی غلط نتیجہ اخذ کرنا چاہے ۔ ۱۔ جیسا کہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب ”مفردات“ میں لکھا ہے کہ ”خلائف“ ”خلیفہ“ کی جمع ہے اور ”خلفاء“ ”خلیف“ کی جمع ہے اور دونوں کے معنی نمائندہ اور جانشین کے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”خلیفہ“ میں جو ”ت“ ہے وہ مبالغہ کے لئے ہے، بعض دیگر اہل لغت نے ”خلائف“ کو ”خلیفہ“ اور ”خلیف“ دونوں کی جمع مانا ہے ۔ ۲۔ یہاں پر لفظ ”خلائف“ کی تفسیر میں اختلاف ہے، ایک قول تو وہی ہے جو اوپر متن میں گزرا ہے یعنی الله نے عام انسانوں کو زمین پر اپنا نمائندہ (خلیفہ‘ بنایا ہے لیکن نظر حقیر میں یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ ”خلیفة الله“ غیر معصوم کیسے ہوسکتا ہے؟ حضرت آدم(علیه السلام) کے لئے فرمایا: ”انی جاعل فی الارض خلیفہ“ حضرت داؤد(علیه السلام) کے لئے فرمایا گیا ”یا داؤد انا جعلناک فی الارض خلیفة“ اسی طرح سارے انبیاء الله کے خلیفہ تھے اور معصوم تھے، اگر عام بشر کو الله کا خلیفہ مان لیا جائے تو نبی اور غیر نبی میں کیا فرق رہ جاتا ہے، پھر اگر تمام بشر سب کے سب خلیفہ ہوجائیں تو ان کی حکومت کس پر ہوگی؟ کیا حیوانوں، درختوں اور پتھروں پر، حالانکہ یہ چیزیں انسان کی کاملاً مطیع نہیں ہیں ۔